طبع اول ۲۰۰۴ء (انگریزی ایڈیشن)

ابتداءً یہ تحریر ایک مضمون کی صورت میں مصنف کی کتاب ’ Paran Prophecy of the Bible Regarding The Prophet of Islam ‘ کے ضمیمے کے طور پر لکھی گئی تھی۔ جب مصنف نے اسے ایک مضمون کی شکل میں جناب جاوید احمد غامدی،سر پرست اعلیٰ، ادارۂ علم و تحقیق، المورد کو پیش کیا تو انھوں نے اس بات کی ترغیب دلائی کہ اس موضوع پر مزید تحقیق کی جائے اوراگر مواد مناسب ضخامت اختیار کرلے تو اس کو ایک مکمل کتاب کی شکل میں شائع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مشورے کے مطابق اس موضوع پر تفصیلی مطالعہ و تحقیق کا آغاز کر دیا گیا۔ متعدد مرتبہ ان کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ان سے رجوع کیا گیا۔ نماز عصر کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اکثر اوقات وہ اس کی ترتیب کے سلسلے میں پیش آمدہ مشکلات چند جملوں میں حل کر دیتے تھے۔ اس کام کے دوران میں جاوید صاحب مصنف کی مسلسل رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ مصنف ان کا نہایت ممنون ہے۔
یہ کتاب نہ تو مناظراتی نوعیت کی ہے اور نہ ہی کوئی عام سی معلوماتی تصنیف۔ یہ ایک ایسے مسئلے کو سلجھانے کی معروضی اصولوں پر مبنی کاوش ہے جو طویل عرصے سے زیر بحث رہا ہے۔ اس بات کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ کسی لفظ یا نظریے کی وضاحت یا کوئی دعویٰ بغیر کسی مستند حوالے کے پیش نہ کیا جائے ۔ ہر بات کی وضاحت اتنی مدلل اور مفصل ہے کہ کسی کو یہ شکایت یاگمان نہ ہو سکے کہ وضاحت ناکافی یایک طرفہ ہے۔ اس کے علاوہ حوالوں کو بغیر کسی جوڑ توڑ کے نہایت ایمان داری سے اپنی اصل حالت میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک فاضل دوست نے شکوہ کیا ہے کہ اس میں ’حوالہ جات کی بھرمار‘ ہے۔ مصنف کو اس بات کا پورا احساس ہے، لیکن کتاب کی نوعیت ہی کچھ ایسی ہے کہ یہ حوالے قریباً ناگزیر تھے اور ان سے گریزنا ممکن تھا۔ ہو سکتا ہے بعض مقامات پر قاری مواد میں تکرار محسوس کرے،لیکن ایک تو موقع ومحل کا تقاضا تھا کہ اس کا ذکر کیا جائے، دوسرے یہ بھی پیش نظر تھا کہ قاری ایسی بلاوجہ کی ورق گردانی سے بچ جائے جو موضوع کی تاثیر اور دلچسپی ختم کرنے کا موجب ہو۔ امید ہے کہ اس کا بغور مطالعہ بہت مفید ثابت ہوگا۔ کتاب کی مزید بہتری کے لیے مناسب تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا اورمتعلقہ سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اگر اس ’اکلوتے بیٹے‘ کو، جسے قربانی کے لیے پیش کیا جانا تھا ،اس بات کی خبر ہی نہ ہو تو یہ قربانی اس کے لیے کسی اعزاز کا موجب نہیں ہو سکتی تھی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بائبل کے بیان کے مطابق حضرت اسحاق ؑ کو اُس وقت تک قربانی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا، جب تک ان کو اس مقصدسے ’عقیدہ‘۱؂تک پہنچا نہ دیا گیا، جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کے مطابق ’اکلوتے بیٹے‘ کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا تھا اور اس نے پورے اطمینان سے اسے قبول کیا تھا۔ بلاشبہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اکلوتابیٹا انتہائی فرض شناس ہے اوراللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے والد کے حکم کی تعمیل کے سلسلے میں سر تسلیم خم کرنے والا ہے۔ یہ یقیناًایک قابل تحسین بات ہے،لیکن مسلمان اس کی وجہ سے اُن کی برتری کا دعویٰ نہیں کرتے۔ وہ اس واقعہ کو حضرت ابراہیم ؑ کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمایش میں سُرخ رُوئی اوران کی فرض شناسی کے حوالے سے دیکھتے ہیں اور اسے ایک بیٹے کامستحسن اقدام سمجھتے ہیں، جس نے اپنے باپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داری کی تکمیل کے لیے بغیر کسی حیلہ و حجت کے سر تسلیم خم کر دیا ۔
کچھ مسلم علما اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ حضرتِ ابراہیم ؑ نے اپنے جس بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیاتھا، وہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ اس معاملے میں ان کا انحصار کلیۃًبائبل ہی پر ہے۔ یہ واقعہ جنوبی ایشیا کے ایک مسلمان عالم امام حمید الدین فراہیؒ ۲؂ نے اپنی کتاب ’الرای الصحیح فی من ھوالذبیح‘ میں ہمیشہ کے لیے پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ یہ ساڑھے آٹھ x ساڑھے پانچ انچ سائز کے۱۶۴ صفحات پر مشتمل ایک عربی کتاب ہے، جو دارالقلم، دمشق سے ۱۹۹۹ ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کی موجودگی میں ناچیز مصنف کو اس موضوع پرمزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ جو اربابِ علم اس سلسلے میں تفصیل کے طالب ہوں، وہ امام فراہیؒ کی مذکورہ کتاب سے رجوع فرمائیں۔
’بیر سبع‘ پر بھی ایک ضمیمہ شامل کتاب ہے، جسے کتاب ہی کاایک حصہ سمجھنا چاہیے۔ ’بیر سبع‘ کا لفظ بائبل میں ’زم زم‘ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ کتاب کا مضمون اس بات کا متقاضی تھاکہ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی جائے۔ چنانچہ جب اس موضوع پر تفصیلی کام کیا گیا تو اس نے ایک الگ اور مستقل بالذات مضمون کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ اسے کتاب میں ایک ضمیمے کے طور پر شامل کر لیا گیا۔
کتاب کی تدوین کے سلسلے میں اصل موضوع کی تکمیل کے ساتھ ساتھ متعدد ضمنی مباحث پر بھی تحقیق کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس کے نتیجے میں کتاب کے موضوعات کا دائرہ کافی وُسعت اختیار کر گیا، لیکن اس سلسلے میں جس نکتے پر بھی گفتگو کی گئی ہے، وہ اپنی جگہ کتاب کے موضوع سے متعلق بھی ہے اور اُس مقام پر اس کی ضرورت بھی تھی۔ اِس کی وجہ سے کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح اس میں مندرجہ ذیل ذیلی اور ضروری مباحث پر گفتگو کی گئی ہے:


۱۔ بائبل کے مطابق’ مکے ‘کا محل وقوع۔
۲۔ بائبل میں’ مکے کے حج‘ کا ذکر۔
۳۔ بائبل کے مطابق ’المروہ‘ کا محل وقوع۔
۴۔ حضرت داؤد کا ’مکے کا حج‘ ۔
۵۔ بائبل کی کتاب یسعیاہ میں مکے میں قربانیوں کا ذکر۔
۶۔ چاہِ زم زم۔
۷۔ ہیکلِ سلیمانی کا مختصر تعارف۔
۸۔ حضرت ہاجرہ کا باندی نہیں بلکہ ایک شہزادی ہونا ۔
ان مباحث سے کتاب کی قدر وقیمت اور افادیت میں اضافہ ہوا ہے۔
اصل انگریزی کتاب میں۸۰(اسّی)صفحے کا ایک اور ضمیمہ بھی ’متن بائبل اور اس میں تحریف کی چند صورتیں‘ (The Text of the Bible and Some Types of Corruption in It) کے نام سے شاملِ کتاب تھا، لیکن اُردو ترجمے میں اسے حذف کر دیا گیا ہے۔ اس پر مزید تحقیق جاری ہے اور اسے ان شاء اللہ ایک مستقل اور مفصل کتاب کی صورت میں الگ سے شائع کیا جائے گا۔

عبد الستار غوری
المورد، اِدارۂ علم وتحقیق، لاہور

______

 

 

حواشئ دیباچہ


۱؂ دی اسٹینڈرڈ جیوئش انسا ئیکلوپیڈیا(The Standard Jewish Enc.) ایڈیٹر ڈاکٹر سیسل روتھ ، مطبوعہ لندن: ڈبلیو ایچ ایلن، ۱۹۵۹ء میں صفحہ ۶۱ پر’ عقیدہ‘ کی یوں وضاحت کی گئی ہے:

(Heb. \'binding\'): Traditional designation of Abraham\'s intended offering of Isaac (Gen. 22), the consummation of which was prevented at the last minute by Divine intervention.

(عبرانی میں ’باندھنے‘کے لیے)روایتی طور پر یہ لفظ[حضرت] ابراہیم ؑ کے [حضرت] اسحاقؑ کو قربانی کے لیے پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے(کتابِ پیدایش ۲۲)، جسے آخری لمحے پر اللہ تعالیٰ نے مداخلت کر کے پایۂ تکمیل تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔

اس لفظ کا بھی وہی سہ حرفی مادہ ہے جو عربی کے ’عقد یعقد عقدًا‘ کا ہے۔ ا س کے معنی ہیں باندھنا یا گرہ لگانا(معن زلفو مدینہ، عربی انگلش ڈکشنری، نیویارک: پاکٹ بکس،۱۹۷۳ء)۔اس میں حضرت ابراہیم ؑ کے اپنے بیٹے حضرت اسحاق ؑ کو سوختنی قربانی کے لیے پیش کرنے کی غرض سے ’باندھنے‘ کی طرف اشارہ ہے۔
۲؂ امام حمید الدین فراہیؒ ( ۱۸۶۲ء۔۱۹۳۰ء) انڈیا میں ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں پھریہا ( فراہی کا لفظ اسی سے ماخوذ ہے) میں پیدا ہوئے۔ جب وہ ایم اے او کالج علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے تو انھوں نے ابن سعد (۷۸۴ء۔ ۸۴۵ء) کی اسلامی تاریخ پر شہرۂ آفاق کتاب’طبقات الکبریٰ‘ کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ ان کا یہ ترجمہ اتنا عمدہ تھاکہ کالج کے بانی اور سرپرست اعلیٰ سرسید احمد خان نے اسے کالج کے نصاب میں شامل کر لیا۔ امام فراہی نے بی اے الٰہ آباد یونیورسٹی سے کیا۔ ایم اے او کالج علی گڑھ میں عربی کی تدریس کے زمانے میں انھوں نے جرمن مستشرق جوزف ہورووِٹز (۱۸۷۴ء۔ ۱۹۳۱ء) سے، جو وہاں ان کے ساتھ عربی کے پروفیسر تھے، عبرانی زبان سیکھی۔ ۱۹۲۵ء میں مدرستہ الاصلاح کی سربراہی کا منصب سنبھالا۔ وہاں انھوں نے اپنے بعض شاگردوں کی اس طرح تربیت کی کہ وہ عربی زبان و ادب ، علوم اسلامیہ اور تاریخ کے عظیم علما کے طور پرمشہور ہوئے۔ امین احسن اصلاحی ؒ ان کے ایسے ہی ایک شاگرد تھے جو بعد میں ان کے افکار کے سب سے بڑے شارح قرار پائے۔ امام فراہی نے اپنی زندگی کے تقریباً پچاس سال قرآن کے تحقیقی مطالعہ پر صرف کیے۔ قرآن کی تشریح کے سلسلے میں ان کی سب سے نمایاں خدمت یہ ہے کہ انھوں نے نظمِ قرآن کو ایسے مربوط انداز میں پیش کیاکہ ان سے پہلے اس کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ انھوں نے ثابت کیا کہ نظمِ قرآن کے تین عناصر(۱۔ ترتیب،۲۔ تناسب، ۳۔وحدت) کے گہرے مطالعے کے نتیجے میں قرآنی الفاظ و آیات کی ایک ہی تاویل ممکن ہے۔ انھوں نے عربی زبان کے متعدد ایسے قواعد و مناہج کو نئے انداز میں مرتب کیا ،جو قرآن کے تحقیقی مطالعہ کے سلسلے میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ امام فراہیؒ کی اکثر وبیشتر تصانیف عربی زبان میں ہیں،مثلاً ’مجموعۂ تفاسیر فراہی‘ ( یہ قرآن کی چودہ چھوٹی سورتوں کی تفسیر ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے کیا ہے)؛ ’مفردات القرآن‘( اس میں قرآن کے بعض مشکل الفاظ کی جاہلی دور میں عربی زبان کی ادبی روایت اور اسالیب کی روشنی میں تشریح کی گئی ہے)؛ ’الإمعان فی اقسام القرآن‘؛ ’الرای الصحیح فی من ھو الذبیح‘؛ ’جمہرۃ البلاغہ‘؛ اسالیب القرآن‘؛ ’دلائل النظام‘؛ ’اسباق النحو‘؛ ’اصول التاویل‘؛ ’فی ملکوت اللّٰہ‘؛ ’القائد الٰی عیون العقائد‘؛ ’حجج القرآن‘ اور ’کتاب الحکمۃ‘۔ ان کی بعض کتابوں کے اردو اور انگریزی میں ترجمے بھی ہوئے ہیں۔ ان کی کتاب ’الرای الصحیح فی من ہو الذبیح‘ کا حال ہی میں جناب نادر عقیل انصاری نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے کیا تھا جو ۱۹۷۵ء میں’ذبیح کون ؟‘ کے نام سے لاہور سے شائع ہوا۔

________