دوسری بحث


دور تشکیل: محمد بن قاسم (اا۷ء) سے اورنگ زیب (۱۷۰۷ء) کے عہد تک


مسلمانوں نے بحیثیت فاتح پہلی دفعہ محمد بن قاسم کی زیر قیادت ۷۱۱ء میں دیبل کے راستے ہندوستان میں قدم رکھا۔ مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدم سندھ اور ملتان تک جاپہنچے۔ اس کے حسن سلوک کی بدولت فاتحین نے دھرتی کے بعد لوگوں کو بھی فتح کرنا شروع کردیا، مگر اس سے پہلے کہ اسلام کی کرنیں اس پورے برعظیم کو روشن کرتیں، سلیمان جیسا خود پرست اور کوتاہ نظر شخص خلافت دمشق کے تخت پر فائز ہوا۔ ذاتی عناد میں اندھا ہو کر اس نے اندلس اور سندھ کے فاتحین ہی نہیں ، بلکہ اسلام کی تاریخ اور ان خطوں کی تقدیر کو بھی اپنے نامۂ اعمال کی طرح سیاہ کردیا۔ اس نے اندلس اور سندھ کے عظیم فاتحین کوواپس بلاکر قید اور موت کے حوالے کردیا،جس کے بعد ان علاقوں میں صدیوں کے لیے اسلام کی پیش قدمی رک گئی۔ اور جب صدیوں بعد شروع ہوئی تو براعظم یورپ اور برعظیم ہند کے دوسرے کناروں سے۔ جب مشرقی یورپ کو عثمانی ترکوں اور شمال مغربی ہندوستان کو افغان سرداروں نے فتح کیا، مگر ان کی کامیابیاں زمینی فتوحات تک محدود رہیں اور قرون اولیٰ کی طرح انسانی دلوں کو فتح نہ کرسکیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب مسلمانوں کی تلوار کمزور ہوئی توغیر مسلموں نے بلا تاخیر انھیں اقتدار سے باہر کردیا۔
محمد بن قاسم کے تقریباً تین سو سال بعد ہند پر مسلمانوں کی دوسری یلغار کا آغاز ہوا۔۴ ۹۹ء سے ۱۰۲۱ء تک سبکتگین اور محمود غزنوی کے حملوں کے نتیجے میں پشاور اور لاہور تک مسلمانوں نے قدم جمالیے ،لیکن ہند کی پہلی مسلم حکومت ۱۱۹۳ء میں سلطان محمد غوری نے قائم کی۔ ۱۲۰۶ء سے لے کر ۱۵۲۶ء تک سلاطین دہلی کا زمانہ ہے جس میں خاندان غلامان کے علاوہ خلجی، تغلق، سادات اور لودھی خاندان تخت دہلی پر براجمان رہے۔بیچ میں تیمور نے یہاں چنگیزی بربریت کا بازار گرم کیا۔ آخرکار ۱۵۲۶ء میں بابر نے عظیم مغل حکومت قائم کی جس نے ہند میں مسلم اقتدار کو اس کی آخری بلندی پر پہنچادیا۔ اس سلسلہ کی آخری عظیم کڑی اورنگ زیب عالم گیر (متوفی ۱۷۰۷ء) تھا۔اس عالی ہمت حکمران کے ساتھ ہی باہر سے آنے والے مسلم حکمرانوں کے اقتدار کا سورج گہناگیا۔
۷۱۱ء سے ۱۷۰۷ء تک کے قریباً ہزار سالہ دور میں برصغیر میں ایک جدید قوم کا ظہور ہوا جو اپنے مذہب، تہذیب، تمدن، روایات، نظام اخلاق اور ثقافت کی بنیاد پر اپنی ایک الگ شناخت رکھتی تھی۔ اس کا پہلا اظہار اس وقت ہوا، جب اکبراعظم نے ہندوستان کو ایک اکائی جان کر یہاں ایک متحدہ قومیت کو، اپنے دیے ہوئے دین اکبری کی بنیاد پر ، فروغ دینا چاہا۔ حضرت مجدد الف ثانی نے اس مسلم قوم کے تشخص کے دفاع کے لیے جو کچھ کیا، وہ محض ان کا شخصی کارنامہ نہیں تھا ، بلکہ ان کے پیچھے اس نئی قوم کے اکابرین بھی کھڑے ہوئے تھے۔ دور تشکیل کا یہی عرصہ ہے جس میں ہند کی مسلم قومیت کے اجتماعی مزاج نے جنم لیا۔

____________