حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

من فارق الجماعۃ واستذل الأمارۃ لقی اللّٰہ عز و جل ولا وجہ لہ عندہ. (احمد،رقم ۲۲۱۹۶)
’’جو شخص الجماعۃ سے الگ ہوا اور جس نے حکومت کے بارے میں اہانت آمیز رویہ اپنایا، وہ قیامت کے دن اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملے گا کہ اس کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔‘‘

اس روایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نظام حکومت (امارت) کی اہانت اور تحقیر کا رویہ بھی ’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہونے کے مترادف ہے۔ بہ الفاظ دیگر’’ الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک رہنے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی حکومت کے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کا رویہ اختیار کرے۔ اسے اگر کسی معاملے میں حکومت پرتنقید بھی کرنی ہو تو یہ تنقید خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ کرے۔ ایسا کوئی رویہ یا ایسا کوئی اقدام جس سے حکومت کی اہانت یا تحقیر ہو، کسی مسلمان کے لیے پسندیدہ نہیں ہے۔ یہی بات بعض دوسری روایتوں میں بھی نقل ہوئی ہے۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

من أہان سلطان اللّٰہ فی الأرض أہانہ اللّٰہ. (ترمذی،رقم ۲۱۵۰)
’’جس نے زمین میں اللہ کے (دیے ہوئے) اقتدار کی اہانت کی، اللہ خود اس کو ذلیل کرے گا۔‘‘

ان روایتوں کو پچھلی تمام روایتوں کے ساتھ رکھ کر دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے نظم اجتماعی کے ساتھ پوری طرح سے وابستہ رہیں۔ انھیں اگر کسی موقع پر اپنے حکمرانوں سے شدید اختلاف بھی ہو جائے، تب بھی وہ ان کے خلاف بغاوت، سرکشی اور اہانت کا رویہ اختیار کرنے کے بجاے ان کے خیر خواہ بنیں اور تذکیر و نصیحت کے ذریعے سے انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کریں۔ حکمران اگر ان کی بات کو سمجھ کر اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ ہو گئے تب بھی اور اگر انھوں نے اس تذکیر و نصیحت کو رد کر دیا تب بھی اس معاملے میں ان کا فرض ادا ہو جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی رو سے حکمرانوں کی اصلاح کے حوالے سے، عام مسلمانوں پر اس سے بڑھ کر اور کوئی ذمہ داری ہرگز عائد نہیں ہوتی۔

____________