جو قومیں دور تعمیر میں پیش آیندہ چیلنجز کا سامنا کامیابی سے کرتی ہیں ، اس کا ثمر ان کی نسلیں دورترقی و استحکام میں چکھتی ہیں۔تعمیر کے پرپیچ اور ناہموار راستوں سے گزرنے کے بعد استحکام کا وہ ہموار دور آتا ہے جس میں زندگی کی گاڑی انتہائی تیزی سے آگے کی سمت دوڑتی ہے۔ قوم پچھلے مرحلے کی کامیابیوں کے نشے سے چور ہوتی ہے۔ اس کے زخم اسی طرح بھرتے ہیں، جس طرح کسی نوجوان کے زخم تیزی سے مندمل ہوتے ہیں۔ اپنے اوپر اس کا اعتماد غیر معمولی ہوجاتا ہے۔ اب اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے بازوؤں میں کتنا زور ہے۔ چنانچہ بنو امیہ کی مندرجہ بالا مثال میں ہم دیکھتے ہیں کہ بحران سے نمٹنے کے فوراً بعد، عبد الملک کے بیٹے ولید کے دور میں مسلمان ایک طرف اسپین اور ہندوستان میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اوردوسری طرف ان کی فتوحات کا سیلاب چین تک پہنچ گیا۔
اس دور میں قوم کا ہر فرد بایقین ہوتا ہے اور پوری قوم مل جل کر قومی تعمیر کے کام میں حصہ لیتی ہے۔ اول تو راہ کی مشکلات، خصوصاً اندرونی مشکلات، پیش نہیں آتیں، اور اگر آتی بھی ہیں تو قوم ایک اجتماعی جذبہ سے ان کا سامنا کرتی ہے۔ اس دور میں زندگی کا نظام مستحکم ہوتا ہے۔ ادارے فروغ پاتے ہیں۔ معاشی ترقی ہوتی ہے۔ امن وامان کی کیفیت بہت اچھی ہوتی ہے۔دنیا کے سامنے ایک طاقت ور قوم کا نقشہ سامنے آنے لگتا ہے۔ ہمارے پڑوس میں واقع چینی قوم اس وقت ٹھیک اسی مرحلے سے گزر رہی ہے۔
اس مرحلے پر قوم کے سامنے دو طرح کے حالات آتے ہیں:ایک یہ کہ ترقی و استحکام کا یہ سلسلہ طویل عرصہ تک یونہی جاری رہتا ہے اور قوم اس کی عادی ہوجاتی ہے۔ آنے والی نسلیں اس سکون کے زیر اثر اس توانائی سے محروم ہونا شروع ہوجاتی ہیں جس کے سہارے ان کے آبا نے یہ استحکام حاصل کیا تھا۔قوم کو کوئی داخلی یا خارجی چیلنج درپیش نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں وہ بلند نظر قائدین پیدا ہوتے ہیں جو اس کے سامنے بلند تر مقاصد رکھیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس قوم نے اپنا عروج دیکھ لیا اور اب اس کے قویٰ کو زنگ لگنے لگا ہے۔اس کے بعد انحطاط کے اس دور کا آغاز ہوجا تاہے جس پر ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے۔ہمارے اپنے دور میں اس کی ایک بڑی اچھی مثال جاپانی قوم کی ہے۔ جس کی ترقی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے خیال کیا جارہا تھا کہ یہ مستقبل کی ایک عظیم حکومت اور ایک سپر پاور کی شکل اختیار کرے گی ۔ اس معاملے میں حتمی طور پر کچھ کہنا تو قبل از وقت ہوگا ، لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا دور انحطاط شروع ہو چکا ہے۔
دوسرا امکان یہ ہوتا ہے کہ عین اس دور میں جبکہ قوم اپنے شباب پر ہو،اس کے سامنے ایسے حالات پیش آئیں جو اسے اپنی توانائیوں کے استعمال کا بہترین موقع فراہم کردیں۔ جس کے بعد وہ قوم عروج کی اس منزل کی طرف بڑھتی ہے جسے ہم آج کی زبان میں سپر پاور کا منصب کہتے ہیں۔

____________