تیئس واں باب

ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ قرآن مجید نے دانائی کے استعمال پر بہت زور دیا ہے۔ حضورؐ نے بھی حکمت ودانائی کے استعمال پر بہت زور دیا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ’’حضورؐ نے فرمایا کہ دانائی مومن کی گمشدہ مال ومتاع ہے۔ اسے جہاں سے بھی ملے، حاصل کرنا چاہیے‘‘۔ گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ دانائی کے حصول میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ دانائی کی یہ بات کہاں سے اور کس طرف سے آئی ہے۔ دانائی کی بات جہاں سے بھی آئے اُسے اختیار کرنا چاہیے۔ 
دانائی کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی مسئلہ سامنے آئے، اس کے متعلق سب سے پہلے پورا علم حاصل کیا جائے۔ اس کے بعد بالکل معروضی انداز میں اس کا تجزیہ کیا جائے اور اس پر غوروفکر کیا جائے۔ غوروفکر کے بعد یہ دیکھنا چاہیے کہ حالات کے مطابق بہترین تدبیر کیا ہوسکتی ہے، اور پھر اس تدبیر کے متعلق حکمتِ عملی بناکر اپنائی جائے۔ دانائی کے ایسے ہی استعمال پر کسی فرد یا قوم کی ترقی کا دارومدارہے۔ 
حضورؐ کی ساری زندگی دانائی کے استعمال کی روشن مثال تھی۔ غزوہ بدر میں جنگی مہارت کے حامل ایک صحابی نے آپؐ کو دلیل کے ساتھ قائل کیا کہ جہاں خیمے لگائے گئے ہیں، یہ صحیح جگہ نہیں ہے۔ اور اس کے بجائے فلاں جگہ خیمے لگانے چاہئیں۔ چنانچہ حضورؐ اس پر قائل ہوگئے اور خیمے دوسری جگہ لگادیے گئے۔ یہ نئی حکمت عملی اگلے دن کی جنگ میں بہت مفید ثابت ہوئی۔ اسی طرح جب جنگِ احزاب کے موقعے پر اسلام کے سارے دشمن متحد ہوکر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تو حضورؐ نے صحابہ کرامؓ کا اجلاس بلاکر ساری صورتِ حال ان کے سامنے رکھی۔ مخالف لشکر کی تعداد بارہ ہزار سے بھی زیادہ تھی اور ان کے پاس ایسا اسلحہ بھی موجود تھا جو مسلمانوں کے پاس نہیں تھا۔ دوسری طرف مدینے کے اندر جنگ کے قابل افراد کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ ان میں بہت سے منافقین بھی شامل تھے۔ چنانچہ حضورؐ اور صحابہ کرامؓ کی متفقہ رائے بنی کہ اس وقت لڑائی لڑنا ہمارے مفاد میں نہیں ہے، چنانچہ اس بات پر غور وفکر ہونے لگا کہ لڑائی کو ٹالا جائے اور مدینے کی حفاظت کی جائے۔ اس موقع پر ایک صحابی حضرت سلمانؓ فارسی، جو ایران کے باشندے اور وہاں سے غلام بناکر لائے گئے تھے، نے مدینہ کے گرد خندق کی تجویز پیش کی۔ وہ ایران میں اس طریقۂ مدافعت کو دیکھ چکے تھے۔ اس تجویز کو سب نے پسند کیا۔ یوں مدینے کے گرد خندق کھودی گئی اور جب دشمن کا لشکر مدینہ پہنچا تو انہیں خندق سے واسطہ پڑگیا، جس کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ لڑائی نہ ہوسکی اور بیس بائیس دن بعد جب دشمن کے پاس راشن ختم ہوگیا اور زبردست آندھی آئی تو انہیں محاصرہ اٹھاکر واپس جانا پڑا۔ اس واقعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی صرف اُس وقت لڑنی چاہیے جب تدبیر کے لحاظ سے ہمیں لڑائی جیتنے کی پوری توقع ہو۔ 
فتحِ مکہ بھی حضورؐ کی دانائی کی بہت بڑی مثال ہے۔ اس لڑائی کے لیے ساری تیاری اس انداز میں کی گئی کہ دشمن کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی۔ مسلمانوں نے اتنا بڑا لشکر تیار کرلیا جو مکے کی پوری آبادی سے زیادہ تھا۔ مکے کے قریب جاکر لشکر کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ وہ اور بھی بڑا نظر آنے لگا۔ اس کے نتیجے میں اہلِ مکہ کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی نہ تھا۔ دشمن کے ہتھیار ڈالنے کے بعد حضورؐ نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا تاکہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کا ایک نیا سفر شروع ہو۔ 
اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اندھا دھند کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے اچھی طرح سوچ بچار کرنا چاہیے کہ ہمارے اس اقدام کے کیا نتائج رونما ہوں گے۔ بغیر صحیح معلومات کے کیا گیا اقدام، جلدبازی میں کیا گیا اقدام اور سوچے سمجھے بغیر محض جذبات کی بنیاد پرکیا گیا اقدام کبھی بھی اچھے نتائج پیدا نہیں کرسکتا۔