باب دوم



بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ جس بیٹے کی قربانی درکار تھی، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’اکلوتا بیٹا‘ تھا۔ یہ ایک بہت اہم اور مرکزی نکتہ ہے۔ اسے نہ نظر انداز کیا جانا چاہیے اور نہ بے وزن سمجھنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلونٹے اور سب سے بڑے فرزند۱؂حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ ’اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا‘۔
بائبل میں درج ہے:

اور ابرام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی( ...) اور ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہو گئے تھے جب اس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اسے دی کہ اس کی بیوی بنے۔ ۲؂ ( ...)۔ اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹا ہوا اور ابرام نے اپنے اس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوااسماعیل رکھا اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔۳؂

لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو وہ ایک سو سال کے تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام چودہ سال کے ہو چکے تھے۔بائبل کا بیان ہے:

اور خدا نے ابرہام سے کہا کہ ساری جو تیری بیوی ہے سو اس کو ساری نہ پکارنا۔ اس کا نام سارہ ہو گا۔ اور میں اسے برکت دوں گا اور اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا۔ یقیناً میں اسے برکت دوں گا کہ قومیں اس کی نسل سے ہوں گی اور عالم کے بادشاہ اس سے پیدا ہوں گے۔ تب ابرہام سرنگوں ہوا اور ہنس کر دل میں کہنے لگا کہ کیا سو برس کے بُڈّھے سے کوئی بچہ ہو گا اور کیا سارہ کے جو نوے برس کی ہے اولاد ہو گی؟ اور ابرہام نے خدا سے کہا کہ کاش اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے۔ ۴؂
اور جب اس کا بیٹا اضحاق اس سے پیدا ہوا تو ابرہام سو برس کا تھا۔۵؂

اس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام چودہ (۱۴) سال کی عمر کو پہنچنے تک’حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے‘ کی حیثیت رکھتے تھے۔
اگربائبل کی متعلقہ عبارت کا ، جو اس کتاب کے شروع میں دی گئی ہے، دوبارہ مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ اس لڑکے کے وصف کے طور پر جسے قربانی کے لیے پیش کیا جانا تھا، تین مرتبہ استعمال کیے ہیں، لیکن اُس نے اپنی تمام گفتگو میں اس بیٹے کا نام ’اسحاق‘ صرف ایک دفعہ لیا ہے۔ اگر ان الفاظ کو نظر انداز کر دیا جائے جو کہانی نویس یا ایڈیٹر نے بیانیہ مکمل کرنے کے لیے اپنی طرف سے بڑھائے ہیں، تو وہ الفاظ جو عبارت میں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیے گئے ہیں، حسبِ ذیل بنتے ہیں:

Abraham: (133) Take now thy son, thine only son Isaac, whom thou lovest, and get thee into the land of Moriah; and offer him there for a burnt offering upon one of the mountains which I will tell thee of. (133) Abraham, Abraham: Lay not thine hand upon the lad, neither do thou any thing upon him: for now I know that thou fearest God, seeing thou hast not withheld thy son, thine only son from me. (133), By myself have I sworn, (133), for because thou hast done this thing, and hast not withheld thy son, thine only son: That in blessing I will bless thee, and in multiplying I will multiply thy seed as the stars of the heaven, and as the sand which is upon the sea shore; and thy seed shall possess the gate of his enemies; And in thy seed shall all the nations of the earth be blessed; because thou hast obeyed my voice.

ابرہام: (133) اب اپنے بیٹے، اپنے اکلوتے بیٹے اسحاق کو جس سے تو محبت کرتا ہے، لے اور تو موریاہ کی سرزمین میں جا، اور اسے ان پہاڑوں میں سے ایک پر جو میں تجھے بتاؤں گا ایک سوختنی قربانی کے طور پر پیش کر۔(133) ابرہام ، ابرہام، اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ ڈال، نہ تو اس پر کوئی چیز کر۔ کیونکہ اب یہ دیکھ کر کہ تونے اپنا بیٹا، اپنا اکلوتا بیٹا مجھ سے نہیں روکا ہے( یعنی مجھ سے بچا کر نہیں رکھا ہے)، میں جان گیا ہوں کہ تو خداوند سے ڈرتا ہے۔(133) میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں(133) کیونکہ تونے یہ چیز کی ہے اور اپنے بیٹے ، اپنے اکلوتے بیٹے کو مجھ سے بچا کر نہیں رکھا : میں تجھے برکت میں برکت دوں گا اور بڑھانے میں مَیں تیری نسل کو آسمان کے تاروں کی مانند اور اس ریت کی مانند جو ساحل سمندر پر ہے، بڑھاؤں گا اور تیری نسل اپنے دشمنوں کے صدر دروازے پر قبضہ کرے گی اور تیری نسل میں زمین کی تمام قومیں برکت پائیں گی۔ کیونکہ تونے میری آواز کی پیروی کی ہے۔

یہاں اس بیٹے کا، جسے قربانی کے لیے پیش کرنا تھا، اس طرح ذکر ہوا ہے:

۱۔ تین مرتبہWhom اورHim کی ضمیروں کے ساتھ۔ (اگر) اس عبارت میں سے اسحاق کے لفظ کا اضافہ نظر انداز کر دیا جائے تو ان ضمیروں کے ذریعے سے اس بات کا یقینی علم ممکن نہیں کہ یہاں کون سا بیٹا مراد ہے۔
۲۔ ایک مرتبہ لفظ ’لڑکا‘ کے ساتھ (اس سے بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ان دو بیٹوں میں سے وہ ’لڑکا‘ کون تھا)۔
۳۔ تین مرتبہ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ میں (ظاہر ہے کہ یہ لڑکاحضرت اسماعیل علیہ السلام کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا، کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ان کی زندگی کے کسی مرحلے میں بھی ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ نہیں کہا جا سکتا تھا)۔

یہاں لفظِ’ اسحاق‘ صرف ایک مرتبہ استعمال کیا گیا ہے۔ اور وہ اس جگہ جہاں ’تیرا بیٹا ، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ پہلی مرتبہ استعمال ہوئے ہیں۔ کوئی قاری، جو معمولی سا بھی ادبی ذوق رکھتا ہو اور اس کے ساتھ معروضی، غیر متعصب اور آزاد سوچ کا بھی مالک ہو، اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ لفظ ’اسحاق‘ اس جگہ بالکل فالتو ،غیر متعلق اور بے محل ہے۔ اگر وہ لڑکا ،جو قربانی کے لیے درکار تھا، اسحاق ہوتا تو صرف یہ کہہ دینا کافی تھا کہ ’اپنے بیٹے اسحاق کو لو‘ ۔اللہ تعالیٰ ’ تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ ہرگز استعمال نہ کرتا، کیونکہ یہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے حق میں بہر صورت ایک جھوٹی بات ہے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں کہ وہ جھوٹی بات کرے۔ ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ اور ’اسحاق ‘ ایک واحد وجود کے لیے یک جا استعمال نہیں ہو سکتے، کیونکہ واقعاتی لحاظ سے وہ ایک دوسرے کی بالکل ضد ہیں۔ الفاظ کے استعمال اور ان کی ترکیب سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اصل میں جس کی قربانی درکار تھی وہ ’اکلوتا بیٹا‘ تھا۔ اور قربان کیے جانے والے بیٹے کی امتیازی خصوصیت اس کا اکلوتا پن تھاجواُس کی نمایاں طور پر ایک پیشگی شرط تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ جو اس عبارت میں تین مرتبہ استعمال ہوا ہے، وہ دو مرتبہ ’اسحاق‘ کے بغیر آزادانہ حیثیت میں استعمال ہوا ہے۔اور صرف ایک مرتبہ ’اسحاق‘ کے ساتھ آیا ہے۔ ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ کی ساخت بغیر کسی شک و شبہ کے یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ زور اولاً ’بیٹے کے اکلوتے پن‘ پر ہے، جس سے کہنے والے کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ مطلوبہ بیٹا اکلوتا بیٹا ہے۔ اوریہ زور ثانیاً وضاحتی ضمیر ’تیرا‘ پر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو بیٹا قربانی کے لیے مطلوب ہے ،وہ ’اے ا براہیم تمھارا بیٹا ہے اوروہ صرف تمھارا ہی اکلوتا بیٹا ہے( نہ کہ تمھاری بیوی کا اکلوتا بیٹا)‘۔ اگر اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہوتا کہ قربانی کے لیے حضرت اسحاق علیہ السلام کا پیش کیا جانا مطلوب تھا تو وہ بلا تردُّد اعلان کرتا ’سارہ کا اکلوتا بیٹا‘ یا ’تمھارا سارہ سے اکلوتا بیٹا‘، اور وہ کسی حالت میں بھی یہ نہ کہتا کہ ’تیرا بیٹا ، تیرا اکلوتا بیٹا‘۔ اس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے بھی الجھن پیدا ہوتی ہے اور بعد کے آنے والے ادوار میں پوری مذہبی دنیا کے لیے بھی۔ لفظِ ’اسحاق‘ کا ایسے بھونڈے اور متناقض انداز میں استعمال چغلی کھاتا ہے کہ اس مقام پر کسی نادان مؤلِّف نے صریحاً بے جوڑ انداز میں کوئی تحریف کی ہے۔
محترم قاری سے التماس ہے کہ وہ یہاں بائبل کی متعلقہ عبارت کو ایک مرتبہ پھر پوری توجہ کے ساتھ اورتمام ذہنی تحفظات سے بالا تر ہو کر پڑھے۔ عبارت کی روانی متکلم کا منشا اور ارادہ پوری طرح واضح کر رہی ہے اور ا س میں کسی ابہام کی کوئی گنجایش نہیں۔ متکلم (اللہ تعالیٰ ) پوری عبارت میں قربانی کے لیے مطلوب فرزندکے لیے ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ استعمال کر رہا ہے اور کسی جگہ بھی اس کے لیے ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ کے بغیر محض ’تیرا بیٹا‘ کے الفاظ استعمال نہیں کر رہا، تاکہ کسی جگہ مخاطب کے لیے غلط فہمی کا امکان باقی نہ رہے۔ ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ اور ’اسحاق‘ صریح طور پر ایک دوسرے کے متضاد ومتناقض الفاظ ہیں اور انھیں یکجا استعمال نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اسحاق زندگی کے کسی مرحلے میں بھی ’اکلوتا بیٹا‘ نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کے لیے ’اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ استعمال نہیں کیے (البتہ قصے کے راوی نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ایک جگہ اپنے ذبیح بیٹے کے لیے ’میرا بیٹا اسحاق‘ کے الفاظ بھی استعمال کرائے ہیں)۔ مختلف مقامات میں سے صرف ایک جگہ مؤلف کتاب نے اللہ تعالیٰ سے ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ کے ساتھ ’اسحاق‘ کا لفظ کہلوایا ہے، لیکن سیاق وسباق سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کسی مُدوِّن کا بعد کا اضافہ ہے۔ یہودیوں کی اس روش کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ وہ ’دینی ضرورت‘ کے تحت بائبل کی عبارت میں حذف واضافہ یا تبدیلی کا آزادانہ ارتکاب کرتے تھے اور اس بات میں کوئی برائی بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ نسل اسحاق علیہ السلام کو ایک برتر اور چُنی ہوئی قوم ثابت کرنا ان کی ’دینی ضرورت‘ تھی۔ اس کے بعد یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہیے کہ کسی ’نیک اور پارسا‘ ربی نے پوری معصومیت سے جہاں پہلی مرتبہ ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ دیکھے ہوں، وہاں فی البدیہہ اپنے ’Wishful Preconception‘ کے تحت’ اسحاق‘ کا لفظ وضاحت کے طور پر لکھ دیا ہو، جسے بعد کے ناقلین نے مفیدِ مطلب سمجھ کر یا معصومانہ غلط فہمی سے اصل عبارت میں شامل کر لیا ہو۔
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ بائبل یہ دعویٰ کرتی ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے تھے ۔ یہ صریحاً تحریف ہے، یاجیسا کہ انسائیکلو پیڈیا ببلیکا نے لکھا ہے۶؂ ، جس کا اوپرایک اقتباس میں ذکر ہے، یہ تبدیلی کے زمرے میں آتا ہے۔ بائبل کے علما ء و مفسرین نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ یہاں ضرور کوئی گڑ بڑ کی گئی ہے۔۷؂ انھیں اَخلاقی جرأت سے کام لے کر اس غلطی کی اصلاح کردینی چاہیے تھی ، یا پھر کم از کم وہ اس کی نشاندہی ہی کر دیتے۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ یہ سمجھ لینے کے باوجود کہ یہاں بائبل کے مؤلِّف نے صریحاً کوئی گڑ بڑ یا اضافہ کیا ہے،وہ بڑے شوق سے اس کے ساتھ چمٹے رہے۔ میتھیو ہنری(Matthew Henry) نے اپنی تفسیرِ بائبل میں اس ترجمہ میں ’Only‘کے ساتھ’One‘ کا اضافہ کرکے اس میں ترمیم و اِصلاح کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتا ہے :

That son whom thou lovest. It was a trial of Abraham\'s love to God, and therefore it must be in a beloved son, and that string must be touched most upon: in the Hebrew it is expressed more emphatically, and, I think, might very well be read thus, Take now that son of thine, that only one of thine, whom thou lovest, that Isaac. ؂8

’وہ بیٹا جس سے تو محبت کرتا ہے‘: یہ ابرہام کی خداوند کے ساتھ محبت کا امتحان تھا اور اس لیے اسے ایک پیارے بیٹے۹؂ ہی کی صورت میں ہونا چاہیے تھا۔ اور اس روح کو پوری طرح پیش نظر رکھنا چاہیے۔ عبرانی میں اسے زیادہ زوردے کر بیان کیا گیا ہے۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے یوں پڑھنا زیادہ بہتر ہوگا: ’اپنے اس بیٹے‘ کو لے، اس کو جو تیرا ایک ہی اکلوتا بیٹا ہے، جس سے تو محبت کرتا ہے، وہی اسحاق۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحیح ترجمے کے لیے ’صرف ایک‘ کے وصفی الفاظ استعمال کیے جانے چاہییں تھے نہ کہ صرف’Only‘ یعنی ’اکلوتا‘ کے۔اگر میتھیوہنری کے مجوزہ ترجمے کواختیار کر بھی لیا جائے تو بھی مفہوم وہی رہتا ہے۔ صحیح ترجمہ یعنی ’وہ تیرا ایک ہی اکلوتا‘ کا یقینی مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اس وقت صرف ایک ہی بیٹا تھا۔ اور ابھی تک ان کے ہاں کوئی دوسرا بیٹا پیدا نہ ہوا تھا۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا، کیونکہ جب تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا نہیں ہوئے تھے، حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’ایک‘ اور ’اکلوتے‘ بیٹے تھے۔اور اس وقت تک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر چودہ سال ہو چکی تھی۔
بائبل کے علما نے لفظ کے حقیقی مفہوم سے گریز کی سعیِ لا حاصل کی ہے،اس لیے ضروری ہے کہ لفظ ’اکلوتا‘ کا مطالعہ کیا جائے۔ عبرانی بائبل میں ’اکلوتا‘ کے لیے’ یحید‘کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ’یحید‘ کے معنی ہیں:’ایک ہی،تنہا، اکیلا (بچہ یا بیٹا)،تنہائی میں(سٹرونگز ڈکشنری ۴۹، اندارج نمبر۳۱۷۳، عہدنامہ قدیم کی عبرانی وآرامی لغات، برِل، ۲۰۰۱ء، ص ۴۰۶)‘ ۔ اس کے علاوہ بائبل کے سارے عہد نامہ قدیم میں یہ لفظ صرف مندرجہ ذیل چار مقامات پر استعمال ہوا ہے:

کیونکہ میں بھی اپنے باپ کا بیٹا تھا اور اپنی ماں کی نگاہ میں نازک اور اکیلا لاڈلا۔ (امثال۴: ۳)
اپنے اکلوتوں پر ماتم اور دلخراش نوحہ کر۔(یرمیاہ۶: ۲۶)
(...) اور ایسا ماتم برپا کروں گا جیسااکلوتے بیٹے پرہوتا ہے۔(عاموس۸: ۱۰)
جیسا [ماتم] کوئی اپنے اکلوتے کے لیے کرتا ہے۔( زکریاہ ۱۲: ۱۰)

ان تمام مقامات پر اس کا ترجمہ صرف لفظ ’اکیلا یا اکلوتا‘ ہی سے کیا جا سکتا ہے اورسیاق وسباق میں کوئی دوسرے معنیمناسب معلوم نہیں ہوتے۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ بائبل ’یحید‘ کا لفظ صرف ’اکیلا یا اکلوتا‘ ہی کے مفہوم میں استعمال کرتی ہے اور بائبل کے محاورے اور سیاق وسباق کے مطابق اس لفظ کو کوئی اورمعنی نہیں دیے جا سکتے۔
بائبل کے بعض مفسرین نے اس جعل سازی کی توجیہ کے لیے مضحکہ خیز توضیحات پیش کی ہیں۔ شلو موہ یتشاکی ، سلیمان بن اسحاق نامی ایک مشہور فرانسیسی نژاد یہودی ربی نے، جسے عام طور پر راشی(۱۰۴۰ء۔ ۱۱۰۵ ء) کہا جاتا ہے، اپنی تفسیرِ تورات میں اس موضوع پر کچھ دلچسپ ملاحظات لکھے ہیں۔ اس نے اس واقعے کو ایک تخیلاتی گفتگو کی شکل دے دی ہے اور ایک سادہ سے بیان کو اپنے مزعومات و تصورات کے رنگ میں ڈھالنے اور من پسند انداز میں توڑ مروڑ کر اس کی تاویل کرنے کی مہارت کا حیرت انگیز مظاہرہ کیا ہے۔ اس اقتباس پر بالعموم کتاب کے متن کے اندر تبصرہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بجاے حواشی میں موقع ہی پر تبصرے درج کر دیے گئے ہیں، خواہ وہ قدرے طویل ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔ راشی لکھتا ہے:

thy son. 'But I have two sons,' Abraham said. 'Thine only son,\' was the reply. 'But each is the only one of his mother!' 'Whom thou lovest,' he was told. 'But I love both!' and the answer came 'Even Isaac.' Why did not God name Isaac at once? Lest Abraham's mind reeled under the sudden shock. Further, to make His command more precious to him. And finally, that he might receive a reward for every word spoken.؂ 10

’تیرا بیٹا‘ ۔ ابراہیم نے کہا: ’لیکن میرے تو دو بیٹے ہیں ‘۔ ۱۱؂ جواب تھا: ’تیرا اکلوتا بیٹا‘۔۱۲؂’ لیکن (ان میں سے) ہر کوئی اپنی ماں کا اکلوتا ہے ‘۔۱۳؂ اسے بتایا گیا: ’جس سے تو محبت کرتا ہے‘۔۱۴؂ ’لیکن میں تو دونوں سے محبت کرتا ہوں‘۔۱۵؂ اور جواب آیا: ’اسحاق ہی‘۔۱۶؂ خداوند نے پہلی ہی دفعہ میں اسحاق کا نام کیوں نہ لیا؟۱۷؂ کہیں ابراہیم کا ذہن اچانک صدمے کے تحت چکرا نہ جائے۔۱۸؂ مزید اس لیے کہ اس (خدا) کا حکم اس (ابراہیم) کے لیے قابلِ قدر بن جائے ۱۹؂۔اور آخری بات یہ کہ اسے ہر اس لفظ کا اجر و ثواب مل سکے جو اس نے ادا کیا۔

اس معاملے میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت تک کوئی دوسرا بیٹا(حتیٰ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام بھی) پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اس وقت پیش کی ہوگی جبکہ وہ قریباً تیرہ سال کے تھے ، کیونکہ جب حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے تواس وقت تک حضرت اسماعیل علیہ السلام چودہ سال کے ہوچکے تھے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے ’اکلوتے بیٹے‘ ہونے کی حیثیت ختم ہو چکی تھی۔
اس دوسرے بیان کے مضامین کے اعادے کے طور پر ذیل میں اس کے چند اَہم نِکات پیش کیے جاتے ہیں:

۱۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو واضح طور پر’اپنے بیٹے، اپنے اکلوتے بیٹے‘ کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا تھا نہ کہ اپنے ’کسی ‘یا ’ایک‘ بیٹے کی قربانی کا۔
۲۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلونٹے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے اور وہ اس وقت پیدا ہوئے تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی۔
۳۔ حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے تھے اور وہ اس وقت پیدا ہوئے تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سو سال کے تھے۔
۴۔ اس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام قریباً چودہ سال کی عمر تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’اکلوتے بیٹے‘ رہے۔ اس تمام عرصے کے دوران میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کوئی دوسرا بیٹا نہیں تھا، کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام تو اس وقت پیدا ہوئے تھے، جب حضرت اسماعیل علیہ السلام قریباً چودہ سال کے ہو چکے تھے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ’اکلوتے بیٹے‘ کو قربانی کے لیے پیش کیا، اس وقت تک تو حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔
۵۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا ’اکلوتا بیٹا‘ قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیاتھا۔ پوری بائبل میں کسی جگہ بھی یہ بات موجود نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت سارہ کا ’اکلوتا بیٹا‘ قربان کرنے کا حکم دیا ہو۔ یہ تو بائبل کے مفسرین کی محض کھینچاتانی ہے کہ وہ اس طرح کا بے سروپا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتاتھا۔
۶۔ جیسا کہ اوپر درج ہوا ہے کہ انسا ئیکلوپیڈیا ببلیکا نے وثوق سے دعویٰ کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے ’اکلوتے بیٹے‘ کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی کہانی قابل لحاظ حد تک متعدد مرتبہ کئی مقامات پر تحریف و تبدیلی کا ہدف بنی ہے۔ اس طرح ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے ساتھ ’اسحاق ہی‘ کا اضافہ صریحاً کتاب کے مؤلف کی ترمیم و تحریف کی ایک بھونڈی مثال ہے۔
۷۔ جس ’اکلوتے بیٹے‘ کو قربانی کے لیے پیش کیا جانا مطلوب تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صرف اکلوتا ہی نہیں، بلکہ لاڈلا اور پیارا بیٹا بھی تھا اور ’آزمایش‘ کو کمال تک پہنچانے کے لیے ایساہونا ضروری بھی تھا۔ اس موضوع پر کتابِ ہٰذاکے ایک مستقل باب میں الگ سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے (ملاحظہ کیجیے باب چہارم )۔
۸۔ جس بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا جانا درکار تھا، وہ ایک ’لڑکا‘ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی بالغ نہیں ہوا تھا، بلکہ قریباً تیرہ چودہ سال کا تھا، لیکن بائبل کے مفسرین کے مطابق جب حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کیا گیا تو یا تو وہ قریباً دو تین سال کے بچے تھے اور ان کا حال ہی میں دودھ چھڑایا گیا تھا، یا پھر وہ بیس سے لے کر سینتیس سال تک کے جوان آدمی تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو جب نام نہاد قربانی کے لیے پیش کیا گیاتو وہ ’لڑکے‘ نہ تھے، جبکہ بائبل قربانی کے لیے پیش کیے جانے والے بیٹے کے لیے ’لڑکے‘ کا لفظ استعمال کرتی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ یہ ایک صریح غلطی ہے، یہ بات خصوصی توجہ کی طالب ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنی زندگی کے کسی دور میں بھی اپنے باپ کے ’اکلوتے بیٹے‘ نہیں رہے۔

________

 

 

حواشی باب دُوُم

1-The Jewish Enc., Ed. Isidore Singer (KTAV Publishing House, Inc., USA), 6:647.

۲؂ یہ بات درست نہیں ہے کہ ہاجرہ سارہ کی باندی یا کنیز تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک شہزادی تھیں اور اس مصری بادشاہ کی بیٹی تھیں، جس نے انھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی سارہ کی خدمت کے لیے پیش کیا تھا تاکہ وہ ایک پاکیزہ ماحول میں پرورش پائیں۔ یہاں بائبل کے مؤلفین نے انھیں جان بوجھ کر لونڈی یا باندی کے طور پر پیش کیا ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباسات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے:

That Hagar appears as a slave-woman is a necessary consequence of the theory on which the Hebrew myth is based, the notion being that Ishma\'el was of inferior origin. (Enc. Biblica, Column 1933).

یہ بات کہ ہاجرہ کو ایک لونڈی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، عبرانی روایت پر مبنی نظریے کا لازمی نتیجہ ہے ۔اور وہ نظریہ یہ ہے کہ اسماعیل ایک فروتر نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہاجرہ کو لونڈی اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام سے فرو تر ثابت کیا جائے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہاجرہ ایک مصری شہزادی تھیں، جیساکہ جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہے:

According to Midrash (Gen. R xiv.), Hagar was the daughter of Phraoh, who, seeing what great miracles God had done for Sarah\'s sake (Gen.xii, 17), said: "It is better for Hagar to be a slave in Sarah\'s house than mistress in her own." In this sense Hagar's name is interpreted as "reward\" ("Ha-Agar" = "this is reward" ). (...). Hagar is held up as an example of the high degree of godliness prevalent in Abraham's time, (...). Her fidelity is praised, for even after Abraham sent her away she kept her marriage vow, (...). Another explanation of the same name is "to adorn," because she was adorned with piety and good deeds (l.c). (Jewish Enc., 6:138).

مدراش کے بیان کے مطابق ہاجرہ فرعون کی بیٹی تھی۔ جب فرعون نے یہ دیکھا کہ سارہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیسے عظیم معجزات صادر فرمائے ہیں تو اس نے کہا: ’ ہاجرہ کے لیے یہ بات زیادہ اچھی ہے کہ وہ سارہ کے گھر میں لونڈی بن کر چلی جائے، بہ نسبت اس بات کے کہ وہ اپنے گھر میں مالکہ کی حیثیت سے رہے۔‘ اس مفہوم کے اعتبار سے ہاجرہ کے نام کا ترجمہ ’اجر یا انعام‘ (ہا اجر یعنی یہ اجر ہے) کیا جاتا ہے۔ (... )۔ ہاجرہ کو ابراہیم کے دور میں رائج نیکی و پارسائی کے اعلیٰ درجے کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ (...)۔ اس کی وفاداری کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ باوجود اس کے کہ ابراہیم نے اسے اپنے گھر سے دور کر دیا تھا لیکن پھر بھی اس نے ابراہیم کے ساتھ اپنی شادی کے بندھن کو برقرار رکھا۔ (...)۔ اس نام (ہاجرہ) کی ایک اور توضیح ہے ’ سجانا‘ ۔ کیونکہ اسے نیکی و پارسائی اور اعمالِ صالحہ سے مزیّن کیا گیا تھا۔

ایچ ای رائل نے بھی اپنے مضمون ’ہاجر‘ میں یہی راے بیان کی ہے:

Rashi, in his commentary on 6:1, records the belief that Hagar was a daughter of Pharaoh, who, after seeing the wonders that had been done for Sarah, declared that it was better for his daughter to be a bondservant in the house of Abraham than a mistress in the palace of another. (J. Hastings, Dic. of Bible, 2:278.)

راشی نے اپنی تفسیر( ۶: ۱) میں یہ عقیدہ درج کیا ہے کہ ہاجرہ فرعون کی بیٹی تھی۔ فرعون نے یہ دیکھ کر کہ سارہ کے لیے کیسے عجیب و غریب معجزات صادر ہوئے ہیں، یہ اعلان کیا کہ اس کی بیٹی کے لیے ابراہیم ؑ کے گھر میں لونڈی کی حیثیت سے رہنا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ کسی اور کے محل میں ملکہ بن کر رہے۔

۳؂ پیدایش ۱۶: ۱، ۳، ۱۵، ۱۶۔
۴؂ بائبل (NASB)پیدایش۱۷:۱۵۔۱۸۔اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے شدید محبت کا اظہار ہوتا ہے۔
۵؂ پیدایش ۲۱: ۵۔
۶؂ ملاحظہ کیجیے باب اول میں ’بائبل کے اس قصے کی حیثیت‘ ۔
۷؂ بلا شبہ ان مفسرین میں سے بعض نے کسی نہ کسی انداز میں اس غلطی کی نشاندہی کی ہے، مثلاً 'The Works of Flavius Josephus' کا مترجم ولیم وہسٹن 'Isaac, as being his only-begotton' پر اپنے حاشیے میں لکھتا ہے:

Note, that both here and Heb. xi. and 17. Isaac is called Abraham's only-begotten son, though he at the same time had another son, Ishmael. The Septuagint expresses the true meaning, by rendering the text the beloved son.' (The Works of Flavius Josephus, Tr by W. Whiston, Boston, D Lothrop & Co., na., footnote 1 on ch. XIII, paragraph 1, p. 42).

ملاحظہ کیجیے کہ یہاں اور عبرانیون۱۱: ۱۷ ، میں دونوں جگہ اسحاق کو ابراہیم کا ’اکلوتا بیٹا‘ کہا گیا ہے، حالانکہ اس وقت ان کا ایک دوسرا بیٹا اسماعیل بھی موجود تھا۔ ہفتادی ترجمے میں اس کے ]بزعمِ خویش [صحیح معنی درج ہیں اور اس نے متن کا ترجمہ ’پیارا بیٹا‘ کے الفاظ میں کیا ہے۔
حقیقت میں \'rendering the text the beloved son\' والا جملہ ایک من گھڑت بات ہے جس کی کوئی لغوی بنیاد نہیں۔ کسی لفظ کا اپنے مزعومات کی تسکین یا نا پسندیدہ صورت حال سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اس طرح کا ترجمہ کرنا تحریف ہی کی ایک قسم ہے۔ اس لفظ ’اکلوتا‘ کے لیے اصل عبرانی بائبل میں جو لفظ آیا ہے، وہ ’یحید‘ ہے ، لیکن ’دی نیو جیروم تفسیرِ بائبل‘ مطبوعہ ٹی پی آئی بنگلور ، انڈیا، ۱۹۹۴ء کے مصنف نے بھی وہی من مانی کی ہے۔ جب وہ صفحہ ۲۵ پر یہ لکھنے کے باوجود کہ اسحاقؑ کے لیے ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ کا استعمال غلط ہے،یہ دعویٰ کرتا ہے :

'Only son' is inaccurate, since Abraham will have other sons; already the LXX 'ton agapeton' correctly interpreted the Hebrew word as 'favored' by God.

 ’اکلوتا بیٹا‘ غلط ترجمہ ہے، کیونکہ ابراہیم ؑ کے [اس وقت] دوسرے بیٹے بھی ہوں گے۔ ہفتادی ترجمے نے پہلے ہی عبرانی الفاظ کا ’ خداوند کا پسندیدہ‘ کے الفاظ میں صحیح مفہوم بیان کیا ہے ۔

یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ بائبل کے قریباً تمام تراجم میں لفظ ’یحید‘ کا ترجمہ ’اکلوتا‘ کیا ہے(فی الحقیقت، اس کے بنیادی مادے ’یحد‘ کے پیشِ نظر ،جس کے معنی صریحاً ’ ایک ہونا‘ ہیں ،یہی ترجمہ صحیح ہے)، سوائے چند جری یہودیوں کے جنھوں نے قصداً معنوں میں تحریف کی ہے۔

8. Matthew Henry\'s Bible Com., 1:80.

۹؂ جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہ تھا، جیسا کہ اس کتاب کے باب چہارم میں تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔

10. As quoted by Dr. A. Cohen in The Soncino Chumash, (Hindhead, Surrey: The Soncino Press, 1947), 108.

۱۱؂ ’لیکن میرے دو بیٹے ہیں‘ کے جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے (نعوذ باللہ)خدا کو غلطی لگ گئی ہو، جیسے اُس کے علم میں نہ ہوکہ سارہ پہلے ہی ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے کو جنم دے چکی تھیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ گویا ابراہیم علیہ السلام بے خبر خدا کے علم میں، جسے غلطی لگ گئی تھی،لانا چاہتے تھے اور انھیں بتانا چاہتے تھے کہ ’ بلکہ میرے دو بیٹے ہیں‘ (اللہ تعالیٰ اس راقم کو معاف فرمائے جسے مجبوراً جملے کے الفاظ کے مضمرات بیان کرنے کے لیے یہ الفاظ استعمال کرنے پڑے)۔ فاضل مفسرکو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُس کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے ’بے علم‘ ہونے کا مفہوم مترشح ہوتا ہے۔ اُسے تو اس بات پر ہی اطمینان ومسرت محسوس ہو رہی ہے کہ اُس نے حضرت اسماعیل کو ’اکلوتے بیٹے‘ کے طور پر قربانی کے لیے پیش کیے جانے کے استحقاق کی فضیلت سے محروم کر دیا ہے اوربزعمِ خویش قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی فضیلت حضرت اسحاق کے حق میں ثابت کر دی ہے۔
۱۲؂ اس لفظ ’اکلوتا‘ کے لیے اصل عبرانی لفظ ’یحید‘ ہے۔ ’سٹرونگز عبرانی ڈکشنری ‘اندراج نمبر ۳۱۷۳، ص ۴۹کے مطابق اس کے معنی ہیں:

from 3161; sole; also lonely; only (child, son), solitary.

’اکیلا، تنہا، لاڈلاوغیرہ ‘ ۔اندراج نمبر ۳۱۶۱ ’یحد‘ ہے جو لفظ ’یحید‘ کا مادہ ہے اور اِس کے معنی ہیں ’ایک ہونا یا ہو جانا‘ یہ وہی لفظ ہے جو عربی میں وحدت ہے اور اس کے معنی بھی وہی ہیں۔ عہدنامہ قدیم کی عبرانی اور آرامی ڈکشنری (صفحہ ۴۰۶) میں اِس کے معانی ہیں:

only, single, alone, the only son, the only one.

یہ بات بالکل ناقابل یقین ہے کہ راشی جیسے فاضل شخص کو اس لفظ کی حقیقت اور معنی معلوم نہ ہوں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر کسی شخص کے بہ یک وقت دو بیٹے ہوں تو ان میں سے کسی کو بھی اس کا ’اکلوتا بیٹا‘ نہیں کہا جا سکتا۔ ان میں سے ہر ایک کو ’ اس کے دو بیٹوں میں سے ایک‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو ’اس کا اکلوتا بیٹا‘ کہنا اسی طرح غلط اور گمراہ کن ہے، جیسے لفظ ’تین‘ کو ’ ایک‘ کہنا۔ بائبل کے بعض مفسرین نے بھی اس بات کو محسوس کیا ہے۔ ’دی نیو جیروم تفسیرِ بائبل‘ میں کتاب پیدایش کی تفسیر بیان کرتے ہوئے رچرڈ جے کلیفرڈ اور رولینڈ ای مرفی (صفحہ ۲۵ پر) لکھتے ہیں :

’اکلوتا بیٹا‘درست نہیں، کیونکہ ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے بھی ہوں گے۔

مندرجہ بالا گفتگو سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی پیش کی اس وقت تک ان کے صرف ایک ہی فرزند تھے۔ یہ بات خود بخود ظاہر ہے کہ وہ ’اسماعیل‘ علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں، نہ کہ ’اسحاق‘ علیہ السلام ۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ چند یہودی مترجمین (مثلاًمسوراتی متن کے مطابق تورات، صفحہ ۳۵۔ ۳۶، دِی توراہ، ایک جدید تفسیر صفحہ ۱۴۶، ۱۴۷۔ موخر الذکر میں عبرانی متن بھی موجود ہے اور اِس میں یہاں ’یحید‘ کا لفظ استعمال کیا ہے) نے اس لفظ ’ اکیلا یا اکلوتا‘ کا ترجمہ اصل مادے کو نظرانداز کرتے ہوئے ’پسندیدہ‘(favored one)کیا ہے۔یہ صریحاً بدنیتی پر مبنی ہے۔
اس کہانی میں ایک اور بھی لفظ ہے جو اس نکتے کو پوری طرح واضح کر دیتا ہے اور وہ ہے لفظ ’لڑکا‘ ۔ بائبل کی متعلقہ عبارت میں یہ لفظ دو مرتبہ ادا کیا گیاہے۔ پہلی دفعہ خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے اور دوسری دفعہ خداوند کے فرشتے کی زبان سے۔ اصل عبرانی زبان میں لڑکے کے لیے جو لفظ آیا ہے ، وہ ہے: ’نعر‘۔ سٹرونگز ڈکشنری میں اس کے معنی ہیں:

a boy, from the age of infancy to adolescence; by impl. a servant; also (by interch. of sex), a girl (of similar latitude in age): babe, boy, child, damsel, lad (Heb. Dic. in Strong\'s Exh. Concordance, entry 5288, p. 79.).

لڑکا : بچپن سے لے کر عنفوانِ شباب کی حدود میں داخل ہونے تک [یعنی قریباً تیرہ چودہ سال تک]، نوکر ، لڑکی وغیرہ ۔

اس طرح یہ بات یقینی طور پر طے ہو جاتی ہے کہ قربانی کے لیے پیش کیا جانے والا بیٹاایک تو ’اپنے باپ کا اکلوتا فرزند‘ ہونا چاہیے اور دوسرے عمر کے اعتبار سے ’لڑکا‘ ۔ یہ دونوں شرائط حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات میں پوری طرح موجود ہیں ،جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی ان دونوں شرائط میں سے کوئی بھی پوری نہیں کرتے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قربانی کا حکم دیتے وقت اس کی وضاحت کر دی تھی۔ جہاں تک حضرت اسحاق علیہ السلام کے نام نہاد قربانی کے لیے پیش کیے جانے کی عمر کا تعلق ہے تو حیرت کی بات یہ ہے کہ علماے بائبل کے مطابق اس نام نہاد قربانی کے وقت حضرت اسحاق علیہ السلام یا تو ابھی لڑکپن کی حدود میں داخل ہی نہیں ہوئے تھے اور صرف دو تین سال کے بچے تھے، یا پھر لڑکپن کی عمرکی حدود پار کر کے جوان آدمی بن چکے تھے۔
بائبل کے یہودی مفسرین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے پیش کی جانی والی اس نام نہاد قربانی کے وقت حضرت اسحاق علیہ السلام کی عمر کے بارے میں مختلف آرا رکھتے ہیں۔
ڈبلیو گنتھر پلاٹ لکھتے ہیں :

According to the Rabbis, Isaac was thirty-seven years old. However, the story should be read not in chronological order but rather as an unrelated unit; here Isaac is a mere boy. The Rabbis took the death of Sarah to be immediately related to the Akedah [sacrifice]; therefore, with Sarah dying at 127 years of age, Isaac would be 37, having been born when his mother was 90. (W. Gunther Plaut, in his \'The Torah: A Modern Commentary\' (NY: Union of American Hebrew Congregations, 1981), p. 146)

ربیوں کے مطابق اسحاق ؑ سینتیس سال کے تھے۔ تاہم کہانی کو ماہ و سال کے نقطۂ نظر سے نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ اسے ایک آزاد اکائی کے طور پر لینا چاہیے۔ یہاں ’اسحاق ؑ ‘محض ایک لڑکا ہے۔ ربیوں نے سارہ کی وفات کو قربانی کے فوری بعد قرار دیا ہے۔ اس طرح جب سارہ ایک سو ستائیس سال کی عمر میں فوت ہوئی تو اس وقت اسحاق ؑ کی عمر سینتیس سال بنتی ہے کیونکہ وہ اس وقت پیدا ہوئے تھے جب ان کی والدہ کی عمر نوے سال تھی۔

صفحہ ۱۵۹ پر وہ مزید لکھتا ہے :

Abraham returned alone from Moriah, and Sarah, believing to Isaac to have been sacrificed, died of grief.۔Midrash.

ابراہیم ؑ موریاہ سے تنہا واپس آئے۔ سارہ نے سوچا کہ اسحاق ؑ قربان کر دیے گئے، اس لیے وہ غم سے مر گئی ۔

جوزیفس لکھتا ہے:

Now Isaac was twenty-five years old. And as he was building the altar, he asked his father what he was about to offer, since there was no animal there for the oblation (Antiquities, Book I, Chap. XIII, para. 2, p. 42).

اب اسحاق پچیس سال کا تھا۔ اور وہ قربانی کا چبوترہ تیار کر رہا تھا۔ کیونکہ نذرانے کے طور پر پیش کرنے کے لیے کوئی جانور موجود نہ تھا،اس لیے اس نے اپنے والد سے پوچھا کہ وہ (ابراہیم ؑ ) قربانی کے لیے کیا پیش کر ے گا؟

’دی جیوئش انسائیکلوپیڈیا‘ میں ۶: ۶۱۷ پر درج ہے:

In Jose ben Zimra's opinion, the akedah took place immediatley after Isaac's weaning [ at the age of 2 or 3 years].

جوز بن زِمرہ کے خیال میں قربانی اسحاق ؑ کا دودھ چھڑانے کے فوری بعد (دو یا تین سال کی عمر میں) پیش کی گئی تھی۔

بائبل میں بیان کیا گیا ہے:

ابراہیم ؑ نے سوختنی قربانی کے لیے لکڑیاں لیں اور انھیں اپنے بیٹے اسحاق ؑ پر لادا۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ بچہ جس کا ابھی دودھ چھڑایا ہی گیا ہے، اسے لکڑیوں کا اتنا بڑا بوجھ اٹھوا دیا جائے! ایلن جی وائٹ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیرِ بائبل‘ ۱: ۳۴۹ پر لکھتا ہے :

’اسحاق ؑ اس وقت بیس سال کا جوان آدمی تھا‘۔

خواہ نام نہاد قربانی کے لیے پیش کیے جانے کے وقت حضرت اسحاق علیہ السلام کو ابھی ابھی دودھ چھڑایا جانے والا بچہ قرار دیا جائے یا سینتیس سال یا پچیس سال یا بیس سال کا سمجھا جائے یا کسی اور عمر کا، بہر صورت وہ ’لڑکا‘ ہر گز قرا ر نہیں دیے جا سکتے۔ پھرحضرت اسحاق علیہ السلام کی عمر کچھ بھی ہو، انھیں اپنی زندگی کے کسی دور میں بھی ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ نہیں کہا جا سکتا ،جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ اور ’لڑکا‘ ہونے کی حیثیت چودہ سال کی عمر تک برقرار رہی۔ اس طرح اگر قربانی کے لیے حضرت اسحاق علیہ السلام کو پیش کیا جانا ہوتا تو ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ والی بات بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔
۱۳؂ یہ ’اس کی ماں‘ کے الفاظ کہاں سے درمیان میں آ گئے؟ یہ بات صریحاً ناقابل یقین ہے کہ اتنا بڑا صاحبِ علم مصنف ’ تیرا اکلوتا بیٹا‘ جیسے سیدھے سادے بیان پر ایسی لغو توجیہ پیش کر سکتا ہے۔ یہاں قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ یہ مکالمہ صرف اللہ تعالیٰ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان ہو رہا ہے۔ اس مکالمے میں کسی تیسرے شخص کا کوئی دخل نہیں۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ متکلم ہے، کیونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہم کلام ہے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام مخاطب ہیں، جن کے لیے مخاطب یا حاضر کی ضمیر ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے مخاطب کی ضمیر ’تیرا‘ استعمال کی ہے۔ اس مخاطب کی ضمیر ’تیرا‘ کا اطلاق کسی صورت بھی حضرت سارہ پر نہیں ہو سکتا جو یہاں موجود ہی نہیں ہیں اور ان کے لیے صرف غائب ہی کی ضمیر استعمال ہو سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ’اکلوتا بیٹا‘ کو مجہول انداز میں نہیں بیان کیاکہ کسی شک یا تردد کی کوئی گنجایش باقی رہ جائے، بلکہ ’اکلوتا بیٹا‘ کو واضح طور پر لفظ ’تیرا‘ کے وصف سے موصوف کرکے بیان کیا ہے۔ بدیہی طور پر اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ’اے ابراہیم ؑ ، جو لڑکا قربانی کے لیے درکار ہے، وہ ’تیرا‘ اکلوتا بیٹا ہے اور کسی ماں کا اکلوتا بیٹا نہیں‘۔ جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق ہے تو ان جیسے ذی شعور انسان کے بارے میں یہ بات قطعی طور پر ناقابلِ تصور ہے کہ وہ اس جگہ ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ جیسے واضح جملے کا’لیکن ہر ایک اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہے‘ جیسا احمقانہ جواب دیں گے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ’اپنی ماں کا‘ کے الفاظ کا ’تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ سے کیا تعلق ہے۔
۱۴؂ اس موضوع پر اس کتاب کے باب چہارم میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
۱۵؂ ملکہ متخیّلہ سے مالا مال فاضل مفسر نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ’ لیکن میں دونوں سے محبت کرتا ہوں‘ کے الفاظ ادا کرائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہاں اس لفظ ’دونوں‘ سے مراد حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام دونوں ہیں۔ اگر کسی شخص کے دو بیٹے ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو بھی ’اکلوتا‘ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا ’اکلوتا بیٹا‘ قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دے رہا ہے اور دوسری طرف یہ فاضل مصنف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے منہ میں ’لیکن میں دونوں سے محبت کرتا ہوں‘ کے الفاظ ڈال رہے ہیں۔ یہ بیانات صریحاً متضاد ہیں اور اس طرح ’لیکن میں دونوں سے محبت کرتا ہوں‘ کے الفاظ قطعی طور پر بے بنیاد اور بے سرو پا ہیں۔
۱۶؂ جہاں تک ’اسحاق ؑ ہی‘ کے الفاظ کا تعلق ہے وہ جملے کی روانی اور سیاق و سباق کے لحاظ سے صریحاً غیر متعلق اور فضول ہیں۔ جس بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا جانا مطلوب تھا اگر وہ اسحاق علیہ السلام ہوتے تو اللہ تعالیٰ کو ’تمھارا بیٹا اسحاق ؑ ‘ کے الفاظ ادا کرنے چاہییں تھے، لیکن جب وہ ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ ادا کر رہا ہے تو اس سے مراداسماعیل علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس جگہ لفظ ’اسحاق ؑ ‘ کا اضافہ کسی چابک دست مؤلف کی نا مناسب اور غیر موزوں تحریف کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
۱۷؂ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ تمام فرضی سوالات اور ان کی یہ ساری ترتیب مفسر محترم کی ذہنی کاوش کی اختراع ہے، وگرنہ بائبل کی عبارت میں ان کا کوئی اشارہ یا تذکرہ موجود نہیں۔ اگر کوئی جانب دار مؤلف اتنے بھدے انداز میںیہاں لفظ ’اسحاق ؑ ‘ کا اضافہ نہ کرتا تو ہمارے یہ فاضل مفسر اپنی تخیلاتی تخلیق کاری کا ایسا عظیم الشان مظاہرہ کس طرح کر سکتے تھے!
۱۸؂ ’مبادا ابراہیم ؑ کا ذہن اچانک صدمے سے چکرا جائے‘ تحلیلِ نفسی کا کیا شان دار مظاہرہ ہے!
۱۹؂ ’اپنے فرمان کو اس (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) کے لیے مزید قیمتی بنانے کے لیے ‘ : سبحان اللہ! کیا خوب انداز ہے۔ قارئین توجہ فرمائیں کہ اگر انھوں نے کسی کے لیے اپنے حکم کو زیادہ قیمتی بنانا ہو، تو یہ اس کا کتنا عمدہ طریقہ ہے!’ آخری بات یہ کہ وہ اپنے ادا کیے ہوئے ہر لفظ کا بھرپور اجر پائے‘ تحریف کی یہ کیا شان دار توجیہ ہے!

_____________