باب چہارم



بائبل کا بیان ہے کہ جس بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا جانا تھا،وہ ’اکلوتا بیٹا‘ تھا، جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام محبت کرتے تھے۔ یہ’ محبت ‘ والا نکتہ نہایت اہم ہے اور اس سے سرسری طور پر نہیں گزر جانا چاہیے۔
’حضرت ابراہیم علیہ السلام کو محبت کس بیٹے سے تھی؟‘ اس امر کی تحقیق نہایت محنت سے کی جانی چاہیے۔ اور اس پر بے سوچے سمجھے ایک رواں سا تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ پہلی بات جس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے، وہ بائبل کے یہ الفاظ ہیں : ’Whom thou lovest ‘ یعنی ’جس سے تو محبت کرتا ہے‘۔
یہ متعلقہ بیٹے کے لیے محض عام سا سادہ بیان نہیں ہے، بلکہ اس سیاق و سباق میں اس کے امتیازی خصائص کا بیان ہے۔ ان الفاظ کو حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے کسی بیٹے پر ڈھیلے ڈھالے انداز میں چَسپاں نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھیں بڑی سوچ بچار اور ذمہ داری سے متعین طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلقہ بیٹے ہی پر لاگو کرنا چاہیے۔
جہاں تک حضرت اسحاق علیہ السلام کا تعلق ہے، ’Whom thou lovest ‘ یعنی ’جس سے تو محبت کرتا ہے‘ کے الفاظ ان سے متعلق قرار نہیں دیے جا سکتے۔ بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے لیے واجبی پدرانہ شفقت کا اظہار ضرور کرتے ہوں گے، جو ایک فطری بات ہے، لیکن وہ ان کے لیے کوئی غیر معمولی محبت اور لگاؤ نہیں رکھتے تھے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے حضرت اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کا ذکر کیا گیا جو درج ذیل ہے:

اور خدا نے ابرہام ؑ سے کہا کہ ساری جو تیری بیوی ہے، سو اُس کو ساری نہ پکارنا۔ اس کا نام سارہ ہوگا۔ اور میں اسے برکت دوں گا اور اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا۔ یقیناًمیں اسے برکت دوں گا کہ قومیں اس کی نسل سے ہوں گی اور عالم کے بادشاہ اس سے پیدا ہوں گے۔۲؂

تو حضرت ابراہیمعلیہ السلام کو اس سے کچھ خاص خوشی نہ ہوئی، بلکہ اس آنے والے فرزند کے لیے انھوں نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی واحد خواہش اور انتہائی اہم ترجیح حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے، جیسا کہ بائبل میں بھی بیان کیا گیا ہے:

اور ابرہام ؑ نے خدا سے کہا کہ کاش اسماعیل ؑ ہی تیرے حضور جیتا رہے۔ تب خدا نے فرمایا کہ بے شک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا۔ تو اس کا نام اضحاق ؑ رکھنا اور میں اس سے اور پھر اس کی اولاد سے اپنا عہد، جواَبدی عہد ہے، باندھو ں گا۔اور اسمٰعیل ؑ کے حق میں بھی میں نے تیری دعا سنی، دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا۔۳؂

بائبل کے مفسرین نے اسے بجا طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حق میں محبت کے اظہار کی علامت قرار دیا ہے۔ ’دی نیلسن سٹڈی بائبل‘ (The Nelson Study Bible)میں بیان کیا گیا ہے:

What is more, he still loved his son Ishmael (16:15:17:18). ؂4

مزید برآں یہ کہ وہ اب بھی اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے محبت کرتے تھے۔

’وکلف کی تفسیر بائبل‘ (Wycliffe Bible Com.) میں یہ بات اس انداز میں بیان کی گئی ہے:

Sarah may have feared that Abraham, out of love for Ishmael, would give the older lad the prominent place in the inheritance. (...). To drive them out must have been exceedingly grievous to Abraham, for he loved the boy.؂5

ہو سکتا ہے سارہ ڈرتی ہو کہ اسماعیل ؑ کی محبت کی وجہ سے ابراہیم ؑ ترکے میں بڑے لڑکے کو غالب حصہ دے دیں گے۔ (...) ۔ انھیں گھر سے نکال دینے پر ابراہیم ؑ کو ضرور شدید دکھ ہوا ہو گا، کیونکہ وہ اس لڑکے سے محبت کرتے تھے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام سے محبت کرتے تھے، بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے محبت اتنی نمایاں اور واضح تھی کہ حضرت سارہ کو بھی اس کا بخوبی علم تھا۔ دی ڈِ ووشنل فیملی بائبل(The Devotional Family Bible) میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے:

He [Abraham] bears Ishma\'el upon his heart, and expresses a laudable concern for him.؂6

وہ [حضرت ابراہیمعلیہ السلام ]اسماعیل ؑ کو اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں اور ان کے لیے قابل ستایش محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

مارکس دَودس(Marcus Dods)نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی وہ فرزند تھے جن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت زیادہ محبت کرتے تھے، بہت عمدہ توضیحی شذرہ قلم بند کیا ہے۔ اس نے اس شدید محبت کی توجیہ بھی بیان کی ہے۔ وہ رقم طراز ہے:

Abram's state of mind is disclosed in the exclamation: ''Oh, that Ishmael might live before Thee!" He had learned to love the bold, brilliant, domineering boy. (...). But there he was, in actual flesh and blood, full of life and interest in everything, daily getting deeper into the affections of Abram, who allowed and could not but allow his own life to revolve very much around the dashing, attractive lad [It may be noted that when Ishma'el was still a 'lad', Isaac had either not been born, or would have been still a suckling baby]. (...). "Oh, that Ishmael might serve Thy turn!" Why call me again off from this actual attainment to the vague, shadowy, non-existent heir of promise, who surely can never have the brightness of eye and force of limb and lordly ways of this Ishmael? Would that what already exists in actual substance before the eye might satisfy Thee and fulfil Thine intention and supersede the necessity of further waiting! Must I again loosen my hold, and part with my chief attainment? ؂7

ابرام کی ذہنی کیفیت ان کے اس فجائیے سے ظاہر ہے’اے کاش اسماعیل ؑ تیرے حضور جیتا رہتا!‘ ان کے دل میں اس جرأت مند ،روشن دماغ اور چھا جانے والی شخصیت کے حامل لڑکے کی محبت جاگزیں ہو چکی تھی۔ (...) ۔ وہ ]حضرت اسماعیل علیہ السلام [ گوشت پوست کے ایک مجسم پتلے کی صورت میں زندہ و پایندہ اس [حضرت ابراہیم علیہ السلام ] کے سامنے موجود تھا۔ ہر چیز میں دلچسپی اور ولولۂ حیات سے بھر پور ! ابرام کے دل میں اس کی محبت روز بروز گہری سے گہری ہوتی جارہی تھی۔ ان [حضرت ابراہیم علیہ السلام ] کی زندگی اس جاذبِ نظر اور شان والے لڑکے کے گرد ہی گھومتی تھی۔ [ذہن میں رہے کہ جب حضرت اسماعیلعلیہ السلام ایک ’لڑکے‘ تھے، حضرت اسحاق علیہ السلام یا تو سرے سے پیدا ہی نہ ہوئے ہوں گے یا پھر ابھی ایک شیر خوار بچے ہوں گے]۔ (...)۔ ’اے کاش کہ اسماعیل ہی تیری خدمت بجا لاتا رہے!‘ایسا کیوں ہے کہ مجھے اس واقعی اور حاصل شدہ نعمت سے محروم کیا جارہا ہے اور مجھ سے ایک مبہم پرچھائیں اور غیر موجود (خیالی) وعدے کے وارث کے متعلق گفتگو کی جارہی ہے جو یقیناً اس اسماعیل جیسی آنکھوں کی چمک، اعضا کی توانائی اور شاہانہ انداز کا کبھی مالک نہیں ہو سکتا۔ کاش ایسا ہوتا کہ جو (لڑکا) واقعی مجسم طور پر آنکھوں کے سامنے موجود ہے، تُو اسی پر مطمئن ہو جائے اور یہی تیرے مقاصد پورے کرے اور مجھے مزید انتظار کی زحمت گوارا نہ کرنا پڑے۔ کیا اب میں پھر اپنے ہاتھ آئی ہوئی چیز کھو دوں اور اپنی سب سے بڑی حاصل شدہ چیز سے ہاتھ دھو بیٹھوں۔

ملحوظِ خاطر رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے اتنی شدید محبت اس لیے ظاہر کررہے ہیں، کیونکہ وہ ہونہار ہیں، توانا ہیں اور بھر پور استعداد کے مالک ہیں۔ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل ڈکشنری‘(Seventh Day Adventist Bible Dic.)میں درج ہے:

When 13 years later, God announced the imminent birth of Isaac (ch 17: 1-8, 15-17), Abraham interceded on behalf of Ishma\'el, whom he dearly loved.؂8

جب تیرہ سال بعد خداوند نے اس بات کا اعلان کیا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدایش ہونے والی ہے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام ، جن سے وہ بہت زیادہ محبت کرتے تھے، کے حق میں سفارش کی اور اُن کی وکالت کی۔

ڈاکٹر کوہن (Dr. Cohn)لکھتے ہیں:

I (...) would be satisfied if only Ishma\'el lived before Thee.؂9

اگر صرف اسماعیل ؑ ہی تیرے حضور جیتا رہے تو میں بہت مطمئن ہوں گا۔

جہاں تک حضرت اسحاق علیہ السلام کا تعلق ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف اس لیے بے التفاتی کا اظہار کرتے تھے کہ ان میں یہ تمام اوصاف موجود نہ تھے۔ بائبل کے علما نے حضرت اسحاق علیہ السلام کی کمزوریوں کا واضح طور پر اقرار کیا ہے۔ J. Hastings' Dic. of the Bible میں بیان کیا گیا ہے:

Isaac is a less striking personality than his father is. Deficient in the heroic qualities, he suffered indisposition from an excess of mildness, and the love of quiet (...). He was rather shifty and timid in his relations with Abimelech (26:1-22), too easily imposed upon, and not a good ruler of his household۔a gracious and kindly but not a strong man. ؂10

اسحاق کی شخصیت اتنی نمایاں نہیں جتنی ان کے والد کی ہے۔ ان میں دلیرانہ اوصاف کی کمی ہے۔ نرمی اور سکون کی خواہش کی زیادتی کی وجہ سے ان کی شخصیت میں بے دلی کا غلبہ تھا۔(...)۔ ابی ملک سے اپنے تعلقات کے بارے میں وہ ڈھلمل یقین اور بودے ثابت ہوئے۔ دوسرا آدمی بآسانی ان پر غالب آجاتا تھا اور وہ اپنے گھرانے کے بھی کوئی اچھے حاکم و منتظم نہ تھے۔ وہ فیاض اور نرم دل تو تھے، لیکن مضبوط آدمی نہ تھے۔

ولیم نیل (William Neil ) نے بھی حضرت اسحاق علیہ السلام کے متعلق اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے:

Isaac is generally referred to in the commentaries as a colourless personality. Certainly when we compare him with Abraham and Jacob it is impossible to form a clear picture of him. Few stories are recorded about him, presumably because there was little known of him that was worth recording, and in those stories in which he does feature he is generally a minor participant in the narratives dealing with his more notable father or son.؂11

تفسیروں میں(حضرت) اسحاق(علیہ السلام )کا ذکر عام طور پر ایک بے رنگ سی شخصیت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جب ہم ان کا (حضرت ) ابراہیمؑ اور (حضرت) یعقوبؑ سے موازنہ کرتے ہیں تو یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ان کی کوئی واضح تصویر پیش کر سکیں۔ ان کے متعلق شاذ ہی کسی واقعے کا ذکر ملتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان کے متعلق کم ہی کوئی ایسی بات معلوم ہے جو قابلِ تحریر ہو۔ اور جن واقعات میں وہ نمایاں ہوتے بھی ہیں، ان میں عام طور پران کا ذکر اپنے ش7ہرہ آفاق والد یا بیٹے کے مقابلے میں محض سرسری سا ہوتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل کے علما کے مطابق حضرتِ اسحاق علیہ السلام کی شخصیت حضرت اسماعیل علیہ السلام کے مقابلے میں کم جاذبِ نظر اور متاثر کن تھی، تاہم اسلامی اقدار وروایات کے لحاظ سے اس کی تائید ممکن نہیں۔ اسلام کے مطابق یہ دونوں ایک ہی مرتبے کے انبیا تھے۔ اب یہ بات کسی طرح موزوں نہیں کہ ایک کو دوسرے پر ترجیح دی جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے زیادہ محبت اور وابستگی کی وجہ غالباً یہ ہو گی کہ وہ جسمانی طور پربھی مضبوط تھے اور عملی تعاون بھی فراہم کر سکتے تھے۔
ایک اور شہادت بھی ہے جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت اسماعیلعلیہ السلام سے ’محبت‘ ثابت ہوتی ہے۔ جب حضرت سارہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ فرمایش کی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ ہاجرہ کو گھر سے نکال دیا جائے، تو اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت دکھ ہوا۔ اس سے ان کی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ شدید محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ بائبل میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
اس لیے اس [سارہ] نے [حضرت] ابراہیم ؑ سے کہا’ اس نوکرانی اور اس کے بیٹے کو نکال باہر کرو۔ کیونکہ اس نوکرانی کا بیٹا میرے بیٹے اسحاق ؑ کے ساتھ وارث نہیں ہو گا‘۔ اور [اس] واقعے سے [حضرت] ابراہیم ؑ کو اپنے بیٹے [اسماعیل ؑ ] کی وجہ سے شدید دکھ پہنچا۔ [ایڈیٹر نے یہاں حاشیے میں لکھا ہے:’ابراہیم ؑ کی نظر میں یہ بہت الم ناک تھا‘]۔ ۱۲؂
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ’محبت‘ اتنی واضح ہے کہ بائبل کے یہودی مفسرین بھی اس کا ذکر کیے بغیر نہیں رہتے۔ ڈاکٹر کوہنDr. Cohen رقم طراز ہیں:

Scripture points out that this grief was caused not by the prospect of loosing the woman but on account of Ishmael.؂13

صحیفہ [توریت] اس بات کی نشاند ہی کرتا ہے کہ [حضرت ابراہیم علیہ السلام کو] یہ دکھ اس عورت [حضرت ہاجرہ] کے کھو دینے پر نہ تھا، بلکہ [حضرت] اسماعیل ؑ کی وجہ سے تھا۔

مندرجہ بالا ساری بحث سے یہ بات ذہن نشین ہوتی ہے کہ ’جس سے تو محبت کرتا ہے‘ کے الفاظ صرف حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کے متعلق کہے جاسکتے ہیں نہ کہ حضرت اسحاقعلیہ السلام کے متعلق۔ نیز یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عملی طور پر صرف حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا، کیونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’پیارے بیٹے ‘تھے۔
جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے ’اکلوتے بیٹے‘ کو قربانی کے لیے پیش کرنے کے موضوع کا تعلق ہے، اوپر کے چار ابواب میں اس پر قدرے سیر حاصل گفتگو کی جا چکی ہے۔ کچھ متعلقہ نکات کا تفصیلی مطالعہ آنے والے ابواب میں پیش کیا جائے گا۔ کتاب کے اس حصے کے اختتام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے اس واقعے کے اختتامیے اور کہانی کے آخری منظر کے طور پر ایک اختتامی شذرہ قلم بند کیاجائے۔

 

 

حضرت ابراہیم ؑ ’اکلوتے بیٹے‘ کے بغیر اکیلے واپس لوٹے

کہانی مندرجہ ذیل آخری جملے پر اختتام پذیر ہوتی ہے:
تب ابرہام اپنے جوانوں کے پاس لوٹ گیا اور وہ اٹھے اور اکٹھے بیر سبع کو گئے اورابرہام بیر سبع میں رہا ( پیدایش ۲۲: ۱۹)
آیت پر غور وفکر اور اس کے دیانت دارانہ جائزے سے ایک محتاط قاری کی ان نِکات کی طرف رہنمائی ہوتی ہے:
(۱) ’تب ابرہام اپنے جوانوں کے پاس لوٹ گیا‘سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھر واپسی کے سفر کے دوران میں ’اکلوتا بیٹا‘ ، خواہ یہ ’اکلوتا بیٹا‘ کوئی بھی ہو، اُن کے ساتھ نہیں تھا۔ گنتھر پلاٹ لکھتا ہے:

The text says that Abraham returned from Moriah but omits a mention of Isaac. (133) Isaac did not come back with his father. ؂14

متن کہتا ہے کہ ابراہیم ؑ موریاہ سے واپس آئے، لیکن اسحاق ؑ کا ذکر حذف کر دیتا ہے۔ (...)۔ اسحاق ؑ اپنے والد کے ساتھ واپس نہیں آئے تھے۔

لفظِ ’اسحاق‘کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رہے کہ آیت صریحاً بیان کرتی ہے کہ ’اکلوتا بیٹا‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ واپس نہیں آیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اُس کی رہایش یہیں موریاہ کے نزدیک تھی۔ اگر یہ ’اکلوتا بیٹا‘ ،جسے قربانی کے لیے پیش کیا جانا تھا، حضرت اسحاق علیہ السلام ہوتے، تو وہ اپنے والد کے ساتھ ضرور واپس بیر سبع جاتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’اکلوتا بیٹا‘ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے جو موریاہ کے نزدیک قیام پذیر تھے اور اس طرح اُنھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ واپس نہیں جانا تھا۔
(۲) یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خاندان حبرون میں رہایش پذیر تھا، لیکن وہ اپنا زیادہ وقت بیر سبع میں اپنے ریوڑوں کے ساتھ گزارتے تھے، جبکہ انھوں نے حضرت اسماعیل ؑ کو موریاہ میں آباد کیا تھا۔چنانچہ وہ اپنے ’اکلوتے بیٹے‘ اسماعیل علیہ السلام کو اُن کی جائے سکونت موریاہ میں چھوڑکر واپس چلے گئے۔
(۳) اگر قربانی کے لیے پیش کیے جانے والے بیٹے اسحاق علیہ السلام ہوتے تو اُن کے لیے یہ بات کسی طرح روا نہ تھی کہ وہ اپنے والد سے کسی ناراضی یا بے التفاتی کا مظاہرہ کرتے اور اُن کے ساتھ نہ جاتے۔

________

 

حواشی باب چہارم

۱؂ اس باب کا موضوع یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا ’پیارا بیٹا‘ قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور ان کے ’پیارے بیٹے‘ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام سے افضل قرار دیا گیا ہے یا حضرت اسحاق علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فروتر ظاہر کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے دونوں انبیاے کرام معصوم ہیں اور یکساں عزت و احترام کے مستحق ہیں۔ مسلمان ان میں سے کسی کی دوسرے پر فضیلت کے قائل نہیں۔
۲؂ کتاب مقدس، نظر ثانی شدہ ایڈیشن ۲۰۰۲، کتابِ پیدایش ۱۷: ۱۵۔ ۱۶۔
۳؂ پیدائش ۱۷: ۱۸۔۲۰۔

4. The Nelson Study Bible, p. 43.
5. The Wycliffe Bible Com. (Chicago: Moody Press, 1987), p. 26.
6. John Fawsett, The Devotional Family Bible, London: 1811, no Paging has been recorded in this 2 centuries old book.
7.Marcus Dods, The Expositor's Bible, 1:160.
8. Seventh Day Adventist Bible Dic. Rvd. 1979 Edn., p. 526.
9. Dr. Cohen, The Jewish Commentary: The Soncino Chumash, p. 81.
10. J. Hastings' Dic. of the Bible, Rvd, by Frederic C Grant and H. H. Rowley, (NY: Charles Scribner's Sons, 1963), p. 422.
11. William Neil, Pocket Bible Com. (HarperSanFrancisco, 1975), 50.

۱۲؂ پیدایش ۲۱: ۱۰ ۔ ۱۱۔

13. Dr. Cohen, Soncino Chumash, 102.
14. The Torah A Modern Commmentary, ed. Gunther Plaut, NY: Union of American Hebrew Congregations, 1981, 152.

____________