ساتواں باب 

اس دنیا میں ہمیشہ سے یہ جھگڑا جاری ہے کہ فرد اور ریاست کے حقوق میں کس طرح توازن پیدا کیا جائے۔ اس توازن کی ضرورت یوں پیش آتی ہے کہ ریاست کو اتنا بااختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ افراد کے ذاتی معاملات میں دخل دے کر اسے غلام بناسکے۔ اسی طرح ریاست کواتنا بے اختیار بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے عوام کو امن وامان اور انصاف بھی فراہم نہ کرسکے۔ دوسری طرف ایک فرد کو اتنا بااختیار بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اختیار سے ناجائز فائدہ اٹھاکر معاشرے کونقصان پہنچادے۔ تاہم اُسے اتنا بے اختیار بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اُس کی تخلیقی صلاحتیں مانند پڑجائیں، اُسے ذاتی پسند وناپسند کا کوئی اختیار ہی نہ رہے اور وہ یوں محسوس کرے کہ وہ گھٹن اور جبر کی فضا میں جی رہا ہے۔ 
اس ضمن میں دنیا کے اندر بے شمار تجربات ہوئے ہیں۔ مثلاً پچھلے سو برس میں ہم نے کمیونزم کو بھی دیکھا جس نے فرد سے اس کے بہت سے جائز اختیارات چھین لیے۔ ہٹلر اور مسولینی جیسے نسل پرستوں نے اپنی نسل کی برتری کا جھنڈا بلند کیا۔ ہم نے بادشاہتوں کو بھی دیکھا جہاں بادشاہ کی ہر خواہش قانون بن جاتی ہے۔ آج ہم مغربی ملکوں کو بھی دیکھ رہے ہیں جہاں فرد کی آزادی کے نام پر اُسے ہر بے حیائی کی اجازت دی جارہی ہے اور اُسے یہ بھی اجازت ہے کہ مقدس ترین ہستیوں کی توہین بھی کر گزرے۔ 
اس عاجز کا طالب علمانہ مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اسلام نے فرد اور ریاست کے درمیان اختیارات کی ایک ایسی تقسیم تخلیق کی ہے جس کی روح ومعنی کے ساتھ پیروی سے فردوریاست کے درمیان ایک خوبصورت توازن وجود میں آتا ہے۔ وہ توازن یہ ہے کہ ایک مسلمان ریاست بنیادی طور پر امن وامان اور انصاف کی ذمہ دار ہے۔ انصاف کی فراہمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کو سزا دی جائے۔ بے شمار جرائم ایسے ہیں جن کے متعلق پوری انسانیت کا اتفاق ہے کہ یہ جرائم ہیں، مثلاً قتل، ڈاکہ، چوری، غبن، رشوت، بدعنوانی، زنا بالجبر وغیرہ۔ ان تمام جرائم کو اسلام بھی جرم قرار دے کر ریاست کے دائرہ اختیار میں لے آتا ہے۔ البتہ چارجرائم ایسے ہیں جن کو بعض طبقات جرائم نہیں مانتے مگر اسلام کے نزدیک وہ مسلمانوں کے لیے جرائم بن جاتے ہیں اور یوں وہ ریاست کے دائرہ اختیار میں آجاتے ہیں۔آپس کی رضامندی سے بدکرداری، شراب نوشی، جوا اور سود بھی جرائم ہیں۔ ان کے علاوہ ریاست اپنے باشندوں پر بجبر کوئی اور چیز نافذ نہیں کرسکتی۔ ریاست کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام اچھی چیزوں کو ترغیب وتلقین کے ذریعے معاشرے میں پھیلائے۔ جتنی اچھی چیزیں خودریاست کے دائرہ کار میں آتی ہیں مثلاً صحت اور تعلیم وغیرہ، ان کے متعلق ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے باشندوں کو بہترین سہولیات فراہم کرے اور اس ضمن میں جدید ترین مشاہدات، تجربات اور نتائج سے فائدہ اٹھائے۔ 
دین کے بہت سے ایسے احکام ہیں جن کا تعلق فرد سے ہے۔ اگر ایک فرد وہ فرض پورا نہیں کرے گا تو اس سے قیامت کے دن مواخذہ ہوگا۔ تاہم دنیا میں کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس کی خلاف ورزی پرکوئی سزا دے۔ مثلاً ایک مسلمان پر روزہ رکھنا فرض ہے۔ اگر وہ روزہ نہیں رکھے گا تو یہ اسلام کے نزدیک گناہ کبیرہِ ہے۔ تاہم یہ ریاست کاکام نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو روزہ رکھنے پرمجبور کرے، یا پھر جگہ جگہ ایکسرے مشینیں اور بلڈ ٹیسٹ کرواکر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ کس نے روزہ رکھا ہے اور کس نے نہیں رکھا ہے۔ روزہ رکھنا یا نہ رکھنا خدااور بندے کے درمیان ایک معاملہ ہے۔ البتہ ریاست اپنے باشندوں میں روزے کی ترویج کے لیے ہر ممکن پرامن ذریعے سے کام لے گی۔ مثلاً میڈیا کو اس غرض کے لیے اُبھارے گی، ریاست کے تمام ذمہ دار لوگ اس طرح کے لازمی عبادات میں سب کے لیے مثال بنیں گے۔ ریاست کو، البتہ، یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ رمضان کی علانیہ بے حرمتی کو روکنے کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے، کیونکہ روزے کی علانیہ بے حرمتی سے عام مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ 
قرآن مجید، اسوہ رسول کریمؐ اور خلفائے راشدین کے طرز عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس پورے مبارک دور میں، مثبت احکام کے ضمن میں، سوائے زکواۃکی تحصیل کے، کسی دوسری چیز کے معاملے میں سختی نہیں کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی تمام مثبت چیزوں کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ علماء وصلحاء بھی معاشرے کی تربیت میں اپنا کردار ادا کریں گے اور دعوت وترغیب کے ذریعے معاشرے کو بہترین صفات پر گامزن رکھنے کی کوشش کریں گے۔ اس ضمن میں انہیں سختی کرنے کی اجازت نہیں۔ 
جیسا کہ معلوم ہے،اسلام حیا پر بہت زور دیتا ہے۔ حیاء اسلامی سوسائٹی کی ایک بنیادی قدر ہے۔ تاہم اس قدر کو بھی سوسائٹی میں رائج کرنے کے لیے اصل کام ترغیب وتلقین ہی ہے۔ اس ضمن میں ہماری سوسائٹی بے جا افراد وتفریط کا شکار ہے مثلاً کچھ مذہبی حلقے خواتین کے چہرے کے پردے پر بہت زور دیتے ہیں، حالانکہ پچھلے چودہ سو برس میں اہل علم کی بہت بڑی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس ضمن میں اسلام نے خواتین پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ اس کے بالکل برعکس دوسری طرف ایک ایسا طبقہ بھی ہے جس کا لباس ہر طرح کی پابندیوں سے بے نیاز ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز آگے بڑھ کر دوسری برائیوں کی طرف انسان کو لے جاتی ہے۔ چنانچہ اس خاص مسئلے میں اس عاجز کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جن معاملات پراہل علم میں مکمل اتفاق ہے، صرف انہی کو قانون کے ذریعے نافذ کردیا جائے۔ اس طرح وہ کم سے کم پابندیاں عمل میں آسکیں گی جو ہماری اقدار کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً خواتین کے لیے سینے اور گلے کو چھپانے کے لیے دوپٹے کا انتظام اور بازوؤں کو چھپانے کا انتظام۔ بالکل اسی طرح کا ’ڈریس کوڈ‘ مردوں کے لیے بھی بنایا جاسکتا ہے۔ یعنی یہ کہ عام حالات میں ہر انسان پورے کپڑے پہننے ہوئے ہو، تاہم کھیلوں یا سوئمنگ کے وقت گھٹنوں تک کا بدن ڈھکا ہوا ہو۔ اگر سوسائٹی کے بالادست طبقات اپنے ہاں اسی کو رواج دیں تو خود بخود سارے معاشرے میں یہی قدر سرائیت کرجائے گی اور یوں کسی کو ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر ہلکی سے ہلکی سزا دینے کی ضرورت بھی نہ رہے گی۔ 
درج بالا چیزوں کے علاوہ ایک فرد کے معاملے میں دین نے ریاست کو اس سے زیادہ کوئی اختیار نہیں دیا۔ ایک فردشائشتگی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کوئی بھی نقطہ نظر پیش کرسکتا ہے، حیاء کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی لباس پہن سکتا ہے اور حلال وحرام کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کوئی بھی چیز کھا اور پی سکتا ہے۔ مسلمانوں کی ریاست ایک کامل جمہوری ریاست ہوتی ہے جہاں عوام کی واضح اکثریت کی تائید کے بغیر کوئی قانون نہ تو بنایا جاسکتا ہے اور نہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔