اوپر ہم نے بنیادی مطالبہ کا ذکر کیا ہے،(پڑھئیے) تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ بدگمانی اصل میں کیا ہے اور دین نے ہمیں اس سے روکا ہے ۔ یعنی ہر انسان بنیادی طور پر اچھاسمجھا جانا چاہیے اوردوسروں کواپنے دل میں یا دوسرے کے سامنے علانیہ برائی کی نسبت دینا گناہ ہے۔اس سے بچ کر رہنا لازم ہے ۔ آیندہ سطور میں ہم ان طریقوں کا ذکر کریں گے جو ہمیں بدگمانی سے بچانے میں مدد دیں گے۔ان طریقوں کو ہم نے دو قسموں میں تقسیم کیا ہے تاکہ بات کو سمجھنا اور آسان ہو جائے:

  • ۱۔ نظری طریقے 
  • ۲۔ عملی طریقے 

نظری طریقے

دوسروں کے ہر عمل کو صلاح و خیر پر محمول کرنا

اوپر کی ساری بحث جو ہم نے کی ہے، اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ہمارے بہن بھائی، دوست احباب، عزیزو اقارب، قرب و جوار میں رہنے والے سب لوگ ہمارے ساتھ جتنے معاملات کرتے ہیں ، ان کو ہم خیرپر محمول کریں۔ اپنے ذہن میں ان کی اچھی توجیہ کریںیعنی یہ سوچیں کہ میرے بھائی نے یہ کام ، یہ بات ، یہ عمل ،یہ حرکت کسی اچھی وجہ سے کی ہو گی۔اس کا سبب اچھا ہوگا۔
ہمیں یہ اپنی عادت بنا لینی چاہیے کہ ہم ہر کام کی اچھی توجیہ کریں۔ کسی عارف کا قول ہے کہ کسی کے کام کی بری توجیہ کے سو امکان ہوں اور اس کی اچھی توجیہ کا ایک امکان ہوتو تب بھی اچھی توجیہ ہی کرنی چاہیے۔ہمارے شب و روز میں چند واقعات ہی ایسے ہوتے ہیں، جو ہمیں دوسروں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ تو ان کے بارے میں فوراً سوچ کر یہ فیصلہ کریں کہ یہ یقیناًاچھے مقصد ہی کے لیے کیا گیا ہوگا۔
چنانچہ ہمیں اپنے ارد گرد رہنے والوں کے تمام

  • ۱۔ اقوال(باتیں اور تبصرے)
  • ۲۔افعال(کاموں)
  • ۳۔اشارات(اشارہ بازی)

کو اچھے معنی میں لینا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو یہیں سے بدگمانی کا عمل شروع ہوگا۔اگرچہ ہم سب کو بات کرتے وقت، حرکات و افعال اور اشارے کرتے وقت اس بات کا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی کے لیے اس میں خرابی نہ ہو۔لیکن جس نے وہ اشارہ برا محسوس کیا ہے اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اسے اچھے معنی میں لے۔
ہمارے ساتھیوں اور رشتہ داروں سے جو کچھ صادر ہوتاہے، اگر وہ برائی بھی کررہا ہے تو آپ کی اچھی توجیہ سے اس کی برائی ختم ہو جائے گی۔آپ کی تکلیف کم ہو جائے گی اور اس کی برائی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔مثلاً اس نے اگر آپ کو چڑانے کے لیے ایسا کیا ہے ، مگر آپ نے اس کی توجیہ اچھی کر لی ہے تو اس کی شرارت ناکام ہو جائے گی۔

 

غلطی کرنا ایک انسانی وصف 

غلطی سب سے ہوتی ہے ۔قرآن مجید میں آیا ہے کہ’خلق الانسان ضعیفا‘،’’ انسان کو کمزور تخلیق کیا گیا ہے۔‘‘ یہ کمزوری اس کے اندر اس لیے رکھی گئی ہے کہ وہ اکڑکر خدا بننے کی کوشش نہ کرے۔ تکبر میں مبتلا نہ ہو، خدا کے سہارے کو تلاش کرے۔ مگر اسی وصف کی بنا پر اس سے غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہم سب غلطی کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ یہ اکثر ہوتا ہے کہ ہم ہمدردی جتانا چاہتے تھے ،مگر اس ہمدردی کے اظہار میں لفظوں کا غلط انتخاب ہو جاتا ہے۔ جس سے وہ آدمی ناراض ہوجاتا ہے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ سب غلطیا ں کرتے ہیں۔ اس لیے جب کسی کی کوئی بات بری لگے تو اس کی ایک وجہ محض یہ بھی ہوتی ہے کہ اس سے غلطی سے ایسا ہواہو۔ ہر چیزجو ہمیں تکلیف دیتی ہے، لازم نہیں ہے کہ وہ دوسرے نے ہمیں تکلیف دینے ہی کے لیے کی ہو۔ اس میں سو فی صد امکانات اس بات کے ہوتے ہیں کہ اس سے وہ عمل غلطی سے ہو گیا ہو۔
غلطی سے برائی ہوجانے کو قرآن مجید نے بھی قابل معافی قرار دیا ہے(البقرہ ۲: ۲۸۶)۔ہمیں بھی قرآن مجید کی روشنی میں یہ عام اخلاقی ضابطہ اپنانا چاہیے کہ جو کام دوسروں سے غلطی سے ہو جائیں وہ قابل مواخذہ نہ ہوں۔ اس لیے کہ ان کے معاملے میں یہ غلطی کبھی ہم سے بھی ہو سکتی ہے۔
بدگمانی کے موقع پر ہر معاملے میں بدگمانی میں مبتلا ہونے سے بہتر ہے کہ ہم اگر اس کے قول و فعل کو خیر و صلاح پر محمول نہیں کرسکتے تو کم از کم اتنا تو سمجھ سکتے ہیں کہ اس سے یہ غلطی ہو گئی ہوگی۔ وہ کچھ اور کہنا چاہتا تھا ، مگر اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے ہوں گے وغیرہ۔

 

بدگمانی ناانصافی ہے

بدگمانی سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی برائی کی شدت آپ پر واضح ہو۔ بدگمانی محض بدگمانی نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ ہم اوپر ذکر کرآئے ہیں، یہ ہمارا اپنے بھائی پر ظلم بھی ہے ۔جس طرح قرآن مجید نے غیبت کو مردہ بھائی کے گوشت نوچنے سے تشبیہ دی ہے ۔اسی طرح اس میں بھی یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ بات انصاف کے خلاف ہے کہ آپ اپنے بھائی کے بارے میں بلاجواز بری رائے قائم کرلیں۔
چنانچہ جب آپ اپنے بھائی کے بارے میں غلط رائے قائم کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ناانصافی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ناانصافی گناہ والا عمل ہے، اس سے ہمیں بچ کررہنا چاہیے۔

 

بدگمانی نفس کی چغلی 

اس جرم کی شناعت اس پہلو سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ بدگمانی اپنی حقیقت میں چغلی اور غیبت جیسی ہے ۔ چغلی اور غیبت میں ایک آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ کسی کی برائی کررہا ہوتا ہے اور اس میں آپ کے ساتھ آپ کا نفس برائی کررہا ہوتا ہے۔ بدگمانی بھی کسی ایسے نفسیاتی محرک سے شروع ہوتی ہے جس سے چغلی شروع ہوتی ہے۔ آدمی کو اپنے اوپر قابو رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ بھی اپنے بھائی کی چغلی نہ کرے۔ بس اتنا ہی اپنے بھائی کے بارے میں سوچے جتنے اس کے پاس حقیقی شواہد موجود ہوں۔ اس کے بعد جب ہمارا ذہن اپنے لام لگانے لگ پڑے تو ہمیں رک جانا چاہیے۔ 

 

ایک واقعہ کے کئی رخ

دنیا میں ہونے والے ہر واقعہ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہمارے سامنے ہوتے ہیں اور کچھ دوسروں کے سامنے۔ ہم بالعموم انھی پہلووں کا لحاظ کرتے ہیں، جو ہمارے سامنے ہوتے ہیں یا ہمیں سمجھ میں آرہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ میرے پاس ایک قیمتی چیزتھی، اس کے بارے میں ایک شخص نے یہ پوچھا کہ کتنے کی لی ہے؟ میں نے اس کی قیمت بتا دی۔ دوسرے شخص نے پوچھا کہ کہاں سے لی ہے؟ میں نے کہا کہ تحفہ میں ملی ہے۔ ان دونوں کی کسی ملاقات میں میری اس چیزکا ذکر آگیا۔ تو دونوں کو میرے جواب میں تضاد نظر آیا۔ اب میرے ہی بیانات سے دو مختلف باتیں ان کے سامنے آتی ہیں۔ جس سے ان کے دل میں میرے جھوٹا ہونے کا خیال آیا۔ ان میں سے ایک نے مجھ سے کسی موقع پر پوچھا کہ تم نے اس کے بارے میں دو متضاد بیانات دیے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ دونوں بیانات سچے ہیں۔ کیونکہ میرا ایک دوست میرے ساتھ تھا ،میں نے جب یہ چیز خریدی تو پیسے اس نے دے دیے تھے۔اب اس کی قیمت بھی مجھے پتا ہے اور یہ میرے لیے تحفہ بھی ہے۔یوں ایک واقعہ سے ہمیں پتا چلا کہ اپنے بیانات کی روشنی میں ایک آدمی جھوٹا لگ رہا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ سچا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہمیں ایک تیسرا اور حقیقی رخ اس واقعہ کا معلوم نہیں ہوتا۔
اس لیے بری رائے بنانے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کے سامنے ایک واقعہ کے بیس پہلو ہیں ،مگر وہ حقیقی پہلو آپ کے سامنے موجود ہی نہ ہو جو آپ کی رائے کو مثبت بنا سکتا ہے۔ اس لیے جب بھی آپ کے سامنے کوئی واقعہ ہو جو آپ کو منفی رائے بنانے پر اکسا رہا ہو تو اسی وقت یہ سوچیں کہ شاید کوئی ایسا رخ اس واقعہ کا ہو جو ہم پر نہ کھلا ہو۔

 

عملی طریقے

ہم نے نفسیاتی محرکات میں دیکھا کہ ہمارا ذہن ہمہ وقت کام کرتاہے ۔ وہ چیزوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ان کا تجزیہ کرتا اور ان میں باہمی رشتہ اور تعلق جوڑتا ہے۔چنانچہ وہ اپنا یہی کام، اگرہمارے پاس سوچنے کی اچھی چیزیں نہ ہوں، تو ارد گرد رہنے والوں کے متعلق شروع کردیتاہے ۔ ان کے رویوں کی وجوہات تلاش کرتا ہے۔جس کے نتیجہ میں ہم بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ ہم اپنی سوچوں کو صحیح رخ پرلگائیں۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن کو کچھ دوسری طرح کی معلومات فراہم کریں تاکہ وہ سوچوں میں ان چیزوں کو لے آئے جو لوگوں سے متعلق نہ ہوں۔

 

تفکر

عام سوچیں، جیسے کاروبار ، سماجی خدمت وغیرہ کے علاوہ کچھ دینی مشاغل بھی ایسے ہیں جنھیں قرآن مجید نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔ انھیں اپنانے سے ہمارے ذہن کو اپنی اس فعالیت کے لیے بہتر چیزیں مل جاتی ہیں۔ مثلاً قرآن مجید نے تفکر فی آیات اللہ کا حکم دیا ہے۔یہ ذہن کی سب سے اعلیٰ مصروفیت ہے۔ اس سے ذہن یقیناًاچھی چیزوں میں غور کرے گا۔ہونے والا ہر واقعہ دراصل خدا کی یاد کو تازہ کرنے، اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو ہم پر واضح کرنے کے لیے ایک نشانی ہوتاہے۔ وہ ہماری تعلیم اور آزمایش کے لیے ہوتا ہے، اگر ہم ان چیزوں کو سمجھیں تو ہر اچھے برے واقعہ میں ہمارے لیے تفکر اور غور و خوض کا اتنا سامان ہے کہ ہماری بصیرت دن دوگنی رات چگنی ترقی کرسکتی ہے۔پرانے حکما جن میں لقمان کا نام قرآن مجید نے بھی دیا ہے، انھوں نے جو حکمت حاصل کی وہ کتابیں پڑھ کر حاصل نہیں ہوئی تھی، بلکہ وہ انھی واقعات اور کائنات پر غور و خوض سے حاصل ہوئی تھی۔اس عادت سے آپ ہر واقعہ میں خدا تک پہنچیں گے نہ کہ دوسروں کی بدگمانی تک۔

 

احساس امتحان

سوچوں کے اس دھارے کو مزید پاکیزہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمہ وقت اس احساس کو تازہ رکھیں کہ ہم امتحان میں ہیں۔اگر ہم اس احساس کو زندہ رکھیں تو ہر قدم پر یہ احساس ہمارا محسن بن کر نمودار ہوگا۔نہ صرف ہماری سوچوں کو درست رکھے گا، بلکہ ہمارے اعمال کو بھی صحیح نہج پر رکھے گا۔ سور_ۂبقرہ میں صحابہ رضوان اللہ علیہم کے بارے میں جو یہ بات آئی ہے کہ ’وبالآخرۃ ہم یوقنون ،‘’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں‘‘،یہ اسی بات کا بیان ہے کہ ان کا عمل اورسوچ آخرت کے لیے ہوتی ہے۔آخرت پر یقین ہی ہے جو ہمیں نیکی پر ابھارتا اور اس پر قائم رکھتا ہے ۔ اگرآخرت نہ ہو تو شاید ہم نیکی سے جلد پھر جائیں۔

 

اپنی اصلاح

اس عادت کو اپنانے کے بعد ، ایک اور عادت ہمیں پختہ کرنی چاہیے کہ ہم دوسروں کے بجائے اپنے نفس کواپنی تنقیدکا نشانہ بنائیں۔اس کی خامیوں کو تلاش کریں۔ اسے سنواریں، اس کی غلطیوں کو دور کریں۔ ہمیں اپنے نفس کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو اچھے والدین اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی تربیت کرتے ، انھیں آداب سکھاتے ، انھیں تعلیم دلاتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے نفس کے ساتھ یہی کرنا چاہیے۔
جب بھی کوئی غلطی کریں تو ضمیر کی سرزنش کو کافی نہ سمجھیں۔خدا کے حق میں گناہ کیا ہو تو توبہ و تلافی کریں، بندوں کے حق میں کیا ہو توتلافی کریں، تلافی نہ کرسکیں تو معاف کرالیں۔ ان چیزوں کو متعین کریں، جن کی وجہ سے وہ غلطی ہوئی تھی۔یعنی یہ جانیں کہ یہ غلطی بھول چوک سے ہوئی ہے یا کسی نفس کے خبث کی وجہ سے ۔اگر نفس کا کوئی خبث اس غلطی کا سبب ہے تو اسے درست کرنے کی کوشش کریں۔
بندۂ مومن اپنے اوپر سختی کرنے والا اور دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کرنے والا ہوتا ہے۔ اسے لوگوں کی غلطیوں سے زیادہ اپنی غلطیوں سے سرو کار ہوتاہے۔وہ کوشش میں رہتا ہے کہ اسے صالح بننا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل قیامت کے دن پکڑا جائے۔

 

دوسروں سے وجہ پوچھنا

تیسری بات جو آپ کو اپنے سامنے رکھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ جس بات سے آپ کو تکلیف ہوئی اور آپ اس آدمی کے بارے میں، جس نے وہ بات کی ہے، غلط سوچنے لگے ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ خود سوچیں اور بلاثبوت کوئی رائے قائم کریں، بہتر یہ ہے کہ آپ اس آدمی سے اس کی اصل وجہ پوچھ لیں۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کی بات کا وہ حقیقی پہلو جو آپ سے پوشیدہ تھا، سامنے آجائے گا۔جب حقیقت آپ پر کھل جائے گی تو آپ بدگمانی کے بجائے حقیقت پر کھڑے ہو جائیں گے۔

 

لوگوں کی توجیہ کا اعتبار کرنا

جب آپ اس سے پوچھیں تو وہ جو وجہ بتائے اسے مان لیں۔ اگر آپ کو خیال ہو رہا ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو مزید تسلی کرلیں۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ اس کی کہی ہوئی بات کو تسلیم کریں۔ اگر دل ہی دل میں یہ سوچیں کہ اس نے جھوٹ بولا ہے تو یہ پھر وہی بد گمانی ہے،جس سے آپ کو باز رہنا ہے۔
اس دنیا میں سارے لوگ بد طینت نہیں ہیں۔ اور اگر کوئی آدمی جھوٹ بولتا ہے تو یہ لازم نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ ہی جھوٹ بولتا ہو۔ اسی طرح اگر فرض کرلیجیے کہ اس نے آپ کا سامنا نہ کرسکنے کی وجہ سے بات پلٹ لی ہے ،تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ آپ کی تکلیف کو رفع کرنے کے لیے یہ بات کافی ہونی چاہیے کہ اس نے اس بات کے اس مفہوم کا اقرار نہیں کیا جو آپ کو تکلیف دے رہاتھا۔
یہ بات اچھی معاشرت کے لیے لازم ہے کہ ہم ایک دوسرے کی باتوں کااعتبار کریں۔ ان کی توجیہ اور ان کی صفائی میں کہی ہوئی بات کو اہمیت دیں اور اسے تسلیم کریں۔ ورنہ یہ زندگی ایک عذاب کی صورت میں ڈھلنے لگتی ہے،جہاں بھائی بھائی سے نالاں ہوتا ہے ، بہن بہن سے،ماں بیٹے سے اوربیٹا ماں سے ۔ 
اگر ایک دوسرے کا یہ اعتبار باقی نہ رہے تو اس بات کا کوئی امکان ہی نہیں رہتا کہ معاشرتی نظام چلتا رہے۔بات کرنی ، سمجھانی اور منوانی اسی صورت ممکن ہے کہ جب لوگوں پر اعتبار باقی رہے۔ایک دوسرے پر اعتبار کرنا ہی شرف انسانیت ہے۔یہی حسن معاشرت کی پہلی بنیاد ہے۔ اگر فرض کریں کہ بیوی کو میاں پر اور میاں کو بیوی پر کسی وجہ سے شک ہو جائے تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس گھر کی صبح صبح نہیں رہے گی اور شام شام نہیں۔اس لیے اس اعتماد کو اس وقت تک باقی رکھنا چاہیے جب تک ٹھوس ثبوت سے وہ بات ثابت نہ ہو جائے۔

 

رائے سازی سے پہلے تحقیق 

قرآن مجید نے دوسروں کے خلاف اقدام کرنے سے پہلے یہ لازم قرار دیا ہے کہ ہم تحقیق کرلیں(سورۂ حجرات)۔ اس سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ بندۂ مومن اپنے اقدامات میں ایسی حماقت نہیں کرتا کہ وہ جیسے ہی کوئی بات سنے تو فوراً اقدام کرڈالے اور یہ جانے ہی نہ کہ اصل بات کیا ہے۔
اس تعلیم سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ہر اس عمل میں ہمیں تحقیق کرنی چاہیے جہاں ہم کسی سے کوئی معاملہ کرنے میں غلطی کرسکتے ہیں۔ چنانچہ بدگمانی اگرچہ دل میں ہوتی ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ ہمارے تعلقات ، رویوں اور لین دین کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم جب کسی کے بارے میں بری رائے بنانے لگیں تو اس کے بارے میں تحقیق کرلیا کریں اور اگر بات کی تہ تک پہنچنے کا موقع نہ ہو تو رائے بھی بری نہ بنایا کریں۔ 

 

بدگمانی کے برخلاف عمل 

بد گمانی سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی آدمی کے بارے میں آپ کے دل میں برے خیالات پائے جاتے ہیں تو آپ جب بھی اس سے ملیں ، آپ کا رویہ آپ کے خیالات کے الٹ ہونا چاہیے۔ آپ اس سے اچھی رائے رکھنے والے کی طرح ملیں۔اس سے آپ کو ایک ترفع حاصل ہو گا۔ آپ کی بدگمانی کی حقیقت بے معنی سی ہو کر رہ جائے گی۔اس سے کبھی کبھار یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کا دل یہ کہتا ہے کہ تم نے ایسے ہی اسے برا بنا رکھا تھا، وہ تو اچھا بھلا شریف آدمی ہے۔

 

نفس کا تزکیہ

اپنے نفس کو ان بیماریوں سے صاف کر کے رکھنا چاہیے ، جو اس بدگمانی کاسبب بنتی ہیں۔مثلاً حسد، تکبر، حقد و کینہ وغیرہ ایسی بیماریاں ہیں، جو مزید بیماریوں کو پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے انھیں پورے زور سے اپنے اندر سے کھرچ کھرچ کر صاف کردینا چاہیے۔
اس کے لیے کسی جادو، چلوںیا عملیات کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ آپ کا اپنا پختہ اور مضبوط فیصلہ ہے جو کسی بھی بیماری کو ختم کرسکتا ہے اور کسی بھی بیماری کو پنپنے کا موقع دیتا ہے۔ آپ کو پوری قوت ارادی سے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے یہ کام آج کے بعد سے نہیں کرنا۔ بس یہی نفس کی ہر بیماری کا علاج ہے۔ایمان کی دولت بھی اسی فیصلے سے حاصل ہوتی اور اسی فیصلے کی پختگی کی بنا پر ہمارے پاس رہتی ہے۔ کہیں اس فیصلے میں ڈھیلا پن آیا وہیں خرابی شروع ہو جائے گی۔ 
میری بات کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اب آپ سے غلطی نہیں ہوگی۔ ہو سکتا ہے، اس فیصلے کے فوراً بعد آپ سے غلطی ہو جائے۔ یہ آپ کے فیصلے کی خلاف ورزی ضرور ہے ،مگر اس لغزش کو اگلے مواقع پرپختگی کے حصول کے لیے زینہ بنائیں۔ آپ ان شا ء اللہ جلد یا بدیر بہتری کی طرف بڑھنے لگیں گے۔بہتری کی طرف بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں آپ کا فیصلہ زیادہ مستحضر رہنے لگے گا۔بس یہی وہ چیز ہے، جسے ایمان اور خدا کی یاد کہنا چاہیے۔ جب ایک شخص کو خدا کا خوف یاد رہنے لگے تو وہ تزکیہ کا ایک بڑا سفر طے کرآیا ہے۔ اس نے کہاں بچنا ہے، یہی خوف اسے بچائے گا۔ اسے کہاں جھکنا ہے ،یہی یاد اسے جھکائے گی۔ 
اس یاد کو تازہ رکھنے کے لیے قرآن مجید نے دو طر ح کی ذمہ داریاں ہم انسانوں کو سونپی ہیں۔ علما پر انذار اور خبردار کردینے کی ذمہ د اری۔ یعنی ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ لوگوں کو آخرت کے بارے میں خبردار کریں۔ انھیں آخرت یاد دلائیں۔ اس ذمہ داری کا دوسرا حصہ’ تواصی بالحق‘ اور ’ تواصی بالصبر‘ہے، یہ ذمہ داری ہم عام لوگوں کی ہے ،جو عالم دین پر بھی ہے، اس لیے کہ وہ اپنی علمی زندگی سے باہر ایک عام آدمی بھی ہوتا ہے۔وہ یہ ہے کہ دین ، اخلاق اور خیر کی وہ معروف و معلوم باتیں جو ساری انسانیت میں مانی ہوئی اور دین اسلام کی جاری کی ہوئی چیزیں ہیں، ان پر آپ ایک دوسرے کو پھسلتے دیکھ کر اور لغزش کے وقت اصلاح کریں۔ یہ وہ تذکیرو نصیحت ہے کہ اگر ہمارے معاشرے میں یا کم ازکم ہمارے گھروں میں زندہ عمل بن جائے تو یہ چیز بھی ہمار ے تزکیہ میں ممد و معاون ہے۔
دوسری ذمہ داری نماز روزہ کا اہتمام ہے۔ قرآن مجید نے نمازکے بارے میں بتایا ہے کہ اسے میری یاد کے لیے پڑھو۔’ اقم الصلاۃ لذکری‘،یہ وہی یاد ہے جس کا ہم نے اوپر ذکرکیا ہے۔ یہ یاد ہماری زندگی کے سفر میں ایک نگہبان کی طرح ہے جوہمیں بھٹکنے سے بچاتی ہے۔اسی لیے قرآن مجید نے نماز کے بارے میں کہا ہے کہ’ ان الصلوٰۃ تنہٰی عن الفحشاء والمنکر‘ ’’نماز ہمیں منکر اور فحشا سے روکتی ہے‘‘۔

 

تسامح اوردرگزر

ہم سب انسان ہیں، اور ہم غلطیاں نیت و ارادے سے بھی کرتے ہیں اور تسامح سے بھی۔ نیت اور ارادے کی غلطی قابل مواخذہ ہے۔ جو غلطی نسیان و خطا یعنی تسامح سے ہوئی ہے، وہ قابل معافی ہے۔ہم آپس میں معاملات کرتے ہوئے اکثر کوئی غلط بات کہہ جاتے یا کر جاتے ہیں، تو جس طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اس غلطی پر ہمیں برا نہ کہا جائے ، یہ تو محض غلطی سے ایسا ہوا تھا، اسی طرح ہمیں یہ چاہیے کہ ہم دوسروں کی غلطی پر ان کو ہمیشہ ’برا ‘قرار نہ دیں ۔ بلکہ یہ امکان مانیں کہ اس سے جو غلطی ہوئی ہے وہ بھی تسامح سے ہو ئی ہے۔ یہ خیال آپ کے دل میں پیدا ہونے والی بدگمانی کو ختم کردے گا۔

 

حسن ظن کی مشق 

ہم آپ کو یہ عادت بھی پختہ کر لینی چاہیے کہ اگر ہمارے کسی بھائی کے عمل اور بات کے پیچھے سو شر نظر آرہے ہوں اور بس ایک امکان خیر کا ہو تو ہمیں خیر کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس کی ممارست اور مشق کرنی چاہیے۔ ہمیں روزانہ ایسے بیسیوں معاملات پیش آتے ہیں، جن کو ہمارا دل برا محسوس کرتا اور ہم دوسروں کے بارے میں گمان کرنے لگتے ہیں۔ان مواقع پر ضروری ہے کہ ہم پوری دل جمعی کے ساتھ ان خیالات کو ذہن سے خارج کریں اور اگر خارج نہ کرسکتے ہوں تو ان کو اخلاقی طور پر درست رکھیں تاکہ ہم سے ناانصافی نہ ہو۔ اور ہم اپنے بھائی کے ساتھ حسن سلوک سے محروم نہ ہوں۔یہ چیز انسان کے لیے اپنے اخلاق کو درست رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اس کا دل دوسرے کے بارے میں نہایت صاف ہو۔جو عام طور سے دوسروں کی چغلی و غیبت اور ہمارے برے گمانوں کی وجہ سے صاف نہیں رہتا۔