عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حیض کے دوران خواتین نہ تو قرآن مجید پڑھ سکتی ہیں اور نہ ہی اسے چھو سکتی ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے حامل لوگ بالعموم اپنی اس راے کی بنیاد اس حدیث پر رکھتے ہیں جسے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے:

لاَ تَقْرَإِ الْحَاءِضُ وَلاَ الْجُنُبُ شَیْءًا مِّنَ الْقُرْآنِ. (ترمذی، رقم ۲۳۶)
’’حائضہ اور جنبی قرآن مجید میں سے کچھ بھی نہ پڑھیں۔ ‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت کے مطابق خواتین کو حیض کے دوران صرف تین عبادتوں سے منع فرمایا گیا ہے:

روزہ رکھنے سے؛
نماز پڑھنے سے؛
اور طواف کرنے سے۔
جہاں تک درج بالا حدیث کا تعلق ہے تو محدثین نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ۴۱؂ چنانچہ شریعت میں حیض کے دوران قرآن مجید پڑھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، چاہے وہ زبانی پڑھا جائے یا مصحف کو ہاتھ لگا کر۔ اگر اس حالت میں کوئی خاتون خود نہیں چاہتی کہ وہ قرآن پڑھے تو یہ اس کا اپنا ذوق اور انتخاب ہوسکتا ہے، تاہم اسے ہرگز یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس معاملے میں شریعت نے اس پر کوئی پابندی عائد کی ہے۔

_____
۴۱؂ مثال کے طور پردیکھیے: کتب و رسائل و فتاوی ابن تیمیہ فی الفقہ ۲/ ۴۶۰۔ السنن الکبریٰ ، بیہقی ۱/ ۳۰۹۔ فتح الباری ، ابن حجر ۱/ ۴۰۹۔ اعلام الموقعین ، ابن قیم ۳/ ۲۳۔

____________