اس ضمن میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے دین کے غلبے کے لیے تلوار کیوں نہیں اٹھائی۔ مولانا محترم نے اپنے مضمون میں اس بات کا جواب بھی دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو رسولاً الی بنی اسرائیل تھے اور مسلمانوں کے لیے آنے والا رسول گمراہ مسلمانوں سے قتال نہیں کیا کرتا۔ جیسے کہ آج کل مسلمان ممالک میں، مسلمانوں میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے انقلاب برپا کیا جائے گا، قتال کے ذریعے نہیں۔‘‘ ( ۶۱)

مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ یہاں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں کہ حضرت عیسیٰ جس بستی میں دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہے، اس کی حکومت بھی کیا بنی اسرائیل یا وقت کے ان مسلمانوں ہی کے ہاتھ میں تھی؟ کیا اس میں خدا کا تشریعی اقتدار قائم تھا؟ کیا وہاں حدود و تعزیرات کے معاملے میں خدا کے احکام کی پابندی کی جا رہی تھی؟ اگر یہ سب کچھ نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ نہیں تھا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام بنیادیں موجود تھیں جن کے بعد مولانا کے نزدیک ’’جہاد نہ صرف جائز بلکہ فرض شمار ہوتا ہے۔‘‘ اس کے باوجود، آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پوری زندگی جہاد کی دعوت سے بالکل خالی ہے؟

____________