ماہنامہ ’’اشراق‘‘، فروری اور مئی ۲۰۰۱ء میں جہاد، زکوٰۃ اور علما کے فتووں کے بارے میں استاذ محترم کی بعض آرا کے حوالے سے مولانا زاہد الراشدی کے فرمودات اور ان سے متعلق ہمارا تجزیہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ زیر نظر شمارے کے پچھلے صفحات میں مولانا محترم نے ہمارے تجزیے کا جواب دیا ہے۔ اس مضمون میں ہم مولانا محترم کے مذکورہ جواب کا جائزہ لیں گے۔

اس سے پہلے کہ مولانا محترم کے حالیہ فرمودات کا جائزہ لیا جائے، ہم مختصراً اب تک کی بات کا خلاصہ پیش کیے دیتے ہیں۔
مولانا محترم نے اپنے پہلے مضمون میں یہ فرمایا تھا کہ جب کسی مسلمان آبادی پر کافروں کا جابرانہ تسلط قائم ہو جائے اور مسلمانوں کی حکومت اس تسلط کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار نہ ہو یا اس میں مزاحمت کی سکت نہ رہے تو پھر آزادی کے حصول کے لیے جہاد کا آغاز کسی حکومت کے اعلان یا اجازت پر موقوف نہیں رہے گا اور ایسے موقع پر اگر علما مسلمان معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے کافر قوت کے تسلط کے خلاف مزاحمت کا اعلان کریں گے تو وہ شرعاً جہاد ہی کہلائے گا۔
اس کے جواب میں ہم نے مولانا محترم کی خدمت میں قرآن مجید کی آیات اور اللہ کے جلیل القدر پیغمبروں کے اسوہ کو پیش کرتے ہوئے یہ گزارش کی تھی کہ وہ ان کے نقطۂ نظر کی تائید نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، ان سے جو بات معلوم ہوتی ہے، اس کا خلاصہ کرتے ہوئے ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں لکھا تھا:

’’۱۔ ایسا جابرانہ تسلط، جہاں محکوم قوم کو اپنے اختیار کردہ مذہب وعقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہو۔ اس صورت میں جابرانہ تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا ہر محکوم قوم کا حق تو، بے شک ہے، لیکن یہ دین کا تقاضا نہیں ہے۔ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوہ سے یہی رہنمائی ملتی ہے۔
۲۔ ایسا جابرانہ تسلط، جہاں محکوم قوم کو اپنے اختیار کردہ مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل نہ ہو۔ اس صورت میں اگر محکوم قوم کے علاقے سے ہجرت کر جانے کا موقع موجود ہوتو اس کے لیے دین وشریعت کا حکم یہی ہے کہ اپنے ایمان کی سلامتی کی خاطر وہ اپنے ملک وقوم کو خیرباد کہہ دیں۔ حضرت موسیٰ اور نبی اکرم کے اسوہ سے یہ رہنمائی ملتی ہے۔ اس کے برعکس، محکوم قوم کے لیے اگر ہجرت کی راہ مسدود ہو تو ان حالات میں درج ذیل دو امکانات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں:
اولاً، محکوم قوم اپنی مدد کے لیے کسی منظم اسلامی ریاست سے مدد طلب کرے۔ قرآن مجید کے مطابق اگر اس اسلامی ریاست کے لیے ظلم وجبر کا نشانہ بنے بغیر ان مسلمانوں کی مدد کرنی ممکن ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کرے، الاّ یہ کہ جس قوم کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا جا رہا ہے، اس کے اور مسلمانوں کی اس ریاست کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہو۔(الانفال ۸: ۷۲، النساء ۴: ۷۵)

ثانیاً، محکوم قوم کے لیے کسی منظم ریاست سے استمداد یا کسی منظم ریاست کے لیے اس محکوم قوم کی مدد کرنے کی راہ مسدود ہو۔ اس صورت میں محکوم قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کا اسوہ یہی ہے کہ وہ اللہ کا فیصلہ آنے تک حالات پر صبر کریں۔ (الاعراف ۷: ۸۷)‘‘

اپنے جواب میں مولانا محترم نے ہماری ان معروضات کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا کہ:

’’... مجھے افسوس ہے کہ وہ مسئلہ کی نوعیت کو سرے سے نہیں سمجھ سکے، کیونکہ ان آیات کریمہ میں ان مسلمانوں کے لیے احکام بیان کیے گئے ہیں جو کافروں کی سوسائٹی میں مسلمان ہو گئے ہیں اور ان کے زیر اثر رہ رہے ہیں۔ ... جبکہ ہم جس صورت پر بحث کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی پر باہر سے آ کر کافروں نے تسلط جما لیا ہو اور مسلمان اکثریت پر کافر اقلیت کا جبر واقتدار قائم ہو گیا ہو۔‘‘

اس کے علاوہ مولانا محترم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسود عنسی کے خلاف کی جانے والی کارروائی سے یہ استدلال کیا تھا کہ اسود عنسی نے چونکہ مسلمانوں کی اکثریت پر جابرانہ تسلط جما لیا تھا، اس وجہ سے مسلمانوں نے اس کے خلاف ’گوریلا طرز جنگ‘ کی اور اس کے نتیجے میں یمن پر مسلمانوں کا اقتدار بحال ہو گیا۔ اس ضمن میں انھوں نے لکھا تھا:

’’... جب کسی مسلمان ملک پر کافروں کا تسلط قائم ہو تومسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو صورت بھی اس وقت کے حالات کی روشنی میں اختیار کر سکیں، اس سے گریز نہ کریں اور وہ کافر وظالم قوت کے جابرانہ تسلط کے خلاف مزاحمت کی جو صورت بھی اختیار کریں گے، وہ حضرت فیروز دیلمی کی اس گوریلا کارروائی اور شب خون کی طرح ’جہاد‘ ہی کہلائے گی۔‘‘

مولانا محترم کے پہلے اعتراض کے جواب میں ہم نے دو باتیں عرض کی تھیں: اولاً،اللہ تعالیٰ کے اولوالعزم پیغمبروں میں سے اگرچہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بعینہٖ وہی حالات پیش آئے جنھیں مولانا محترم نے ’مسلمانوں کی آبادی پر باہر سے آ کر کافروں نے تسلط جما لیا ہو اور مسلمان اکثریت پر کافر اقلیت کا جبر واقتدار قائم ہو گیا ہو‘ کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے، مگر اس کے باوجود انھوں نے اپنی قوم میں کسی موقع پر بھی جابر وغاصب حکومت کے خلاف ’جہاد‘ کی روح پھونکنے کی کوشش نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں جدوجہد آزادی اگر دین وشریعت کا تقاضا ہوتی تو حضرت مسیح اس کے لیے ضرورپیش رفت فرماتے۔
ثانیاً، مولانا محترم سے استفسار کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا:

’’... جبر واستبداد خواہ اپنی غیر مسلم حکومت کی طرف سے ہو یا مسلمانوں کے علاقے پر حملہ آور ہو کر قبضہ کر لینے والی حکومت کی طرف سے، دونوں صورتوں میں دینی لحاظ سے وہ کون سا فرق واقع ہوتا ہے، جس کے باعث ان دونوں صورتوں کے دینی احکام میں تفاوت ہو گا؟ معاملہ اگر دینی جبر واستبداد اور ظلم وعدوان ہی کے خلاف لڑنے کا ہے تو وہ تو دونوں صورتوں میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، معاملہ اگر قومی وملی حمیت کا ہے تو پھر اس صورت حال میں اور قبطیوں کے آل یعقوب (بنی اسرائیل) کو من حیث القوم اپنا غلام بنا لینے کی صورت میں وہ کون سا فرق ہے، جس کے باعث حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوم کو قبطیوں کے خلاف جہاد کی نعمت عظمٰی کا درس نہیں دیا؟‘‘

اس کے ساتھ ساتھ تاریخی روایات کی روشنی میں اسود عنسی کے خلاف مسلمانوں کی کارروائی کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم نے یہ بیان کیا کہ:

’’۱۔ اسود عنسی کے خلاف اس کے محکوم ومظلوم عوام نے کوئی کارروائی نہیں کی، بلکہ وہ بے چارے تو اس کے ظلم وستم سے تنگ آکر مرتد ہونا شروع ہو گئے تھے۔
۲۔ یہ پوری کارروائی اصلاً مسلمانوں کی منظم ریاست ہی کی طرف سے اپنے ایک صوبے میں ہونے والی بغاوت کے قلع قمع کے لیے کی گئی تھی۔
۳۔ اس کارروائی کا عملی ظہور اسود عنسی کے اپنے گروہ میں پھوٹ پڑنے اور اس کے اپنے ہی عمال کی طرف سے اس کے قتل کا کامیاب منصوبہ بنانے کی صورت میں ہوا۔‘‘

اپنے حالیہ مضمون میں مولانا محترم نے ہماری باقی ساری گزارشات اور استفسارات کو تو قابل اعتنا ہی نہیں سمجھا، البتہ اسود عنسی کے خلاف مسلمانوں کی کارروائی پر ہمارے تجزیہ پر تبصرہ ضرور فرمایا ہے۔ ان کی پوری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے بیان کردہ ان نکات سے نہ صرف یہ کہ کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ یہ نکات تو ہمارے موقف کے بجاے الٹے مولانا محترم کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ اگر ہمارے پیش کردہ نکات سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا یہ نکات بھی اگر مولانا محترم ہی کے موقف کی تائید کرتے ہیں تو پھر آخر وہ کون سے نکات ہو سکتے ہیں جو مولانا محترم کو اپنے موقف پر کم از کم غور کرنے ہی پر آمادہ کر سکیں۔مولانا محترم کو تو معلوم نہیں کیا بات غور کرنے پر آمادہ کر سکے گی، ہم یہاں، البتہ قارئین کے سامنے یہ بات مزید واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے پیش کردہ ان نکات سے فی الواقع کیا فرق پڑتا ہے۔

ہمارے پیش کردہ تین نکات میں سب سے پہلا نکتہ درج ذیل ہے:

’’ اسود عنسی کے خلاف اس کے محکوم ومظلوم عوام نے کوئی کارروائی نہیں کی، بلکہ وہ بے چارے تو اس کے ظلم وستم سے تنگ آکر مرتد ہونا شروع ہو گئے تھے۔‘‘

یہاں ہم یہ بات واضح کرتے چلیں کہ تاریخ کی کم وبیش تمام ہی کتابوں میں یہ بات نقل ہوئی ہے۔ اس بات کے حقیقت ہونے پر تو امید ہے کہ مولانا محترم کو بھی شبہ نہیں ہو گا۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ اگر ’کسی مسلم علاقہ پر کافروں کے تسلط کی صورت میں وہاں کے مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اس تسلط کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں‘، جیسا کہ مولانا محترم نے اپنے حالیہ مضمون میں بیان فرمایا ہے تو پھر کیا یمن سے تعلق رکھنے والے یہ سارے ہی لوگ اس ’شرعی ذمہ داری‘ سے واقف نہیں تھے؟ یہاں قارئین یہ بات ضرور ذہن میں رکھیں کہ اس وقت یمن کے علاقے میں محض حدیث الاسلام قسم کے لوگ ہی نہیں رہتے تھے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ بھی وہاں مقیم تھے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں ان میں سے حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کا ذکر خاص طور پر کیا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ففر معاذ بن جبل من ھنالک واجتاز بأبی موسی الأشعری فذھبا إلی حضرموت وانحاز عمال رسول اللّٰہ إلی الطاھر ورجع عمر بن حرام وخالد بن سعید بن العاص إلی المدینۃ.(۶/ ۳۰۷)
’’معاذ بن جبل وہاں سے روانہ ہو گئے۔ راستے میں ابو موسیٰ اشعری کے پاس سے ان کا گزر ہوا تو وہ دونوں حضرموت کی طرف چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال طاہر کی طرف چلے گئے، جبکہ عمر بن حرام اور خالد بن سعید بن عاص مدینہ کی طرف چلے گئے۔‘‘

کیا فی الواقع مولانا محترم یہ گمان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ تمام عمال اس ’شرعی ذمہ داری‘ سے ناواقف تھے جسے مولانا محترم نے بیان فرمایا ہے؟
اب قارئین ہی فیصلہ کریں کہ یہ نکتہ مولانا محترم کے ’شرعی ذمہ داری‘ والے موقف کی تائید کرتا ہے یا اس کے بے دلیل ہونے کو برہنہ کر دیتا ہے۔
اس کے بعد اپنے دوسرے نکتے میں ہم نے لکھا ہے:

’’ یہ پوری کارروائی اصلاً مسلمانوں کی منظم ریاست ہی کی طرف سے اپنے ایک صوبے میں ہونے والی بغاوت کے قلع قمع کے لیے کی گئی تھی۔‘‘

اس سلسلے میں ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں یہ بات بھی ثابت کی تھی کہ یمن میں ہونے والی یہ ساری کارروائی ایک صوبے میں بغاوت کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک منظم ریاست ہی کی طرف سے کی گئی تھی۔ اس ضمن میں ہم نے ’’الاصابہ‘‘ کی اس روایت کا بھی حوالہ دیا تھا جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ یہ کارروائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ملنے کے بعد عمل میں آئی۔
اس کے جواب میں مولانا محترم اپنے حالیہ مضمون میں لکھتے ہیں:

’’اس سے ہمارا یہ موقف مزید پختہ ہو گیا ہے کہ کسی مسلم علاقہ پر کافروں کے تسلط کی صورت میں وہاں کے مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اس تسلط کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں اور اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہی ہے کہ جو حافظ ابن حجر کی ’اصابہ‘ کے حوالے سے معز امجد نے نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فیروز دیلمی اور ان کے رفقا کو اسود عنسی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ معز امجد کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بحیثیت ’حاکم‘ دیا تھا اور ہمارے نزدیک اس میں ان کی پیغمبرانہ حیثیت بھی شامل ہے، اس لیے اب اگر دنیا کے کسی حصہ میں کسی مسلم علاقہ پر کافروں کا تسلط ہو جائے تو وہاں کے مسلمانوں کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور حکم وہی ہے جو یمن کو اسود عنسی کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے حضرت فیروز دیلمی اور ان کے رفقا کو دیا گیا تھا۔ پھر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر صوبۂ یمن میں بغاوت کو کچلنے کے لیے صرف ریاستی کارروائی کرنا ہوتی تو اس کے لیے فوج کشی مدینہ منورہ سے ہوتی، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ریاست کی طرف سے فوج کشی کرنے کی بجاے یمن کی لوکل آبادی کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسود عنسی کے تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔‘‘

سب سے پہلے تو ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم نے اپنے مضمون میں ہر گز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ’حاکم‘ اور حیثیت نبوت میں کوئی تفریق نہیں کی۔ ہماری بات تو صرف اتنی سی ہے کہ یہ حکم اللہ کے پیغمبر نے بحیثیت حاکم دیا، بالکل اسی طرح، جس طرح ماعز اسلمی کے رجم کا حکم اللہ کے نبی نے بحیثیت حاکم دیا، اس وجہ سے مولانا تسلی رکھیں، اس ضمن میں ہماری اور ان کی بات میں کوئی فرق نہیں ہے۔
’یمن کی لوکل آبادی‘ کے الفاظ سے مولانا محترم شاید یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یمن میں کسی ہرکارے نے عوام کو اسود عنسی کے خلاف کھڑے ہونے کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں یمن کی ساری مسلمان آبادی گھات لگا کر اسود عنسی کے سپاہیوں کو قتل کرنے میں مشغول ہو گئی۔ تاریخ کے اوراق سے صاف ظاہر ہے کہ یہ تاثر سراسر خلاف واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’یمن کی لوکل آبادی‘ کو نہیں، بلکہ ’’الاصابہ‘‘ کی محولہ روایت کے مطابق اسود عنسی کے معتمد اور ذمہ دار کارکنوں کو اور’’البدایہ و النہایہ‘‘ کی روایت کے مطابق ریاست مدینہ کی طرف سے مسلمانوں کے معتمد رہنما حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام بھیجا تھا۔ اگرچہ ہمیں حسن ظن ہی رکھنا چاہیے، تاہم اس بات کا اندیشہ ضرور ہے کہ اس پر مولانا محترم یہ فرمائیں گے کہ اس تفصیل سے بھی انھی کی بات کی تائید ہوتی ہے، مزیدیہ کہ یہ حکم، خواہ عوام کو پڑھ کر سنایا گیا ہو یا مسلمانوں کے لیڈروں کو یا اسود عنسی کے معتمد اور ذمہ دار کارکنوں کو، ہر حال میں یہ کسی منظم ریاست کی عدم موجودگی ہی میں قتال کرنے کا حکم ہے۔مولانا محترم اگر غور فرماتے تودراصل یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دیتے ہوئے ہم نے اپنے دوسرے نکتے میں لکھا تھا کہ ’یہ پوری کارروائی اصلاً مسلمانوں کی منظم ریاست کی طرف سے اپنے ایک صوبے میں ہونے والی بغاوت کے قلع قمع کے لیے کی گئی تھی۔‘
یمن کے مذکورہ واقعے کی مثال موجود دنیا میں ایسے ہی ہے، جیسے امریکا کی کسی ریاست میں بغاوت ہو جائے۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وفاق کی طرف سے امریکی افواج کا کوئی دستہ بھیجا جائے۔ اس کے برعکس وفاق اگر یہ محسوس کرے کہ باغی ریاست کے اندر ہی اس کے اتنے لوگ موجود ہیں کہ انھیں منظم کر کے اس بغاوت کو بآسانی کچلا جا سکتا ہے تو ظاہر ہے، پھر وفاق کی طرف سے فوج کا کوئی دستہ بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی، بلکہ اس صورت میں یہی کافی ہو گا کہ وفاق اپنے کسی فرد یا افراد کو اس کارروائی پر مامور کر دے۔ ایسی صورت میں ان افراد کی طرف سے کی جانے والی کارروائی غیر منظم کارروائی نہیں، بلکہ وفاقی حکومت ہی کی کارروائی قرار پائے گی۔
تاریخ کے اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسود عنسی کی بغاوت کو کچلنے کے لیے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مامور فرمایا تھا۔ چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاتے ہی اسود عنسی کے خلاف کارروائی کی تیاری شروع کردی۔ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وقام معاذ بن جبل بھذا الکتاب أتم القیام. (البدایۃ والنہایہ ۶/ ۳۰۸)
’’معاذ بن جبل پوری گرم جوشی کے ساتھ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا) یہ حکم پورا کرنے میں مصروف ہو گئے۔‘‘

اس کے بعد، سکون میں انھوں نے مسلمانوں کے عمال کو جمع کیا اور ان کے ساتھ مل کر کارروائی کی منصوبہ بندی کی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ہم اپنے پچھلے مضمون میں بیان کر چکے ہیں۔ اس ساری بات کو دہرانے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ قارئین پر یہ بات پوری طرح سے واضح ہو جائے کہ یہ کارروائی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، فیروز دیلمی اور ان کے ساتھیوں نے اپنی انفرادی حیثیت میں نہیں، بلکہ وفاقی حکومت کے مامور نمائندوں کی حیثیت سے کی۔ اس لحاظ سے غور کیجیے تو اسود عنسی کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں اگر قتال کی نوبت آ بھی جاتی تو وہ قتال دراصل ریاست مدینہ ہی کی طرف سے ہوتا۔ اس صورت میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ریاست مدینہ کے نمائندے ہوتے۔ اس کارروائی کے بارے میں کسی طرح بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کسی خودمختار ریاست میں آزاد اقتدار کے بغیر ہی عمل میں آ ئی ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کارروائی مدینہ کی خود مختار ریاست کے علانیہ مامورین ہی کے ہاتھوں عمل میں آتی، ان مامورین کی ناکامی کی صورت میں مدینہ سے مزید کمک بھی بھیجی جاتی اور ان مامورین کے پسپا ہونے کی صورت میں ان کے لیے ریاست مدینہ کے دروازے بھی کھول دیے جاتے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ کارروائی کسی منتشر گروہ کی طرف سے نہیں، بلکہ مدینہ منورہ کی خود مختار ریاست ہی کی طرف سے کی گئی تھی۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یمن کی بغاوت کے خلاف مدینہ منورہ سے فوج کیوں نہیں بھیجی گئی؟ تو اس کی وجہ وہی ہے جو ہم اوپر اپنی مثال میں بیان کرچکے ہیں۔ وفاقی حکومت کا اندازہ چونکہ یہی تھا کہ یمن ہی کے اندر موجود لوگوں کو منظم کر دینے کے نتیجے میں اسود عنسی کے خلاف کامیاب کارروائی کی جا سکتی ہے، اس وجہ سے مدینہ سے فوج بھیجنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔
اب قارئین ہی فیصلہ کریں کہ ان تمام حقائق کی روشنی میں مولانا محترم کے موقف پر کوئی فرق پڑنا چاہیے یا نہیں۔
یہاں تک کی بحث سے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی صحیح نوعیت واضح ہوتی ہے، مگر اس حکم کی تعمیل عملاً ظہور میں کیسے آئی، اسے واضح کرتے ہوئے ہم نے اپنے تیسرے نکتے میں لکھا تھا:

’’اس کارروائی کا عملی ظہور اسود عنسی کے اپنے گروہ میں پھوٹ پڑنے اور اس کے اپنے ہی عمال کی طرف سے اس کے قتل کا کامیاب منصوبہ بنانے کی صورت میں ہوا۔‘‘

مولانا محترم اپنے حالیہ مضمون میں لکھتے ہیں:

’’لطف کی بات یہ ہے کہ معز امجد صاحب اس واقعے کو تسلیم کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد و ہدایت کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، لیکن اس سب کچھ کے باوجود انھیں اس واقعے کو ’جہاد‘ کی حیثیت دینے میں تامل ہے، جیسا کہ ان کا ارشاد ہے کہ:
’یہ جابر وغاصب قوم کے خلاف گروہ بندی اور جتھا بندی کر کے جہاد کرنے کا واقعہ نہیں، بلکہ ایک غاصب حکمران کے قتل کا واقعہ ہے۔ گروہ بندی اور جتھا بندی کر کے جہاد کرنا اور کسی (اچھے یا برے) حکمران کے قتل کی سازش کرنا دو بالکل الگ معاملات ہیں۔‘‘‘

یہاں ہم یہ ذکر کرتے چلیں کہ تاریخ کے ماخذوں میں بالعموم اس واقعے کو اسود عنسی کے ’قتل‘ کے واقعے کی حیثیت ہی سے نقل کیا گیا ہے، اس کے خلاف ’قتال‘ کی حیثیت سے بیان نہیں کیا گیا ہے۔ چنانچہ’’الاصابہ‘‘ ہی میں ایک مقام پر لکھا ہے:

فائتمروا علی قتل الأسود. (۲/ ۳۹۷)
’’انھوں نے اسود کے ’قتل‘ کا منصوبہ بنایا۔‘‘

بہرحال، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ اسود عنسی کے خلاف کارروائی کا واقعہ جس طرح عملاً رونما ہوا، اسے ’ایک غاصب حکمران کے قتل کی سازش‘ کے سوا اور کیا قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا مولانا محترم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ قتل کا یہ واقعہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہوا، اس وجہ سے اسے ’قتل‘ کے بجاے ’قتال‘ قرار دیا جانا چاہیے؟ کیا وہ یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی فرد یا گروہ کے خلاف کارروائی کا حکم فرمائیں تو اس سے قطع نظر کہ اس حکم پر عمل درآمد کیسے ہوا ہو، اسے ہر حال میں ’جہاد‘ ہی قرار دیا جائے گا؟
اس میں شبہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہدایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو موصول ہوئی، اس کی تعمیل میں وہ ’قتال‘ کی نوعیت کی کسی کارروائی کا آغاز بھی کر سکتے تھے، مگر اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے عمال نے ’سکون‘ کے علاقے میں باہمی مشورے سے جو لائحۂ عمل طے کیا، وہ اسود عنسی کے خلاف ’قتال‘ کا تھا ہی نہیں۔ اس کے برعکس، یہ لائحۂ عمل اس کے ’قتل‘ کا تھا۔
ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا محترم ’قتل‘ اور ’قتال‘ کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہیں یا اس فرق کو ماننے کے باوجود فیروز دیلمی اور ان کے ساتھیوں کی کارروائی کو ’قتال‘ قرار دے رہے ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ مولانا محترم کعب بن اشرف اور ابو رافع کے خلاف مسلمانوں کی کارروائی کو بھی ’قتال‘ ہی کے زمرے کی کارروائی سمجھتے ہیں یا ان واقعات کے بارے میں ان کی راے زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ ہم تو مولانا کی تصریحات سے صرف اتنا سمجھ سکے ہیں کہ وہ اسود عنسی کے خلاف ہونے والی کارروائی کو صرف اس وجہ سے ’قتل‘ کے بجاے ’قتال‘ قرار دینے پر مصر ہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جس حکم کی تعمیل میں ’قتل‘ کی یہ کارروائی روبہ عمل ہوئی، اسی حکم کی تعمیل ’قتال‘ کی صورت میں بھی ہوسکتی تھی ۔
مولانا محترم لکھتے ہیں:

’’اور مزید لطف کی بات یہ ہے واقعہ کی یہ ساری تفصیل ترتیب وار خود بیان کرنے کے بعد معز امجد صاحب اس سے نتیجہ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ: ’اس کارروائی کا عملی ظہور اسود عنسی کے اپنے گروہ میں پھوٹ پڑنے اور اس کے اپنے ہی عمال کی طرف سے اس کے قتل کو کامیاب بنانے کی صورت میں ہوا، اس ’ذہنی گورکھ دھندے‘ پر اس کے سوا اور کیا تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ: ’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘۔‘‘

ہم بڑے احترام سے مولانا سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہماری محولہ عبارت میں وہ کون سی بات ہے جو مولانا محترم کے نزدیک خلاف واقعہ ہے؟ کیا مولانا محترم کو ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں مذکور ابن کثیر رحمہ اللہ کے اس بیان سے اختلاف ہے جس کے مطابق وہ تمام لوگ جن کے ہاتھوں اسود عنسی کا قتل ہوا ---- یعنی فیروز دیلمی، دازویہ اور قیس بن مکشوح وغیرہ ---- وہ سب کے سب اسود عنسی کے قابل اعتماد ساتھی اور اس کی فوج میں اہم شعبوں کے ذمہ دار تھے؟ کیا مولانا کے نزدیک اسود عنسی کا قتل فیروز دیلمی، دازویہ اور قیس بن مکشوح کے ہاتھوں ہوا ہی نہیں تھا؟ اگر بات یہ ہے تو ہم مولانا سے اپنی جہالت کی دست بستہ معافی مانگتے اور ان سے گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے میں ہمیں اپنی تحقیقات سے مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمائیں، تاہم اگر فیروز دیلمی، قیس بن مکشوح اور دازویہ وغیرہ سب، فی الواقع، اسود عنسی کے معتمد اور اس کی فوج کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار تھے، جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے تصریح کی ہے اور فی الواقع انھی حضرات نے اسود عنسی کو قتل کیا تھا تو پھر ہمارے ’اخذ کردہ‘ اس نتیجے میں کہ’اس کارروائی کا عملی ظہور اسود عنسی کے اپنے گروہ میں پھوٹ پڑنے اور اس کے اپنے ہی عمال کی طرف سے اس کے قتل کا کامیاب منصوبہ بنانے کی صورت میں ہوا‘، وہ کون سی بات ہے جس سے مولانا محترم اتنا لطف اندوز ہو رہے ہیں؟
اب اس کے سوا مولانا محترم کی خدمت میں اور کیا عرض کیا جائے کہ منزل پر پہنچنے کے لیے ’ہاتھ باگ پر‘ اور ’پا رکاب میں‘ جما لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ شاید اس سے پہلے منزل کی سمت متعین کرنا اور پھر اس سمت کی طرف اپنی سواری کا رخ موڑنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں:

’’چنانچہ ’اصابہ‘ کی جس روایت کا معز امجد نے حوالہ دیا ہے، اس کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فیروز دیلمی اور ان کے رفقا کو اسود عنسی کے خلاف ’محاربہ‘ کا حکم دیا ہے۔ اب ’محاربہ‘ کے معنی ومفہوم کے بارے میں اور کسی کو تردد ہو تو ہو، مگر غامدی صاحب کے شاگردوں سے یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ وہ ’محاربہ‘ کے مفہوم سے آگاہ نہیں ہوں گے۔‘‘

اس میں شبہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محولہ ہدایت میں اسود عنسی کے خلاف ’محاربہ‘ ہی کا حکم دیا گیا تھا اور یہ بات بھی ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ اس حکم کی تعمیل میں ’محاربہ‘ کی نوبت فی الواقع اگر آ جاتی تو یہ ’محاربہ‘ ریاست مدینہ ہی کے مامورین کی طرف سے ہوتا، مگر، جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کی نوبت ہی نہیں آئی، بلکہ ’محاربہ‘ کے بغیر ہی اسود عنسی کے فتنے کا قلع قمع کر دیا گیا۔
اوپر دیے گئے حقائق سے یہ بات پوری طرح سے واضح ہو جاتی ہے کہ اپنے ایک صوبے میں بغاوت ہو جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے مسلمانوں کو اس بغاوت کو کچلنے کی غرض سے منظم ہونے کی ہدایت کی۔ ظاہر ہے، جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ کی تصریحات سے بھی معلوم ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت مسلمانوں کے لیڈر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہی کے لیے تھی اور انھی کو پہنچائی بھی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت ملنے پر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے سسرالی علاقے ’سکون‘ میں مسلمانوں کا اجتماع منعقد کیا۔ اس اجتماع میں یہ طے پایا کہ اسود عنسی کے فتنے کے خاتمے کے لیے ’جہاد وقتال‘ کے بجاے اس کے اپنے ہی عمال کے ہاتھوں اسے قتل کرا دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ بغاوت باغی لیڈر کو قتل کر کے کچل دی گئی۔
ان تمام حقائق کے علی الرغم اب بھی اگر مولانا محترم کے نزدیک اسود عنسی کے خلاف کارروائی بہر حال ’قتال‘ اور وہ بھی کسی خود مختار ریاستی اقتدار کے بغیر غیر منظم جتھا بندی کے ذریعے سے ہونے والا قتال ہی قرار دی جانی چاہیے تو پھر اس کے سوا ہم مولانا محترم سے اور کیا عرض کر سکتے ہیں کہ وہ ہمارے حق میں یہ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح بات کو سمجھنے اور ہر حال میں اسی کو بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے اگرچہ یہ بات لوگوں کے لیے کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

____________