ایصال ثواب کا تصور

مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں ۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔
یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے ۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔
البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں کو دے دیا جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ دعا کرنا درست ہے اور کیا یہ دعا قبول بھی ہوتی ہے، یعنی میت کو یہ ثواب واقعی دے دیا جاتا ہے۔ایک گروہ کی راے میں ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ دوسرے گروہ کی راے میں ان کا جواب نفی میں ہے۔
یہ اختلاف بعض روایات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایسی بات موجود نہیں ہے جس کے باعث یہ اختلاف رونما ہوا ہو۔ قرآن مجید پوری وضاحت سے ہر شخص کے اپنے عمل ہی کے مقبول یا غیر مقبول ہونے کے اصول کو واضح کرتا ہے ۔ اس کے نزدیک کوئی دوسرا شخص اس باب میں کسی دوسرے کے کام نہیں آسکتا،البتہ کچھ روایات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ ایصال ثواب ممکن ہے۔ قرآن مجید اور ان روایات میں واضح تضاد ہے۔ اس تضاد کو مختلف طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بہرحال، امت میں دو آرا موجود ہیں: ایک راے کے مطابق ایصال ثواب ممکن ہی نہیں ہے۔ اس راے کے حاملین اس موضوع سے متعلق بعض روایات کی توجیہ کرتے ہیں اور بعض روایات کو درست قرار نہیں دیتے۔ دوسری راے کے مطابق ایصال ثواب ممکن ہے۔ دور اول میں اس راے کے بعض حاملین صرف انھی اعمال سے ایصال ثواب مانتے تھے جن میں نیابت۱؂ جائز ہے، لیکن بعد میں اس بات پر عام اتفاق ہے کہ ہر طرح کی عبادت کا ثواب میت کو دیا جا سکتا ہے۲؂۔ آیندہ ابواب میں اس موضوع سے متعلق قرآن مجیدکی آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مطالعہ کریں گے اور اصل حقیقت واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ تصور براہ راست آخرت سے متعلق ہے۔ اخروی نجات کن اصولوں پر ہو گی اور اس کے حصول کے لیے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ ایصال ثواب کے تصور سے ان سوالوں کا جواب بنیادی طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ آخرت ہماری زندگی کا اصل ہدف ہے ۔ اگر اس کے بارے میں ہمارے تصور میں کوئی غلطی واقع ہو جاتی ہے تو یہ چیز براہ راست ہمارے عمل پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ہمارا عمل ہی ہمارے انجام کا ضامن ہے، لہٰذا اس تصور کی صحت اور عدم صحت کا طے کرنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنے عمل کو صحیح خطوط پر استوار کر سکیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ تصور صدیوں میں بہت سی رسوم کو جنم دے چکا ہے۔ معاشرتی رسوم بالعموم بے رحم سماج کا ہتھیار بن جاتی ہیں اور معاشرے کے افراد اس کے ستم کا شکار ہوتے رہتے ہیں، یہ رسوم بھی یہی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ کتاب اس صورت حال کی اصلاح میں کچھ کردار ضرور ادا کرے گی۔