سولہواں باب 

آج اسلامی دنیا میں خواتین کے حقوق کا مسئلہ اہم ترین مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔ اسلام میں خواتین کی کیا حیثیت ہے؟ اُن کے کیا حقوق وفرائض ہیں؟ مردوں اور خواتین کے درمیان کن حدود کی پاسداری ضروری ہے؟ حجاب سے کیا مراد ہے؟ کیا عورت قانون کی نظر میں کم ترہے؟ شوہر اور بیوی کے درمیان کیا تعلق ہونا چاہیے؟ زندگی کے مختلف مشکل مرحلوں اور فیصلہ کن حالات میں اسلام کس طرح ایک خاتون کی مدد کرتا ہے؟ ان سب سوالات پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلمان معاشروں کے اندر بڑی تیزی سے تبدیلیاں بھی آرہی ہیں اور اس وجہ سے اس بحث کی لے مزید اونچی ہوگئی ہے۔ 
اس بحث کے دوران میں دو نقطہ ہائے نظر نمایاں ہیں۔ ایک جامد مذہبیت پر مبنی نقطہ نظر، جس کی رو سے عورت دوسرے درجے کی شہری ہے۔دوسرا مادرپدر آزاد مغربیت سے مرعوب نقطۂ نظر جس کی رو سے اس معاملے میں آزادانہ اختلاط پر مبنی معاشرہ ہی اصل معیارہے۔ پہلے نقطہ نظر کی مثال پاکستان کے مذہبی رسالوں میں باآسانی ڈھونڈی جاسکتی ہے۔ پچھلے پچاس برس میں ان رسالوں نے مغربی خواتین کی حالتِ زار سے متعلق سینکڑوں مضامین شائع کئے ہیں۔ لیکن کیا مسلمان خواتین کو بھی اپنے معاشروں میں کچھ مسائل درپیش ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو بھی کچھ مصیبتوں کا سامنا ہے؟ اس کے متعلق کوئی ایک مضمون بھی ان رسالوں میں نہیں چھپا۔ گویا پاکستان کے مذہبی طبقے کے نزدیک پاکستانی عورت کو کوئی مسئلہ درپیش ہی نہیں اور وہ بڑے اطمینان اور سکون کی حالت میں زندگی بسر کررہی ہے۔ اس کے بالکل برعکس دوسرے نقطہ نظر کی مثال الٹرا ماڈرن طبقے کی تحریریں ہیں۔ ان تحریروں میں پاکستانی عورت کے مسائل کو پیش کیا گیاہوتا ہے۔ لیکن ان مسائل کے حل کے ضمن میں دین کا نام اور حوالہ کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ اس طبقے کی تحریروں میں بھی اعتدال کہیں پر موجود نہیں ہے۔ یہاں بھی خواتین کے صرف انہی مسائل پر زور دیا جاتا ہے جن پر بین الاقوامی تنظیمیں زور دینا چاہتی ہیں۔ اور اُن مسائل سے چشم پوشی کی جاتی ہے جن کا تعلق خواتین کو اسلام کے دیے گئے حقوق سے ہے۔ مثلاً اس طبقے نے خواتین کے حقِ وراثت پر کبھی زور نہیں دیا۔ حالانکہ یہ پاکستانی خواتین کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ مغرب میں حقِ وراثت کا تعلق صرف وصیت سے ہے، اور اس وجہ سے چونکہ مغرب کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے اس پر یہاں بھی زور نہیں دیاجاتا۔
اس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ جامد مذہبیت پر مبنی نقطہ نظر اور اس کے مقابلے میں آزاد مغربیت پر مبنی نقطہ نظر، دونوں مخالف سمتوں میں انتہا پر کھڑے ہیں۔ اس کی وجہ سے اعتدال پر مبنی نقطہ نظر، جس کی رو سے مرد اور عورت بحیثیت انسان بالکل برابر ہیں، تاہم دونوں کے لیے کچھ حدود کی پاسداری ضروری ہے، دب کر رہ گیا ہے، اس لیے کہ انتہا پسندی (Polarisation) کی فضا میں اعتدال کی بات بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس راقم نے ہمیشہ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام کا پیغام درحقیقت اعتدال کا پیغام ہے۔ اسلام کا اصل سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ اگر قرآن مجید کی روشنی میں خواتین کی حیثیت کا تعین کیا جائے اور اُسی کی روشنی میں تمام احادیث کی تشریح کی جائے تو یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ مردوزن اسلام کی نظر میں برابر ہیں۔ البتہ جہاں ان دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی(Biological) فرق ہے، وہاں دین نے دونوں کے درمیان انصاف کے ذریعے ان کے حقوق وفرائض کو متوازن کردیا ہے۔ دین میں حیا ایک بہت بڑی قدر ہے، اس لیے جہاں بھی مردوزن آپس میں اکٹھے ہوں، وہاں ہمارے دین نے دونوں صنفوں کو آپس میں رابطے کے وقت کچھ آداب سکھائے ہیں۔ انسانی زندگی کااہم ترین ادارہ خاندان ہے۔ خاندان کی بقا اور حفاظت پر باقی تمام انسانی اقدار کا دارومدار ہے۔ اسی لیے ہمارے دین نے اس ادارے کے قیام، تحفظ اور بقا کے لیے بہت تفصیلی احکام دئے ہیں۔ بلکہ توحید، رسالت اور آخرت کے مضامین کے بعد قرآن مجید نے سب سے بڑھ کر زور خاندانی زندگی کے اصول وضوابط پردیا ہے۔ ان میں سے کچھ ضوابط قانونی انداز کے ہیں۔ یعنی ان کے لیے باقاعدہ معاہدہ لکھا جائے گا، گواہ بنائے جائیں گے، تحریر لکھی جائے گی، اور اگر ضرورت پڑ ے تو عدالت کے ذریعے سے بھی ان حقوق کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دوسری ہدایات معاشرتی نوعیت کی ہیں۔ یعنی اگر میاں بیوی اس پر کاربند رہیں گے تو ان کی زندگی اچھی گزرے گی۔ ظاہر ہے کہ معاشرتی ہدایات کو قانون کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ ان کو روبہ عمل لانے کے لیے ذہن سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس راقم نے ان سب مسائل پر اپنی کتاب ’’اسلام اور عورت‘‘ میں بڑی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس ضمن میں اس عاجز کی ہر بات صحیح ہو اور اس سے لازماً اتفاق کیا جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ سنجیدہ فضا میں، بغیر کسی طنز والزام کے، ان مسائل پر علمی انداز سے غوروفکر کیا جائے تاکہ ہماری سوسائٹی دونوں طرف کی پیدا کردہ انتہاپسندی کے چنگل سے نکل سکے۔ 
ہر حساس انسان یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستانی عورت کو بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ پاکستان کے جن علاقوں میں مذہبی جوش وخروش یا جاگیردارانہ طرز زندگی اپنے عروج پر ہے، وہاں خواتین کو وراثت کا حق دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ آج بھی بچیوں کی تعلیم کی طرف توجہ بہت کم ہے۔ ان کی شادی بیاہ کے فیصلوں میں عموماً ان سے نہیں پوچھا جاتا۔ خواتین کی مارپٹائی دیہی معاشروں میں معمول کی حیثیت رکھتی ہے۔ اپنی ملکیت کے بارے میں آزادانہ فیصلے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پاکستان کے ہر علاقے میں ایسی رسمیں وجود میں آگئی ہیں جن کی روح یہ ہے کہ ایک عورت بھی دوسری ملکیتوں کی طرح محض ایک ملکیت ہے۔ ونی اور سورہ اسی کی نشانیاں ہیں۔ نام نہاد غیرت کے نام پر ہر سال ہزاروں خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور ان کیسوں میں آج تک کبھی کسی قاتل کو سزا نہیں ہوئی۔ گویا اس بہانے سے کسی خاتون کو قتل کرنا اس معاشرے میں جائز اور روا ہے۔ گویا یہ ایک انداز میں قتل کا اجازت نامہ (License to kill) ہے۔ 
یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ان مسائل کی طرف بھرپور توجہ دی جائے، ان کا حل تلاش کیا جائے، ان کے بارے میں شعور کو بیدار کیا جائے اور پارلیمنٹ کو بھی اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اس ضمن میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرے۔