سینتیس واں باب 
 
مسلمانوں کے مختلف مسلکوں کے درمیان اتفاق بہت زیادہ ہے اور اختلاف بہت کم۔ اہل سنت ہوں یا اہلِ تشیع، دونوں توحید ورسالت اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ قرآن مجید کو واجب الاتباع مانتے ہیں اور حضورؐ کے فرامین کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ یقیناًدونوں کے درمیان کچھ اہم معاملات پر اختلاف بھی ہے لیکن اگر نسبت کا جائزہ لیا جائے تو نوے فیصد اتفاق ہے اور دس فیصد اختلاف۔ 
لیکن بدقسمتی سے اِس دس فیصدی اختلاف نے اِس ملت کو یوں ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا ہے کہ دشمنی، جھگڑوں اور منافرت کا ایک بازار گرم ہے۔ ایک دوسرے کے جان ومال اور آبرو پر حملے ہورہے ہیں اور ایک دوسرے کے رہنماوؤں کو قتل کیا جارہا ہے۔ بسااوقات مخالف مسلک کی مسجدوں پر خودکش حملے ہوئے ہیں۔ بازاروں کو جلاکر خاک کردیا گیا ہے اور غیض وغضب میں خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ 
صرف یہی نہیں بلکہ تنگ نظری کا یہ طوفان اِس حد تک امتِ مسلمہ کے اندر سرایت کرگیا ہے کہ ایک ہی مسلک سے تعلق رکھنے والے ذیلی مسالک بھی ایک دوسرے کا خون بہا تے ہیں۔ کئی جگہوں پر دیوبندی اور بریلویوں کے درمیان معرکۂ کارزار برپا ہے اور اس خانہ جنگی میں سینکڑوں لوگ کام آچکے ہیں۔ 
دین کے کچھ مسائل کو سمجھنے کے معاملے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرنا کوئی بری یا غلط بات نہیں۔ انسان کی عقل محدود ہے۔ مختلف انسانوں کے ذہنی سانچے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض لوگ کسی حکم کے پیچھے اصل مقصد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، بعض لوگ بامحاورہ معنی کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض لوگوں کا ذہن الفاظ کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ خود حضورؐ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ کے درمیان کسی بات کو سمجھنے میں اختلاف ہوا ہے۔ لیکن اگر یہ اختلافِ رائے شائستگی کی حد میں رہے، ایک دوسرے کی نیت پر حملہ نہ کیا جائے اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہ لگائے جائے تو کوئی خرابی رونما نہیں ہوتی۔ مسئلہ تو اُس وقت گھمبیر صورت اختیار کرلیتا ہے جب دوسرے گروہ کے قابلِ احترام رہنماوؤں کے خلاف غلط زبان استعمال کی جاتی ہے، دوسرے گروہ کو روس اور امریکہ کا ایجنٹ کہہ دیا جاتا ہے اور اُس کو خارج ازدائرہ اسلام قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِعمل اِس امت کی وحدت کو پارہ پارہ کردیتا ہے، اور مقابل قوتوں کاکام آسان کر دیتا ہے۔ 
چنانچہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب یہ فیصلہ کرلیں کہ کسی بھی مسلک کی بزرگ ہستیوں کے متعلق دل آزاری کے پر مبنی الفاظ استعمال نہیں کریں گے۔ اور کسی کی نیت پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہم شائستگی اور ادب کے ساتھ اختلافِ رائے کریں گے لیکن کسی پر کفر کے فتوے نہیں لگائیں گے۔ تاہم اس سے بھی بڑھ کر عزیمت کا راستہ یہ ہے کہ ہم یک طرفہ طور پر صبروبرداشت کا راستہ اختیار کریں۔ مثلاً اگرکوئی گروہ یا فرد ہمارے قابلِ احترام رہنماوؤں کے خلاف غلط زبان استعمال کرتا ہے تو ہم اِس طرزِ عمل پر افسوس کا اظہار کریں گے لیکن خود کبھی بھی کسی کی دل آزاری نہیں کریں گے۔ نہ خود مشتعل ہوں گے اور نہ دوسروں کو مشتعل کریں گے۔ یہی سبق ہمیں سکھایا گیا ہے اور اسی میں امتِ مسلمہ کا وسیع تر مفاد ہے۔