ابتداءً یہ کتاب ۲۰۰۴ء میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد مصنف کو چند ارباب علم کی طرف سے بیش قیمت تجاویز موصول ہوئیں۔ برصغیر اور کچھ دوسرے ممالک کے موقر جرائد میں اس پر قابلِ قدر تبصرے بھی شائع ہوئے۔ ان کی روشنی میں اور مزید تحقیق کے بعد جہاں ضرورت محسوس ہوئی کتاب کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ مصنف ان تمام ارباب علم کا شکر گزار ہے جنھوں نے از راہ کرم تبصرے لکھے اور تجاویز پیش کیں۔ مصنف نے بذاتِ خود بھی کتاب کا تنقیدی نظر سے مطالعہ کیا اور جہاں مناسب خیال کیا، اصلاح اورنظر ثانی کردی ۔
کتاب میں بعض مواقع پر قدرے طویل انگریزی اقتباسات دیے گئے ہیں۔اسی طرح بعض اشخاص واماکن کے ناموں کے ساتھ اُن کا انگریزی تلفظ بھی درج کیا گیا ہے۔ اس سے بظاہر کتاب قدرے گراں بار نظر آتی ہے، لیکن اس کی افادیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ جو حضرات محض حصولِ معلومات کے لیے کتاب کا مطالعہ فرمائیں گے، اُن سے مصنف معذرت خواہ ہے کہ انھیں اس کی وجہ سے خواہ مخواہ زحمت ہو گی،لیکن مصنف کی مجبوری یہ ہے کہ اُس نے یہ کتاب علمی اور تحقیقی حلقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر لکھی ہے اوراس کی وجہ سے اُنھیں اصل مآخذ ومراجع سے رجوع میں آسانی رہے گی۔
کتاب میں ’یروشلم کی مختصر تاریخ‘ کے عنوان سے ایک ضخیم ضمیمے کااضافہ بھی کیا گیاہے۔ مصنف نے اپنے بیٹے ڈاکٹر احسان الرحمن غوری، شعبۂ اسلامیات، پنجاب یونیورسٹی کو یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ الحمد للہ انھوں نے بطریقِ اَحسن اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ مصنف نے ان کے اس مقالے کا بنظر غائر مطالعہ کرکے بعض تجاویز پیش کیں، جن پر انھوں نے خوش اسلوبی سے عمل کیا۔ انھوں نے حواشی کا ایک انڈکس بھی تیار کیا جس سے کتاب کی افادیت میں قابل قدر اضافہ ہوا۔ مصنف اُن کے اس عالمانہ تعاون کا شکر گزار ہے ۔
جناب عثمان سبحان غوری اور ڈاکٹر احسان الرحمن غوری نے بڑی محنت اور نہایت ذمہ داری سے کتاب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ الحمد للہ اُن کی یہ کاوش اطمینان بخش اور لائق تحسین ہے۔
 

چند تبصروں سے اقتباسات
 

What makes Ghawri\'s work of particular relevance is his almost total, albeit deliberate, reliance on the Bible and the works of Biblical scholars to prove his point.(...). Indeed, the extensive footnotes to which the attention of the reader is constantly invited in almost every page of the book constitutes a significant, if not a major, part of the work itself.(...). Of especial consideration, with regard to Ghawri\'s approach, must certainly be his eye for detail and his ability to go directly to the point; to the heart of the matter, as it were.

غوری صاحب کے کام کوجس وجہ سے خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے، وہ اُن کا اپنے نقطۂ نظر کو ثابت کرنے کے لیے کلیتاً اور ارادتاً بائبل اور اس کے علما کی تحریروں پر انحصار ہے۔ (...)۔ ذیلی حواشی، جن کی طرف کتاب کے تقریباً ہر صفحے پر قاری کی لگاتار توجہ مبذول رہتی ہے، کتاب کا ایک قابل لحاظ حصہ ہیں۔ (...)۔ غوری صاحب کی کاوش کا یہ پہلو خصوصی طور پر قابل لحاظ ہے کہ اُن کی نظر تفاصیل پر رہتی ہے اور وہ مضمون کی گہرائی میں اتر کر اس کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں ۔
( ینگ مسلم ڈائجسٹ، بنگلور انڈیا: ستمبر ۲۰۰۵ء)

*******

جناب غوری صاحب کی کتاب ذبیح، مروہ، بیر شیبا، بکہ جیسے اہم موضوعات پر بہت قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے موقف کو بہت محکم دلائل سے ثابت کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ان موضوعات پر موجود مغربی اہلِ قلم کی تحریروں سے بھرپور استفاد ہ کیا ہے۔ ان کا اندازِ گفتگو ایک مناظر کا نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ محقق کا ہے۔ (...)۔ یہ بلاشبہ ایک بہت گراں قدر علمی کوشش ہے۔ غوری صاحب اس کے لیے بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
(سہ ماہی فکرو نظر، شمارہ ۳، جلد۴۲، جنوری تا مارچ ۲۰۰۵ء،ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد)

*******

فاضل مصنف کا اسلوبِ تحریر معروضی، سائنٹفک اور تحقیقی ہے۔ انھوں نے اپنی بحثوں میں بائبل کے مختلف نسخوں، تراجم، شروح، لغات ومعاجم، اٹلس اور انسا ئیکلو پیڈیاز سے مدد لی ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک قابل قدر اضافہ ہے جس پر فاضل مصنف تحسین وتبریک کے مستحق ہیں۔
(سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی،شمارہ ۳، جلد ۲۴، جولائی تا ستمبر ۲۰۰۵ء، علی گڑھ، انڈیا)

*******

(133). Ghauri deals with this issue in a very systematic manner in 11 chapters with 3 important appendices (133).
The two main issues selected by Ghauri are: (a) which son of Prophet Ibrahim was offered for sacrifice? (Chapters I to IV), and (b) what was the place of sacrifice (Moriah or Al-Marwah) and related matters (Chapters V to XI).
Before moving further it is better to summarize the story of prophet Ibrahim. Prophet Ibrahim was a prophet of Allah. He had two wives - one, Sarah and the other Hagar (Hajirah). Noble Hajirah was an Egyptian princess, daughter of Pharaoh, who had offered her to Ibrahim. At that time Prophet Ibrahim was issueless. Hajirah gave birth to the first son of Prophet Ibrahim. His name was Ismail, to whose progeny last Prophet of Islam, Muhammad, (peace be upon him) came. Later another son of Prophet Ibrahim was born by noble Sarah. His name was Isaac, whose progeny includes Prophets like Moses, David, Solomon and Jesus. The Jews generally consider Prophet Ismail of inferior origin. As Ibrahim was a great Prophet whose life was full of sacrifices, God ordered him to sacrifice his \'only son\' or \'beloved son\' into the land of Moriah. But when finally he took the knife to slay his son, God stopped him. The Jews and Christians consider Prophet Isaac the \'only son\' referred to above for the special sacrifice. For [most of the] Muslims, it was Prophet Ismail. The Hajj Pilgrimage is based on the traditions of Prophet Ibrahim, his son Ismail and noble Hajirah\'s faiths and sacrifices at Makkah.
The author\'s methodology is simple. First he would put forward the Bible story or the claims of the Biblical scholars directly and comment on its weaknesses in the footnotes or in the text as the growth of story demands. Second, he would show its contradictions by extensively citing the criticism of Jewish or Christian scholars on the story or the thesis. Third, he would also raise questions and answer them with utmost skill. He mostly did his construction or deconstruction by using the works of Jewish or Christian scholars.
In these discussions, the author has not claimed any superiority of Prophet Ismail over Prophet Isaac. He avers, \'The Biblical scholars have taken much liberties with the interpretations of Biblical themes while depicting the characters of Ibrahim, Ismail, Isaac (133) Sarah and Hagar. The writer of the present book holds all of these great personalities equally respectable, honourable and innocent.\'
There is no doubt that the book has been written in \'vintage scholarly style\'. I would like to make a suggesstion at the end. As most of us are not familiar with Biblical historiography [or \'chronology\'?], it would be pertinent to add a chapter thereon in the beginning of the book Without this full appreciation of the book is not possible [The Chronology has now been given in Appendix on \'A Brief Account of the History of Jerusalem\']. (By Javed Ali)

(...)غوری صاحب نے اس موضوع پر کتاب کے گیارہ ابواب اور تین ضمیموں میں بڑے منظم اور حکیمانہ انداز میں گفتگو کی ہے۔ (...)۔
غوری صاحب نے جن دو اہم موضوعات کا انتخاب کیا ہے وہ ہیں: (الف) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کون سے فرزند کو قربانی کے لیے پیش کیا گیا تھا؟ (ابواب اول تا چہارم)، اور (ب) قربانی کا مقام کون ساتھا (موریاہ یا المروہ) اور اس سے متعلق معاملات (ابواب پنجم تا یاز دہم)۔
آگے بڑھنے سے پہلے بہتر ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ مختصر اً بیان کر دیا جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔ اُن کی دو بیویاں تھیں: پہلی حضرت سارہ اور دوسری حضرت ہاجرہ۔ حضرت ہاجرہ ایک مصری شہزادی تھیں۔وہ فرعون مصر کی بیٹی تھیں جنھیں اُس نے حضرتِ ابراہیم ؑ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم ؑ بے اولاد تھے۔ہاجرہ نے حضرت ابراہیم ؑ کے پہلے بیٹے کو جنم دیا۔ اُس کا نام اسماعیل ؑ تھا، جن کی نسل سے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔بعد میں حضرت ابراہیم ؑ کے ہاں حضرت سارہ کے بطن سے ایک اور فرزند پیدا ہوا۔ اُن کا نام اسحاق ؑ تھا، جن کی نسل سے حضرت موسیؑ ٰ، حضرت داوٗدؑ ، حضرت سلیمانؑ اور حضرت عیسیؑ ٰ پیدا ہوئے۔یہودی بالعموم حضرت اسماعیل ؑ کو کم تر حیثیت کا خیال کرتے ہیں۔کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک عظیم پیغمبر تھے، جن کی زندگی قربانیوں سے بھری ہوئی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا ’اکلوتا‘ اور’پیارا ‘بیٹا موریاہ کی سرزمین میں لے جا کر قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا، لیکن جب بالآخر انھوں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے چھری پکڑی، اللہ تعالیٰ نے انھیں روک دیا۔ یہودی اور عیسائی حضرت اسحاقؑ کو وہ ’اکلوتا فرزند‘ تصور کرتے ہیں، جن کی خصوصی قربانی پیش کرنے کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے۔ اکثر مسلمانوں کے نزدیک یہ اکلوتا فرزند حضرت اسماعیل ؑ تھے۔حج کی رسوم حضرت ابراہیم ؑ کی روایات، اُن کے فرزند اسماعیل ؑ اور حضرت ہاجرہ کے ایمان اور مکہ میں قربانی پر مبنی ہیں۔
مصنف کا طرز استدلال نہایت سادہ اورآسان ہے۔ پہلے وہ بائبل کی کہانی اور بائبل کے علما کے دعوے براہ راست پیش کر تے اور ذیلی حواشی یا متن میں حسبِ ضرورت اُن کی خامیوں کی تشریح کرتے ہیں۔اِس کے بعد وہ یہودی یا عیسائی علما کی اس قصے یا موضوع پر تنقید کے مفصل حوالے دے کر اس کے تضادات ظاہر کرتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر وہ سوالات قائم کرتے ہیں اور بڑی مہارت سے اُن کے جوابات دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنے دعوے کی تائید یا مخالف دعوے کی تردید کے لیے یہودی اورمسیحی علما کی تصانیف سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔
ان مباحث کے دوران میں مصنف نے حضرت اسماعیل ؑ کی حضرت اسحاقؑ پر کسی فضیلت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔اُن کا بیان ہے: ’ بائبل کے علما نے حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت اسحاق ؑ ، (...) حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ کے کرداروں کی عکاسی کرتے وقت بائبل کے مضامین کی من مانی تعبیرات سے کام لیا ہے۔اس کتاب کا مصنف ان تمام عظیم شخصیات کو یکساں طور پر قابل احترام، صاحب تکریم اور معصوم خیال کرتا ہے۔‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب ’انتہائی معیاری اور عالمانہ انداز‘ میں لکھی گئی ہے۔اخیر میں،میں ایک تجویز پیش کرنا پسند کروں گا: کیونکہ ہم میں سے اکثر لوگ بائبل کے سنین واوقات سے واقف نہیں ہیں، اس لیے مناسب ہو گا کہ کتاب کے شروع میں اس طرح کے ایک باب کا اضافہ کر دیا جائے۔ اس کے بغیر کتاب کی پوری تفہیم ممکن نہیں۔
( سنین واوقات کا ایک مختصر اور ضروری نقشہ کتاب کے اخیر میں ’یروشلم کی مختصر تاریخ‘ نامی ضمیمے میں درج کر دیا گیا ہے۔)
(ریڈیئنس ویوز ویکلی ، ۱۶ تا ۲۲ جنوری ۲۰۰۵ء، نئی دہلی، انڈیا)

*******

In the Second Appendix, Ghauri gives heaps of evidence about the different types of intentional and unintentional corruption in the text of both the Old and the New Testaments. This is followed by a brief account of the history of the Temple of Solomon in the Third Appendix. These appendices have added to the value of this scholarly work. (133.), the book has been written in a scholarly manner and the author attempts to accumulate irrefutable arguments in support of his views.

[اشاعت اول (انگریزی) میں]دوسرے ضمیمے میں غوری صاحب نے نئے اور پرانے عہد نامے کے متن میں ارادی اور غیر ارادی تحریف کی مختلف اقسام کے متعلق ڈھیروں شہادتیں فراہم کی ہیں۔ اس کے بعد تیسرے ضمیمے میں ہیکلِ سلیمانی کی تاریخ کا مختصر خاکہ فراہم کیا گیا ہے۔ ان ضمیموں نے اس فاضلانہ تصنیف کی قدرو قیمت میں بہت اضافہ کیا ہے۔(...)۔کتاب عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے اور مصنف نے کوشش کی ہے کہ اپنے نظریات کی تائید میں ناقابلِ تردید دلائل جمع کرے۔
(اسلامک سٹڈیز ، شمارہ ۱،جلد ۴۴، بہار، ۲۰۰۵ء، اسلام آباد)

*******

Mr. Abdus Sattar Ghauri, the learned author of this well-researched work, must be complimented for the tremendous work he has done in documenting this important issue of religious history. This issue, of course, has direct bearing on the relationship of Prophet Muhammad (SAW) with Abraham (AS) and the land where the latter had settled his progeny, i.e. Arabia. Besides discussing the main issue, Mr. Ghauri has added some other related topics as well in the book. These include the locations of Makkah, Al-Marwah and the well of Zamzam.
Here, it may be made clear that at some places the writer of this book had to reproduce some Biblical authorities, which implied the comparison between the Prophets. The Biblical scholars have taken much liberties with the interpretations of Biblical themes while depicting the characters of Abraham, Ishma\'el and Isaac. Regrettably, noble Sarah has been depicted as a very cruel, jealous and revengeful woman, while dealing with noble Hajra and her son, Ishma\'el.
Mr. Ghauri, however, differs with these Biblical scholars and holds all of these great personalities as equally respected, honourable and innocent. It is, indeed, a matter of great interest to note that this event of the offering for sacrifice was reduced to writing in the Bible more than a thousand years after its happening. It is quite unknown who its writer was and what his credentials were, but, of certain, he was not an eyewitness of the event.
Commenting on the book, Allama Javed Ahmad Ghamidi, the profound scholar of Islam, remarks that going deep into the ancient time, the learned author has conducted an incisive multidisciplinary analysis to bring out the truth. Marked by copious references, this book testifies that the author has an eye for the subtle and the penetrating details.
[Allama Ghamidi, continuing his observations, asserts:] The author has indeed, undertaken daunting task to gather and arrange all the scattered pieces of the facts that were also defaced by corruption and ignorance. Further, Allama Ghamidi asserts that many a time, textual corruption, far from hiding the truth, actually leaves behind bright clues and trails, which, in turn, help reconstruct the disjointed pieces of the picture.
To conclude: Mr. Ghauri has brought forth copious evidence to show that Abraham had offered Ishma\'el for sacrifice. He has made an attempt to solve a long addressed problem on the principles of objective research. He has also tried to present the evidence faithfully and without any manipulations. A narrative par excellence, indeed!

اس انتہائی محققانہ کتاب کے فاضل مصنف جناب عبد الستار غوری کو مذہبی تاریخ کے اس اہم موضوع پر ایسا عظیم الشان دستاویزی کارنامہ سر انجام دینے کی بنا پر خراج تحسین پیش کیا جانا ضروری ہے۔ بلاشبہ یہ موضوع حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باہمی رشتے سے، اور اُس سرزمین یعنی عرب سے، جہاں موخرالذکر نے اپنی نسل لے جا کر آباد کی تھی، براہ راست متعلق ہے۔ مرکزی موضوع پر گفتگو کرنے کے علاوہ غوری صاحب نے کتاب میں بعض دوسرے متعلقہ موضوعات کا بھی اضافہ کیا ہے۔ یہ موضوعات مکہ، المروہ اور چاہِ زم زم کے محلِ وقوع کی نشان دہی پر مشتمل ہیں۔
اس موقعے پر اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض مقامات پر کتاب کے مصنف کو بائبل سے بعض حوالے نقل کرنا پڑے ہیں، جن سے انبیاے کرام کے درمیان مقابلے کا تأثر ابھرتا ہے۔ بائبل کے علما نے حضرت ابراہیمعلیہ السلام ، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاقعلیہ السلام کے کرداروں سے متعلق بائبل کے مضامین کی عکاسی کرتے وقت عموماً غیر محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔قابل افسوس بات ہے کہ سیدہ سارہ کو سیدہ ہاجرہ اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ان کے برتاؤ کے بارے میں ایک بڑی ظالم، حاسد اور منتقم مزاج عورت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
تاہم جناب غوری بائبل کے ان علما سے اتفاق نہیں کرتے اور ان تمام عظیم شخصیات کو یکساں طور پر قابل احترام، معزز اور معصوم قرار دیتے ہیں۔ یہ بات واقعی بڑی دل چسپی کی ہے کہ قربانی کے لیے پیش کیے جانے کا یہ واقعہ بائبل میں اپنے وقوع سے ایک ہزار سال سے بھی زیادہ بعد ضبط تحریر میں لایا گیا۔ یہ بات قطعی طور پر نا معلوم ہے کہ اس کا مصنف کون تھا ؟ اور اُس کی استنادی حیثیت اور ثقاہت کس درجے کی تھی؟ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ واقعے کا عینی شاہد ہر گز نہ تھا۔
کتاب پر رائے زنی کرتے ہوئے اسلام کے ایک عظیم اسکالر علامہ جاوید احمد غامدی نے لکھا ہے کہ فاضل مصنف نے قدیم زمانے کی تاریخ کی گہرائی میں اتر کر حقیقت کو مبرہن کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں سے نہایت باریک بینی کے ساتھ تحقیق کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔ فراواں حوالہ جات کی حامل یہ کتاب اس امر کی شاہد ہے کہ جزوی تفصیلات اور نادر و نازک مضامین پر مصنف کی گہری نظر ہے۔
[اپنے ملاحظات کے تسلسل میں علامہ غامدی رقمطراز ہیں کہ]فی الحقیقت مصنف نے حقائق کے تمام بکھرے ہوئے اُن ٹکڑوں کو، جنھیں جہالت اور تحریف کے ذریعے سے مسخ کر دیا گیا تھا، جمع اور مرتب کرنے کا عظیم فریضہ سر انجام دیا ہے۔ علامہ غامدی مزید لکھتے ہیں کہ اکثر اوقات متنی تحریف حقائق کو چھپانے کے بجاے حقیقت میں نمایاں سراغ اور نشاناتِ راہ چھوڑ جاتی ہے، جو تصویر کے منتشر اجزا کی شیرازہ بندی میں معاون ہوتی ہے۔
قصہ مختصر، جناب غوری نے یہ ثابت کرنے کے لیے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا، وافر شہادت فراہم کر دی ہے۔انھوں نے کوشش کی ہے کہ ایک قدیم نزاعی مسئلے کا معروضی تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں حل پیش کریں۔ انھوں نے یہ کوشش بھی کی ہے کہ شہادت کو بغیر کسی تحریف وتبدیلی کے دیانت داری کے ساتھ پیش کریں۔[تبصرہ نگار نے اپنے تبصرے کا اختتام اس جملے پر کیا ہے:A narrative par excellence, indeed!]۔ حقیقت میں یہ ایک ایسی کتاب ہے جو عظمتِ شان کے ہر معیار پر پوری اترتی ہے۔
(کرنل ]ریٹائرڈ[ غلام سرور، روزنامہ پاکستان اوبزرور، ۷؍اگست ۲۰۰۴ء، اسلام آباد)

*******

This book is the fruit of a serious effort at studying a complex issue. The author has studied the problem not only by drawing on Islamic resource material but also by studying a wide selection of Christian scholarship. As such, it must be admitted that the book is a unique contribution in the field of Muslim-Christian scholarly dialogue. It is rare to see a Muslim scholar approach Christian scholarship to build his argument. Hence, as an effort in the area of Muslim-Christian dialogue, this work must be welcomed.

یہ کتاب ایک پیچیدہ موضوع پرتحقیق و مطالعہ کی سنجیدہ کاوش کا ثمر ہے۔مصنف نے نہ صرف اسلامی مواد ومآخذ کی روشنی میں مسئلے کا جائزہ لیا ہے، بلکہ مسیحی علما (کی تحقیقات) کے ایک وسیع انتخاب کو بھی خوب کھنگالا ہے۔اس طرح یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ یہ کتاب مسلم مسیحی عالمانہ مکالمے کے میدان میں ایک بے مثال اضافہ ہے۔ یہ بات اپنی مثال آپ ہے کہ ایک مسلمان عالم اپنے دلائل کی فراہمی کے سلسلے میں مسیحی علمی مآخذ سے اس قدر استفادہ کرے۔چنانچہ مسلم مسیحی مکالمے کے سلسلے میں ایک کاوش کے طور پر اس کتاب کا خیر مقد م کیا جانا چاہیے۔
(تبصرہ نگار : ہرمن روبورگ، ریسرچ اسکالر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ ودیاجیوتی جرنل آف تھیالوجیکل ریفلیکشن ۴۔۱ے، راج نواس بلڈنگ، دہلی، ۱۱۰۰۵۴، شمارہ نمبر ۲، جلد ۶۹، فروری ۲۰۰۵ء)

*******

9934_ NRT_08_Bibliographie 14-03-2007 09:04 Page 336

*******************************************

BIBLIOGRAPHIE
Nouvelle Revue Theologique
GHAWRI, A.S., The Only Son offered for Sacrifice Isaac or Ishmael?, with Zamzamm Al-Marwah, and Makkah in the Bible, Lahore, Al-Mawrid, 2004, 22x15, xiv-310p., 15 $.
Un livre bien 233trange que celui de ce chercheur Pakistanais qui d233ploie une 233rudition absolument 233tonnante et un esprit inquisiteur remarqablement ing233nieux pour prouver que \"le fils unique\" que devait sacrifier Abraham au mont Moriah n\'233tait pas Isaac (tradition Jud233o-chr233tienne), mais bien Isma235l (traduction musulmane). Mettant bout a bout des analyses de textes provenant de commentaires bibliques divers anciens et r233cents, des d233tails sur les processus de transmission des manuscrits et les erreurs qu\'ils perp233tuent, dans la tradition tant juive et chr233tienne que musulmane, il en arrive 224 d233montrer avec aplomb que l\'interpr233tation musulmane est la seule objective. Il poursuit sa lanc233e en identifiant le Moriah 224 la Ka\'bah, construite par Abraham et Isma235l (!), et il d233couvre que le p232lerinage 224 La Mecque (Mekkah) se trouverait mentionn233 dans la Bible par Isa239e 60 et dans les Psaumes, notamment Ps 84,7 (=vall233e de Baka).
Beaucoup de notations int233ressantes dans ce travail, surtout 224 propos de l\'233volution de la double lecture des textes bibliques, mais malheureusement au service d\'une cause fondamentaliste qui historicise le \"sacrifice d\' Abraham\" sans y percevoir le message essentiel. Tout en admirant la sagacit233 et la patience de I\'A., nous ne pouvons le suivre dans son raisonnement.---J.R. Tome 129/ 2 (annee 2007)

de la part - et avec le merci - due secr. de la
Nouvelle Revue Th233ologique
Boulevard Saint-Michel, 24 BE-1040 Bruxelles
[email protected] tel. 00 32 2739 34 80 http://www.iet.be

************************************************

اس پاکستانی محقق کی یہ ایک بہت عمدہ کتاب ہے۔اُس نے اس کی تالیف میں انتہائی حیرت انگیز علم ودانش اور تحقیقی جذبے سے کام لیا ہے۔ اُس نے بڑے سلیقے اورنمایاں طور پر تخلیقی مہارت سے کام لیتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ’اکلوتا بیٹا‘، جسے ابراہیم [علیہ السلام ]کوہِ موریاہ پر قربانی کے لیے پیش کرنا چاہتے تھے، اسحاق[ علیہ السلام] نہ تھا(جیسا کہ یہودی اور مسیحی روایت ہے)، بلکہ اسماعیل[علیہ السلام ]تھا (جیسا کہ مسلم تاویل کرتے ہیں)۔ شروع سے آخر تک بائبل کی قدیم اور جدید تفاسیر سے اخذ کردہ متون کے تجزیے کے ذریعے سے، مسودات کی منتقلی کے طریقے کار کی تفاصیل کے ذریعے سے، اور یہودی، مسیحی اور مسلم روایت کے مطابق ان کتب میں پائی جانے والی دائمی اغلاط کے ذریعے سے مصنف بالآخرنہایت مضبوط بنیادوں پر یہ واضح کر دیتا ہے کہ صرف مسلم تعبیر ہی معروضی تعبیر ہے۔ اپنی تحقیق کے تسلسل میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موریاہ وہی مقام ہے جہاں ابراہیم[علیہ السلام ]اور اسماعیل[ علیہ السلام]نے کعبہ تعمیر کیا تھا۔ اُس نے دریافت کیا ہے کہ مکے کے حج کا ذکر بائبل کی کتاب یسعیاہ، باب ۶۰اور زبور کے مزامیر ۸۴ و ۸۷ (وادی بکا)میں موجود ہے۔
اس کتاب میں بہت سے دل چسپ حواشی اور مشاہدات ہیں جن میں بالخصوص اس امر کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ بائبل کے متون کے متعدد تراجم اور قراء تیں وجود میں آتی رہی ہیں، لیکن بد قسمتی سے مصنف کی اس کاوش سے بنیاد پرستی کے مقاصد کی خدمت ہوتی ہے اور’ ابراہیم [علیہ السلام] کی قربانی‘کو تاریخی رنگ دے کر اس کی اصل روح کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ہم مصنف کے علم ودانش اور صبر کی بھر پور تائید کرتے ہیں، لیکن ہم ان کے استدلال کی کلی تائید نہیں کر سکتے۔
( ببلیوگرافی ناویلے ریویو تھیالوجیق،صفحہ ۳۶۶، شمارہ ۱۴؍ مارچ ۲۰۰۷ء، برسلز ،بلجیئم )

ٌٌٌٌٌٌٌٌ*******

مصنفین نے (... ) نہ صرف عہد نامۂ قدیم و جدید، بلکہ عیسائی لٹریچر اور متعدد حوالہ جاتی کتب سے متعلقہ مواد اخذ و پیش کیا ہے اور قطعیت کے ساتھ ثابت کر دیا ہے کہ ’ ذبیح‘ فی الواقع حضرت اسماعیل ؑ ہی تھے۔ (.... ) ۔ مصنفین نے (... ) ضمناً فلسطین کے تاریخی مقامات کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں، وہ ایک وسیع لوازمے کو ایک جگہ مرتب کر دینے کی نہایت کامیاب کوشش ہے۔ یہ کتاب ہمارے عیسائی اور یہودی بھائیوں کو تحفے میں دینے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اردو دان طبقے کے لیے بھی اگر اس کا ترجمہ کر دیا جائے تو اچھا ہو گا۔ جاوید احمد غامدی نے ’پیش لفظ‘ میں اس کوشش کو اپنے ادارے کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔
(ماہنامہ ترجمان القرآن بابت نومبر ۲۰۰۸ء، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور، تبصرہ از پروفیسر عبدالقدیر سلیم)

______

 


قربانی کی حقیقی روح

قربانی کے عمل کی حقیقی روح اللہ تعالیٰ کی کامل فرماں برداری ہے، جس کا تمام ابراہیمی مذاہب (اسلام، مسیحیت اور یہودیت) کے صحائف میں ذکر کیا گیا ہے:

(الف) سن اے اسرائیل ! خدا وند ہمارا خدا ایک ہی خدا وند ہے۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خدا وند اپنے خدا سے محبت رکھ[ یہودی و مسیحی روایت]۔ (کتابِ مقدس، استثناء ۶: ۴ ۔۵، انجیل متی ۲۲: ۳۷، انجیل مرقس ۱۲: ۳۱، انجیل لوقا ۱۰: ۲۷)
(ب) اِن باتوں کے بعد یوں ہوا کہ خدا نے ابرہام کو آزمایا، (...) تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اِکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے، (...) اور وہاں اُسے (...)سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔ (...)۔ تب ابرہام صبح سویرے اٹھا (...)۔ کیونکہ میں اب جان گیا کہ تو خدا سے ڈرتا ہے اس لیے تُو نے اپنے بیٹے کو بھی جوتیرا اِکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔ (...)۔ اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیوں کہ تو نے میری بات مانی۔ (کتابِ مقدس،پیدایش۲۲: ۱، ۲، ۳، ۱۲، ۱۸)۔
(ج) وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو ( ایک روز) ابراہیم ؑ نے اُس سے کہا: ’بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے‘؟ اُس نے کہا: ’ابّا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔‘ آخر کو جب اُن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیااور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا اور ہم نے ندا دی کہ’ اے ابراہیم، تو نے خواب سچ کر دکھا یا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناًیہ ایک کھلی آزمایش تھی۔‘ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اُس بچے کو چھڑا لیا۔ اور اُس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہے ابراہیم ؑ پر۔ ( القرآن، الصّٰفّٰت۷ ۳: ۱۰۲ تا ۱۰۹)۔
(د) تم نیکی کی حقیقت کو ہر گز نہیں پا سکتے، جب تک اُن چیزوں میں سے ( اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جو تمھیں محبوب ہیں، اور جو کچھ بھی تم خرچ کروگے، ( اُس کا صلہ تمھیں لازماً ملے گا)، اس لیے کہ اللہ اُسے جانتا ہے۔ (القرآن، آل عمران ۳: ۹۲)۔

اس طرح قربانی کی حقیقی روح مختصراً یوں بیان کی جا سکتی ہے:
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کا کامل نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنا انتہائی پیارا اور نہایت لازمی اثاثہ یعنی اپنا اِکلوتا بیٹا بھی اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی کے لیے پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ دنیا کی تما م اقوام میں سے جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کا رویہ اختیار کرتا ہے، اُسے برکت دی جائے گی، کیونکہ’ ایک اللہ کی اطاعت ‘ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کے درمیان امن کی ضامن ہے۔

____________