اس دور میں سیاسی ہنگامہ آرائی بہت زیادہ رہی، لیکن دوسرے میدانوں میں بھی کام کا سلسلہ جاری رہا، اردو زبان کے حوالے سے شعر و ادب کی طرف ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں۔مسلمانوں کی علمی اور دینی روایت میں بھی ارتقا ہوا ۔علی گڑھ، دیوبند اور ندوہ صرف تین اداروں کے نام ہی نہیں، بلکہ تین دینی، علمی، تہذیبی روایات کے نام ہیں جوبعد میں پاکستانی قوم کے مزاج پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوئے۔ یہ بالترتیب مغربیت، قدامت پرستی اوردین و دنیا کی یکجائی میں ڈھل گئے، تاہم جیسا کہ ہم آگے بتائیں گے کہ فی الوقت اول الذکر دو انتہائیں ہی باقی رہ گئی ہیں اور عملاًاعتدال کی راہ مفقود ہوچکی ہے۔
بہرحال، قیام پاکستان تک قوم کے مزاج میں جو مزید عنصر داخل ہو گئے ، ان میں سب سے اہم مسلم قوم کی مذہبی فکر کو مضبوط علمی بنیادوں کا میسر ہونا تھا۔علم کی روایت دین و دنیا، دونوں اعتبارات سے مستحکم ہوئی۔ایک طرف قرآن کریم اور بالخصوص حدیث کا چلن عام ہوا تو دوسر ی طرف مغربی تعلیم کے زیر اثر ہماری اشرافیہ میں مغربی تہذیب وفکر کا نفوذبہت زیادہ ہو گیا، تاہم ایک بڑا طبقہ ان لوگوں کا تھاجو قدامت اور جدت میں ایک توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔اس عرصہ میں مسلمان اقتدار کے تحفظ سے محروم اور اکثریتی فرقہ کی طرف سے خدشات میں مبتلا تھے، اس لیے ہندوؤں کے بالمقابل ایک قومی عصبیت نے ان تمام اندرونی اختلافات کو ڈھانک دیا جو آنے والے دنوں میں پوری طرح نمایاں ہوکر سامنے آئے۔اس دور میں ہندی مسلمانوں کی طرح پوری ملت اسلامیہ سامراجی شکنجے میں جکڑی جاچکی تھی ،اس لیے یہاں کے مسلمانوں نے ان کے درد کو اپنا درد جانااور امت سے ان کی وابستگی میں اضافہ ہوا،تاہم بدقسمتی سے گہرے تجزیہ کے بجاے مسلمانوں کی قیادت پر جذباتی انداز سے معاملات کو دیکھنے کارجحان غالب رہا اور وہ یہ نہ جان سکے کہ ماضی میں زوال کیوں آیا تھا اور مستقبل اپنے دامن میں کیا مسائل لیے آ رہا ہے۔

____________