چونتیس واں باب 

آج ہمارے ملک میں کرپشن اپنے عروج پر ہے یہ کرپش اہل سیاست، بیوروکریسی اور عدالت ہر جگہ ہے۔ کرپشن، بددیانتی، خیانت، رشوت، غلط سفارش اور میرٹ کے بغیر فیصلے، یہ دراصل ایک ہی برائی کے مختلف پہلو ہیں۔ قوموں کی تباہی میں یہ چیز بہت بڑا کردار اداکرتی ہے۔ کرپشن کسی ملک کے اندر غیر یقینی صورت حال کو جنم دیتی ہے، ہر انسان اپنی ذات تک محدود ہوجاتا ہے اور ہر ایک فرد دوسرے کو کرپٹ قرار دیتا ہے۔ گویا کرپشن سے سوسائٹی میں بلحاظ مجموعی بے اطمینانی کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ کرپشن وہیں پر پھلتی پھولتی ہے جہاں انصاف نہ ہو۔ اگر ملک کے اندر انصاف ہو اور ہر ایک کو اُس کی صلاحیت کے مطابق معاوضہ دیا جائے تو کرپشن کم ہوتی جاتی ہے۔ کرپشن کی دوسری بڑی وجہ آپس میں معیارِ زندگی کی دوڑ ہے۔ یہ چیز قناعت کے بالکل اُلٹ ہے۔ 
کرپشن کے خاتمے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک میں انصاف قائم کیا جائے اور بالا دست طبقات خود یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ کرپشن نہیں کریں گے۔ انصاف ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی فرد کے اختیارات اور اُس کی آمدنی میں توازن پیدا کیا جائے۔ یہی وہ عامل ہے جس کی وجہ سے جی ٹی روڈ پر تعینات پولیس کا ملازم رشوت لیتا ہے مگر موٹروے پولیس اس خرابی سے بہت حد تک پاک ہے۔ 
لیکن اگر کسی ملک میں انصاف نہ ملتا ہوتو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک انسان اس بات کو رشوت لینے کے لیے جواز کی وجہ بنالے۔ یہ بھی ایک غلط رویہ ہے۔ اگر کسی ملک میں انصاف کی دھجیاں اڑائی جارہی ہوں، وہاں بھی ایک حساس اور باشعور فرد کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ کرپشن سے اپنے آپ کو بچائے۔ آخر اُسے اپنی قبر میں لیٹنا ہے۔ پروردگار کے دربار میں تو یہ بہانہ نہیں بنایاجاسکتا کہ چونکہ سب لوگ رشوت لے رہے تھے اس لیے میں بھی لے رہا تھا۔ ایسے بہانوں سے انسان اس دنیا میں اپنے دل کو بظاہر مطمئن کرسکتا ہے، لیکن خدا کے دربار میں ان کی کوئی قیمت نہیں۔ ہم روز دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا افسر اپنی کم آمدنی کا رونا روکر اور اپنے معیار زندگی کی دُہائی دیکھ کر رشوت لیتا ہے اور اُس کے بالکل برعکس ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسٹم کا ایک عام سپاہی اپنے آپ کو بددیانتی سے بچاتا ہے اور اپنی تھوڑی تنخواہ میں خدا کا شکر اداکرکے اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرپشن کی طرف رجحان بھی درحقیقت ایک ذہنی رویہ ہے۔ اگر انسان اس ذہنی رویے پر قابو پانے کی جدوجہد کرے تو کم ازکم اپنی ذات کی حد تک مثال بن سکتا ہے۔ 
جن لوگوں کو قدرت نے ملک میں پالیسی سازی کی جگہ پر فائز کیا ہے، اُن پر یہ لازم ہے کہ وہ ہر ملازم کے اختیارات اور اُس کی تنخواہ میں توازن پیدا کریں، ہر محکمے اور ادارے کے لیے انصاف پر مبنی واضح پالیسی بنالیں، عدالتوں کے ذریعے بھی انصاف مہیا کریں، ہر حکومتی ادارے کے سب حسابات کو شفاف بنائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ذمہ داری کے منصب پر فائز افراد اپنا ذاتی حساب قوم کے سامنے ہر وقت رکھیں اور اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرنے کے لیے ہر لمحہ تیار ہوں۔ کرپشن کی لعنت پر صرف اسی طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ سخت سزائیں کرپشن کا حل نہیں ہیں، بلکہ اس سے کرپشن کا ریٹ مزید بڑھ جاتا ہے۔