جس طرح روزوں کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مروی ہے کہ آپ نے مرنے والے کی جانب سے روزے رکھنے کی اجازت دی ہے، اسی طرح آپ سے مرنے والے کی جانب سے حج کرنے کی اجازت بھی روایت ہوئی ہے۔بخاری میں ہے:۲۲؂ 


عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما أن امرأۃ من جہینۃ جاء ت إلی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم. فقالت: إن أمی نذرت أن تحج، فلم تحج حتی ماتت. أفأحج عنہا. قال: نعم، حجی عنہا. أرأیت لوکان علی أمک دین أکنت قاضیتہ. اقضوا اﷲ. فاﷲ أحق بالوفاء.(رقم ۱۷۵۴) 
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: میری والدہ نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کریں گی۔ انھوں نے حج نہیں کیا تھا کہ فوت ہو گئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کرلو۔ تمھارا کیا خیال ہے اگر تمھاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا نہ کرتی۔ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا(حق) ادا کرو، کیونکہ اللہ سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا معاملہ پورا کیا جائے۔‘‘

ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو غلام آزاد کرنے کی راے اسی واقعے کی روشنی میں دی۔ ابن خزیمہ میں ہے:

حدثنا موسی بن سلمۃ الہذلی، قال: انطلقت أنا وسنان بن سلمۃ معتمرین. فلما نزلنا البطحاء. قلت: انطلق إلی ابن عباس نتحدث إلیہ. قال: قلت یعنی لابن عباس: أن والدۃ لی بالمصر. وإنی أغزو فی ہذہ المغازی. أفیجزئ عنہا أن أعتق ولیست معی. قال: أفلا أنبئک بأعجب من ذلک. أمرت امرأۃ سنان بن عبد اﷲ الجہنی أن تسأل لی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم أن أمہا ماتت وما تحج. أما تجزئ عن أمہا إن تحج عنہا. قال: نعم، لو کان علی أمہا دین قضتہ عنہا، ألم یکن یجزئ عنہا. فلتحج عن أمہا.(رقم۳۰۳۴) 
’’حضرت موسیٰ بن سلمہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں او ر سنان بن سلمہ عمرے کی غرض سے نکلے۔ جب ہم بطحا پہنچے تو میں نے کہا: ابن عباس کی طرف چلو، ہم ان سے بات کرتے ہیں۔ میں نے ابن عباس سے پوچھا: میری والدہ مصر میں ہیں اور میں آج کل جاری غزوات میں شریک ہوں۔ کیا میرے ان کی طرف سے غلام آزاد کرنے سے ان کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی، حالانکہ وہ میرے ساتھ نہیں ہیں۔ ابن عباس نے کہا : میں تمھیں اس سے بھی حیران کن بات بتاؤں؟سنان بن عبداللہ کی بیوی نے مجھ سے کہا: آپ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اس کی والدہ فوت ہو گئی ہیں اور انھوں نے حج نہیں کیا۔ کیا ان کی طرف سے حج ادا نہیں ہو گا، اگر یہ ان کی طرف سے حج کرے۔ آپ نے کہا : ہاں، اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا تو یہ اسے اداکرتی و کیا یہ قرض ادا نہ ہوجاتا۔ اسے چاہیے کہ یہ اپنی ماں کی طرف سے حج کرے۔‘‘

اس روایت میں’تجزء‘ اور’ یجزء‘ کے الفاظ واضح کر دیتے ہیں کہ غلام کی آزادی اور حج، دونوں کا معاملہ نذر کا ہے۔اس سلسلے میں ایک روایت پیدل کعبہ کی زیارت کی نذر سے متعلق ہے۔ ابن ابی شیبہ میں ہے:

عن سنان بن عبداﷲ الجہنی أنہ حدثتہ عمتہ أنہا أتت النبی صلی اﷲعلیہ وسلم. فقالت: یا رسول اﷲ، إن أمی توفیت وعلیہا مشی الی الکعبۃ نذرا. فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: أتستطیعین تمشین عنہا. قالت: نعم. قال: فامشی عن أمک. قالت: أویجزئ ذلک عنہا. قال: نعم، قال لو کان علیھا دین قضیتہ. ہل کان یقبل منک. قالت: نعم. فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: فدین اﷲ أحق.(رقم۳۶۱۲۲) 
’’حضرت سنان بن عبد اللہ جہنی کہتے ہیں: ان کی پھوپھی نے انھیں بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ، میری والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ ان پر یہ نذر واجب تھی کہ وہ پیدل کعبہ جائیں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم ان کی طرف سے یہ پیدل سفر کر لو گی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے یہ سفر کرو۔ انھوں نے پوچھا: کیا اس سے ان کی نذر ادا ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اگر تمھاری والدہ پر قرض ہوتا اور تو اسے ادا کرتی تو کیایہ قبول کیا جاتا۔ انھوں نے کہا:جی ہاں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اللہ کا قرض، ادا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے۔‘‘

ایک صاحب نے اپنی بہن کی نذر پوری کرنے کے بارے میں پوچھاتو آپ نے اسے بھی نذر پوری کرنے کی ہدایت کی۔ بخاری میں ہے:۲۳؂

عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما قال: أتی رجل النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فقال لہ إن أختی قد نذرت أن تحج وإنہا ماتت. فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: لو کان علیہا دین أکنت قاضیہ. قال: نعم. قال: فاقض اﷲ فہو الحق بالقضاء.(رقم۶۳۲۱) 
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی۔ ہوا یوں کہ وہ فوت ہو گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اگر اس پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے۔ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا (حق) بھی ادا کرو، کیونکہ وہ اس کا سب سے بڑھ کر حق رکھتا ہے۔‘‘

ایک عورت نے اپنے باپ کی طرف سے حج کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے بھی یہی ہدایت فرمائی۔ نسائی میں ہے:۲۴؂

عن ابن عباس أن امرأۃ سألت النبی صلی اﷲ علیہ وسلم عن أبیہا مات ولم یحج. قال: حجی عن أبیک.(رقم۲۶۳۴) 
’’حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھاکہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور انھوں نے حج نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے حج کرو۔‘‘

حج سے متعلق بیش تر روایات میں نذر کی تصریح ہے۔ نذر کے بارے میںیہ بات واضح ہے کہ یہ مرنے والے کے پختہ ارادے کا بیان ہے۔ چنانچہ نذر کی تکمیل اصل میں مرنے والے کے اپنے ارادے ہی کی تکمیل ہے۔اگرچہ بعض روایات میں نذر کا لفظ نہیں ہے، لیکن ان میں ’عن‘ کے لفظ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سائل مرنے والے کی جانب سے حج کرنا چاہتا ہے۔ اس کا سوال یہ نہیں ہے کہ کیا میں حج کروں تو اس کا ثواب مرنے والے کو مل جائے گا، بلکہ اس کا سوال یہ ہے کہ میں مرنے والے کی نیابت میں جو حج کروں گا، اس سے مرنے والے کا حج ادا ہو جائے گا۔ابھی تک ہم نے جن روایات کا مطالعہ کیا ہے، وہ یہ بات بھی واضح کر رہی ہیں کہ کسی سائل کے ذہن میں اس بات کا شائبہ بھی نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی عمل کا ثواب مرنے والے کو دینا چاہتا ہے۔ غرض یہ کہ ان کے ہاں ایصال ثواب تصور کی حد تک بھی موجود نہیں تھا، اس کی وجہ بھی بہت واضح ہے ۔ قرآن مجید کو پڑھنے والا سوچ بھی نہیں سکتا کہ کسی دوسرے کا عمل کسی دوسرے کے لیے نافع ہو سکتا ہے، جبکہ اس کا اس عمل سے کوئی بھی تعلق نہ ہو۔
حج اور عمرے کے حوالے سے یہ روایات مرنے والے سے متعلق تھیں۔ اس حوالے سے وہ روایات بھی قابل توجہ ہیں جن میں اس شخص کی طرف سے حج کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے جو معذوری کے سبب سے سفر اور ارکان حج کے ادا کرنے کی مشقت نہیں اٹھا سکتا۔بخاری میں ہے:۲۵؂

عن عبد اﷲ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما قال: کان الفضل ردیف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم، فجاء ت امرأۃ من خثعم. فجعل الفضل ینظر ألیہا وتنظر ألیہ. وجعل النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یصرف وجہ الفضل إلی الشق الآخر. فقالت: یارسول اﷲ إن فریضۃ اﷲ علی عبادہ فی الحج أدرکت أبی شیخا کبیرا لا یثبت علی الراحلۃ. أفأحج عنہ. قال: نعم. وذلک فی حجۃ الوداع. (رقم ۱۴۴۲)
’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (سفر میں) فضل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ خثعم قبیلے کی ایک عورت (آپ کی طرف) آئی۔ فضل اس عورت کو دیکھنے لگا اور وہ عورت فضل کو دیکھنے لگی۔ آپ نے فضل کا منہ دوسری طرف کر دیا۔ اس عورت نے پوچھا: اللہ تعالیٰ کا فرض کیا ہوا حج میرے والد پر اس وقت آیا ہے، جبکہ وہ بہت بوڑھے ہیں اور سواری پر جم کر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ کیا ان کی طرف سے میں حج کر لوں۔ آپ نے فرمایا: ہاں، یہ معاملہ حج وداع کے موقع کا ہے۔‘‘

یہ روایت خثعم قبیلے کی ایک عورت کے حج سے متعلق سوال اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کو بیان کرتی ہے۔ یہی سوال بنی عامر کے ایک آدمی نے بھی آپ سے کیا تھا۔ابوداؤد میں ہے:۲۶؂

عن أبی رزین العقیلی (قال حفص رجل من بنی عامر) أنہ قال: یا رسول اﷲ، إن أبی شیخ کبیر لا یستطیع الحج ولا العمرۃ ولا الظعن. قال: احجج عن أبیک واعتمر.(رقم۱۸۱۰) 

’’ابو رزین عقیلی(حفص نے وضاحت کی ہے کہ یہ بنی عامر کے ایک آدمی تھے)بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے (حضور) سے پوچھا: یارسول اللہ، میرے والد بہت بوڑھے ہیں۔نہ حج کر سکتے ہیں، نہ عمرہ اور نہ قربانی۔ آپ نے فرمایا: اپنے باپ کی طرف سے حج بھی کرو اور عمرہ بھی۔‘‘

اس مضمون کی متعدد روایات کتب حدیث میں منقول ہیں۔ ان کے مطالعے سے خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے یہ سوال کئی لوگوں نے کیا ہو۔بہرحال، زندہ آدمی سے متعلق یہ سوال براہ راست ایصال ثواب سے متعلق نہیں ہے۔ یہ روایات اس موضوع سے متعلق ہیں کہ دین کے کن فرائض میں نیابت ہو سکتی ہے۔ اس کے بارے میں فقہا کا اصولی موقف تمہیدی مباحث میں بیان کر دیا گیا ہے، یہاں ان کے نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان سے اگر یہ استدلال کیا جائے کہ اگر زندہ آدمی کے لیے نیکی کا کام کرنے میں اس کو اجر مل سکتا ہے تو میت کی طرف سے کرنے میں کیا حرج ہے۔ 
ہم یہ بات بار بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ نیکی کا کام جسے کوئی شخص اپنے ارادے سے کرنا چاہتا ہو اور اس کی تکمیل دوسرے شخص کے ذریعے سے ممکن ہو،ان میں نیابت کی اجازت دی گئی ہے۔ اس معاملے میں زندگی اور موت سے فرق واقع نہیں ہوتا، لیکن وہ امور جن میں نیابت ممکن ہی نہیں ہے، ان میں اس چیز کی اجازت نہیں ہے، خواہ آدمی زندہ ہو یا فوت ہو چکا ہو۔ ایصال ثواب کا اصول یہ ہے کہ ایک شخص کے اپنے ارادے سے کیے ہوئے کام کا ثواب دوسرے شخص کو ملے۔ ان روایات سے واضح ہے کہ یہ نہ زندہ کے لیے ہے، نہ مرنے والے کے لیے۔

 


؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے:بخاری، رقم۶۸۸۵؛ ترمذی، رقم ۹۲۹؛ نسائی، رقم ۲۶۳۳؛ بیہقی، رقم ۸۴۵۵، ۱۲۳۸۲؛ السنن الکبریٰ، رقم۳۶۱۳۔ 
۲۳؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے:نسائی، رقم۲۶۳۲؛ مسند احمد، رقم ۳۲۲۴؛ابن حبان، رقم۳۹۹۳؛ بیہقی، رقم۹۶۳۴، ۱۲۴۰۷؛ السنن الکبریٰ، رقم۳۶۱۲؛ ابن خزیمہ، رقم۳۰۴۱۔ 
۲۴ ؂ اس روایت کا ایک متن’’ السنن الکبریٰ‘‘ میں بھی نقل ہوا ہے، دیکھیے: رقم۳۶۱۴۔
۲۵؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے:بخاری، رقم۱۷۵۵، ۱۷۵۶، ۴۱۳۸، ۵۸۷۴؛ مسلم، رقم ۱۳۳۴، ۱۳۳۵؛ ابوداؤد، رقم۱۸۰۹؛ ترمذی، رقم۹۲۸؛ ابن ماجہ، رقم۲۹۰۷، ۲۹۰۹؛نسائی، رقم ۲۶۳۵، ۲۶۳۶، ۲۶۴۱۔۲۶۴۳، ۵۳۸۹۔ ۵۳۹۴؛ احمد،رقم۱۸۱۸، ۱۸۲۲، ۱۸۹۰، ۲۲۶۶، ۳۰۵۰، ۳۲۳۸، ۳۳۷۵، ۳۳۷۷؛ ابن حبان، رقم۳۹۸۹، ۳۹۹۵، ۳۹۹۶؛ بیہقی، رقم۸۴۰۸۔ ۸۴۱۴، ۹۶۳۲، ۹۶۳۳، ۱۳۲۹۰؛ابو یعلیٰ، رقم۲۳۸۴، ۶۷۳۷؛ السنن الکبریٰ، رقم۳۶۱۵، ۳۶۱۶، ۳۶۲۱، ۳۶۲۲، ۵۹۵۰۔ ۵۹۵۵؛ ابن خزیمہ،رقم۳۰۳۰ ۔۳۰۳۶؛ دارمی، رقم ۱۸۳۱ ۔۱۸۳۳، ۱۸۳۴؛ موطا، رقم ۷۹۸۔ 
۲۶؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: ترمذی، رقم۹۳۰؛ ابن ماجہ، رقم۲۹۰۶، ۲۹۰۸؛ نسائی، رقم۲۶۲۱، ۲۶۳۷، ۲۶۳۸، ۲۶۴۰، ۲۶۴۴، ۵۳۹۳، ۵۳۹۵، ۵۳۹۶؛ احمد،رقم۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ۱۶۲۲۹، ۱۶۱۴۷، ۱۶۱۷۰، ۱۶۲۳۰، ۱۶۲۳۵، ۱۶۲۴۴، ۱۶۲۴۸، ۲۷۴۵۷؛ ابن حبان، رقم۳۹۹۰، ۳۹۹۱، ۳۹۹۴، ۳۹۹۷؛ بیہقی، رقم۸۴۱۶، ۸۴۱۷،۸۴۱۹، ۸۴۵۶، ۸۵۳۸، ۱۲۴۰۸؛ ابویعلیٰ، رقم۲۳۵۱، ۶۸۱۲، ۶۸۱۸؛ السنن الکبریٰ، رقم۳۶۰۰، ۳۶۱۷، ۳۶۱۸، ۳۶۲۰، ۳۶۲۳، ۳۶۲۴، ۵۹۴۷، ۵۹۴۸، ۵۹۴۹، ۵۹۵۲، ۵۹۵۳؛ ابن خزیمہ، رقم۳۰۳۵ ۔ ۳۰۴۰؛ عبدالرزاق،رقم ۱۶۳۴۱؛ دارمی، رقم۱۸۳۵۔ ۱۸۳۷۔

 

______________________