گیارہواں باب 

پچھلے کچھ برسوں کے دوران میں یورپ کے اندر ایک ایسی ریاست نے جنم لیا جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس ریاست کا نام بوسنیا ہے۔ اس سے پہلے یورپ میں واحد مسلم ریاست البانیہ کی تھی۔ لیکن چونکہ البانیہ میں انتہائی سخت گیر قسم کی سوشلسٹ حکومت قائم تھی اس لیے اس ریاست کا مسلم تشخص نہ ہونے کے برابر تھا۔ البتہ سویت یونین کے خاتمے کے بعد اس ریاست کا مسلم تشخص اب آہستہ آہستہ سامنے آرہا ہے۔ 
بوسنیا کی ریاست خالصتاً جمہوریت اور حکمت کی پیداوار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں کے عوام نے بے مثال شجاعت اور مردانگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ملک دراصل یوگوسلاویہ کا ایک حصہ تھا، جو کہ ایک سوشلسٹ ملک تھا اور وہاں مارشل ٹیٹو نے تیس برس تک حکومت کی۔ وہ 1980ء میں فوت ہوا۔ اس کے معاً بعد وہ وقت آیا جب سوشلسٹ ریاستیں آہستہ آہستہ بکھرنے لگیں۔ یوگوسلاویہ کا اکثریتی صوبہ سربیا تھا۔ جہاں آرتھوڈاکس عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ سابقہ یوگوسلاویہ کے سب صوبوں کے درمیان گہرے نسلی اور مذہبی اختلافات ہیں۔ یوگوسلاویہ سے آزادی کا سب سے پہلا اعلان سلووینیا نے کیا۔ دسمبر1991ء میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے عوام نے یوگوسلاویہ سے آزادی کی حق میں فیصلہ دیا۔ اس کے کچھ مدت بعد ایک اور صوبے کروشیا نے بھی آزادی کا فیصلہ کردیا۔ واضح رہے کہ ان دونوں علاقوں میں رومن کیتھولک عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ 
جب درج بالا دونوں صوبوں نے اپنی الگ الگ ریاستیں حاصل کرلیں تو بوسنیا کے عوام نے بھی متحد ہوکر آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کردیا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے بوسنیا کی پارلیمنٹ میں آزادی کا بل پیش کردیا گیا جسے پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔ اس کے بعد فروری1992ء میں ریفرنڈم ہوا جس میں 99%ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد مارچ میں بوسنیا نے آزادی کا باضابطہ اعلان کردیا اور اپریل میں یورپی برادری اور اقوام متحدہ نے بھی اسے اپنا رکن بنالیا۔ اس تفصیل سے یہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بوسنیا کے عوام نے صرف اُس وقت آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جب گردوپیش کے حالات اس کے لیے پوری طرح تیار ہوچکے تھے اور اس اعلان سے پہلے ہر قدم جمہوری اصولوں کے مطابق لیا گیا۔ 
آزادی کے اعلان کے فوراً بعد یوگوسلاویہ کے جا نشین صوبے یعنی سربیا نے بوسنیا پر حملہ کردیا اور وہ مظالم ڈھائے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس جارحیت کے جواب میں بوسنیائی فوج اور وہاں کے عوام نے مکمل دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے اعلیٰ ترین اخلاقی اصولوں کے مطابق اپنا دفاع کیا اور دفاع کرتے وقت سویلین سرب باشندوں کے خلاف کوئی ظلم نہیں کیا۔ واضح رہے کہ بوسنیا میں سرب باشندوں کی بھی ایک قابل لحاظ تعداد بستی ہے۔ اس وقت بوسنیا کے صدر عالی جاہ عزت بیگ تھے جو ایک دانشور اور تعلیم یافتہ انسان تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دین پر بھی گہری نظر رکھتے تھے وہ پوری زندگی حکمت اور جمہوریت کی اصولوں پر پوری طرح کاربند رہے۔ نہ صرف یہ کہ بوسنیا کی فوج نے سویلین سربوں کو کچھ نہیں کہا، اس کے برعکس انہوں نے صرف اور صرف اپنے دفاع پر توجہ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سرب فوج کے مظالم اور اس کی جارحیت سے پوری دنیا کو باخبر کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا، سارے ذرائع ابلاغ اور اقوام متحدہ بوسنیا کے حق میں اور سربیا کے خلاف ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے سربیا کے کئی اہم سیاسی اور فوجی رہنماوؤں کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دے کر ان کو سزائیں سنائی ہیں۔ حتیٰ کہ سربیا کے سابق صدر میلوسووچ کو بھی عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا اور اُس کی موت بھی جیل خانے میں ہوئی۔ اس وقت تک اقوام متحدہ نے بوسنیا کے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والے ساٹھ اہم ترین سربوں کو سزائیں سنائی ہیں اور تقریباً ایک سو سرب افراد پر اس الزام کے تحت مقدمہ جاری ہے۔ 
جب بوسنیا نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود دوبرس تک کامیابی کے ساتھ اپنا دفاع کیا تو دشمن کی طرف سے جارحیت میں آہستہ آہستہ کمی آنے لگی اور سربیا یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ وہ جنگ کے ذریعے بوسنیا کو نیچا نہیں دکھا سکتا۔ پھر جب ساری دنیا پر بھی یہ واضح ہوگیاکہ بوسنیائی عوام اپنی آزادی کے لیے ہر قربانی دینے کا عزم کیے ہوئے ہیں، تب کہیں جاکر امریکہ درمیان میں کود پڑا اور اُس نے سب فریقوں کے درمیان مذاکرات شروع کروادیے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں دسمبر1995ء میں ’’ڈیٹن امن سمجھوتہ‘‘ پر دستخط ہوگئے۔ یہ ایک عملی سمجھوتہ تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کے تحت مسلمانوں کو سارے حقوق مل گئے۔ تاہم اس کے ذریعے ایک اکثریتی مسلمان ملک وجود میں آگیا، جس کے باشندے اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ گویا یہ کامیابی کی ایک ایسی کہانی (Success story) ہے جسے حکمت، صبر، جمہوریت اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی بنیاد پر جیتا گیا۔ 
اس کے بالکل برعکس چیچنیا ناکامی کی ایک کہانی ہے۔ اس علاقے کی آبادی اندازاً تیرہ لاکھ ہے۔ یہ علاقہ تقریباً چاروں طرف سے روس میں گھرا ہوا ہے اور اس کی صرف ایک چھوٹی سی سرحد بحیرہ کیسپین سے ملتی ہے۔ اس علاقے میں مسلمان بستے ہیں۔ اسی طرح روس کے اندر دس مزید بھی ایسے علاقے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں چیچنیا کے لیے آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ عملی اعتبار سے ناممکن تھا۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسی آزاد ریاست وجود میں نہیں آئی جو چاروں طرف سے ایک دوسرے ملک میں گھری ہوئی ہو، اور جس کو سامان رسد پہنچانے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ چونکہ روس کے اندر کئی مزید مسلمان اکثریتی علاقے بھی موجود تھے، اس لیے چیچنیا کے عوام کے لیے مناسب راستہ یہ تھا کہ وہ رشین فیڈریشن کی سرحدوں میں رہتے ہوئے مکمل اندرونی خودمختاری کا مطالبہ کرتے۔ ایسا مطالبہ جمہوری اصولوں کے عین مطابق ہوتا اور یہ بھی ممکن تھا کہ مستقبل میں روس کے اندر مزید مسلمان علاقوں کو بھی ایسی ہی خودمختاری مل جاتی۔ 
1991ء میں سوشلسٹ سویت یونین شکست وریخت کے عمل سے گزر رہا تھا اور سارے ملک میں بدامنی تھی، چنانچہ اس موقعے سے جنرل جوہر داؤد نے فائدہ اٹھاکر چیچنیا میں انقلاب برپا کردیا اور اپنی خودمختارحکومت کا اعلان کردیا۔ چونکہ اُس وقت روس اپنے داخلی مسائل میں بُری طرح الجھا ہوا تھا، اس لیے اُس نے جنرل داؤد کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہیں کی۔ تاہم جب باقی ملک کے حالات اُس کے کنٹرول میں آگئے تو 1994ء میں روس نے اپنی فوج چیچنیا میں داخل کردی اور یوں کئی برس تک جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپریل 1996ء میں جنرل داؤد کو شہیدکیاگیا۔ اس لڑائی میں اندازاً اسی ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ 
اس کے بعد ایک سمجھوتے کے نتیجے میں جنوری1997ء میں انتخاب ہوا جس میں اسلان مسخدوف نے کامیابی حاصل کی۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ اُن کا مطمح نظر بالآخر روس سے مکمل آزادی ہے۔ چونکہ وہ جمہوری طریقے سے برسراقتدارآئے تھے اور انہوں نے رشین فیڈریشن کے خلاف عملاً بھی کوئی کاروائی نہیں کی، اس لیے روس نے انہیں برداشت کیے رکھا۔ تاہم اُن سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ انہوں نے چیچنیا کی سرزمین پر موجود مسلح تنظیموں کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ جب بھی کسی جگہ ریاستی فوج کے علاوہ مسلح تنظیمیں موجود ہوتی ہیں، تو وہ اپنے لیے نئے نئے ٹارگٹ تلاش کرتی ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہوا۔ اگست1999ء میں شامل بسایوف نامی ایک مسلح کمانڈر نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ریاست سے باہر بھی اسلام کا جھنڈا لہرانا چاہتا ہے۔ چنانچہ اُس نے قریبی ریاست داغستان پر حملہ کرکے وہاں کے چند دیہات پر قبضہ کرلیا۔ اس جارحانہ اقدام سے پورے روس کے اندر غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور سارے روس کے اندر یہ احساس پیدا ہوگیا کہ ہم نے تو چیچنیا کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا، لیکن یہ لوگ تو اب آگے بڑھ کر ہم پر حملہ کرنے لگے ہیں۔ چنانچہ روس کے صدرپیوٹن نے چیچنیا کے خلاف فوجی کاروائی کا اعلان کردیا۔ اس اعلان میں اُسے سارے ملک کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے نتیجے میں چیچنیا کے اندر خون کی ایک اور ہولی کھیلی گئی، مزید ہزاروں مسلمان شہید ہوگئے اور چیچنیا پر روس کا قبضہ ہوگیا۔ یہ قبضہ ابھی تک برقرار ہے۔ اگرچہ اب بھی کہیں نہ کہیں اکا دکا کاروائیاں ہوتی ہیں، لیکن بلحاظ مجموعی پچھلے چندبرس سے امن ہے۔ اس وقت وہاں انتخاب کے نتیجے میں روس کی حمایت یافتہ حکومت اقتدار میں ہے۔ 
اگر1991ء میں جنرل داؤد، اپنے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد ریاست میں انتخاب کروادیتے ،اُس پارلیمنٹ سے مکمل اندرونی خودمختاری کا مطالبہ منظور کروالیتے، اور اس پر ریفرنڈم کے ذریعے مہر تصدیق ثبت کروالیتے تو غالباً روس کو کوئی اعتراض نہ ہوتا اور لاکھوں مسلمانوں کا خون یوں نہ بہتا۔ اگر اسلان مسخدوف 1997ء میں برسراقتدار آنے کے بعد یہ اعلان کردیتے کہ وہ روس کے اندر کامل اندرونی خودمختاری چاہتے ہیں اور وہ پرائیویٹ مسلح تنظیموں پر پابندی لگادیتے تو روس کو دوبارہ فوج کشی کا جواز نہ ملتا۔ چونکہ اس پورے معاملے میں زمینی حقائق اور حکمت کا خیال نہیں رکھا اس لیے یہ جدوجہد ناکامی سے دوچار ہوئی۔ 
ان دونوں واقعات میں ہمارے لیے ایک بڑا سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ اقدام صرف اُسی وقت کرنا چاہیے جب حالات اُس کے لیے پوری طرح حالات سازگار ہوں۔ ہر اقدام جمہوری اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کوئی غلط اجتماعی قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔ سب اخلاقی اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے تاکہ دنیا کی رائے عامہ کی ہمدردیاں ساتھ رہیں۔ اور آخری بات یہ کہ سمجھوتہ ہمیشہ زمینی حقائق کی بنیاد پر کرنا چاہیے، نہ کہ اپنی خواہشات کی بنیاد پر۔