حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مندرجہ ذیل اثر کی بنیاد پر بالعموم یہ راے قائم کی گئی ہے کہ خواتین کے لیے اپنے چہرے کے بال اتارنے کی ممانعت ہے :

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ وَ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَیِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ فَبَلَغَ ذَالِکَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ أَسَدٍ یُقَالُ لَہَا أُمُّ یَعْقُوْبَ فَجَاءَ تْ فَقَالَتْ: إِنَّہُ بَلَغَنِیْ أَنَّکَ لَعَنْتَ کَیْتَ وَکَیْتَ؟ فَقَالَ: وَمَالِیْ لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ ہُوَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَیْنَ اللَّوْحَیْنِ فَمَا وَجَدْتُّ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ، قَالَ: لَءِنْ کُنْتِ قَرَأْتِیہِ لَقَدْ وَجَدْتِّیْہِ، أَمَا قَرَأْتِ: ’’وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا‘‘؟ قَالَتْ: بَلٰی، قَالَ: فَإِنَّہُ قَدْ نَہٰی عَنْہُ قَالَتْ: فَإِنِّیْ أَرٰی أَہْلَکَ یَفْعَلُوْنَہُ قَالَ: فَاذْہَبِیْ فَانْظُرِیْ فَذَہَبَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِہَا شَیْءًا فَقَالَ: لَوْ کَانَتْ کَذَالِکَ مَا جَامَعْتُہَا. (بخاری، رقم ۴۶۰۴)

’’حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو گودتی ہیں، یعنی (tattoos) بناتی ہیں اور جو گدواتی ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو اپنی بھوؤں اور چہرے سے بال اکھڑواتی ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو اپنے دانتوں کے درمیان مصنوعی خلا پیدا کرتی ہیں تاکہ زیادہ خوب صورت دکھائی دیں جس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں۔ ان کی یہ بات بنی اسد کی ایک خاتون، جو ام یعقوب کہلاتی تھی، تک پہنچی تو وہ عبداللہ کے پاس آئی اور کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ تم نے فلاں اور فلاں قسم کی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اورجن پر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں لعنت بھیجی گئی ہے؟ ام یعقوب نے کہا: میں نے پورا قرآن پڑھا ہے، لیکن تم جو بات کہہ رہے ہو، وہ میں نے کہیں نہیں پڑھی، حضرت عبداللہ نے کہا: اگر تم نے حقیقت میں قرآن پڑھا ہوتا تو تم اس میں ضرور اس حکم کو پاتیں (اور وہ حکم یہ ہے): ’’جو چیز رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )تمھیں دے، وہ لے لو اور جس چیز سے منع کرے، اسے چھوڑ دو (الحشر۵۹:۷)۔‘‘اس نے کہا کہ ہاں ، یہ حکم تو میں نے پڑھا ہے، حضرت عبداللہ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ ام یعقوب نے کہا: لیکن میں نے تمھاری بیوی کو تو یہ کرتے دیکھا ہے، عبداللہ نے کہا : جاؤ اور جا کر اسے دیکھو، وہ گئی اور اسے دیکھا، لیکن اسے اپنے دعوی کے حق میں کوئی ثبوت نہ ملا، اس پر عبداللہ نے کہا : اگر میری بیوی ایسا کرتی جیسا کہ تم کہہ رہی ہو تو میں اسے چھوڑ دیتا۔‘‘

کسی حدیث کو پڑھتے اور اس کو سمجھتے وقت ہمیں دو باتیں اپنے ذہن میں رکھنی چاہییں: پہلی بات یہ کہ جہاں تک ممکن ہوسکے اس خاص موضوع سے متعلق تمام احادیث کو اکٹھا کرنا چاہیے اور ان کا تجزیہ کرنا چاہیے تاکہ اس حدیث کا سیاق و سباق واضح ہو اور پوری تصویر سمجھ میں آجائے۔ دوسری بات یہ کہ تمام احادیث کی بنیاد قرآن و سنت میں ہونی چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی حدیث کو پرکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے ان دو بنیادی ماخذوں پر مبنی ہونی چاہیے۔ان کا مفہوم کبھی بھی قرآن اور سنت سے الگ کرکے نہیں سمجھنا چاہیے۔ اوپر مذکورہ حدیث پر ان اصولوں کا اطلاق کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس حدیث میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ان باتوں میں سے چند ایک ہیں جو عرب خواتین کرتی تھیں۔ ان سے ان کی قدرت کی طرف سے دی گئی شکل وشباہت بالکل بدل جاتی اوراس طرح ان کی شکل وصورت کے بارے میں غلط تاثر ملتا اوردیکھنے والے کو دھوکا ہوتا۔اس حدیث کو اگر قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے تو بات بالکل واضح ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں سورۂ روم کی مندرجہ ذیل آیت ملاحظہ ہو:

فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ. (۳۰: ۳۰)
’’اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر رہو جس پر اس نے انسان کو بنایا۔ یہ مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تخلیق میں تبدیلی کی جائے۔ ‘‘

مندرجہ بالا آیت میں مذکور اصول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی بہت سی باتوں سے منع فرمایا ہے جو آپ کے زمانے میں کی جارہی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں فطرت انسانی اور انسان کی جسمانی ساخت کو اسی طرح محفوظ رہنا چاہیے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق کیا ہے۔ لہٰذا اس ساخت میں کوئی بھی تبدیلی اور ترمیم ناپسندیدہ ہے۔ تاہم ایک بہت ہی باریک سا فرق اپنے حسن و جمال کی تسکین کے لیے خوب صورت بننے اور اپنی ساخت کو تبدیل کرنے میں ہے۔ پہلی بات، یعنی حس جمال کی تسکین کی اسلام میں اجازت ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی بنائی ہوئی تخلیق میں تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا۔
اس حدیث میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو اس زمانے میں کی جاتی تھی جسے ’تنمّص‘ کہا جاتا تھا۔ اوپر حدیث میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ کا مطلب ہے کہ ماتھے پر اگے ہوئے فالتو بالوں کو ایک خاص انداز میں مونڈھ دیا جاتا تھا جس سے سر کے کچھ حصے پر بال ہوتے اور کچھ حصہ گنجا رہ جاتا۔ اسی چیز سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، لیکن اوپر نقل کردہ اس حدیث میں اس کا ترجمہ چہرے سے بال صاف کرنا کیا گیا ہے، جبکہ ’تنمّص‘ کے یہ معنی نہیں ہیں، جیسا کہ ہم نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب سر کے وہ بال جو پیشانی تک آئے ہوتے، انھیں ایک خاص انداز میں مونڈھنا ہے۲۴؂۔ اس تجزیے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چہرے پر جو بال اگ آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اتارنے سے منع نہیں فرمایا۔ یہ حس جمال کی تسکین کے ضمن میں شمار ہوں گے اور اسلام جمالیات کو پسند کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کو پسند نہیں کرتا، اس لیے جو خواتین اپنے چہرے کی صفائی ستھرائی کے لیے یا بیماری کے حل کے لیے کچھ کرتی ہیں تو اس کی بالکل اجازت ہے۔

_____
۲۴؂ لسان العرب، ابن منظور ۷/ ۱۰۱۔

____________