پندرہواں باب

نائن الیون کے بعد امریکہ نے دنیا کو ایک نئی اصطلاح سے روشناس کردیا ہے۔ وہ ہے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘۔ دہشت گردی کی اصطلاح کے اب تک کوئی متفقہ معنی بیان نہیں کیے جاسکے۔ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورموں پر برسوں سے یہ بحث جاری ہے، تاہم اس کی کوئی تعریف متعین نہیں ہوسکی۔ فی الوقت ہم آسانی کی خاطر دہشت گردی کی اصطلاح کی کچھ تعریفیں متعین کرکے ان کا تجزیہ کریں گے۔ 
دہشت گردی کی ایک تعریف کے مطابق ’’ہر وہ مسلح عمل دہشت گردی ہے جو کسی غیر حکومتی مسلح تنظیم کی طرف سے عام لوگوں کے خلاف ہو‘‘۔ اگر کوئی حکومت ایسی مسلح تنظیموں کی سرپرستی کرتی ہے، تو اُسے بھی دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر کوئی مقامی پرائیویٹ مسلح تنظیم اپنی قوم کی آزادی کی خاطر خالصتاً فوجی تنصیبات پر حملہ کرے، تو یہ دہشت گردی نہیں۔ امریکہ، فی الوقت، دہشت گردی کی یہی تعریف کرتا ہے۔ گویا اس تعریف کے مطابق کشمیر میں برسرِپیکار ’’حزب المجاہدین‘‘ دہشت گرد تنظیم نہیں، اس لیے کہ وہ صرف مسلح افواج پر حملے کرتی ہے اور اُس میں غیر مقامی لوگ نہیں ہیں۔ اس کے بالکل برعکس، اس تعریف کے مطابق، ’’لشکر طیبہ‘‘ دہشت گرد تنظیم ہے۔ اس لیے کہ یہ تنظیم غیر مسلح لوگوں کو بھی ٹارگٹ بناتی ہے اور اس میں سرحد پار سے بھی لوگ بھرتی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اسی معیار کے تحت امریکہ نے بہت سی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ ان میں غیر مسلم عیسائی اور نسلی تنظیمیں بھی شامل ہیں، تاہم ان کی بڑی اکثریت القاعدہ جیسی مسلمان تنظیموں پر مشتمل ہے۔ 
دہشت گردی کی ایک اور تعریف کے مطابق ’’ہر غیر حکومتی گروہ کی جانب سے کوئی بھی مسلح اقدام دہشت گردی ہے‘‘۔ گویا اس تعریف کے مطابق مسلح اقدام کا حق صرف کسی حکومت ہی کو حاصل ہے۔ اگر کوئی ریاست بے انصافی پر مبنی کوئی مسلح اقدام کرتی ہے، تو اسے ظالمانہ اقدام یا جنگ تو کہا جاسکتا ہے، مگر دہشت گردی نہیں۔ گویا اس تعریف کے مطابق دہشت گردی کو غیر حکومتی مسلح گروہ کے لیے خاص کردیا گیا ہے اور ریاستی دہشت گردی کو اس کے دائرے سے نکال دیا گیا ہے۔ 
دہشت گردی کی ایک اور تعریف یہ ہے ’’ کسی بھی ریاست یا گروہ کی جانب سے خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کرکے اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کرنا‘‘۔ یہ ایک وسیع تر تعریف ہے جو ریاستی اور گروہی دونوں کی طرف سے بنائے گئے خوف اور دہشت کے ماحول کا احاطہ کرتی ہے۔ 
جو غیر حکومتی مسلح گروہ مختلف ممالک یا پوری دنیا میں کاروائیاں کررہے ہیں، وہ اپنے آپ کو دہشت گرد کہلانے سے انکار کرتے ہیں۔ اُن کے خیال میں وہ بہت اچھے مقاصد کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور اس جدوجہد کا ایک راستہ غاصب ملک کے بظاہر عام اور معصوم باشندوں کا قتل بھی ہے تاکہ اُس غاصب ملک کو جھنجھوڑا جاسکے۔ کئی ممالک بھی اِن تنظیموں کے موقف سے جزوی طور پر اتفاق کرتے ہیں۔ مثلاً پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اندر مسلح تنظیموں کو آزادی کی تحریکیں سمجھتا ہے۔ اسی طرح اکثر عرب ممالک حماس جیسی مسلح تنظیموں کی جدوجہد کو بنیادی طور پر صحیح سمجھتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک میں سے کچھ کے خیال میں غیر فوجی مقامات پر حملے آج کے حالات میں حکمت عملی کے طور پر مناسب نہیں۔ اکثر مسلمان ممالک اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آزادی کی تحریکوں اور دہشت گردی کی تحریکوں میں فرق کیاجانا چاہیے۔ لیکن اس فرق کی حدِ فاصل کہاں ہے، اس کا تعین اگر ناممکن نہیں، تو بہت مشکل ضرور ہے۔ 
اس راقم کے خیال میں دہشت گردی کی اصطلاح اُسی طرح کی ایک مغربی اصطلاح ہے جیسے سیکولرزم یا فنڈامنٹلزم وغیرہ۔ تاہم چونکہ مغرب اس اصطلاح کا انطباق واستعمال زیادہ تر مسلمان ممالک اور مسلمان تنظیموں پر کرتا ہے، اس لیے ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنے طور پر دہشت گردی کی تعریف کرکے مغرب کو بتائیں کہ ہم کس چیز کو دہشت گردی سمجھتے ہیں، تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ اس معاملے میں مغرب کے ساتھ کہاں کہاں تعاون یا عدم تعاون کا رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ 
یہ بات واضح ہے کہ ابھی ایک لمبے عرصے تک یہ اصطلاح ایک مبہم سی شکل میں چلتی رہے گی اور ہر ملک اس سے اپنے اپنے معنی اخذ کرتا رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس لفظ کی آڑ میں ہر ملک دراصل اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً امریکہ کبھی یہ نہیں مانے گا کہ عراق میں اُس کی مداخلت دہشت گردی تھی۔ اسی طرح کوئی مسلمان ملک بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوگا کہ فوجی انقلاب بھی دراصل ایک طرح کی دہشت گردی ہے۔ یہی حال باقی سب ممالک اور گروہوں کا ہے۔ ہر ملک اور گروہ دوسروں کے طرزِ عمل کو تو دہشت گردی قرار دیتا ہے، مگر اپنے حصے کی دہشت گردی کی تاویل کرتا ہے۔ 
اس راقم کی رائے میں ’’ہر وہ مسلح عمل دہشت گردی ہے جس میں دہشت پیدا کرکے اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کی جائے اور اس عمل میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن کی وجہ سے براہ راست یا جن کے نتیجے کے طور پر جنگ میں غیر شریک افراد کے جان ومال کو نقصان پہنچے‘‘۔ گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستیں بھی دہشت گردی کا ارتکاب کرسکتی ہیں اور مسلح گروہ بھی۔ تاریخ کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی ہر دور میں جاری تھی اور آج بھی جاری ہے۔ پچھلے زمانے میں بادشاہ عموماً اس طرح کی دہشت گردی کا ارتکاب کرتے تھے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ یورپی ریاستوں نے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کیا۔ ہماری تاریخ میں امیر تیمور اور نادر شاہ جیسے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے لاکھوں عام افراد کا قتل عام کرکے دہشت گردی کا ارتکاب کیا۔ سپین میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرکے اُس وقت کے عیسائی حکمرانوں نے خوف ودہشت کا بازار گرم کردیا۔ یورپ میں، قرونِ وسطیٰ میں، پوپ اور دوسرے مذہبی رہنماوؤں نے سائنسی اور جمہوری ذہنیت رکھنے والے لوگوں کا قتلِ عام کرکے دہشت گردی کی۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کو شروع کرکے جرمنی، اٹلی اور جاپان نے دہشت گردی کی، جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ دوسری جنگِ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی نامی شہروں پر ایٹم بم پھینک کر امریکہ نے دہشت گردی کا ارتکاب کیا۔ اسی طرح ویت نام پر امریکی حملہ، ہنگری پر روسی حملہ، ایران اور کویت پر عراق کا حملہ، افغانستان میں روسی مداخلت، ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر خودکش حملہ، افغانستان پر امریکی بمباری اور عراق پر امریکی حملہ، یہ سب واقعات دہشت گردی کی کڑیاں ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا دہشت گردی سے نجات حاصل کرے تو یہ ضروری ہے کہ ہر طرح کی دہشت گردی کو دہشت گردی تسلیم کیا جائے اور اس کا مداوا کیا جائے۔ 
بسا اوقات دہشت گردی کا ایک اقدام، یا کوئی غلط یا اشتعال انگیز سیاسی فیصلہ دہشت گردی کے دوسرے اقدامات کی ابتدا اور ان کا جواز بنتا ہے۔ مثلاً صدام حسین نے کویت پر قبضہ کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ کو خلیج میں آنے کا بہانہ ملا،پھراُس نے سعودی عرب کے تحفظ کا بہانہ بناکر سعودی عر ب میں اپنے فوجی اڈے بنالیے، ان فوجی اڈوں کو جواز بناکر بن لادن نے سعودی حکمرانوں اور امریکہ کے خلاف مسلح اقدامات شروع کردیے، ان اقدامات کو آڑ بناکر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا، پھر اس حملے کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے، پاکستانی حکومت نے امریکی مطالبات کو من وعن مان کر طالبان کے ہمدردوں کو اپنا دشمن بنالیا اور پھر پاکستان میں موجود طالبان کے ہمدرد مسلح گروہوں نے یہاں خودکش حملوں سمیت مختلف اقدامات کیے۔ اگر عمل اور ردِعمل کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو یہ آگ بجھے گی نہیں، بلکہ مزید بھڑکے گی۔ 
چونکہ موجودہ قضیے کی ابتدا نائن الیون سے ہوئی، اس لیے مناسب ہے کہ یہاں ٹھہر کر کچھ تجزیہ کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نائن الیون کا واقعہ ایک دہشت گردی تھی۔ اس لیے کہ اس میں تین ہزار کے لگ بھگ ایسے لوگ ہلاک ہوئے جو جنگ میں کوئی بھی حصہ ادا نہیں کررہے تھے۔ امریکہ کے اندر اس بارے میں کوئی دورائے نہیں تھیں کہ یہ کس کا کام ہے۔ چونکہ بن لادن اُس وقت افغانستان میں تھے، اس لیے امریکہ نے طالبان حکومت کو الٹی میٹم دیا۔ 
اب یہاں اس نکتے پر سوچنا چاہیے کہ کیا معاملات یہاں تک پہنچانے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا؟ ا س کا جواب یہ ہے کہ یہ بات سبھی جانتے تھے کہ بن لادن کو اصل غم وغصہ اس بات پر تھا کہ امریکی افواج نے سعودی عرب کی سرزمین پر اپنے اڈے کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اس اقدام کو اس مقدس سرزمین کی بے حرمتی سمجھتے تھے۔ اور واقعتا یہ بے حرمتی تھی بھی۔ ظاہر ہے کہ عراق کے فیصلہ کن شکست کے بعد عراق پر جو پابندیاں لگائی گئی تھیں، اُن کے پیشِ نظر اس بات کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ عراق، سعودی عرب پر فوجی حملہ کرسکے گا۔ چنانچہ یہ اڈے بالکل غیر ضروری اور اشتعال انگیز تھے۔ اگر اُسی وقت اس بات کو سمجھ کر یہ اڈے یہاں سے ہٹا لیے جاتے، تو بعد کے بہت سے ناپسندیدہ اقدامات سے بچا جاسکتا تھا۔ 
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب 1985ء میں روسی فوجیں افغان سرزمین سے نکل گئیں، تو امریکہ نے اس پورے علاقے کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ کر یہاں اپنی دلچسپی ختم کردی۔ اُس وقت امریکہ نے یہ نہ سوچا کہ یہ ہزاروں لوگ، جن کے پاس اربوں ڈالر کا اسلحہ ہے، اب کیا کریں گے اور کہاں جائیں گے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسے جنگجو لوگ آرام سے اپنے گھروں کو سدھار جائیں۔ امریکہ نے یہ بھی نہ سوچا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر طاقت کے کئی مراکز بن چکے ہیں، جن کی سمتیں ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد ہیں۔ چنانچہ اگر امریکہ نے یہ سنگ دلانہ اور سفاکانہ غلطیاں کیں، تو ان کا نتیجہ تو بہرحال برآمد ہونا تھا۔ 
نائن الیون کے بعد امریکی حکومت اور امریکی قوم اجتماعی طور پر اشتعال کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی۔ جب کوئی قوم اس کیفیت میں مبتلا ہوجاتی ہے تو اُس سے پے درپے غلطیاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ امریکہ نے افغانستان پر بمباری کا فیصلہ کرلیا، جس کا نتیجہ امریکہ اور پاکستان سمیت ساری دنیا بھگت رہی ہے۔ اُس وقت امریکہ کے سامنے برداشت پر مبنی پُرامن راستہ بھی موجود تھا۔ وہ راستہ یہ تھا کہ طالبان حکومت کی مکمل اقتصادی ناکہ بندی کی جاتی۔ اس طرح طالبان حکومت کو مذاکرات پر مجبور ہونا پڑتا۔ اگرچہ یہ راستہ اختیار کرنے میں وقت زیادہ لگتا، تاہم اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے نسبتاً کم ضرر رسان ہوتے۔ 
تاہم امریکہ نے ایسا نہیں کیا۔ غالباً آئندہ بھی امریکہ زیادہ پُرامن راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس کے اقدامات طاقت کی نفسیات کے تحت طے ہورہے ہیں۔ طاقت کی منطق پُرامن حل کو زیادہ قبول نہیں کرتی۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم ان معاملات میں امریکہ کو قائل کرسکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں جس اونچی سطح پر سٹریٹیجک معاملات طے ہوتے ہیں، وہاں تک اسرائیل اور بھارت کی رسائی تو ہے، مگر ہماری کوئی رسائی نہیں۔ 
چنانچہ اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ اگر امریکہ اپنی روش تبدیل نہیں کرتا، تو پھر یک طرفہ طور پر ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟ کیا مسلمان ریاستوں کو امریکہ کا جنگی مقابلہ کرنا چاہیے؟ کیا اسلام کی محبت میں سرشارمسلح گروہوں کو امریکی مفادات کے خلاف اپنے مسلح اقدامات اور خودکش حملے جاری رکھنے چاہئیں؟ کیا اسلام اور امت مسلمہ کو ان حملوں سے وسیع تر تناظر میں کوئی فائدہ مل سکے گا؟ کیا اس طرح ہم امریکہ کو شکست دے سکیں گے؟ ان تمام سوالات کا، اس راقم کے نزدیک، جواب یہ ہے کہ ہمارے لیے اصل راستہ یہ ہے کہ ہم یک طرفہ طور پر صبروحکمت اختیار کریں، امریکی اشتعال انگیزی کے مقابلے میں سیاسی دلیل کا طریقہ اختیار کریں، موجودہ مسائل کا پُرامن حل تلاش کریں اور امریکہ کو یہ موقع ہی نہ دیں کہ وہ آئندہ کسی مسلمان ملک میں مداخلت کرسکے۔ یہی راستہ اسلام اور امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ فی الوقت ہر لڑائی امریکہ کے مفاد میں ہے۔ ہر خودکش حملے کے ذریعے اُسے یہ بہانہ ملتا ہے کہ وہ عالم اسلام کو اس خودکش حملے کے نقصان سے ہزار گنا زیادہ نقصان پہنچائے۔ 
پچھلے تین سو برس سے امت مسلمہ تقریباً ہر مسلح جنگ میں شکست کھارہی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو ریورس کیا جائے۔ لیکن یہ تبھی ہوسکتا ہے جب اس سے پہلے خوب تیاری کی جائے۔ تیاری کے لیے ہمیں امن کا وقفہ چاہیے۔ چنانچہ یہ وقفہ ہمیں مقابل طاقتوں سے، ہر ممکن طریقے سے، حاصل کرنا ہوگا۔ 
اس راقم کے نزدیک ریاست سے عاری کسی مسلح تنظیم کی طرف سے اقدام اسلام کے اصولِ جنگ کے بھی خلاف ہے۔ اسلام کے اصولِ جنگ میں چار پہلو بہت نمایاں ہیں۔ وہ یہ کہ مسلح اقدام صرف کسی ریاست کا حق ہے ریاست بھی صرف اُس صورت میں مسلح اقدام کرسکتی ہے جب یہ کسی ظلم یا زیادتی کے خلاف ہویہ اقدام صرف اُسی وقت کیا جاسکتا ہے جب دوسرے ملک سے اس کا معاہدۂ امن نہ ہو اور یہ اقدام صرف اس وقت کرنا چاہیے جب اس جنگ کے جیتنے پر پورا پورا دنیوی امکان موجود ہو۔ اس امت کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس بات پر اہلِ علم کے درمیان مکمل اتفاق رہا ہے کہ جنگ صرف ریاست کا حق ہے۔ مسلح گروہوں کو جنگ کا حق دینے کا موجودہ رجحان 1980ء میں اس وقت شروع ہوا جب جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے اپنے مقاصد کے لیے افغان قوم کو تقسیم کرکے آٹھ مسلح تنظیموں میں بانٹ دیا۔ چونکہ اس وقت امریکہ کو روس سے اپنا سکور برابرکرنا تھا، اس لیے امریکہ نے بھی اس تصور کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی۔ اُس وقت امریکی ذرائع ابلاغ کو مجاہدین کا لفظ بہت بھلا لگتا تھا۔ لیکن بالآخرعالمی امن پر اس کے وہی اثرات ہوئے جو آج ساری دنیا بھگت رہی ہے۔ 
اگر مسلمان یک طرفہ طور پر کچھ اقدامات اٹھائیں تو ہم قابض طاقتوں کے ناپاک قدموں سے اپنی سرزمین کو پاک کرسکیں گے اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے لیے مستقبل کے بہت سے امکانات کھل جائیں گے۔ مثلاً طالبان یہ اعلان کرلیں کہ وہ اپنے آپ کو ایک سیاسی پارٹی میں بدل دیں گے اور مسلح جدوجہد چھوڑ دیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو افغانستان کیا، پاکستان کی بھی تقدیر بدل جائے گی۔ افغانستان کے آئندہ انتخابات میں طالبان ایک مضبوط گروہ کی حیثیت سے سامنے آسکیں گے۔ پھر اُس وقت جو بھی حکومت ہوگی، اُس کے لیے امریکہ سے یہ مطالبہ کرنا نہایت آسان بلکہ ضروری ہوجائے گا کہ امریکہ اس سرزمین کو چھوڑ دے۔ طالبان کے اس اقدام سے افغانستان کے اندر وارلارڈز کی کمر ٹوٹ جائے گی، اور سب گروہ اس بات پر مجبور ہوجائیں گے کہ وہ اپنے آپ کو حقیقی سیاسی پارٹیوں کی شکل میں ڈھال لیں۔ طالبان کے اس اقدام کا پاکستان کے حالات پر بھی بہت بہتر اثر پڑے گا۔ امریکہ کو یہاں مداخلت کا بہانہ نہیں مل سکے گا۔ پاکستانی طالبان بھی اپنے آپ کو ایک سیاسی پارٹی کی شکل میں ڈھال سکتے ہیں، اور اُن کی موجودگی پاکستانی سیاست کے لیے ایک نیک فال ثابت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہمیں ایسی سیاسی پارٹیوں کی ضرورت ہے جو، خواہ کسی بھی نقطہ نظر سے تعلق رکھتی ہوں مگر مخلص اورقول وفعل کے تضاد سے پاک ہوں۔ 


خود کش حملے 

خودکش حملوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ خوارج نے درحقیقت خودکش حملوں ہی کے ذریعے حضرت علیؓ، حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاصؓ کو شہید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حسن بن صباح، جس نے خراسان کے پہاڑوں میں اپنی حکومت بناکر قلعہ الموت کو اس کا مرکز بنادیا تھا، کا ایک بڑا ہتھیار خودکش حملے ہی تھا۔ اس طرح اُس نے اپنے وقت کے بڑے بڑے بادشاہوں کو لرزہ براندام کردیا تھا۔ حتیٰ کہ ہلاکو خان نے آکر اُس کے قلعے کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ 
زمانہ حال میں، دوسری جنگ عظیم میں، جاپانیوں نے بھی خودکش حملوں سے کام لیا تھا۔ وہ یوں کہ پائلٹ بارود سے بھرے ہوئے ہوائی جہاز کو اڑاتے ہوئے برطانیہ کے کسی بحری جہاز کی چمنی کے اندر گھس جاتا، یوں وہ اپنے آپ کو ختم کرتے ہوئے دشمن کا سمندری جہاز بمعہ سینکڑوں سپاہیوں کے غرق کردیتا۔ اگرچہ اس سے برطانیہ کا بڑا نقصان ہوا، لیکن اصل نقصان جاپان کا ہوا۔ کیونکہ اس طریقِ جنگ سے جاپان کے پاس پائلٹ ختم ہوگئے، اور یوں اُس کے پاس اتحادی افواج کے ہوائی حملوں کو روکنے کا کوئی ذریعہ نہ رہا۔ 
سن اسی کی دہائی میں سری لنکا کے تامل گوریلوں نے بھی خودکش حملوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کو بھی خودکش حملے ہی کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ تامل گوریلوں کی طرف سے ابھی تک سری لنکا کی ریاست کے خلاف تین سو سے زیادہ خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں فوجی اور سویلین مارے گئے ہیں۔مگر ان حملوں کی وجہ سے سری لنکا کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ 
خودکش حملوں کا ایک اور سلسلہ اسرائیل کے خلاف شروع ہوا، جب حماس سے تعلق رکھنے والے جاں بازوں نے اسرائیل کے اندر خودکش حملے شروع کیے۔ ان حملوں میں بھی بہت سے اسرائیلی فوجی اور سویلین ہلاک ہوئے۔پھر القاعدہ جیسی تنظیموں نے بھی یہ راستہ اپنایا اور پوری دنیا میں امریکی مفادات کے بہت سے ٹھکانوں پر خودکش حملے کیے۔اس سلسلے کا سب سے بڑا حملہ نائن الیون کا تھا۔خودکش حملوں کا یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے عراق تک پہنچا، جہاں امریکی افواج کے مختلف ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔ تاہم اصل خودکش حملے سُنیوں اور شیعوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیے۔ ان حملوں میں دونوں طرف کے ہزاروں لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ 
پھر خودکش حملوں کا یہ سلسلہ پاکستان بھی آپہنچا۔ یہاں بھی کئی امریکی ٹھکانوں پر خودکش حملے کیے گئے۔ تاہم بہت سے خودکش حملے اہلِ سنت اور اہلِ تشیع سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند افراد نے ایک دوسرے کے خلاف کیے۔ کچھ ایسے خودکش حملے بھی کیے گئے جن میں اہلِ سنت کے مختلف گروہوں نے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا۔ کئی خودکش حملوں کے ذریعے جنرل پرویز مشرف اور اُس کے حامیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ 
یہاں سے یہ سلسلہ افغانستان پہنچا۔ افغانستان کے اندر 1977ء سے لڑائی اور خانہ جنگی جاری ہے۔ تاہم اس جنگ کے دوران میں ستائیس اٹھائیس برس تک کسی گروہ نے بھی دوسرے کے خلاف خودکش حملوں کا ہتھیار نہیں آزمایا۔ تاہم 2005ء سے افغانستان کے اندر بھی طالبان کی طرف سے امریکی افواج اور حامد کرزئی کی حکومت کے خلاف خودکش حملے شروع ہوگئے۔ یہ حملے اب بھی جاری ہیں۔ 
پوری دنیا کی تاریخ میں خودکش حملوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خودکش حملوں سے دشمن کے بجائے خود اپنے آپ کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ وہ یوں کہ خودکش حملوں کے لیے صرف وہی شخص اپنے آپ کو پیش کرتا ہے جو انتہائی پرعزم، باصلاحیت اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو۔ جب کہ ان حملوں میں مرنے والے مخالف قوم کے افراد عموماً عام افراد ہوتے ہیں جو اتفاق سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ جب قوم کے باصلاحیت اور پرعزم نوجوان ان حملوں میں کام آجائیں تو پیچھے اوسط درجے کے لوگ ہی بچتے ہیں۔ جاپان نے بھی دوسری جنگ عظیم میں اپنے پائلٹوں کو دشمن کے بحری جہازوں سے ٹکراکر ایسا ہی غلط فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اُس کے پاس پائلٹوں کی شدید قلت ہوگئی تھیں۔ چنانچہ یہ کوئی صحیح حکمت عملی نہیں۔ 
خودکش حملوں سے نمٹنے کے لیے مخالف طاقت بھی آہستہ آہستہ حکمت عملی سیکھ لیتی ہیں۔ مثلاً اسرائیل نے یہ سٹریٹیجی اختیار کی کہ خودکش حملہ آوروں کے سارے اہلِ خانہ کو جیل میں ڈال دیا، پھر ان کو جلاوطن کرکے بے یارومددگار چھوڑ دیا اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلادیے۔ اگرچہ یہ بہت ظالمانہ کاروائی تھی۔ تاہم اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خودکش حملوں کی تعداد کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ کیونکہ خودکش حملہ آور سوچتے تھے کہ ہمارے بعد ہمارے اہلِ خانہ اور پیاروں کو ناقابلِ بیان اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
خودکش حملے مخالف طاقت کے اندر ایک ایسی نفسیات پیدا کرتے ہیں، جن میں ضد، انتقام اور نفرت شامل ہوتی ہے۔ بسا اوقات خودکش حملے دشمن کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مثلاً جب بھارت کے اندر خودکش حملے ہوئے تو سارا بھارت ان حملوں کے خلاف متحد ہوگیااور سب لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان خودکش حملہ آوروں کے مطالبات کے سامنے سر نہ جھکایا جائے۔ یوں ان خودکش حملوں سے بھارت کو بحیثیت ریاست بڑی تقویت حاصل ہوئی۔ 
خودکش حملوں سے مظلوم قوم کی جدوجہد کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور دنیا کے نزدیک ظالم ومظلوم ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو ظالم قوم پروپیگنڈے کے زور پر مظلوم قوم کو جارحیت پسند قرار دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ آج تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں، اُن میں فوجی اور غیر فوجی تنصیبات کا خیال عموماً نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ جب ریستورانوں، مارکیٹوں اور بسوں میں خودکش حملوں سے سویلین مرجاتے ہیں، تو انسانیت کا مجموعی ضمیر ایسی کاروائیوں کو پسند نہیں کرتا اور ان کی مذمت کرتا ہے۔ جب فلسطینی خودکش حملہ آوروں نے پبلک مقامات پر دھماکے کیے، تو اس کے نتیجے میں ظالم اسرائیل کو تو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا، لیکن دنیا کی رائے عامہ کی نظر میں فلسطینیوں کی جائز آزادی کی جدوجہد پر اخلاقی اعتبار سے داغ لگ گیا۔ 
جب ایک دفعہ خودکش حملوں کو جائز قرار دیا جائے، خواہ وہ کتنے ہی نیک مقصد کے لیے کیوں نہ ہو، تو پھر یہ سلسلہ کہیں پر بھی جاکر نہیں رکتا۔ پھر اس کے نتیجے میں ایک گناہ گار کے ساتھ سو بے گناہ مارے جاتے ہیں۔ مثلاً جب کچھ علماء نے ظالم طاقت کے خلاف خودکش حملوں کے جواز کا فتویٰ دیا تو بہت جلد بات یہاں تک پہنچی کہ ہر گروہ نے دوسرے گروہ کو ظالم اور خارج از دائرہ اسلام قرار دیتے ہوئے اُس کے خلاف خودکش حملوں کو جائز سمجھ لیا۔ اسی فتوے سے فائدہ اٹھاکر عراق میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع نے ایک دوسرے کے خلاف خودکش حملے کیے، جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں۔ آج بھی وہاں پبلک مقامات پر خودکش حملوں کے ذریعے ایک دوسرے کے عام افراد کو ہلاک کرنے کا طریقہ زوروں پر ہے۔ پاکستان میں بھی یہی کچھ ہوا۔ مختلف مذہبی گروہوں نے ایک دوسرے پر خودکش حملے کیے، جس کے نتیجے میں دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ جاں بحق ہوئے۔ اگرچہ ہر حملے کی ابتدا میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے، لیکن تحقیقات کے نتیجے میں ہمیشہ یہ بات سامنے آئی کہ درحقیقت یہ خودکش حملہ ایک مذہبی یا سیاسی گروہ نے اپنے مخالف مذہبی یا سیاسی گروہ کے خلاف کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودکش حملے ایک ایسا پنڈورا باکس ہیں جس کو کھولنے کے نتیجے میں پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ 
خودکش حملوں کے جواز میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’یہ دراصل ظلم کا ردعمل ہیں، چونکہ مظلوم قو م کو دیوار سے لگادیا گیا ہے، اس لیے ان لوگوں کے پاس خودکش حملوں کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ چنانچہ یہ خودکش حملے جائز ہیں‘‘۔ یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔ ظلم خواہ کتنا بھی بڑھ جائے، ہمیں اس کے مقابلے کے لیے اللہ نے خودکش حملوں کی اجازت نہیں دی۔ اللہ کا دین تو اس دنیا میں آیا ہی اس لیے ہے کہ ہمارے اقدامات اور ردعمل کو قابو میں رکھے، اور ہمیں ہر چیز کے حدود اور آداب سکھائے۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ مظلوم اقوام مثلاً فلسطینیوں، عراقیوں، افغانیوں یا کشمیریوں کے پاس کوئی اور راستہ بچا ہی نہیں۔ درحقیقت مزاحمت کا سب سے بڑا ہتھیار عدم تشدد پر مبنی مظلومانہ جمہوری جدوجہد اور آپس میں اتحاد و اتفاق ہے۔ ان دونوں تدابیر سے مظلوم مسلمان اقوام نے کبھی فائدہ اٹھایا ہی نہیں۔ مثلاً فلسطینی اور کشمیری آپس میں بیسیوں تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے آج تک ایک متحد مقصد اور ایک متفقہ قائد پراتفاق نہیں کیا۔ اسی طرح اگر آج طالبان مسلح مزاحمت چھوڑ کر جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کریں تو بہت جلد امریکیوں کو یہاں سے نکالا جاسکتا ہے اور بعید نہیں کہ جمہوریت کے نتیجے میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوجائے۔ 
یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ خودکشی جائز نہیں ہے۔ تاہم بعض علماء نے آج کل کے خودکش حملوں کے جواز میں فتویٰ دیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم نام علامہ یوسف قرضاوی کا ہے۔ علامہ قرضاوی ان خودکش حملوں کو جہاد کی اعلیٰ ترین قسم قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ دلیل دیتے ہیں کہ جنگِ موتہ کے دوران، جب کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور مسلمان لشکر کی تعداد کم تھی، میں مسلمان فوجیوں نے موت پر بیعت کی تھی۔ علامہ قرضاوی کے خیال میں، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کے خلاف خود کش حملہ جائز ہے۔ یہ راقم بصد ادب واحترام علامہ قرضاوی کے اس نقطہ نظر سے متفق نہیں ہے۔ میرے خیال میں اُن کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔ جنگ موتہ میں مسلمان لشکر، ریاستِ مدینہ کے حکم پر لڑرہا تھا۔ موت پر بیعت کا مطلب یہ تھا کہ ہم آخری دم تک لڑیں گے لیکن میدانِ جنگ سے بھاگیں گے نہیں۔ یہ بات قرآن مجید کے اس ارشاد کے عین مطابق ہے جس میں مسلمان لشکر کو میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے سے منع کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اِس ہدایت اور اِس واقعے کا خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ جنگ موتہ میں کسی مسلمان نے دشمن کے لشکر پر خودکش حملہ نہیں کیا۔ سارے مسلمان شہید بھی نہیں ہوئے۔ بلکہ عملاً یہ ہوا کہ مسلمان لشکر کے اس عزم وہمت کے نتیجے میں دشمن کا لشکر بے حوصلہ ہوگیا اور مسلمان لشکر کے سردار حضرت خالدؓ بن ولید کو یہ موقع مل گیا کہ وہ رات کی تاریکی میں اپنے لشکر کو محفوظ مقام پر منتقل کردیں۔ اس کے بعد دشمن کے لشکر کو مسلمانوں کا پیچھا کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ درج بالا تجزئے کی روشنی میں اس راقم کا موقف یہ ہے کہ جنگ موتہ کے واقعات اور آج کل کے خودکش حملوں کا آپس میں کوئی موازنہ یا تعلق نہیں ڈھونڈا جاسکتا۔ 
اس ساری بحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خودکش حملوں کا موجودہ سلسلہ امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہے اور یہ تدبیراصولی اعتبار سے بھی غلط ہے۔