قوموں کے عروج و زوال میں دو عناصر ایسے ہیں جن کا تعلق قوموں کی مرضی و اختیار سے نہیں، بلکہ اس معاملے میں وہ کائنات کے چلانے والے کی مرضی و اختیار کے پابند ہیں۔ان میں سے پہلی چیز قوم کی اندرونی توانائی ہے ، جبکہ دوسری چیز خارج میں پیش آنے والے خطرات اور چیلنج ہیں۔ذیل میں ہم ان کی کچھ وضاحت کریں گے:

۱۔ قوم کی اندرونی توانائی

اقوام عالم کے عروج و زوال میں سب سے بنیادی امر یہ ہے کہ معاشرے کے وہ اجزاے ترکیبی، جن کا تفصیلی ذکر پچھلے مباحث میں ہم کرچکے ہیں، کس حد تک اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ جب تک قوم کے یہ اجزاے ترکیبی اپنا کردار درست طور پر ادا کرتے ہیں ، قوم عروج و ترقی کی طرف گامزن رہتی ہے اور جب معاملہ برعکس ہو تو قوم بھی زوال کا شکار ہوجاتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک حیوانی جسم میں اگر تمام نظام ہاے زندگی ٹھیک طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو وہ جسم فعال رہتا ہے، مگر جب ان پر اضمحلال طاری ہوتا ہے اور وہ اپنے معمولات کو درست طور پر ادا نہیں کرپاتے تو جسم کمزورہونا شروع ہوجا تا ہے اور آخرکار زندگی کی حرارت سے محروم ہوکر وادی عدم میں اتر جاتا ہے۔ اسی طرح انسانی معاشرہ عروج و زوال کے عمل میں اپنے اجزاے ترکیبی کی قوت و ضعف سے براہ راست متعلق ہوتا ہے۔جب تک ان میں قوت رہتی ہے اور وہ اپنے فرائض و ذمہ داریاں احسن طریقے سے پورا کرتے رہتے ہیں تو معاشرہ مستحکم اور قوم ترقی کی طرف گامزن رہتی ہے اور جب وہ کمزور ہوتے ہیں اور اپنے فرائض سے غفلت برتنے لگتے ہیں تو قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ 
مثال کے طور پر فکری قیادت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حالات کا گہرا تجزیہ کرے اور بدلتی ہوئی دنیا میں قوم کے سامنے ایک ایسا لائحۂ عمل رکھے جو قوم کی امنگوں اور توانائیوں کو درست سمت عطا کرے۔ مذہبی قیادت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک طرف اخلاقی اقدار کو قومی کردار میں زندہ رکھے تو دوسری طرف معاشرتی ارتقا اور مذہبی اصولوں میں قائم توازن کو برقرار رکھے۔ اسی طرح سیاسی قیادت کاکام ہے کہ حوصلہ مندی اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر طرح کے حالات میں ایسی حکمت عملی اختیارکرے جس سے قوم اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رہے۔ یہ اور ان جیسے دیگر بہت سے وظائف ہیں جو قوم کی قیادت کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں، تاہم ان کی درست ادائیگی صرف اس وقت ممکن ہے، جب قیادت زندگی سے بھرپور ہو۔ زندگی کی توانائیوں سے محروم قیادت عام حالات میں بھی قوم کو زوال پذیر کردیتی ہے اور کسی خطرہ کے پیش آنے پر توبالکل بے جان ثابت ہوتی ہے۔ 
جہا ں تک اس بات کا سوال ہے کہ قوم کے اجزاے ترکیبی کیوں قوت و ضعف کا شکار ہوتے ہیں؟ تو اس کے دو بنیادی اسباب ہیں: ان میں سے ایک کی تفصیل ہم اختیاری عوامل کے تحت آگے بیان کررہے ہیں۔ تاہم اس کا دوسرا سبب فطرت کاقانون اجل ہے ، جس کے تحت خدا کسی کو لامحدود زندگی نہیں دیتا، بلکہ ایک خاص وقت کے بعد زندگی کو موت سے بدل دیتا ہے۔ اس عمل میں زندگی دینے والے عناصر بتدریج کم اور کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جاتے ہیں،اور ایک خاص وقت پر پہنچ کر زندگی کا بوجھ اٹھانا ان کی استطاعت سے باہر ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ زندگی موت کی آغوش میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر ہم سائنس کی تعبیر مستعار لیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کو ایک خاص مقدار میں مخفی توانائی(Potential Energy)دے کر اس دنیا میں بھیجتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مخفی توانائی حرکی توانائی(Kinetic Energy) میں تبدیل ہوکر زندگی کی کہانی لکھتی رہتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وجود اپنی مخفی توانائی کا تمام تر خزانہ صفحۂ ہستی کو بامعنی بنانے میں صرف کردیتا ہے ، جس کے بعد زندگی کی حرکت موت کے سکوت میں بدل جاتی ہے۔
ایک زیادہ قابل فہم مثال حیوانی اجسام کی ہے جن میں خلیات(Cells) زندگی کی توانائی کا مرکز ہوتے ہیں۔زندگی کے آغاز پر ان کی پیدایش کا عمل بہت تیز ہوتاہے۔چنانچہ زندگی کی گاڑی تیزی سے آگے کی سمت اپنا سفر طے کرتی ہوئی بام عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ اس دورا ن میں زندگی کی بنیادی اکائی، یعنی خلیات کی پیدایش کا عمل کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ پیدایش کا یہ عمل اتنا کم ہوجاتا ہے کہ جسم اپنے عام فرائض کو ادا کرنے میں دقت محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے میں کوئی معمولی سی بیماری بھی لاحق ہوجائے تو بڑھتے بڑھتے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ٹھیک اسی طرح انسانی معاشروں میں ایک خاص وقت گزرنے کے بعد زندہ افراد پیدا ہونا کم ہوجاتے ہیں۔ان کی کمی کی بنا پر معاشرہ کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ معاشرہ مردہ نفوس کا ایک ہجوم بن جاتا ہے جسے فطرت کا قانون اجل ایک وقت آنے پر دھرتی سے مٹادیتا ہے۔
مختصر یہ کہ اس دنیا میں کوئی قوم اصلاً اپنی اندرونی توانائی کی بنیاد پر قوت و استحکام حاصل کرتی ہے۔ جب تک معاشرے میں یہ توانائی موجود ہے ، وہ اندر اور باہر سے پیش آنے والے خطرات کا جواب دیتا رہتا ہے۔ اس کے مختلف طبقات ان ذمہ داریوں کو با طریقۂ احسن ادا کرتے ہیں جو ان پر عائد ہوتی ہیں۔ جب یہ توانائی ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے تو اس صورت میں قوم پہلے کمزور اور آخر میں زوال پذیر ہوجاتی ہے۔توانائی میں کمی کے اس عمل کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ قدرت کا یہ قانون جب حرکت میں آتاہے توبڑی سے بڑی سپر پاور بھی ماضی کا ایک افسانہ بن کر رہ جاتی ہے۔ہم پچھلے صفحات میں قوموں کے عروج و زوال کے مراحل کے ضمن میں وہ پورا لائف سائیکل بیان کرچکے ہیں جس سے ایک سپر پاور گزرتی ہے۔مصری، رومی ، عرب اور ترک، سب اپنے عروج کے دور میں دنیا بھر کے حاکم تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی توانائی میں کمی آتی چلی گئی،جس کے نتیجے میں ان کی قیادت ختم اور سلطنت برباد ہوگئی، اور بحیثیت قوم انھیں دوسری اقوام کی مغلوبیت یا اپنے ابتدائی جغرافیہ میں سمٹنے جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔

۲۔ خارجی چیلنج

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی دنیا مقابلے کے اصول پر بنائی ہے۔ اس دنیا میں کسی وجود کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خارجی دنیامیں پیش آنے والے خطرات سے بے پروا ہوکر زندگی گزارے۔جب تک کسی قوم کی اندرونی توانائی اس کا ساتھ دیتی ہے، وہ خارج کے ان چیلنجوں کا مقابلہ کرتی ہے، مگر جب یہ توانائی کم یا ختم ہوجاتی ہے تو وہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے۔تاہم بعض اوقات چیلنج اور خطرات اس قدر بڑے اور عظیم ہوتے ہیں کہ وہ قومیں بھی جن کی اٹھان دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بڑھاپے سے کوسوں دور ہیں ، ان کے مقابلے میں خود کو بے دست و پا محسوس کرتی ہیں۔جس طرح کوئی جوان رعنا کسی تیز رفتا رگاڑی کے سامنے آکر موت کا نوالہ بن جاتا ہے ، اسی طرح بعض اوقات ایک قوم بھی کسی ایسے حادثے کا شکا ر ہوجاتی ہے جو اس کی ہمت و استعداد سے بڑھ کر ہوتا ہے۔یہ چیلنج یا حادثہ قدرت کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔مثلاً زراعتی دور میں جو معلوم تاریخ کا سب سے بڑا دور ہے، بارہا ایسا ہوا کہ خشک سالی قوموں کی تباہی کا سبب بن گئی۔یا وہ قومیں جو دریاؤں کے کنارے آباد تھیں ، سیلاب آنے یا دریا کا رخ تبدیل ہوجانے کی بنا پر اپناوجود برقرار نہ رکھ سکیں۔ وادی سندھ کی تہذیب جو دنیا کی قدیم ترین تہذیب شمار ہوتی ہے، اس کی تباہی کے جو اسبا ب محققین بیان کرتے ہیں، ان میں سے ایک نمایاں سبب ایسے ہی قدرتی عوامل کی کارفرمائی تھا ۔ اسی طرح قرآن مجید کی سورۂ سبا (۳۴) کی آیات ۱۵تا ۱۹میں قوم سبا کا جوقصہ بیان کیا گیا ہے ، اس میں سبا کی تباہی کا نقطۂ آغاز، عالم اسباب میں، وہ عظیم سیلاب تھا جسے ’’سیل العرم‘‘ کہا جاتاہے۔ 
چیلنج کی دوسری قسم جو کسی قوم کو اس وقت تباہ کردیتی ہے، جبکہ اس کی قدرتی زندگی کا خاتمہ ابھی دور ہوتا ہے ، اکثر و بیش تر دوسری اقوام کی طرف سے یلغار کی صورت میں پیش آتی ہے۔مغربی رومی سلطنت کو روس اور شمالی یورپ کے وحشی قبائل کی جن یلغاروں کا سامنا کرنا پڑا، اس نے اس کے وجود کو بے حد نحیف کرڈالا۔تیمور لنگ نے جس وقت بایزید یلدرم کو شکست دی تو وہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت تھا اور مشرقی یورپ میں مسلم اقتدار کی وسعت کے بعد پورے یورپ کی فتح کا منصوبہ بنارہا تھا۔عثمانی حکومت کی خوش قسمتی تھی کہ یلدرم کے جانشین بہت باصلاحیت تھے ، وگرنہ عثمانی ترکوں کی تاریخ یلدرم کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی۔
چیلنج کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی قوم جانے انجانے میں کسی ایسی جنگ میں ملوث ہوجائے جس میں جیت کر بھی وہ اپنا وجود ہار جاتی ہے۔دور جدید میں آخری دو سپر پاورز اسی جنگ و جدل کی وجہ سے قبل از وقت اپنا عروج کھونے پر مجبور ہوگئیں۔برطانیہ عظمیٰ کی سلطنت جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، دو عظیم جنگوں کی بنا پر اپنی عظمت و قوت گنوابیٹھی اور واپس اس چھوٹے سے جزیرہ میں محدود ہوگئی جہاں سورج اکثر بادلوں کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔حال ہی میں سوویت یونین کی عظیم سپر پاور جو دنیا بھر میں خوف ودہشت کی علامت تھی اور جس کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ روس کے قدم جس ملک میں پڑگئے ، وہ باہر نہیں نکلتے، افغانستان میں ایک ایسی جنگ کا شکار ہوئی جس کے نتیجے میں نہ صرف اسے افغانستان خالی کرنا پڑا ، بلکہ خود اپنے وجود کی بقا و حفاظت میں بھی ناکام ہوکر تحلیل ہوگئی۔
یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ چیلنج ہمیشہ قوم کو تباہ کردیتے ہیں۔ یہ قوم کے عروج کا بھی سبب بنتے ہیں،بشرطیکہ یہ اس قدر مہیب اور عظیم نہ ہوں کہ ا ن کا مقابلہ کرنا ہی ناممکن ہو۔چنانچہ ایسے کسی قابل برداشت چیلنج کے پیش آنے پرایک قوم کی وہ پوشیدہ توانائیاں عیاں ہوجاتی ہیں جن کا اظہار اس سے قبل نہیں ہوا ہوتا۔ تاتاریوں کے نام سے دنیا ایک زمانے میں قطعی ناواقف تھی، مگر اب انھیں اور ان کے لیڈر چنگیز خان کو دنیا ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے جانتی ہے۔ان کی فتوحات کا آغاز وہ چیلنج تھا جو خوارزم شاہ نے ان کے سفیروں کو قتل کرکے پیدا کردیا تھا۔خوارزم شاہ خطے کا سب سے طاقت ور حکمران تھاجس کے بڑھتے ہوئے اقتدار کا اگلا نشانہ بغداد کی خلافت تھی۔ اس سے ٹکرانے کا فیصلہ آسان نہ تھا۔اس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ تاتاریوں کو بڑی تباہی اٹھاکر بھی کچھ نہ ملتا، مگر چنگیز خان نے اس چیلنج کو قبول کیا اور نتیجے سے دنیا واقف ہے۔

____________