انسان کیا ہے؟

بدگمانی سے بچنے کا طریقہ جاننے سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ انسان کیا ہے۔انسان قرآن مجید کی روشنی میں کسی شیطان کا تخلیق کردہ نہیں ہے۔ اسے خالق کائنات نے وجود بخشا ہے۔ جو منبع خیر و صلاح ہے ۔اس اعتبار سے سب انسان ایک ہی خالق کی مخلوق اور اس کی دی ہوئی فطرت پر بنائے گئے ہیں ۔

 
انسان صاحب خیر مخلوق

قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب انسان اچھے ہیں۔ان کے خمیر میں نیکی اور خیر و صلاح رکھی گئی ہے۔ کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں ہے جس کی سرشت میں شیطنت ہو۔ نہ کوئی انسان فتنہ و فساد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔سب کو ایک جیسی صفات دی گئی ہیں۔ البتہ آزمایش کے لیے مزاج مختلف رکھے گئے ہیں۔ مثلاً غصہ سب میں ہے ،مگر کسی میں زیادہ ہے اور کسی میں کم۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ آدمی برا ہے۔ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما میں غصہ اور نرمی کا فرق نمایا ں تھا۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ غصہ کی وجہ سے برے تھے۔ یہ صرف ان کے لیے آزمایش تھی جس میں وہ کامیاب ہوئے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نرمی ان کے لیے آزمایش تھی، وہ بھی اس میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے غصہ کو حق کے لیے استعمال کیا اور باطل کے خلاف فاروق بن گئے اور انھوں نے نرمی کو حق کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور صدیق کہلائے۔ 
بس سب انسانوں کا یہی معاملہ ہے۔ ان کو سب کچھ دیا گیا ہے، مگر مقدار کا فرق ہے تاکہ ان کو آزمایا جائے۔ یہ آزمایش مزاج کی ان کم و بیش صلاحیتیوں کے ساتھ حق پر قائم رہنے اور اس پر عمل کرنے کی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ کسی انسان کو شر زیادہ دے دیا گیا ہو یا اسے خیر اور فطرت سے بالکل خالی رکھا گیا ہو۔اس لیے کسی انسان کے بارے میں یہ خیال تو سرے سے ہی غلط ہے کہ ’’وہ تو ہے ہی شیطان‘‘ ،اس لیے کہ یہ سب رحمن کے تخلیق کردہ ہیں۔ ان کے اندر بھی نیکی ہوگی، مگر بس کبھی دب جاتی ہے۔
اس بات کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کو خیرکی کیا کیا چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں۔ اس تفصیل سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ انسان دراصل خیر کے لیے پیدا کیا گیا۔ اور اسے نیکی کا سبق کبھی بھولتا نہیں ہے۔ یہ بس وقتی اشتعال یا جذبہ کی تحریک ہوتی ہے جو کبھی تھوڑی اور کبھی طویل مدت کے لیے انسان کو بھٹکا دیتی ہے۔

 
فطرت

دنیا میں جتنے انسان پیدا ہوتے ہیں، وہ فطرت پر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دین قیم کا سبق لے کر آتے ہیں۔ اس فطرت میں بنیادی چیز توحید اوراس کی بندگی ہے ۔یہی فطرت انسان کے مذہبی شعور کو وجود بخشتی ہے۔ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس فطرت کے مطابق جو دین ہو اس کو اختیار کریں اور اس میں تبدیلی کرنے سے گریزاں رہیں۔قرآن مجید کا فرمان ہے:؎


فَاَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا، فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا، لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ، ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ، وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ.(الروم۳۰:۳۰) 
’’بس تم اپنا رخ، یکسو ہو کر ،اللہ کے دین کی طرف پھیر لو۔ اس فطرت کی پیروی کرو ، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو بگاڑنا جائز نہیں ہے۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘


یہ نہایت اہم اطلاع ہے ۔ ہمیں سب انسانوں کے بارے میں یہاں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ شر پر تخلیق نہیں کیے گئے ہیں ،بلکہ ان کی تخلیق میں خیر کو بنیادی جوہر اور فطرت کی حیثیت حاصل ہے۔دین قیم ان کے اندر موجود ہے۔ اس سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب انسانوں میں، خواہ وہ پاکستانی ہوں یا ہندوستانی، مسلمان ہوں یا یہودی و عیسائی، ہندو ہوں یا مجوسی و پارسی یہ سب جب پیدا ہوئے تھے ، تو سب کو یہی فطرت عطا کرکے پیدا کیا گیا تھا۔ نہ کوئی کافر تھا اور نہ کوئی مشرک، سب کے پاس ایک ہی دین تھا ۔ لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوئے، ہم مسلمانوں نے اسلام کے رسوم و مناسک سیکھ لیے اور یہودیوں ،ہندووں اور نصرانیوں وغیرہ نے اپنے اپنے دین کے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب ان کی فطرت ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو انبیا و صالحین کے ہاتھوں کوئی ایمان نہ لاتا ۔ ماحول مشرکانہ ہو یا بداخلاقی سے بھرا ہوا، یہ فطرت ہر شخص میں موجود رہتی اور اسے صلاح و خیر پر رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ایک ہندو، عیسائی اور یہودی ،بے دین اور دین دار ،ملحد اور موحد سب کے پاس یہ فطرت موجود ہوتی ہے۔ اسی کے مطابق چلنا نیکی و ہدایت ہے اور اس کی خلاف ورزی بے راہ روی اورگمراہی ہے۔ اس فطرت کے کچھ اجزا ہیں۔ ان کی تفصیل ہم ذیل میں کریں گے:

 

عہد الست

یہ عہد اللہ نے ہم سے ہماری تخلیق کے بعد ہمیں دنیا میں بھیجنے سے پہلے لیا ۔ قرآن مجید نے اس عہد الست کو یوں بیان کیا ہے:


وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ، مِنْ ظُہُوْرِہِمْ، ذُرِّیَّتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، شَہِدْنَا، اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ، اَوْ تَقُوْلُوْٓا: اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِہِمْ، اَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ.(الاعراف۷:  ۱۷۲۔۱۷۳) 
’’(اس بات کو یاد رکھ)جب تیرے رب نے بنی آدم سے ، (یعنی) ان کی پیٹھوں سے ان کی ذریت کو نکالا، انھیں خود ان کے اپنے اوپر گواہ ٹھہرایا(اور پوچھا): کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟وہ بولے:ہاں،(توہمارا رب ہے)ہم اس پرگواہ ہیں۔(یہ ہم نے اس لیے کیا کہ) کہیں قیامت کو یہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر ہی رہے۔یا یہ عذر کرو، پہلے ہمارے باپ دادا نے شرک کیا، اورہم ان کی اولاد تھے،( چنانچہ انھی کی پیروی کی)تو کیا تو ہمارے ان باطل پرست (آبا)کے جرم میں ہمیں بھی ہلاک کر ڈالے گا۔‘‘


یہ عہد فطرت انسانی کا ایک بڑا حصہ ہے جس کی وجہ سے یہ بات ہماری فطرت کا حصہ ہے کہ ہمارا ایک رب ہے۔ جس نے ہمیں تخلیق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہمارا رب اور مخلوق کا رشتہ ہے۔ اور اس رشتے کا تقاضا ہے کہ ہم اس کو اپنا آقا و رب مانیں۔ وہ ہمارے گلہ کا رکھوالا ہے ،وہ ہمارا رازق و مالک ہے ۔ ہم اس کے اطاعت گزارو فرماں بردار ہیں۔اس کے تخلیق کردہ ہونے اور اس کے رب ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے وفا دار رہیں۔
ہماری فطرت میں اس عہدالست کے ذریعے سے توحید اور رب واحد کا تصور رکھ دیا گیا ہے۔ اس بات میں مشرک و موحد، سب یکساں ہیں۔ سب کے سینوں میں اصل سبق توحید ہی کا ہے۔ کوئی شخص پیدایشی طور پر مشرک و منکر نہیں ہے۔ یہ اس کے اپنے خیالات ہیں یا خارجی عوامل ہیں، جن کے زیر اثر وہ مشرک بنتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ یہاں فرما رہے ہیں کہ یہ فطرت اتنی صحیح اور قوی ہے کہ اس کے بعد یہ بہانہ سنا نہیں جائے گا کہ ہمارے آبا نے ایسا کیا تو ہم بھی گمراہ ہو گئے۔اس سے نتیجہ خودبخود نکل رہا ہے کہ دنیا کے سب انسان فطرت توحید پر پیدا کیے گئے ہیں۔ کوئی اس معاملے میں ایسا نہیں ہے کہ جس کی سرشت میں شرک و بت پرستی اور اپنے رب سے بے وفائی رکھ دی گئی ہو۔

 

خیر و شر کا شعور

سورۂ دھر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:


اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ، نَّبْتَلِیْہِ، فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا، اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوْرًا.(۷۶:  ۲۔۳)
’’یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو ایک ملی ہوئی بوند سے پیدا کیا ہے۔ ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے اسے دیکھنے اور سننے والا بنا دیا(اس طرح کہ) ہم نے اسے خیر و شر کی راہ سجھا دی، اب وہ چاہے شکر یا کفر کرے۔‘‘ 


اسی مضمون کو سورۂ شمس میں بھی بیان کیا گیا ہے:


وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰہَا، فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا، قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا.(۹۱ :۷۔۹) 
’’نفس اور اس کا سنوارا جانا، جسے سنوارنے کے بعد نیکی و بدی کی راہ سجھا دی گئی، گواہی دیتا ہے کہ جس نے اس کو پاک رکھا، وہ مراد کو پا گیا اور جس نے اسے آلودہ کیا،وہ نامراد ہوا۔‘‘


ان آیات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد الست کے علاوہ ہمارے نفس کو بناتے وقت اللہ تعالیٰ نے اس میں خیرو شر کا سبق بھی سکھا دیا ہے۔ ہماری فطرت کا دوسرا حصہ یہ خیر و شر کا شعور ہے۔پیدایش ہی کے وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان دنیوی علوم کے ساتھ جو اس دنیا میں رہنے کے لیے ضروری تھے، یہ علم بھی سکھادیاکہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو خیر کا بھی علم ہے اور شر کا بھی۔ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے صرف شر ہی سکھایا گیا ہو۔ اور نہ کوئی ایسا ہے کہ اسے صرف خیر ہی پڑھایا گیا ہو۔ سب کو دونوں چیزوں کی بصیرت عطا کی گئی ہے تاکہ وہ خارجی ہدایت کے بغیر بھی نیکی کو جانتا ہو، اور اس کے اچھے ہونے سے واقف ہواور وہ بدی کو جانتا ہو اور اس کے برے ہونے سے واقف ہو۔ خیر و شر کے بارے میں ہمارا امتحان اسی بات پر ہے۔

 

عہد اما نت

اس فطرت کے اندر، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، توحید اور خیر و شر کا علم ہمیں دیا گیا ہے۔عہد الست ہی کی طرح ایک عہد ہم سے امانت کا لیا گیا ہے تاکہ یہ بات بھی ہماری فطرت کا حصہ بن جائے کہ جو کچھ اقتدار ا ور حق تصرف ہمیں حاصل ہے، وہ اللہ کی ودیعت کردہ امانت ہے جس کا جواب دہ ہمیں ہونا ہے:


اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا، وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا، وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ، اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا.(الاحزاب۳۳:  ۷۲) 
’’ہم نے اپنی امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا، اور اس سے ڈرے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ ستم ایجاد اور جذباتی ہے۔‘‘


اس امانت کے اٹھانے کے بعد یہ چیز بھی ہماری فطرت کا حصہ بن چکی ہے کہ ہم نے خدا کو اس امانت کا حساب دینا ہے۔ یہ امانت خدا نے ہمیں دی ہے۔ وہ اسے واپس لے گا۔ تو اس کے استعمال کا ہم سے پوچھے گا۔ اس سوال کی کیفیت یہ ہے کہ ہمارے سمع و بصر ، دل و دماغ اور دیگر صلاحیتوں کے بارے میں بھی بازپرس ہونی ہے۔جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: 


إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُوْلاً.(بنی اسرائیل۱۷ :۳۶) 
’’بلاشبہ تمھارے کانوں، آنکھوں اور دل، ان سب سے متعلق تم سے سوال ہو گا۔‘‘

 

ہماری فطرت

یہ تینوں عہد معاہدے ہماری فطرت کی تشکیل کرتے ہیں۔ یعنی عہد الست، خیر و شر کا علم و شعوراور عہد امانت ہماری فطرت کا حصہ ہیں۔ دنیا کا کوئی شخص ان سے محروم و ناواقف نہیں ہے۔ کسی حقیر سی کٹیا میں پیدا ہونے والے بچے سے لے کرشاہی محلات میں پیدا ہونے والے بچے تک دنیاکا ہر شخص اس دولت سے مالا مال ہے۔ اسے خدا نے یہ ہدایات دے رکھی ہیں۔ کوئی شخص ان کے بغیر دنیا میں نہیں آتا۔ اسی فطرت کی آواز ہے کہ اوباش سے اوباش انسان بھی نیکی کی قدر کرتا اور کم از کم دل میں اس کا احساس ضرور رکھتا ہے کہ یہ کوئی بہتر چیز ہے۔

 

انسان کی یہ سرشت اور ہمارا رویہ

قرآن کی یہ تعلیم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سب انسان اپنی سرشت میں نیک ہیں۔ اصل میں کوئی بھی فتنہ پسند اور برا نہیں ہے۔ اس لیے ہمارے لیے یہ بات کسی طرح درست نہیں ہے کہ ہم انسانوں کے بارے میں، خواہ غیر مسلم ہوں، برے خیالات باندھیں اورانھیں بلاوجہ برا سمجھیں۔ اسی طرح غلطی کھانا ،انسان کی توجہ بٹنے اور بھول جانے سے متعلق ہے ۔ اس میں لازم نہیں ہے کہ آدمی برا تھا اس لیے اس نے برائی کرڈالی۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں ، مگر دوسرے کو اس سے غصہ آجاتاہے۔ 
مثلاًآپ کسی کی مدد کررہے ہوں یا قرض ہی دے رہے ہوں اور آپ قرض دیتے وقت اس کے کسی جاننے والے کے سامنے یہ قرض دے دیں تو ہو سکتا ہے کہ قرض لینے والا اس کو پسند نہ کرے۔ مگر آپ کے دل میں بھی کوئی خیال نہ ہو کہ آپ لازماً اسی کے سامنے دینا چاہتے تھے تاکہ اسے اس کے جاننے والے کے سامنے خفت اٹھانے پر مجبور کریں۔یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آدمی اسی وقت آپ کے پاس آیا جب قرض لینے والے نے آنا تھا۔لیکن قرض والے کے ذہن میں اس قرض کے لیتے ہوئے اس کی غیرت و حمیت کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔
میں نے یہ مثال اس لیے دی ہے کہ ہمارے سامنے یہ بات آئے کہ ہم سے یا دوسروں سے جب کوئی غلطی ہوجائے تو اس سے اس کا ناقص العقل ہونا یا بدطینت و بدنیت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ آدمی معصومیت میں ایسی غلطی کر جاتا ہے جس سے ہمیں ایسا نقصان ہو سکتاہے ، جبکہ غلطی کرنے والے کی نیت نقصان پہنچانے کی نہ ہو۔
اس لیے گمانوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ یقین رکھیں کہ سب انسان اچھے ہیں۔ ان سے اکثر جذبات، بے علمی اورنسیان و خطا سے غلطی ہوتی ہے ۔ وہ اپنی سرشت میں برے نہیں ہیں۔

 

مطلوب رویہ

اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہے کہ انسان اصل میں نیک اور صالح ہے۔ جب تک کہ اس کی برائی ٹھوس دلائل سے ثابت نہ ہو جائے۔اس روشنی میں قرآن مجید کا ہم سے مطالبہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں بری بات سامنے آنے کے باوجود اسے دل میں کوئی جگہ نہ دیں۔ اس سے کھلے عام براء ت کا اظہار کریں۔ یہ اعلان ہر مومن کے بارے میں ہونا چاہیے ۔ اور اس وقت تک ہونا چاہیے جب تک اس کی نیکی ہم پر ظاہر اور اس کی بدی ہم پر پوشیدہ ہے۔ سورۂ نور میں قرآن مجید کا فرمان ہے:


إِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُ وْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ، لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَکُمْ، بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ، لِکُلِّ امْرِیئ مِّنْہُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ، وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ، لَوْ لَآ إِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا، وَّقَالُوْا ہٰذَآ إِفْکٌ مُّبِیْنٌ.(۲۴:  ۱۱۔۱۲) 

’’جولوگ بہتان گھڑ لائے ہیں، وہ تمھارے ہی اندر کا ایک گروہ ہے۔تم اس (فتنۂ افک) کو اپنے لیے برا خیال نہ کرو، یہ توتمھارے لیے بہت اچھا ہے، ان میں سے ہر ایک نے جو گناہ کمایا ،وہ اس کے حساب میں پڑا، اور اس فتنے کے سرخیل کے لیے تو بہت بڑی سزا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی ، تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کرتے، اور کہہ دیتے ہیںیہ تو صریح بہتان ہے، (ہم اس میں شریک نہیں ہوسکتے)۔‘‘

 

پہلی بات جو اس آیت سے معلوم ہو رہی ہے کہ دوسروں کے بارے میں دل میں برے خیال لانا تو درکناراگر کوئی اور شخص بھی کسی کے بارے میں بری بات آپ کے کان میں ڈالے تو قرآن کہتا ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم سب سے پہلے یہ کام کریں کہ ہم اپنے بہن بھائی جن کے بارے میں بھی وہ بات کہی جارہی ہے، اس سے دل میں برا خیال لانے کے بجائے اچھا خیال لائیں۔
دوسرے یہ کہ قرآن نے’ بانفسہم‘کے الفاظ سے یہ بات نمایا ں کی ہے کہ تم ان میں سے ہو، وہ تم میں سے ہیں۔ تو ایک دوسرے کے بارے میں ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ تم اصل میں خود اپنے بارے میں ایسا کر رہے ہو۔ مومنین ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ حدیث کے مطابق سب مومن ایسے ہیں ،جیسے ایک جسم کے اجزا، ایک کی تکلیف سب کی تکلیف ہے، اسی طرح ایک کی برائی سب کی برائی ہے ۔ہم مسلمانوں کو یک جان ہو کر رہنا چاہیے ۔ اس لیے کہ اگرآج آپ کے سامنے کسی پر الزام لگا ہے تو کل آپ پر لگے گا۔
تیسرے یہ کہ اس طرح کی کسی بات میں جو ثابت شدہ نہیں ہے ، اس میں شریک ہونا بہتان لگانے میں شریک ہونا ہے۔ اس لیے بندۂ مومن کو فوراً اس سے گریز کرنا چاہیے اور اس بات کا اعلان کرنا چاہیے کہ کسی بندۂ مومن کے بارے میں یوں کہنا الزام لگانا ہے ۔ اس لیے میں تمھاری بات میں شریک نہیں ہو سکتا۔
ہرمسلمان کے ساتھ اصل میں ہمارا تعلق یہی ہے کہ وہ اصل میں نیک ہے اور برائی سے پاک ہے۔ اگر اس کی برائی ثابت ہو گئی ہے تو پھر الگ بات ہے، مگر جب تک برائی ثبوت کے درجے تک نہیں پہنچی اس وقت تک کسی کے بارے میں ایسا سوچنا بدگمانی ہے اور اس کا منہ سے کہہ دینا بہتان ہے۔ یہ دونوں عمل آپ کے حساب میں مندرجہ بالا آیت کے مطابق گناہ کا اضافہ کردیں گے۔