مولانا محترم کی اس بات سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ معاملہ اگر فی الواقع ویسا ہی ہے، جیسا مولانا فرما رہے ہیں تو پھر اللہ کے پیغمبروں نے اقتدار کے بغیر کیوں جہاد نہیں کیا۔ اس ضمن میں خاص طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال بہت نمایاں ہے۔ ان کی پوری قوم ان پر ایمان لے آئی تھی اور وہ ایک ایسے ’’ نظام باطل‘‘ کے تحت زندگی گزار رہے تھے جس میں اللہ تعالیٰ کا تشریعی اقتدار بھی قائم نہیں تھا۔
مولانا محترم نے اپنے مضمون میں اس بات کا جواب دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مقابلے میں اس لیے قتال نہیں کیا کہ بنی اسرائیل ابھی قتال کے قابل نہ ہوئے تھے، بلکہ جب انھیں قتال کا حکم دیا گیا تو انھوں نے جواب دیا: فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ۔ ۱؂ ‘‘

مولانا محترم کی اس بات کا تجزیہ کرنے سے پہلے ہم یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ مولانا کے ان جملوں سے بنی اسرائیل کی تاریخ سے ناآشنا کسی شخص کے ذہن میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کو قتال کا حکم تو پہلے ہی، یعنی مصر ہی میں دیا جا چکا تھا، مگر وہ چونکہ ’’قتال کرنے کے قابل نہیں تھے‘‘، اس وجہ سے انھوں نے مصر میں قتال نہیں کیا۔ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ مصر میں رہتے ہوئے بنی اسرائیل کو قتال کا حکم نہیں ملا تھا۔ انھیں پہلی مرتبہ یہ حکم فرعون سے آزادی ملنے کے کم از کم ایک سال بعد دیا گیا۔ تورات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے صحراے سینا میں حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کے معاملات کو منظم کیا۔ عبادات، سیاست، معاشرت، معیشت اور حدود و تعزیرات کا نظام قائم کیا۔ اور اس سب کچھ کے بعد جہاد کے احکام دیے گئے۔ فرعون کی غلامی سے آزاد ہونے سے پہلے انھیں اس قسم کے کوئی احکام کبھی دیے ہی نہیں گئے۔
اس وضاحت کے بعد اب مولانا محترم کی اس بات کو دیکھیے کہ ’’موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مقابلے میں اس لیے قتال نہیں کیا کہ بنی اسرائیل ابھی قتال کے قابل نہ ہوئے تھے۔‘‘ اس ضمن میں ہم مولانا سے درج ذیل سوال پوچھنا چاہتے ہیں:
۱۔ مولانا نے فرعون کے خلاف تلوار نہ اٹھانے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے، اس کا ماخذ کیا ہے؟ کیا قرآن نے کسی جگہ پر یہ کہا ہے کہ بنی اسرائیل کو فرعون کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا گیا، کیونکہ اس وقت تک بنی اسرائیل قتال کے قابل نہیں تھے؟ کیا تورات میں اس طرح کی کوئی بات مذکور ہے؟ کیا کسی حدیث ہی میں اس بات کا کوئی ذکر موجود ہے؟ اگر یہ سب ذرائع اس بات کا ماخذ نہیں ہیں تو پھر اس کا ماخذ آخر ہے کیا؟
۲۔ ’’قتال کے قابل‘‘ ہونے سے مولانا کی کیا مراد ہے؟ اس سے مراد بنی اسرائیل کی اخلاقی اور ایمانی حالت ہے یا ان کی مادی قوت ہے؟
۳۔ اس سے مراد اگر بنی اسرائیل کی اخلاقی اور ایمانی حالت ہے تو بعد میں رونما ہونے والے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انھیں کچھ عرصے بعد قتال کا حکم دیا بھی گیا، تب بھی انھوں نے جنگ کرنے سے انکار کر دیا۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ ان کی اس حالت میں کوئی خاص تبدیلی بعد میں بھی رونما نہیں ہوئی تھی؟ چنانچہ اگر فرعون کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم نہ دینے کی وجہ بنی اسرائیل کی اخلاقی اور ایمانی کمزوری تھی، جو بعد میں بھی بہت حد تک برقرار رہی تو اس صورت میں انھیں بعد میں بھی یہ حکم آخر کیوں دیا گیا؟
۴۔ اس سے مراد اگر ان کی مادی قوت ہے تو یہ بات بھی بہت اچھی طرح سے معلوم ہے کہ صحراے سینا میں جب بنی اسرائیل کو کنعان پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا گیا تو اس وقت بھی انھوں نے اپنی مادی قوت میں کمزوری ہی کی آڑ لے کر قتال سے گریز کیا تھا۔ اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرعون کے ساتھ قتال میں مادی قوت میں کمی رکاوٹ تھی تو آخر اہل کنعان کے ساتھ قتال میں اسے کیوں رکاوٹ نہیں سمجھا گیا؟ مزید براں کتاب احبار میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ:

’’اور میں ملک میں امن بخشوں گا اور تم سوؤ گے اور تم کو کوئی نہیں ڈرائے گا اور میں برے درندوں کو ملک سے نیست کر دوں گا اور تلوار تمھارے ملک میں نہیں چلے گی۔ اور تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کرو گے اور وہ تمھارے آگے آگے تلوار سے مارے جائیں گے۔ اور تمھارے پانچ آدمی سو کو رگیدیں گے اور تمھارے سو آدمی دس ہزار کو کھدیڑ دیں گے اور تمھارے دشمن تلوار سے تمھارے آگے آگے مارے جائیں گے۔‘‘ ( ۲۶: ۶۔۸)

اس وعدے کی موجودگی میں، کیا یہ کہنا کچھ عجیب سا معلوم نہیں ہوتا کہ بنی اسرائیل فرعون کا مقابلہ کرنے کے لیے تو مادی اور افرادی قوت کے لحاظ سے اپنے اندر قابلیت نہیں رکھتے تھے، مگر وہ اہل کنعان کا مقابلہ کر سکتے تھے؟
۵۔ کسی گروہ کے کسی دوسرے گروہ کے ساتھ قتال کے لیے قابل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس میں اختلاف راے کو کس طرح حل کیا جائے گا؟
۶۔ ایسی کسی قابلیت کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں قرآن و سنت سے ہمیں کوئی رہنمائی ملتی ہے یا نہیں؟ کیا اس معاملے میں سورۂ انفال کی آیت ۶۶ کو ایک معروضی معیار ۲؂ بنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
۷۔ اس ضمن میں آخری بات ہم مولانا محترم سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر فی الواقع، حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اسی وجہ سے اپنی قوم کو فرعون کے خلاف قتال کا حکم نہیں دیا تھا کہ وہ قتال کے قابل نہیں تھی تو اس واقعے کی بنیاد پر مولانا نے اپنے مضمون کے آغاز میں جو تین بنیادیں بیان کی ہیں، ان میں کیا اس بات کا بھی اضافہ کر دینا چاہیے یا نہیں؟
 

_______

۱؂ المائدہ ۵: ۲۴۔ ’’تم اور تمھارا رب جاؤ اور ان سے لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔‘‘
۲؂ سورۂ انفال کی مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر مسلمان اپنے مدمقابل سے قوت میںآدھے ہوں گے، اور پورے صبر وا ستقامت کے ساتھ اللہ کی راہ میں لڑیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائیں گے اور انھیں اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا فرمائیں گے۔

____________