انحطاط کا دور بہت خاموشی سے دور زوال میں تبدیل ہوجاتا ہے۔دراصل عروج کا لازمی نتیجہ رفاہیت اور سیاسی غلبہ کا لازمی نتیجہ معاشی استحکام ہوتا ہے۔ معاشی استحکام قوموں میں ان طریقوں کو رواج دیتا ہے جس میں ان کی توانائیاں اور صلاحیتیں عیش وعشرت کے ہاتھوں زنگ آلود ہونے لگتی ہیں۔ایک بڑی اور عظیم سلطنت کی بقا واستحکام کے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ ناپید ہونے لگتی ہیں۔ وہ بڑے افراد جو دور انحطاط میں کم ہوجاتے ہیں ، اب اکا دکا ہی رہ جاتے ہیں۔طاؤس و رباب قو م کے اعصاب پر اس طرح سوار ہوتا ہے کہ شمشیر و سناں اپنا مقام کھوبیٹھتی ہے۔ عظیم تر مقاصد کی خاطر تکلیفیں جھیلنے کا داعیہ ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔مختلف امراض گھن کی طرح قومی وجود کو کھانا شروع کردیتے ہیں۔
یہ وہ دور ہوتا ہے جب اپنے پرائے سب کو معلوم ہوجا تا ہے کہ اب اس مریض کا خاتمہ قریب آگیا ہے۔ چنانچہ کبھی اندرونی خلفشار قومی استحکام میں دراڑیں ڈال دیتا ہے اور کبھی خارجی حملہ آور قومی زندگی کی بنیادوں کو ہلاڈالتے ہیں۔ملک کا جغرافیہ قوم کی توانائیوں کی طرح محدود ہو جاتا ہے اور اس کی طاقت اس کے حوصلے کی طرح معدوم ہوجا تی ہے۔ماضی قریب میں اورنگ زیب کے بعد کی مغلیہ سلطنت کی تاریخ اس کا بہت واضح نمونہ ہے۔
ایسے میں ایک قوم اکثر اپنی بقا کے لیے دوسری قوموں کی توانائیاں مستعار لیتی ہے۔ یہ عمل ممکن ہے کہ کسی قوم کی ڈوبتی نبض کو کچھ عرصے تک سہارا دے دے ، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ یہ قومی زوال کی سب سے بڑی علامت ہوتی ہے، کیونکہ دوسر ی قوم جب آتی ہے تو صرف اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں ہی ساتھ نہیں لاتی ، بلکہ وہ اپنے خیالات، نظریات، حوصلے اور میلانات بھی ساتھ لاتی ہے۔یہ سب آہستہ آہستہ اس قوم کے اقبال کا سورج غروب کرنا شروع کردیتے ہیں۔اس دور میں بعض مغربی اقوام اس اصول سے واقف ہونے کی بنا پر اجنبی قوموں کو اپنے اندر صرف ایک حد تک آنے کی اجازت دیتی ہیں۔ وہ انھیں قوم کی گاڑی کے کل پرزوں کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور حتی الامکان انھیں ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں آنے دیتیں۔ تاہم اس سے زوال کا عمل مؤخر تو ہوسکتا ہے ، مگر قدرت کا قانون بدل نہیں سکتا، اور وہ قانون یہ ہے کہ جب زوال کا آغاز ہوجا تا ہے تو سواے تباہی کے ہر دوسرا راستہ بند ہوجاتا ہے، کیونکہ زوال ہمیشہ داخلی کمزوری سے شروع ہوتا ہے اور کوئی خارجی طاقت اسے دور نہیں کرسکتی۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر مغلیہ سلطنت کے زوال پر نگاہ ڈال لیجیے۔ اورنگ زیب کے بعد آنے والا زوال کسی کے روکے نہ رکا، یہاں تک کے شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو دعوت دے کر خاص طور پر ہندوستان بلایا تاکہ مرہٹوں کا زور ٹوٹ جائے۔ مرہٹوں کا زور تو اس نے توڑ دیا ، مگر وہ کتنوں کا زور توڑتا؟ تھوڑے عرصے میں انگریز آندھی طوفان کی طرح پورے ملک پر چھاگئے۔ ٹھیک یہی معاملہ اندلس میں ہوا۔ جہاں دور زوال کے آغاز پر مراکش کے مسلمانوں نے پہلے یوسف بن تاشفین کی زیر قیادت مرابطین کی شکل میں اور پھر موحدین کی صورت میں مسلمانان اندلس کو عیسائیوں کے غلبے سے بچانے کی کامیاب کوششیں کیں، مگر کب تلک؟ موحدین کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ساری مسلم ریاستیں ایک ایک کرکے عیسائیوں کے قبضے میں چلی گئیں۔

____________