۲۲۔حلالہ ۳۸؂

شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حلالہ اسلامی فقہ کا سب سے بد نما اور شرم ناک مسئلہ ہے۔ شریعت کے مطابق اگر ایک شوہر اپنی بیوی کو اپنی زندگی میں تیسری مرتبہ طلاق دے دے تو وہ دونوں اس وقت تک دوبارہ شادی نہیں کرسکتے جب تک بیوی کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے اور پھر وہ مرد اسے طلاق دے دے۔ تین طلاقیں دینے کے بعد اس قانونی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے فریقین کو ایک حیلے کا مشورہ دیا جاتا ہے جس کے مطابق ایک منصوبے کے تحت خاتون کی کسی اور مرد کے ساتھ اس معاہدے پر شادی کروائی جاتی ہے کہ وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دے گا اور اس طرح سے قانونی طور پروہ اپنے پہلے شوہر کے لیے جائز ہو جائے گی اور اس سے شادی کرسکے گی۔ اس سلسلے میں فقہا نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ اس عورت کو طلاق دینے سے پہلے دوسرا شوہر اس کے ساتھ ہم بستری کرے۔ اصطلاح میں اس حیلے کو جس میں عورت اپنے پہلے شوہر سے تبھی شادی کرسکتی ہے جب وہ پہلے کسی اور مرد سے شادی کرے، پھر وہ مرد اس سے جنسی تعلق قائم کرنے کے بعداسے طلاق دے دے، حلالہ کہتے ہیں۔
اس ضمن میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شریعت کی رو سے تین طلاقوں کے بعد بیوی اپنے پہلے شوہر کے لیے صرف اس صورت میں جائز ہوسکتی ہے جب دوسرا شوہر فطری حالات کے تحت اسے طلاق دے، نہ کہ کسی منصوبہ بندی کے تحت۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، بلکہ منصوبہ بندی کے تحت طلاق دی جاتی ہے تو یہ ایک حیلہ ہے۔
یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ اس طرح کے تمام حیلے اسلامی قانون اور اس کی روح سے کھیلنے کے مترادف ہیں ۔چنانچہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ فقہا کی ہم بستری کی عائد کردہ شرط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک لطیف جملے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ اگرحدیث کے اس متن کا جائزہ لیا جائے جس میں یہ جملہ بیان ہوا ہے ، تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ ایک خاتون نے صرف اس نیت سے ایک شخص سے شادی کی تھی تاکہ وہ پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کرنے کے لیے قانونا جائز ہو جائے۔ اس خاتون نے اپنے دوسرے شوہر سے اس جھوٹی بنیاد پر طلاق کا مطالبہ کیا کہ وہ نامرد ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواس عورت کی مکاری کا علم ہوا تو آپ نے اسے بہت سخت، مگر لطیف انداز میں تنبیہ کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسرے شوہر کے اس سے جنسی طور پر لذت اندوز ہونے کے بعد ہی اسے پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
یہ بات بالبداہت واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ کسی شرط کو بیان نہیں کرتا، جیسے کہ عام طور پر سمجھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ چونکہ وہ خاتون یہ سمجھتی ہے اور جھوٹا تاثر دینا چاہتی ہے کہ اس کا دوسرا شوہرہم بستری پر قادر نہیں ہے تو وہ اس سے اس صورت میں طلاق لے سکے گی اگر وہ اس سے ہم بستری کرے جو کہ ظاہر ہے وہ نہیں کرسکتا، اس لیے کہ اس کی نگا ہ میں تووہ نامرد ہے۔ اس لطیف اسلوب کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک آیت معاون ہوسکتی ہے۔ سورۂ اعراف(۷) کی آیت ۴۰میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ مغرور شخص صرف جنت میں اس صورت میں جاسکتا ہے جب اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو۔ دوسرے لفظوں میں جاہی نہیں سکتا۔ زیر بحث روایت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اسلوب اختیار کیا ہے اور اس خاتون کا طلاق کا مطالبہ ماننے کے لیے ایک ایسی شرط رکھ دی ہے جو کم از کم اس خاتون کی نگاہ میں ناممکن ہے، اس لیے کہ ایک شخص جو اس کے نزدیک نامرد ہے، وہ کیسے ہم بستری پر قادر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس حدیث سے اگر کوئی چیز اخذ کی جاسکتی ہے تو وہ حلالہ کی حرمت ہے، نہ کہ اس کا جواز۔ اس وجہ سے حلالہ کی ممانعت بالکل قطعی ہے اور جو اس پر عمل کرتا ہے ، وہ گویا قانون کا مذاق اڑاتا ہے۔ حدیث کا متن اس طرح ہے:

عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّ رِفَاعَۃَ طَلَّقَ إمْرَأَتَہُ فَتَزَوَّجَہَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الزَّبِیْرِ الْقُرَظِیُّ، قَالَتْ عَاءِشَۃُ: وَعَلَیْہَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَکَتْ إِلَیْہَا وَأَرَتْہَا خُضْرَۃً بِجِلْدِہَا فَلَمَّا جَاءَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنِّسَاءُ یَنْصُرُ بَعْضُہُنَّ بَعْضًا، قَالَتْ عَاءِشَۃُ: مَا رَأَیْتُ مِثْلَ مَا یَلْقَی الْمُؤْمِنَاتُ لَجِلْدُہَا أَشَدُّ خُضْرَۃً مِنْ ثَوْبِہَا، قَالَ: وَسَمِعَ أَنَّہَا قَدْ أَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ وَمَعَہُ ابْنَانِ لَہُ مِنْ غَیْرِہَا قَالَتْ: وَاللّٰہِ مَا لِیْ إِلَیْہِ مِنْ ذَنْبٍ إِلَّا أَنَّ مَا مَعَہُ لَیْسَ بِأَغْنٰی عَنِّیْ مِنْ ہٰذِہِ وَأَخَذَتْ ہُدْبَۃً مِنْ ثَوْبِہَا، فَقَالَ: کَذَبَتْ وَاللّٰہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنِّیْ لَأَنْفُضُہَا نَفْضَ الْأَدِیْمِ وَلٰکِنَّہَا نَاشِزٌ تُرِیْدُ رِفَاعَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَإِنْ کَانَ ذٰلِکِ لَمْ تَحِلِّیْ لَہُ أَوْ لَمْ تَصْلُحِیْ لَہُ حَتَّی یَذُوْقَ مِنْ عُسَیْلَتِکِ، قَالَ: وَأَبْصَرَ مَعَہُ ابْنَیْنِ لَہُ فَقَالَ: بَنُوْکَ ہٰؤُلَاءِ؟ قَالَ: نَعَمْ،قَالَ: ہٰذَا الَّذِیْ تَزْعُمِیْنَ مَا تَزْعُمِیْنَ فَوَاللّٰہِ لَہُمْ أَشْبَہُ بِہِ مِنَ الْغُرَابِ بِالْغُرَابِ. (بخاری، رقم ۵۴۸۷)
’’عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس کے ساتھ عبدالرحمن بن زبیر قرظی نے نکاح کرلیا ۔سیّدہ عائشہ بتاتی ہیں کہ وہ سبز دوپٹہ اوڑھے ہوئے ان کے پاس آئی اوران سے شوہر کی شکایت کی اور اپنے جسم کے نیل دکھائے۔ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیّدہ نے عرض کی:میں نے مسلمان عورتوں کے ساتھ جو دیکھا ہے، وہ اس سے پہلے نہیں دیکھا۔ اس کی جلد تو اس کے دوپٹے سے زیادہ سبز ہورہی ہے۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ اس کے شوہر کو جب معلوم ہوا کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت لے کر گئی ہے تو وہ بھی اپنے دوبیٹوں کو ساتھ لے کر حاضرہوگیا۔ شوہر کو دیکھ کر اس نے دوپٹے کا سرا ہاتھ میں پکڑ کر لٹکایا اور کہا: مجھے اس سے یہی شکایت ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ میرے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس پر عبدالرحمن نے عرض کیا: خدا کی قسم، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میں تو اس کے ساتھ وہی کرتا ہوں جو دباغت کرنے والاچمڑے کے ساتھ کرتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ سرکش ہوکر رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: یہ بات ہے تو تم رفاعہ کے لیے ہرگز حلال نہیں ہو جب تک عبدالرحمن تم سے لطف اندوز نہ ہو لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کے بیٹوں کو دیکھ کر پوچھا: یہ تمھارے بیٹے ہیں؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کے جھوٹ بولتی ہو۔ بخدا،یہ تو عبدالرحمن کے ساتھ اس سے بھی زیادہ ملتے ہیں، جتنا کوئی کوا دوسرے کوے سے ملتا ہے۔‘‘

اس تفصیل سے واضح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی بیوی کو شوہر کے ساتھ ہم بستری کرنے کو کہنے کا مقصد حلالہ کو جائزقراردینا نہیں تھا، جیسا کہ اس حدیث سے سمجھا گیا، بلکہ اس عورت کے جھوٹ کو فاش کرنا تھا جو وہ اپنے شوہر کے بارے میں بے بنیاد الزام لگا کر کہ’’ وہ ایک نا مرد ہے‘‘، طلاق لینا چاہ رہی تھی۔
_____
۳۸؂ اس باب میں پیش کردہ توضیح استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کی راے پر مبنی ہے۔ دیکھیے: میزان ۴۵۰۔۴۵۳۔

____________