مولانا محترم لکھتے ہیں:

’’اب آخر میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دور حاضر کی مسلم حکومتیں، نام نہاد جمہوری حکومتیں، آمرانہ حکومتیں اور بادشاہتیں حسب ذیل وجوہ کی بنا پر الجماعت نہیں ہیں:
۱۔ نام نہاد جمہوری حکومتوں میں ان ملکوں میں آباد غیر مسلم بھی برابر کے شریک ہیں، جبکہ ’الجماعت‘ کا اطلاق صرف مسلمانوں کی جماعت پر ہوتا ہے۔
۲۔ ان میں سے کسی حکومت میں نہ دنیا کے تمام مسلمان شریک ہیں، نہ سواد اعظم۔ ان حکومتوں میں صرف ان لوگوں کو شرکت کی اجازت ہے، جو مخصوص جغرافیائی حد کے اندر رہتے ہوں۔ اس سے باہر رہنے والا کوئی مسلمان محض مسلمان ہونے کی بنا پر اس الجماعت میں شریک نہیں ہو سکتا جو سراسر الجماعت کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔
۳۔ احادیث صحیحہ کی رو سے نیز خود لفظ ’الجماعت‘ سے واضح ہے کہ مسلمانوں کی الجماعت سارے عالم میں بس ایک ہی جماعت ہو سکتی ہے۔ بیک وقت کئی الجماعتوں کا وجود تناقض فی الاصطلاح ہے۔ نیز اس سے لازم آتا ہے کہ ایک حکومت میں رہنے والا مسلمان ’الجماعت‘ میں شامل ہونے کی وجہ سے الجماعت میں شمولیت کی بشارتوں کا بھی مستحق ہو اور دوسری الجماعتوں میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے وعیدوں کا مستحق بھی۔
۴۔ ان میں سے کسی ریاست یا حکومت سے الگ ہو کر کسی دوسرے ملک میں چلا جانے والا یا ان میں سے کسی ریاست سے اختلاف رکھنے والا کوئی شخص نہ واجب القتل ہے، نہ اس کی علیحدگی جہنم کی طرف لے جانے والی ہے، نہ اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔‘‘ (۳۵)

مولانا محترم کے ان نکات میں سے دوسرے اور تیسرے نکتے کا ہم پہلے تجزیہ کر چکے اور ان کے بارے میں اپنی معروضات مولانا کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔ یہاں ہم پہلے اور چوتھے نکتے پر غور کریں گے۔
مولانا محترم کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ’الجماعت‘ مسلمانوں کی صرف اسی مملکت کو کہا جا سکتا ہے جس میں غیر مسلم شریک نہ ہوں۔ جس مملکت میں غیر مسلم بھی برابر کے شریک ہوں، اسے ’الجماعت‘ نہیں کہا جا سکتا۔
پہلے تما م نکات کی طرح مولانا کے اس نکتے کے حوالے سے بھی ان سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ہمیں دین و شریعت کی ان واضح نصوص سے آگاہ فرما دیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ’الجماعت‘ میں غیر مسلموں کی شرکت ممنوع ہے۔ ہم تو اب تک یہی سمجھتے رہے ہیں کہ جہاں تک معاہدین کا تعلق ہے، ان کے حوالے سے شریعت نے یہ آزادی دے رکھی ہے کہ ان کے ساتھ عدل و انصاف اور باہمی مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے جن شرائط پر بھی معاہدہ طے پا جائے گا، دونوں فریق اس معاہدے کو پورا کرنے کے پابند ہوں گے۔ اگر ہماری یہ بات صحیح نہیں ہے تو پھر مولانا ہی بتائیں کہ شریعت نے معاہدین کے کیا حقوق و فرائض متعین کیے ہیں او ردور حاضر کے ’نام نہاد‘ مسلمان ممالک کن کن پہلوؤں سے ان حقوق و فرائض میں کمی بیشی کے مجرم ہیں۔ مزید یہ کہ مولانا محترم مہربانی فرما کر یہ بھی واضح فرما دیں کہ اگر فی الواقع غیرمسلموں کی شرکت سے ایک ریاست ’الجماعت‘ کہلانے کی مستحق نہیں رہتی تو پھر میثاق مدینہ میں یہود کی دینی حیثیت کو تسلیم کرنے، ریاست کی سطح پر ان کے حقوق و فرائض کو تسلیم کرنے اور انھیں سیاسی حیثیت سے اس ریاست کا فرد قرار دینے، یہاں تک کہ بعض حالات میں مسلمانوں کو ان کے کیے ہوئے صلح کے معاہدوں کا پابند کرنے کے بعد، مدینہ کی ریاست کس اصول پر ’الجماعۃ‘ کہلائے گی؟
مولانا محترم کا چوتھا نکتہ یہ ہے کہ چونکہ مسلمان ممالک میں سے کسی ایک کو چھوڑ کر دوسرے میں چلے جانے سے کوئی شخص واجب القتل ہوتا ہے، نہ اس عمل پر اسے جہنم کی وعید سنائی جا سکتی ہے اور نہ اس کی موت کو جاہلیت کی موت قرار دیا جا سکتا ہے، چنانچہ یہ بات اس کا واضح ثبوت ہے کہ یہ اسلامی ممالک ہوں یا ان میں بسنے والے شہری، کوئی بھی ان ممالک کو ’الجماعۃ‘ نہیں سمجھتا۔
ہم بڑے ادب کے ساتھ مولانا محترم سے یہ گزارش کریں گے کہ روایات میں جس چیز کو ’خرج من الطاعۃ‘ یا ’فارق الجماعۃ‘ یا ’خرج من الجماعۃ‘ کہا گیا ہے، اس سے مراد محض ایک جگہ سے منتقل ہو کر دوسری جگہ چلے جانا یا ایک ملک سے کسی دوسرے ملک کی طرف ہجرت کر جانا نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ انھی روایتوں سے واضح ہے کہ اس سے مراد نظم کو درہم برہم کرنا، ریاست کے معاملات میں خلل ڈالنا، ریاست کے شہریوں کے جان و مال کو تلف کرنا، ریاست کے قانون کو ماننے سے انکار کرنا، ریاست کی نمائندہ حکومت کا تختہ الٹنا، غرض کہ ریاست کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا ہے۔ خاموشی کے ساتھ اور پر سکون طریقے سے ایک ملک کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک منتقل ہو جانے کے لیے یہ الفاظ نہیں بولے گئے۔ چنانچہ جن روایتوں میں یہ الفاظ آئے ہیں، ان پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان سے مراد ریاست کا نظم درہم برہم کرنا ہی ہے (تفصیل کے لیے ہمارے مضمون کے پہلے حصے پر ایک نظر ڈال لیجیے) اور ہمارے علم کی حد تک موجودہ دور میں بھی تمام اسلامی ممالک میں اس قسم کے جرم کی سزا موت ہی ہے۔
مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ہماری ان معروضات پر غور فرمائیں۔ ان میں وہ اگر کوئی غلطی پائیں تو ہمیں اس سے ضرور آگاہ فرمائیں۔ ’’اشراق‘‘ کے صفحات اس معاملے میں ان کے فرمودات کی اشاعت کے لیے ہر وقت حاضر رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ و مامون رکھے۔

[۱۹۹۹ء]

____________