بیش تر علما کا خیال ہے کہ کسی خاتون پر اس کے دیور کی نظر نہیں پڑنی چاہیے۔ اسے پوری طرح سے اپنے دیور سے پردے میں رہنا چاہیے۔ اس سلسلے میں اگر ہم اس حدیث کا تجزیہ کریں جس سے یہ استدلال پیش کیا جاتا ہے تو بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ اس حدیث کا متن یہ ہے:

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِیَّاکُمْ وَالدُّخُوْلَعَلَی النِّسَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَفَرَأَیْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ.(مسلم، رقم۲۱۷۲)
’’عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے پاس علیحدگی میں جانے سے بچو، انصار کے ایک آدمی نے پوچھا: یارسول اللہ، دیور کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: دیور تو(اس معاملے میں)موت ہے۔‘‘

اس حدیث پرسرسری نگاہ ڈالنے سے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث کا مقصد عورت اور مرد کے درمیان کچھ حد بندیاں لگانا ہے تاکہ کوئی نارواصورت حال پیدا نہ ہو۔ اس ضمن میں ایک احتیاط تجویز کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ دونوں تنہائی میں نہ ملیں۔ دیور کے معاملے میں عام طور پر کچھ لاپروائی پائی جاتی ہے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معاملے میں خاص طور پر احتیاط برتنے کے لیے کہا۔ چنانچہ یہ چیز پیش نظر رہے کہ صرف دیور سے یہ احتیاط کرنے کی بات نہیں کی گئی، بلکہ ہر غیر محرم کے سامنے یہ احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں اس حدیث میں یہ نہیں کہا جارہا کہ خواتین اپنے دیور سے دور رہیں، بلکہ مردوں اور عورتوں سے صرف یہ کہا جارہا ہے کہ علیحدگی میں ملنے سے گریز کریں اور اسی سلسلے میں ایک سوال پوچھنے پر یہ کہا گیا کہ خواتین کو خاص طور پر اپنے دیوروں سے تنہائی میں ملنے میں احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ ان کے معاملے میں بالعموم لاپروائی ہوجاتی ہے۔
یہاں پر یقیناًایک عقل عام کا استثناء ہے:مردوں اور عورتوں میں اس نوعیت کا الگ سے ملنا جیسے ڈاکٹر کا کسی مریض سے یا کسی طالب علم کا اپنے استاذ سے۔ اس نوعیت کا علیحدگی میں ملنا جلنا چونکہ ایک مقصد کے تحت ہوتا ہے اس لیے جب تک مقصد غالب رہے گا کوئی اخلاقی قباحت پیدا نہیں ہو گی۔

____________