کچھ روایات میں مرنے والے کی جانب سے غلام آزاد کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ اس سے پہلے ہم نے صدقے، روزے اور حج سے متعلق روایات نقل کی ہیں۔ ان میں سے بعض روایات میں ضمنی طور پر غلام آزاد کرنے کا ذکر آچکا ہے۔ غلامی ایک ظلم ہے۔ چنانچہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کو آزاد کرنے کو ایک بڑی نیکی قرار دیا اور صحابہ میں اس کار خیر کے لیے ایک خصوصی جذبہ پیدا ہوا، یہی وجہ ہے کہ ہمیں صحابہ کی سوانح میں غلام آزاد کرنے کے متعدد واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔وہ صحابہ اور صحابیات جو مالی وسائل کی کمی کے باعث اس نیکی کو انجام دینے میں قاصر رہے ہوں گے، ان کے دل میں بھی یہ تمنا رہتی ہو گی کہ وہ بھی یہ نیکی کمائیں اور وہ اس نیکی کے کرنے کا ارادہ اپنے بچوں اور بہن بھائیوں کے سامنے بھی گاہے گاہے ظاہر کرتے ہوں گے۔ اسی طرح نذر ماننے میں بھی یہ شعور ایک عامل کی حیثیت سے کام کرتا ہو گا، لہٰذا جب بھی کسی مرد یاعورت کے دل میں یہ خیال آتا ہو گا کہ وہ نذر مانے، غلام آزاد کرنے کی نیکی بھی اس کے ذہن میں آتی ہوگی اور اگر وہ اس نیکی کے کرنے کی توقع کرتا ہو گا تو اس کی نذر بھی مان لیتا ہوگا۔چنانچہ صحابہ کی زندگی سے چند مثالیں اس کی بھی ملتی ہیں: بیہقی میں ہے:۲۷؂ 

عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت: قال رجل: أعتق عن أبی، یا رسول اﷲ؟ قال: نعم.(رقم۱۲۴۲۰) 
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ ، میں اپنے باپ کی طرف سے غلام آزاد کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔‘‘

اس روایت کے دوسرے متون میں تصریح ہے کہ ان صاحب کے والد فوت ہو گئے تھے۔بیہقی کی ایک روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنے بھائی کی طرف سے غلام آزاد کرنے کو بیان کرتی ہے:

عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا أن أخاہا مات فی منامہ وأن عائشۃ أعتقت عنہ تلادا من تلادہ.(رقم۱۲۴۲۲) 
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کا بھائی سوتے میں فوت ہو گیا۔ (یہ بھی بیان ہوا ہے ) کہ حضرت عائشہ نے اس کی جانب سے اس کے غلاموں میں سے ایک غلام آزاد کیا تھا۔‘‘

حضرت عبد الرحمن بن عوف کی والدہ فوت ہوئیں تو انھوں نے بھی ان کی طرف سے غلام آزاد کیے۔ مصنف عبدالرزاق میں ہے:

عن ابن عمیر قال: توفیت أم عبد الرحمن بن عوف وہو غائب عنہا ولم توص. فقال: یا رسول اﷲ، إن أمی توفیت وأنا غائب ولم توص ولم یمنعہا أن توصی إلا غیبتی.أرأیت إن تصدقت لہا أوأعتقت لہا. ألہا أجر؟ قال: نعم. فأعتق عنہا عشر رقاب.(رقم ۱۶۳۴۲)
’’حضرت ابن عمیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی والدہ فوت ہو گئیں ۔ وہ ان کے پاس نہیں تھے اور انھوں نے کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ چنانچہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ، میری والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ میں ان کے پاس نہیں تھا۔ انھوں نے کوئی وصیت نہیں کی۔ انھیں وصیت سے روکنے والی چیز صرف میرا نہ ہونا تھا۔ آپ کی کیا راے ہے، اگر میں ان کے لیے صدقہ کروں یا غلام آزاد کروں، کیا انھیں اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ انھوں نے ان کی جانب سے دس غلام آزاد کیے۔ ‘‘

مصنف عبد الرزاق میں اس سلسلے کی ایک دلچسپ روایت موجود ہے۔ اس کے مطابق خو د نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کی طرف سے ایک غلام اور کچھ رقم صدقہ کی تھی:

عن أبی بکر بن عبد الرحمن قال: ذکر لنا أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم أعتق عن إمرأۃ ماتت ولم توص ولیدۃ وتصدق عنہا بمتاع.(رقم۱۶۳۴۷) 
’’حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی طرف سے جو مرگئی تھی اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی تھی، ایک غلام آزاد کیا تھا اور کچھ مال بھی صدقہ کیا تھا۔ ‘‘

یہ روایات بھی دو قسم کے اعمال کے میت کی طرف سے ادا کیے جانے کو بیان کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ مرنے والے پر یہ نذر کی حیثیت سے موجود ہو، یعنی اس کا اسے انجام دینے کا پختہ ارادہ ہو اور وہ کسی وجہ سے یہ کر نہ سکا ہو۔دوسری صورت یہ ہے کہ مرنے والا کسی کام کو کرنے کا ارادہ یا خواہش رکھتا ہو اور اس کی تکمیل سے پہلے دنیاسے رخصت ہو جائے۔ یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ بعض روایات میں خواہش یا ارادے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے، لیکن ان روایات کو بھی دوسری روایات کے تحت رکھ کر سمجھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،اس لیے کہ یہ اصول کہ مرنے والے کے لیے اجر کا حصول اس کی کسی نہ کسی سطح پراس عمل میں شرکت کے بغیر ممکن نہیں، قرآن مجید سے ماخوذ ہے اور یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے منشا کے خلاف کریں گے۔




۲۷؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: بیہقی، رقم۱۲۴۲۱؛ ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۰۸۳۔