اس نئی قوم کی اساس برصغیر پاک و ہند میں بسنے والے ان مسلمانوں نے رکھی جو خود کو اس خطے کے ہندوؤں سے الگ اور ایک مختلف جداگانہ تشخص کا حامل سمجھتے تھے۔اس جداگانہ تشخص کی بنیادان کے مذہب اسلام میں تھی۔اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ نہ صرف حیات وکائنات کے بارے میں ایک مکمل نقطۂ نظر رکھتا ہے ، بلکہ اپنے پیروکار وں کو عملی زندگی میں ہر آن اس نقطۂ نظر سے متعلق بھی رکھتا ہے ۔وہ مذہب کو تہذیب بنادیتا ہے۔مثلاً اسلام میں توحید کی تعلیم نہ صرف اس کی بنیادی کتاب قرآن کریم میں ابدی طور پر درج ہے ، بلکہ نماز کی صورت میں دن میں پانچ دفعہ اس کابھرپور اظہار کرنا مسلمانوں کی انتہائی مضبوط روایت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلام کے پیروکار، یعنی مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ رہ تو سکتے ہیں، ان میں جذب نہیں ہوسکتے۔
برصغیر میں اس چیز کو جس حقیقت نے اور زیادہ مستحکم کیا، وہ یہ تھی کہ مسلمان اس خطے میں نہ صرف فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور انھوں نے ہزار سال تک یہاں حکومت کی ، بلکہ قلبی طور پر ہمیشہ وہ مسلمانوں کی مرکزی جمعیت، یعنی خلافت سے منسلک رہے۔ اس بات کی اہمیت یوں بھی بہت زیادہ ہے کہ اس پورے عرصے میں مسلمانوں کی تینوں خلافتیں، یعنی بنو امیہ، بنوعباس اور عثمانی خلافت دنیا کی سپر پاورز تھیں۔ جن سے تعلق کا اظہار بہرحال باعث افتخار تھا۔ اس کے علاوہ متعددوجوہات کی بنا پر ہندوستان کی طرف بلاد اسلامیہ سے مسلمانوں کی ہجرت کا سلسلہ جاری رہا۔خاص طور پر جب تاتاریوں نے مشرق وسطیٰ سے وسط ایشیا تک مسلم علاقوں کوتخت و تاراج کرڈالا تو ان علاقوں کے مسلمانو ں کی ایک بڑی تعداد جان و ایمان بچاکر ہندوستان آگئی ۔یہ مسلمان اپنے ساتھ اپنا مذہب، تمدن، زبان، تہذیب اور روایات بھی لائے۔ہندو اکثریت میں گھری اس اقلیت کو اسلام کی کشش نے بہت جلد ایک اکائی میں بدلنا شروع کردیا اور ان کے باہمی میل جول سے ایک نئی قوم کی داغ بیل پڑنے لگی جو اپنے پس منظر کی بنا پراپنے ہم وطنوں کے مقابلے میں بقیہ عالم اسلام سے بہت قریب تھی۔
یہ مسلمان چونکہ تاتاریوں کے ہاتھوں اپنی تہذیب و تمدن کو مٹتے دیکھ کر آئے تھے ، اس لیے ان میں اپنے مذہب کے فروغ کا غیرمعمولی داعیہ موجود تھا۔مقامی آبادی میں غیر مسلموں کی کثرت نے اس جذبے کو اور مہمیز دی۔چنانچہ یہ لوگ اسلام کے داعی بن کر مقامی لوگوں میں اپنے اثرات پیدا کرنے لگے، جس کے نتیجے میں اسلام، عوام الناس میں فروغ پاتا رہا۔ ہندووانہ کثرت پرستی کے مقابلے میں عقیدۂ توحید کی سادگی، اور طبقاتی نظام کے مقابلے میں مساوات اور اسی بنیاد پر زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع اسلام کی وہ غیر معمولی کشش ثابت ہوئی جس کی بنا پر اسلام بہت معمولی کوشش سے بڑی سطح پر لوگوں میں پھیل گیا۔سب سے بڑھ کر یہ حقیقت کہ اسلام ایک غالب قوم کا مذہب تھا، فروغ اسلام میں بہت معاون ثابت ہوئی۔
یہاں یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ محمد بن قاسم کے بعد کسی حکمران نے مقامی لوگوں میں اسلام کی ترویج تو کجا اسلام کے مطابق ایک اچھا مسلمان حکمران بننے کی کوشش بھی نہیں کی، وگرنہ یہ پورا خطہ مصر کی طرح عالم اسلام کا حصہ بن جاتا۔ اس کا ایک ثانوی نتیجہ یہ بھی نکلا کہ اس خطہ کے مسلمانوں میں مذہبی اور سیاسی قیادت کو ایک جگہ دیکھنے کی روایت نہیں رہی،کیونکہ انھیں مذہب جن لوگوں سے ملا، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا اور سیاسی لوگوں کا طرزعمل بالعموم اسلام کے مثالی رویے سے بہت ہٹ کر تھا۔چنانچہ آج تک یہاں کے مسلمان اہل مذہب کو ، مذہبی بنیادوں پر ، اقتدار دینے کے عاد ی نہیں۔
اس خطے کی ایک بڑی اہم روایت تصوف بھی رہی ہے۔ اس بارے میں تو خیر اب دو آرا پیدا ہوچکی ہیں کہ یہاں اسلام کے فروغ میں اہل تصوف کا کیا کردار تھا ، مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہندوستان کے مخصوص مذہبی پس منظر کی بنا پر یہاں کے عوام الناس میں تصوف اور اہل تصوف کے بہت اثرات ہوئے۔ مسلم حکمرانوں کے بعض ناپسندیدہ اقدامات کے باوجود یہ اہل تصوف تھے جنھوں نے مقامی لوگوں کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نفرت کے وہ جذبات نہیں پیدا ہونے دیے جس کے بعد ایک فاتح اقلیت ، مفتوح اکثریت کی شدید نفرت کا نشانہ بن کر اپنا وجود کھودیتی ہے۔
ان سب کے ساتھ یہ بہرحال ایک حقیقت ہے کہ مسلمان یہاں ہمیشہ ایک اقلیت رہے۔ یہ اقلیت نہ صرف اپنے ارد گرد پھیلی اکثریت سے کچھ نہ کچھ متاثر ہوئی ، بلکہ اکثریت میں سے بھی جو لوگ تبدیلی مذہب کے بعد ان میں شامل ہوئے، اپنے بہت سے اثرات ساتھ لائے۔ چنانچہ مقامی ہندو آبادی کے بہت سے اثرات مسلمانوں پر مرتب ہوئے جس کے مختلف مظاہر کی جھلکیاں ان کی تہذیب ، روایات اور مذہبی تصورات میں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔
یہاں کی مسلم قومیت کا ایک اہم مذہبی پہلو یہ تھا کہ وہ اس عربی سادگی سے عاری تھی جو ابتدائی دور کے مسلمانوں کاخاصہ تھی۔ اس کے برعکس بنو عباس کے دور میں پیدا ہوجانے والا مخصوص فقہی ذہن اس پر غالب تھا۔بعد میں جب مغلیہ دور میں بحری راستے سے حج کا دروازہ کھلا تو لوگ کثرت سے حجاز جانے لگے اور اس کے نتیجے میں حدیث کے اثرات بھی دینی حلقوں میں نمایاں طور پر نظر آنے لگے۔ مقامی اثرات کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔ان سب چیزوں کانتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کا مذہبی مزاج توہم پرستی، تصوف، فقہ اور حدیث کے تعامل سے وجود میں آیا، تاہم ابھی تک ان میں ابتدائی تین چیزوں کا اثرزیادہ تھا۔
اس دور کی بڑی نمایاں خصوصیت علمی جمود ہے۔ دینی اور دنیوی ، دونوں اعتبارات سے اس دور میں کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آتی۔ دینی علم کی روایت بری بھلی جیسی بھی تھی، مذہبی ضرورت کے تحت بہرحال قائم رہی، مگردنیوی علوم میں ابتدائی درجہ کی ترقی بھی نظر نہیں آتی۔ مغلیہ سلطنت کے پاس دنیا کے بہترین وسائل تھے۔ ان کے دربار میں یورپ کے لوگ بھی موجود تھے جن سے وہ یورپ میں ہونے والی علمی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کرسکتے تھے، مگر انھیں علم سے زیادہ عمارتیں تعمیر کرنے میں دل چسپی تھی،اس لیے انھوں نے اس سمت میں کوئی توجہ نہیں دی ۔ اس کا نتیجہ آنے والے دنوں میں انھوں نے بھگت لیا۔ دنیوی علوم میں غفلت ایک ایسا ناقابل معافی جرم ہوتا ہے جس کی سزا تاریخ فوراً دے دیتی ہے۔
عوام کی سطح پر اس نئی قومیت کا سب سے بڑا اظہار اردو زبان تھی۔گو ابھی اسے سرکاری سطح پر وہ حیثیت حاصل نہیں تھی، مگر مختلف پس منظر کے حامل لوگوں کے لیے اردو باہمی رابطہ کا بنیادی ذریعہ بننے لگی تھی، اور ایک وقت آیا کہ اردو مسلم قومیت کی مسلمہ شناخت بن گئی۔
اٹھارہویں صدی کے آغاز میں صورت حال یہ تھی کہ ہند میں مسلمانوں کے ہزار سالہ خارجی اقتدار کے نتیجے میں ایک مسلم قومیت نے جنم لے لیا تھا۔اسلام اس کی گھٹی میں پڑا ہوا تھااور اسی بنیاد پر اس نے، ہندوستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ،مرکزی قومی دھارے میں جذب ہونے سے انکار کردیا تھا۔اسے دنیاے اسلام سے اپنے تعلق پر فخر تھااور وہ خود کو ایک بین الا قوامی ملت کا حصہ سمجھتی تھی،مگر اس کے باجود زمینی حقائق یہ تھے کہ اس نے مقامی ہندو تہذیب کا گہرا اثر قبول کیا تھااور اسی کا نتیجہ تھا کہ مسلم ہندو ثقافت کے امتزاج سے اس کا ایک نیا چہرہ ابھررہا تھا۔اس میں ہندو کلچراوراس کی توہم پرستی کے گہرے اثرات بھی تھے اور مسلمانوں کی مروج مذہبیت، یعنی فقہ، تصوف اور ان کے تہذیبی عناصر بھی شامل تھے۔یہ وہ دور تھا، جب علم کا سورج مغرب سے طلوع ہونے لگا تھا ، مگر یہاں جہالت کی تاریک رات اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔اہل اقتدارکا مقصد اپنی سلطنت کی توسیع و حفاظت اور اہل علم و مذہب کا کام رائج علوم کی تقلید اور انھیں بیوروکریسی مہیاکرنا تھا۔یہ وہ حالات تھے جن میں قوم اپنی زندگی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئی۔

____________