انیسواں باب 

O۔ غربت اور جہالت کے خلاف عملی جدوجہد 
O۔ اﷲ کے بندوں کے حقوق کا خیال 
کسی ملک یا سوسائٹی میں حقیقی اور دیرپا امن، انصاف اور جمہوریت تب آسکتی ہے جب اُس ملک میں غربت بہت حد تک ختم ہوجائے اور ایک بڑی مڈل کلاس جنم لے۔ یہ مڈل کلاس صرف اُس وقت اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جب معاشرے میں تعلیم کا عام دور دورہ ہوجائے۔ ایک تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے جنم لینے سے معاشرے کے اندر جرائم بہت کم ہوجاتے ہیں۔ غربت کی بنیاد پر پلنے اور بڑھنے والے جرائم میں چوری، ڈاکے، بدمعاشی اشتعال انگیزی، خیانت، حسد، جھگڑے اور اِسی طرح کی بے شمار دوسری چیزیں شامل ہیں۔ غربت، سُستی، کم تعلیم، خراب صحت، گندگی اور معاشرتی اقدار کی خلاف ورزی کا آپس میں چولی وامن کا ساتھ ہے۔ بغض، کینہ پروری اور غیبت کے لیے بھی یہ ماحول سازگار ہوتا ہے۔ ایک اعتبار سے انہیں غربت کی اخلاقیات بھی کہا جاسکتا ہے۔ 
اسی طرح مڈل کلاس، امن انصاف، محبت، جمہوریت اور رواداری کا بھی آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ یہ مڈل کلاس طبقے کی ضرورت ہے کہ عدالتیں انصاف فراہم کریں۔ چنانچہ اس طبقے کے دباؤ کی وجہ سے عدالتی نظام مضبوط اور فعال ہوجاتا ہے۔ مڈل کلاس طبقہ کی ایک اہم ضرورت امن اور رواداری ہے۔ اس سوسائٹی میں فرد مستقل محنت کرتا ہے، تبھی اچھی زندگی گزارسکتا ہے۔ چنانچہ اُس کے پاس لاقانونیت اور غیبت کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔ محنت کے لیے اچھی صحت ضروری ہے۔ چنانچہ مڈل کلاس طبقے کے وجود میں آتے ہی صحت کے اداروں کی طرف توجہ بہت بڑھ جاتی ہے۔ 
گویا اگر ہم چاہیں کہ معاشرہ ترقی کرے اور امن وخوشحالی آئے تو اِس کا طریقہ یہ ہے کہ ملک میں غربت ختم کی جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگ مڈل کلاس طبقے میں شامل ہوں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک عام آدمی معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار اداکرسکتا ہے۔ وہ معاشرے میں پھیلی چارسو غربت کم کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے اور وہ اپنے اردگرد تعلیم کی روشنی بھی پھیلا سکتا ہے۔ 
پچھلے پانچ سو برس کی تاریخ میں ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یورپ میں سب سے پہلے تعلیمی انقلاب آیا۔ اس نے ایک مضبوط اور توانا مڈل کلاس کو جنم دیا۔ اس مڈل کلاس نے معاشرے کی ہر طاقت پر اپنا دباؤ ڈالا اور ہر ادارے کی اصلاح کی۔ نتیجتاً علمی روشن خیالی آئی، مذہب پر ایک خاص طبقے کی اجارہ داری ختم ہوئی، آزاد پریس وجود میں آیا، جمہوریت ظہور پذیر ہوئی اور لوگوں کو انصاف ملنے لگا۔ اس کے بعد ان سب اداروں ایک دوسرے کو سہارا دیا، اور اب حال یہ ہے کہ اگر کسی ایک ادارے میں معمولی سی کمزوری بھی آنے لگے تو باقی سب ادارے اُس کی مدد کو آجاتے ہیں اور کمزوری کو دور پھینک دیتے ہیں۔ 
اِس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ میں بارہا ایسے معاشرے بھی وجود میں آئے ہیں جہاں مڈل کلاس موجود نہیں تھی اور اُس کے باوجود لوگوں کو امن اور انصاف میسر آیا اور لوگوں کے اندر اچھی اقدار پروان چڑھیں۔ ایسی اصلاح یا تو پیغمبروں کے وقت میں آئی جن کی عظیم روشنی نے ایک جہان کو منور کیا۔ یا پھر یہ تبدیلی کسی بہت اچھے حکمران کی ذاتی کوشش کی مرہونِ منت رہی۔ تاریخ میں نوشیروان عادل جیسے حکمران بھی موجود ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک انصاف پسند حکمران کے جانے کے بعد پھر وہی بے رحم شاہی نظام واپس آجاتا تھا۔ اسلام کا دورِ اولین ہمیں امن، انصاف اور اچھی اقدار کی ایک عظیم مثال پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی بنیادی وجہ ہمارے حضورؐ کی عظیم ترین شخصیت تھی، تاہم حضورؐ کی اور اُن کے بعد پہلے دونوں خلفائے راشدینؓ نے معاشرتی اور عمرانی طور پر یہی طریقہ اختیار کیا کہ سوسائٹی کے اندر بدترین غربت کا خاتمہ کیا۔ اور یوں ایک بہت بڑی مڈل کلاس وجود میں آئی۔ اِس مڈل کلاس کے وجود پذیر ہونے میں ایک بہت بڑا حصہ دین کی اُس تعلیم کا تھا جس کے تحت ہر فرد نے اس بات کو اپنی ذمہ داری کے طور پر لے لیا کہ وہ خود انفاق کرے گا اور تعلیم پھیلائے گا۔ اسی لیے قرآن مجید نے سو مرتبہ سے زیادہ انفاق پر زور دیا اور چار سو مرتبہ سے زیادہ مرتبہ علم کی طرف توجہ دلائی۔ اسی لیے حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ بدترین غربت انسان کو کفر سے قریب تر کردیتی ہے۔ اور اسی لیے حضرت عمرفاروق ؓ نے عراق وشام کی مفتوحہ زمینوں کو فوجیوں میں تقسیم کرنے سے انکار کردیا۔ خلفائے راشدینؓ کے بعد اگلے آٹھ سو برس تک مسلمانوں کے عروج میں ایک بہت بڑا حصہ اسی مڈل کلاس کا تھا۔ 
چنانچہ آج یہ ہم میں سے ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے اندر غربت کو دور کرنے میں اپنا عملی حصہ ادا کرے۔ ہمارے اردگرد بے شمار لوگ ہیں جن کو آج کی دیہاڑی نہ ملے تو رات کو اُن کا چولہا نہیں جلتا۔ بازاروں میں ہزاروں بچے بوٹ پالش کرتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں اور بالکل چھوٹی عمر میں مکینکوں کے ساتھ بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ ہمارے اردگرد کتنی ہی بیوائیں، بوڑھے اور یتیم ہیں جن کا کوئی سہارا نہیں۔ کتنے بیمار ہیں جن کے پاس دواؤں کے پیسے نہیں۔ اس راقم کے خیال میں تین ایسے مواقع ہیں جب ہر غریب انسان کو مدد کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک وہ موقع جب اُس کے گھر میں کسی فرد کو کوئی مستقل بیماری مثلاً دمہ، ٹی بی، شایزوفرینیا یا آرتھرائٹس لاحق ہو جائے۔ ایسے موقعہ پر کسی غریب انسان کے لیے مخیر حضرات کی مدد لینے کے سوا اور کوئی چارا نہیں ہوتا۔ دوسرا موقع بچوں کی تعلیم کا ہوتا ہے جب کسی مفلوک الحال فرد کے پاس اپنے بچوں کی کتابوں، کاپیوں، کپڑوں، آمدورفت اور فیس کے پیسے نہیں ہوتے۔ تیسرا موقع وہ ہے جب اُسے اپنے بچوں خصوصاً اپنے بیٹی کی شادی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ان تین مواقع کو ٹارگٹ بناکر کام کریں۔ 
ایک عام فرد کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ سوسائٹی سے جہالت کا خاتمہ کرے۔ اس کا سب سے بڑا مطلب تو یہی ہے کہ ملک کا ہر بچہ کم ازکم ابتدائی بارہ برس کی تعلیم حاصل کرے۔ لیکن اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہم لوگ اپنے دین کے معاملے میں جس طرح لکیر کے فقیر بن چکے ہیں، یہ رویہ بھی ہم سے دور ہو۔ ہم اپنے دین کا علم حاصل کریں۔ جہاں جہاں کسی دینی ایشو کے معاملے میں اختلافِ رائے موجود ہو، وہاں سب نقطۂ ہائے نظر کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے کر اُن میں سے کوئی ایک اپنالیں۔ اور اس کے بعد بھی، تعصب اور مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، مسلسل اپنے نقطۂ نظر کا تنقیدی اعتبار سے جائزہ لیتے رہیں۔ جہالت کے خلاف جدوجہد کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر فرد اپنی ذات کی حد تک تحمل اور برداشت سے کام لے اور قانون پسند بنے۔ آج ہمارا ملک بے صبروں کا ایک گروہ بن چکا ہے۔ اشتعال انگیزی اور ہیجان پر مبنی رویے کا دور دورہ ہے۔ آج کا پاکستانی سماج متشددانہ معاشرتی رویوں کا عکس ہے۔ ہر طرف عدم برداشت ہے۔ جارحیت پر مبنی الفاظ، اُسلوب اور لب ولہجہ ہی مقبول و معروف ہے۔ عدم برداشت، تعصب اور جذباتیت کو بہادری سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس صبر، بے تعصبی اور عدم تشدد کو بزدلی سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ آج اس میدان میں یہ بھی ہر فرد کا امتحان ہے کہ وہ زندگی کے ہر ہر لمحے میں برداشت، تحمل، بے تعصبی، غیرجذباتیت اور قانون پسندی سے کام لے۔ 
ہم میں سے ہر ایک فرد کی تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنا احتساب کرے کہ وہ حقوق العباد کا کتنا خیال رکھ رہا ہے۔ ہمارے ہاں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بہت سے معاملات میں حقوق اللہ کا خیال رکھتی ہے۔ یقیناًیہ بہت اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ اللہ کے بندوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ ہر انسان کے سامنے روزانہ ایسے مواقع پیش آتے ہیں جب بے انصافی، بددیانتی، کام چوری، کرپشن اور دوسروں کا حق مارنا اُس کے مفاد میں ہوتا ہے۔ چنانچہ آج کے دور کا سب سے بڑا مجاہدہ یہی ہے کہ ایسے مواقع پر انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ معاملات کا سب سے بڑا اظہار دیانت داری کی شکل میں ہوتا ہے۔ جب ایک ملازم اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ بددیانتی کررہا ہوتا ہے۔ جب ایک ذمہ دار افسر اور بیوروکریٹ عوام کے مسائل سے منہ موڑتا ہے اور عام انسان کے کام نہیں آتا تو وہ امانت میں خیانت کررہا ہوتا ہے۔ جب ایک صنعت کار، جاگیردار یا ایک بڑے کاروباری ادارے کا مالک اپنے ملازمین کا استحصال کرتا ہے تو وہ بددیانتی کررہا ہوتا ہے۔ پس یہ ضروری ہے کہ ہر انسان ہر وقت اپنے آپ سے یہ سوال کرتا رہے کہ کیا وہ زندگی کے ہر معاملے میں ہر وقت انسانوں کے ساتھ انصاف اور دیانت داری پر عامل ہے یا نہیں ہے۔ 
درج بالا تینوں اُمور ہر انسان کے کرنے کے ہیں۔ ہر انسان ان میں سے ہر وقت ہر بات کا مکلف ہے۔ آج یہی ہمارا امتحان ہے۔ اگر ہم ان باتوں پر عمل پیرا نہ ہوں تو خالی خولی نعرے بازی اور دکھاوے کی جمہوریت ہمارے کسی کام کی نہیں۔ ہمیں ہر وقت اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا ہم ان تینوں باتوں پر اپنی ذاتی زندگی میں عمل پیرا ہیں یا نہیں۔