۱۹۔اہل کتاب خواتین کے ساتھ شادی ۳۰؂

عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اسلام ایک مسلمان مرد کو غیر مشروط طور پر یہودی اور عیسائی خواتین کے ساتھ شادی کی اجازت دیتا ہے۔ یہ بات علی الاطلاق درست نہیں ہے۔ درحقیقت قرآن مجید کی جس آیت میں جس محل اور سیاق وسباق میں یہ اجازت دی گئی ہے، اس سے ظاہرہوتا ہے کہ اسلام چاہتا ہے کہ اگر اہل کتاب کی خواتین کے ساتھ شادی ہوتویہ بات پسندیدہ ہے کہ کچھ شرائط کو پورا کیاجائے۔ یہ بات محتاج بیان نہیں کہ قرآن مجید ایک مربوط اور جامع کتاب کی صورت میں نازل ہواہے۔ یہ منتشرآیات کا مجموعہ نہیں ہے، جیسا کہ بالعموم سمجھا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی آیتوں میں گہراربط وتعلق پایا جاتا ہے۔ ہر آیت کا ایک سیاق وسباق ہوتا ہے اور جب تک اس کے سیاق وسباق کو مد نظرنہیں رکھا جائے گا تو بالعموم اس کے صحیح معنی تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ کسی آیت کی سیاق وسباق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اس کی غلط تعبیر ہوسکتی ہے جو قرآن مجید کے مفہوم کو غلط سمجھنے کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ہر آیت کی تشریح اس کے سیاق وسباق کی روشنی میں کی جائے۔ اب اس آیت کا سیاق وسباق دیکھیے:

اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الاِسْلاَمَ دِیْنًا. (المائدہ ۵: ۳)
’’آج کافر تمھارے دین کے بارے میں مایوس ہوچکے ہیں۔ توان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو۔ آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے۔‘‘

درج بالا آیت کے بعد وہ آیت آتی ہے جس میں اہل کتاب سے شادی کا حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے:

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ. (المائدہ ۵: ۵)
’’آج تمھارے لیے تمام پاکیزہ چیزوں کو جائز کیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال کیا گیا ہے اور تمھاراکھانا ان کے لیے حلال کیا گیا ہے۔مومنات میں سے پاک دامن عورتیں تمھارے لیے جائز ہیں اور تم سے پہلے جن کوکتاب دی گئی، ان کی پاک دامن عورتیں بھی تمھارے لیے جائز قرار دی گئی ہیں، جبکہ تم ان کو ان کے مہر ادا کردو۔ وہ پاک دامن ہوں، زنا کرنے والی نہ ہوں اور نہ ہی یاری آشنائی کرنے والی ہوں۔ ‘‘

اوپر درج شدہ آیات، جن میں اہل کتاب خواتین سے نکاح کو جائز قرار دیا گیا ہے، اس دور میں نازل ہوئیں جس میں اسلام عرب کی سرزمین میں غلبہ پا چکا تھا۔ یہ وہ دور تھاجب کافر اس بات سے مایوس ہوچکے تھے کہ وہ اسلام پر اپنی برتری قائم کرسکتے ہیں اور مسلمان ناقابل تسخیر طاقت بن چکے تھے۔ان حالات میں اسلام نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ وہ یہودی اور عیسائی خواتین سے شادی کرسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ آیت سے یہ بات واضح ہے کہ اہل کتاب کی صرف پاک دامن خواتین کو نکاح میں لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ان حالات میں اس بات کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا کہ مسلمان ان کے مذہبی احکام اور ثقافتی روایتوں سے متاثر ہوجاتے۔ اس کے برعکس اس بات کا قوی امکان تھا کہ اہل کتاب خواتین پر نکاح کے بعد مثبت اثر پڑتا اور وہ اسلام قبول کرلیتیں۔ چنانچہ آج بھی صرف ان معاشروں میں یہ شادی پسندیدہ ہوگی جہاں اسلام کی ثقافتی روایات و اقدار کا غلبہ ہو اور احکام برتری کی جگہ پر موجود ہوں۔

_____
۳۰؂ دراصل یہ بحث ’’تدبر قرآن‘‘ سے ماخوذ ہے۔ دیکھیے:تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی ۲/ ۴۶۵۔۴۶۶۔

____________