قرآن مجید نے گمانوں کو قابل مواخذہ قراردیا ہے۔ گمان کئی پہلووں سے قابل مواخذہ ہو سکتے ہیں۔ ہم ذیل میں چند اہم چیزوں کی طرف اشارہ کریں گے، جو ہمارے گمانوں کی وجہ سے انجانے میں ہم سے سرزد ہو جاتی ہیں اور یہی وہ چیزیں ہیں جو گمان کو گناہ بنا دیتی ہیں:

 

بے بنیاد خیال

بنی اسرائیل کی مذکورہ بالا آیت میں یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ ایسی آرا بنانے پر ہماری پرسش ہو گی، جن کے پیچھے کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہو گی،بلکہ وہ محض ہمارے خیال اور گمان پر مبنی ہو گی۔قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ ہماری پرسش آنکھ، کان اور دلوں سے بھی ہو گی(۱۷:۳۶)۔ جس آنکھ نے غلط دیکھا، اور جس کان نے غلط سنا، اور جس دل نے غلط سوچاوہ مجرم ہے، وہ پکڑا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غلط اور بے بنیاد آرا پر ہماری پکڑ ہو گی۔ اس لیے کہ بغیر کسی دلیل کے کسی کے بارے میں برا سوچنا ایک غلطی ہے۔ اس لیے اس غلطی پر بھی باز پرس ہوگی۔
چونکہ ہمارے گمان بے بنیاد ہوتے ہیں، اس لیے ہم یہ نہیں جا ن سکتے کہ کون سا گمان گناہ والا ہے اور کون سا نہیں۔ یعنی جب ہمیں حقیقت کا علم ہو گا تو تبھی پتا چلے گا کہ ہم غلط سوچ رہے تھے یا ٹھیک۔اس لیے حقیقت کے سامنے آنے تک ہم یہ نہیں جان سکتے کہ ہم غلط سوچ رہے ہیں یا صحیح ۔ اسی لیے قرآن مجید نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ بدگمانی کو ترک کرو، بلکہ اس نے کہا کہ بہت گمان نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ ان میں سے اکثر غلط ہی ہوں گے۔
بعض شارحین نے یہ بات کہی ہے کہ جو گمان اتہام اور بہتان کی شکل اختیار کر جائے، وہ گمان گناہ ہے۔ لیکن قرآن نے یہ بات نہیں کہی۔ قرآن نے تو گمانوں میں سے بہت سے گمانوں کو گناہ قرار دیا ہے۔ محض اس لیے کہ وہ بلا دلیل بنائے گئے ہیں۔

ناانصافی

گمانوں کے مواخذہ کی بڑی وجہ ان کے ہمارے رویوں پر اثرات ہیں۔ اسی طرح گمانوں کی وجہ سے ہم ایسے عمل کرڈالتے ہیں جو برے ہوتے ہے۔ ان اعمال میں سب سے بڑاعمل ناانصافی ہے۔قرآن مجید کا وہ حکم جو سورۂ بنی اسرائیل میں آیا ہے ،اس سے معلوم ہو تا ہے کہ گمان اور خیالات ہمارے دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ شیطانی وسوسے اور ادھر ادھر کے خیالات دل میں آتے رہتے ہیں۔اگر ہم انھی خیالات پر جم گئے اور گمانوں پر ہی اپنے کسی بھائی کے بارے میں بری رائے بنا لی تو وہ گناہ کا باعث ہے۔ لیکن اگر وہ گمان ہمارے دل میں آیا، اور ہم اس میں مبتلا ہونے کے بجائے اس سے نکل گئے اوراس کو رد کردیا تو ہم گناہ سے بچ گئے۔اس لیے کہ کسی کے بارے میں بری یا محض غلط رائے بنا لینا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔مثلاً آپ نیک نیتی سے کوئی عمل کریں،تو اس پر کوئی آدمی د ل ہی دل میں یہ رائے بنا لے کہ آپ ریا کار ہیں، تو کیا یہ آپ کے ساتھ انصاف ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ انصاف نہیں ہے۔ چنانچہ اس وجہ سے یہ گمان گناہ بن جاتے ہیں۔

تعلقات پر برے اثرات

گمانوں سے ہونے والا دوسرا بڑا عمل ہمارے تعلقات میں خرابی ہے۔ہمارے تعلقا ت میں اہم چیز ہماری رائے ہوتی ہے ۔یعنی اگر کسی کے بارے میں ہماری رائے اچھی ہوگی تو ہم اس کو اچھے طریقے سے ملیں گے اور اگر ہماری رائے اس کے بارے میں اچھی نہیں ہو گی تو ہم اچھے طریقے سے نہیں مل سکیں گے ۔اس طرح سے ہمارے گمان ہمارے رویوں کو خراب کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم اپنے گمان ہی کی بنا پر دوسرے سے معاملات کرنے لگ جاتے ہیں ۔ جس سے وہ گناہ کی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔
یعنی اگر ایک آدمی نے برائی نہیں کی، مگر ہم نے گمان ہی گمان میں اس کو مجرم بنا لیا ہے تو اب اس کے ساتھ ہمارا رویہ بگڑ جائے گا، جو بلاوجہ ہوگا۔ برے رویے کی بنا پر ہم گناہ مول لے لیتے ہیں۔ اس پہلو سے دیکھیں تو محض گمان بھی دراصل ان گناہوں میں سے ایک ہے، جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ تمھیں شعور بھی نہیں ہوتا، مگر وہ تمھارے اعمال کو ہڑپ کرجاتے ہیں۔(الحجرات۴۹ :۲)

نیتوں کا تعین

گمان بالعموم نیت کا تعین بن جاتے ہیں۔ ہمارے تمام گمان جن کو ہم بدگمانی کہہ سکتے ہیں، ان کی نوعیت بالعموم یہی ہوتی ہے کہ ہم اپنے بھائی کی نیت کا تعین کرنے لگ جاتے ہیں کہ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ مجھے تنگ کرنا چاہتا تھا، وہ سب کے سامنے مجھے ذلیل کرنا چاہتا تھاوغیرہ۔ 
نیتوں کے بارے میں ہم جان ہی نہیں سکتے،اس لیے اس کا تعین ایک غلطی ہے۔ جو غلطی اخلاقی دائرے میں ہوتی ہے، وہ گناہ ہے ۔اس پر قیامت کے دن مواخذہ ہو گا۔ 
اس کی بہت عمدہ مثال وہ واقعہ ہے جو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیش آیاجب انھوں نے ایک جنگ میں کسی آدمی کو کلمہ پڑھنے کے باوجود مار ڈالا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ چنانچہ جب ان سے بات ہوئی تو آپ نے فرمایا:

أقال لا الٰہ الا اللّٰہ وقتلتہ‘ ،’’کیا اس نے لاالٰہ الا اللہ پڑھا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کرڈالا؟‘‘
حضرت اسامہ نے عرض کی: ’یا رسول اللّٰہ، انما قالہا خوفا من السلاح‘،’’یا رسول اللہ ،اس نے ایسا صرف اسلحہ کے ڈر سے کہا تھا۔‘‘
آپ نے فرمایا: ’افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالہا ام لا ‘،’’تم نے اس کا سینہ چیر لیا ہوتا کہ تم جان لیتے کہ اس نے کلمۂ اسلام دل سے کہا یا نہیں!‘‘
حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ آپ باربار یہ جملہ دہراتے رہے ، اور میں سوچ رہا تھا کہ کاش، میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا اور یہ غلطی مجھ سے صادر نہ ہوئی ہوتی۔(مسلم، رقم۹۶)

یہ حضرت اسامہ کا ایک گمان تھا، نا معلوم صحیح تھا یا غلط؟ لیکن انھوں نے اس کی غلط نیت طے کی اور اس کے خلاف جان لینے تک کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ نیت کا تعین بھی ایک برائی ہے۔ جو ہمیں بہت سنگین عمل تک لے جاسکتی ہے۔

گمان جھوٹ ہوتا ہے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ گمانوں سے بچو، اس لیے کہ گمان ’اکذب الحدیث‘ ہوتے ہیں۔ یعنی بے بنیاد اور جھوٹی بات ۔ اس سے بھی اس کے’ اثم ‘ہونے کی طرف اشارہ نکلتا ہے، یعنی چونکہ یہ جھوٹی بات ہے، جو انسان دل ہی دل میں سوچ لیتا ہے۔ اور یہ واضح سی بات ہے کہ جھوٹی بات پر قیام بندۂ مومن کے لیے صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ گناہ اور برائی ہے۔

غلطی میں اضافہ


ہم اپنے گمانوں کی مدد سے کبھی تو بے گناہ کو گناہ گار بنا رہے ہوتے ہیں، اور کبھی کم خطا وار کو زیادہ بڑی غلطی کا مجرم ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔ یعنی ایک آدمی سے غلطی محض بے احتیاطی کی وجہ سے ہوئی ہو، مگر ہم اسے یہ خیال کرکے کہ اس نے ہماری دشمنی میں ایسا کیا ہے، اس کے جرم کی سنگینی میں اضافہ کردیتے ہیں۔
چنانچہ بعض اوقات اپنی ہی چیز اٹھانے والے کو ہم چور سمجھ لیتے ہیں۔غلطی سے برائی کرجانے والے کو مجرم بناڈالتے ہیں۔

سچا گمان غیر ثابت شدہ حقیقت


کوئی شخص یہاں یہ سوال اٹھا سکتاہے کہ اگرآدمی گمان کرے اور وہ غلط نہ ہو تو وہ تو گناہ گارنہیں ہو گا تو کیا یہ ضروری ہے کہ کثرت گمان پر پھر بھی گناہ ہو۔ بات دراصل یہ ہے کہ گمان سچا بھی ہوتب بھی وہ گمان ہے۔ وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔اس لیے اس پرقائم رہنا یا اس کے مطابق عمل کرنا دراصل غیر ثابت شدہ باتوں پر عمل کرنا ہے۔ اس میں اور سنی سنائی باتوں میں پھرفرق کیا رہ گیا؟
دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو تو اس گمان کے سچاہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ آپ تو محض گمان پر کھڑے ہیں۔ جو ایک کمزور اور غلط جگہ ہے۔ ایک گمان کے سچا اور جھوٹا ہونے کے برابر امکانات ہوتے ہیں۔ اس لیے گمان کرنا اور اسے دل میں پالنا ہر صورت میں ایک غلط کام ہے۔

دوبارہ نظر


ہم نے اوپر کی بحث میں یہ بات جانی ہے کہ کثرت گمان سے قرآن مجید نے روکا ہے۔اس لیے کہ گمان ایک بے بنیاد اور جھوٹی بات ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر ہو بھی تو وہ ثابت شدہ نہیں ہے۔
کسی کے بارے میں گمان کرنا اخلاق سے گرا ہوا عمل ہے۔ دین اسلام میں اخلاقی خرابی کو گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یعنی اس پر مواخذہ ہوگا۔ ’ظن ‘دراصل جھوٹ، ناانصافی اورنیتوں کے تعین وغیرہ کا نام ہے۔ یہ برے اخلاق کو جنم دیتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک واضح برائی ہے۔
گمانوں کی کثرت بذات خود ناپسندیدہ چیز ہے۔ اس لیے کہ بندۂ مومن گمانوں اور خیالات پر نہیں جیتا،بلکہ اس کی زندگی ٹھوس حقائق پر استوار ہونی چاہیے اور لوگوں کے بارے میں اسے سیدھی اور ثابت شدہ بات پر قائم ہونا چاہیے۔