قوموں کی زندگی کا پہلا مرحلہ تشکیل کا ہوتا ہے جس سے قبل وہ گم نامی کا شکار ہوتی ہیں۔لفظ ’گم نامی‘ سے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انسانوں کی طرح قوم عدم سے وجود میں نہیں آتی۔ ایک جدید قوم کے عناصر ترکیبی بہرحال پہلے سے موجود ہوتے ہیں جو مختلف عوامل کے زیر اثر ایک قوم کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔قوموں کی تشکیل کا نقطۂ آغاز بالعموم جنگ و فتح اور پناہ و ہجرت کا کوئی واقعہ یا کوئی مذہبی و سیاسی عمل ہوتاہے۔اس کے بعد تاریخ کا دھارا اپنا کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کوئی تاریخ دان تو نہیں تھے ، مگر ان کا یہ جملہ کہ پاکستان اسی روز بن گیا تھا جس روز برصغیر کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا، تاریخ کے اس قانون سے ان کی واقفیت کی دلیل ہے۔
قوموں کے دور تشکیل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ان کا ایک اجتماعی مزاج تشکیل پاتا ہے ۔تشکیل کے اس مرحلے میں کام کرنے والے عوامل ان گنت اور بالعموم بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔یہ عوامل ایک طویل عرصے تک کام کرتے ہیں اور انھی کے زیر اثر کسی قوم کامذکورہ بالا خاص مزاج تشکیل پاتا ہے جسے ہم اس کی قومی نفسیات کہہ سکتے ہیں۔یہی وہ قومی نفسیات ہوتی ہے جو اگلے تمام مراحل میں اس قوم کے رویے کا تعین کرتی ہے۔اس بات کو آپ انسان کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں ۔ ماہرین نفسیات کی راے یہ ہے کہ انسانی شخصیت کی تشکیل دور طفولیت ہی میں ہوجاتی ہے۔جسے بعد میں بدلنا آسان نہیں ہوتا اور جس کے اثرات تازیست انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔
ہم ایک قوم کی تاریخ کے حوالے سے تشکیل کے مرحلے کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افریقہ نسل انسانی کا اولین گہوارہ اور دریاے نیل انسانی تہذیب کا ابتدائی مسکن سمجھا جاتا ہے۔مصر میں انسانی آبادی کے دریافت ہونے والے قدیم ترین آثار ڈھائی سے ایک لاکھ سال قبل مسیح پرانے ہیں۔انسانی تمدن نے چیونٹی کی چال سے اپنا سفر شروع کیااور آہستہ آہستہ پتھر کے اوزار وجود میں آنا شروع ہوئے جو تیس ہزار سال قبل مسیح تک بہت بہتر ہوگئے۔ قریباً دس سے پانچ ہزار سال قبل مسیح کے درمیان مصری معاشرہ گاؤں اور قصبہ کے دور میں داخل ہوا اور ایک قوم کے آثار ابھرنے لگے۔ تقریباً تین ہزار سال قبل مسیح کے لگ بھگ پہلی دفعہ مصر میں ایک متحدہ ریاست بنی۔ اور اس کے بعد مصری قوم نے عروج کی سیڑھیاں طے کرنی شروع کیں۔ اپنے دور عروج میں انھوں نے زمین پر ایسے آثار چھوڑے جن کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔اہرام مصر اور ابوالہول آج کے دن تک عظمت کی اس داستان کو سنانے کے لیے موجود ہیں۔ تقریباًتین ہزار سال تک عروج و زوال سے گزرنے کے بعد مصر کی انفرادی حیثیت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب ۲۳ق م میں مصر کی آخری حکمران کلوپیٹرا کو رومی فوج کے ہاتھوں شکست ہوئی اور مصر رومی حکومت کا ایک حصہ بن گیا۔
تشکیل کے پورے مرحلے میں مصری قوم نے کسی جزیرے پر تنہا زندگی نہیں گزاری ، بلکہ وہ اسی دنیا کا حصہ رہی جہاں دوسرے انسان بھی بستے ہیں۔ وہ فطرت کی ان قوتوں کے ماتحت تھی جو انسانی زندگی پر فیصلہ کن اثرات ڈالتی ہیں۔ اس لیے مصر ی قوم نے دوسری اقوام کا اثر بھی قبول کیا اور فطرت کی طاقتوں کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ ترتیب دینے پر بھی مجبور ہوئی۔وہ بار بار ان ہجرتوں سے متاثر ہوئی جو افریقی قبائل نے مصر اور ایشیا کی طرف کیں۔یا وہ ہجرتیں جو ایشیائی باشندوں نے نیل کی وادی کی طرف خوراک کی تلاش میں کیں۔اسے جنگ وجدل سے بھی سابقہ پیش آیا اور تیر جیسا جدید ہتھیار مصریوں نے بارہ ہزارقبل مسیح میں ہی بنالیا تھا ، جبکہ یورپ میں تیر کئی ہزار سال بعد بنا۔ نیز سیلاب، زلزلے اور قحط وغیرہ بھی مصریوں کی زندگی پر اثر ڈالتے رہے۔ چنانچہ مصریوں نے فطرت کے پید اکردہ حالات اور دوسری تہذیبوں کے اثرات کے زیر اثر اپنا ایک قومی مزاج پیدا کیا جس نے صدیوں میں جاکر ایک قوم کی تشکیل کی۔اس قومی مزاج کے اثرات ان کے فنون لطیفہ، فن تعمیر، مذہبی تصورات اور طرز حکومت میں واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہی وہ قومی مزاج تھا جس نے مصر یوں کو نہ صرف دوسری اقوام سے ممتاز کیا ، بلکہ خود دوسری اقوام نے مصریوں کا بے حد اثر قبول کیا۔

____________