دور عروج کی ہر چیز بہت اچھی ہوتی ہے ،سواے اس کے کہ اس کے ساتھ زوال لازمی لگا ہوتا ہے۔عروج کی یہ عجیب و غریب تاثیر ہے کہ وہ غیر محسوس طریقے پر بہت جلد انحطاط میں بدل جاتا ہے۔اس دور کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں بلند نظر افراد پیدا ہونا ختم نہیں تو کم ضرور ہوجاتے ہیں۔ اور جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، ان کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے۔تاہم دورانحطاط کی کوئی ظاہری علامت نہیں ہوتی ، بلکہ عیش وعشرت، فارغ البالی اور آسانی و راحت میں یہ دور باقی تمام ادوار سے بڑھا ہواہوتا ہے۔ اجتماعی طور پر ایک سکون کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ظاہر بین نگاہیں تو حالات دیکھ کر یہ اندازہ بھی نہیں کرسکتیں کہ انحطاط شروع ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ گویا قوم دور استحکام میں جی رہی ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ عروج کی چڑھائی کے فوراً بعد قوم کی گاڑی آہستہ آہستہ اس راستے پر آجاتی ہے جو ایک غیر محسوس ڈھلان پر واقع ہوتا ہے، اور یہ زوال کی ڈھلان ہوتی ہے۔
دور انحطاط کی ایک اچھی مثال خلافت عثمانیہ کے تاج دار سلیمان عالی شان کے دور حکومت کے بعد کا زمانہ ہے۔سلیمان اعظم کا اقتدار دنیا کے تین براعظموں پر محیط تھا۔ اس وقت تک خلافت عثمانیہ کوتقریباً تین سوسال ہوچکے تھے اور وہ تین سو سال تک مزید اقتدار میں رہی۔ سلیمان کے مرنے کے فوراً بعد اس کے اقتدار میں کوئی فرق نہیں پڑا ، بلکہ یورپ کو عثمانیوں کے خلاف اپنی پہلی فتح حاصل کرنے کے لیے مزید ایک صدی کا انتظار کرنا پڑا۔ لیکن اس دوران میں خلافت کا دور انحطاط شروع ہو چکاتھا۔ اس کے خاتمے میں اتنی دیر اس لیے ہوئی کہ یورپ نے نیند سے بیدار ہونے میں کافی وقت لیا۔
موجودہ زمانے میں اس دور کی ایک بڑی ا چھی مثال امریکا کی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ امریکا نے اپنے عروج کی انتہا دیکھنے کے بعد انحطاط کی ڈھلان پر قدم رکھ دیا ہے۔تاہم امریکی قیادت انتہائی زندہ لوگوں پر مشتمل ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انحطاط کے عمل کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ قوم کے سامنے ہمہ وقت کوئی نہ کوئی چیلنج رہنا چاہیے۔ چنانچہ وہ اپنی سہولت سے کوئی سافٹ ٹارگٹ چنتے ہیں اور اس کو قوم کے سامنے چیلنج کے طور پر پیش کردیتے ہیں۔ اس سافٹ ٹارگٹ کو ختم کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، مگر وہ اسے مشکل سے مشکل بناکر اپنی قوم کو دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد اس پر ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو ان کے انحطاط کو نمایاں نہیں ہونے دے رہا ، بلکہ ان کے عروج کے عظیم تر اور طویل تر ہونے کا تاثر دے رہا ہے۔ 

____________