قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے نصب امامت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے:

وَ اِذِ ابْتَلآی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ.(البقرہ ۲: ۱۲۴)
’’اور (یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو وہ اس نے پوری کر دکھائیں۔ فرمایا: بے شک، میں تمھیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔اس نے پوچھا: اور میری اولاد میں سے؟ فرمایا: میرا یہ عہد ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو ظالم ہوں گے۔‘‘

اس آیت میں نہ صرف حضرت ابراہیم کے امام بنائے جانے کا بیان ہے ، بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اولاد ابراہیم کے لیے نصب امامت کا ضابطہ وہی ہے جو آں جناب علیہ السلام کے لیے تھا،یعنی جس طرح حضرت ابراہیم کو ان کے رب نے آزمایا، اسی طرح اولاد ابراہیم کو بھی آزمایا جائے گا۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے اترے ، انھیں دنیا میں عروج واقتدار نصیب ہوگا ۔ جنھوں نے ظلم و نافرمانی کی راہ اختیار کی وہ اس منصب کے حق دار نہیں۔بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل کی پوری تاریخ کا فلسفہ اسی ایک آیت میں بیان ہوگیا ہے۔ چنانچہ ہم آگے چل کر ان دونوں کی تاریخ سے یہ بات دکھائیں گے کہ عالم اسباب میں رہتے ہوئے، ان کا عروج و زوال خداسے وفاداری اور شریعت کی پاس داری سے وابستہ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کی روشنی میں حضرت ابراہیم کو بڑھاپے میں دو عظیم بیٹے اور پیغمبر اسمٰعیل اور اسحاق علیہما السلام عطا کیے گئے۔ انھیں اپنے اس مقام کا بخوبی احساس تھا۔چنانچہ عقیدہ اور عمل کی سطح پرخدا سے وفاداررہنے پر اپنی اولادکو متنبہ کرنا اور خدا سے اس کے لیے دعا کر نا حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کا خاصہ رہا ہے۔*
ان میں سے چھوٹے صاحب زادے اسحاق کو کنعان (موجودہ فلسطین) کے علاقے میں آباد کیا گیا اور پہلے انھی کی اولاد کو منصب امامت سے سرفراز کیا گیا،جبکہ بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیل کو اللہ کے حکم کے مطابق مکہ کی وادی غیر ذی زرع میں ان کی والدہ محترمہ ہاجرہ کے ہمرا ہ آباد کر دیاگیا۔ اس موقع پر جو شان دار دعا حضرت ابراہیم نے فرمائی ، وہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ آپ کی ذریت کا اصل مشن توحید سے عقیدہ اور عمل کی سطح پر وفاداری اور اس کی بنیاد پر ایک خدا پرستانہ معاشرے کا قیام ہے اور جو لوگ اس ضمن میں آپ کی پیروی نہیں کریں گے ، ان کا آپ سے کوئی تعلق نہیں:

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ. رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بَوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ. رَبَّنَآ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَمَا نُعْلِنُ وَمَا یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ. اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ. رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ.(ابراہیم ۱۴: ۳۵ ۔۴۰)
’’اور (یاد کرو) جب ابراہیم نے دعا کی: اے میرے رب ،اس سرزمین کو پرامن بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے محفوظ رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے لوگوں میں سے ایک خلق کثیر کو گمراہ کررکھا ہے تو جو میری پیروی کرے ، وہ مجھ سے ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد میں سے ایک بن کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں۔ تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔ اے ہمارے رب، تو جانتا ہے جو ہم پوشیدہ رکھتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اور اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ بے شک، میرا رب دعا کا سننے والا ہے۔ اے میرے رب، مجھے نماز کا اہتمام کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔ اے ہمارے رب، اور میری دعا قبول فرما۔‘‘

_______

* البقرہ ۲: ۱۲۷، ۱۳۲ ۔ ۱۳۳۔

____________