جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا،عروج کا آغاز بھی چیلنج سے ہوتا ہے۔ یہ داخلی بھی ہوتا ہے، جبکہ کسی زبردست ہلچل کے بعد قوم کی قیادت ایک نیا اور تازہ دم گروہ سنبھالتا ہے اور قوم کے سامنے ایسے مقاصد رکھتا ہے جو اس کی ابلتی ہوئی توانائیوں کو ایک نیا میدان عمل دے دیتے ہیں۔ یا بعض اوقات قوم کو اپنے دور استحکام میں خارج میں کوئی خطرہ درپیش ہوتا ہے یا پھر کوئی عظیم مقصد اس کے سامنے آجاتا ہے ۔نتیجے کے طور پر ایک دفعہ پھر وہ بلا خوف و خطر آگ میں کودنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے اوربالعموم سرخ رو ہوتی ہے۔
اس کے بعد وہ قوم ایک نئی توانائی کے ساتھ دنیا کی زمام کار اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہے۔پھر اس کا اقتدار صرف اپنے ملک تک محدود نہیں رہتا ، بلکہ اردگرد کے تمام علاقے میں پھیل جاتا ہے۔اب وہ حقیقی معنوں میں زمانے کی فاعل بن جاتی ہے۔دوسری اقوام اس کے آگے سراطاعت خم کرنے پر خود کو مجبور پاتی ہیں۔اس کا اقتدار فوجی اورسیاسی ہی نہیں ، بلکہ معاشی اور تہذیبی بھی ہوتا ہے۔ اقوام عالم اب اس سے علم و ہنر سیکھتی ہے۔ ان کی زبان اس کا اثر قبول کرتی ہے۔ ان کا طرز زندگی اس سے متاثر ہوتا ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہوتا جہاں وہ دوسری اقوام کو متاثر نہ کرے۔ وہ اس کے غلبہ کو پسند تو نہیں کرتیں ، مگر اس کے اثرات سے خود کو بچا نہیں سکتیں۔ اس وقت حالات ’ انا ولا غیری‘ کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔
عرب حکومت میں اس کا ایک بڑا اچھا نمونہ عباسی خلافت میں ہارون الرشید کا دور حکومت تھا۔ عباسی امویوں کو ہٹاکر اقتدار میں آئے تھے۔ابتدائی حکمران ا بوالعباس سفاح، منصوراور مہدی وغیرہ حکومت کے استحکام میں مصروف رہے ۔جس کے بعدہارون الرشید تخت نشین ہوا۔ اس کے دور میں ایک طرف تو علوم و فنون کے میدان میں غیر معمولی ترقی شروع ہوئی اور دوسری طرف وہ قیصر روم تک سے خراج وصول کرتا تھا۔اس کے اقتدار کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جس کے مطابق اس نے بادل کے ایک ٹکڑے کو دیکھ کر کہا تھا کہ تو جہاں دل چاہے جاکر برس، تیری پیداوار کا خراج میرے پاس ہی آئے گا۔

____________