یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ سیدنا مسیح اصلاً بنی اسرائیل کی طرف ہی مبعوث کیے گئے تھے*، مگر ان لوگوں کی اکثریت نے آں جناب کا انکار کردیا ، تاہم بنی اسرائیل کا ایک گروہ آپ پر ایمان لے آیا۔قرآن نے تصریح کی ہے کہ یہی لوگ آخر کار غالب ہوئے**۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے زیر اثر عیسائیت سینٹ پال کی پھیلائی ہوئی گمراہیو ں کے باوجود توحید پر قائم رہی ۔ انھی لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک توحید کا علم سنبھالے رکھا، تاہم اس دوران میں گمراہ کن عیسائی فرقوں کے نظریات فروغ پاتے رہے اور سلطنت روما کی شکل میں انھیں اقتدارکا تحفظ بھی حاصل ہوگیا۔ دوسری طرف یہ موحدین عیسائی چھ صدیوں تک توحید کی خدمت سر انجام دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ملت اسلامیہ میں جذب ہوگئے۔ اس کے بعد جو عیسائیت بچی اس کا نام کے سوا سیدنا مسیح سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

_______

* آل عمران ۳: ۴۹۔
** الصف ۶۱: ۱۴۔

____________