مندرجہ ذیل حدیث کی بنیاد پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شوہر اگر بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور بیوی انکار کردے تواس پر فرشتے صبح ہونے تک لعنت بھیجتے ہیں:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَا الرَّجُلُ إِمْرَأَتَہُ إِلٰی فِرَاشِہِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْہَا لَعَنَتْہَا الْمَلَاءِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ. (بخاری، رقم ۳۲۳۷)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے اور نتیجہ کے طور پر وہ ساری رات ناراضی میں گزار دے تو فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے ہیں، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔ ‘‘

اس حدیث کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے:
۱۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی جنسی تسکین کا سامان کرکے ایک دوسرے کی عفت وعصمت کی حفاظت کا باعث بنتے ہیں۔ عفت وعصمت کی یہ حفاظت خاندان کی بقا اور حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ خاندان کی بقا پر معاشرے کی بقا کا انحصار ہے۔ چنانچہ جو چیز اس عفت وعصمت کو خطرے میں ڈالے، وہ اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے ۔
۲۔ اس حدیث میں شوہر بھی اسی طرح مخاطب ہے، جس طرح بیوی ہے۔ اس بات کا ثبوت قرآن مجید کی سورۂ بقرہ (۲) کی آیات ۲۲۶۔۲۲۷ میں ہے جن میں ’إیلاء‘ کا حکم بیان ہوا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب میں شوہر ناراضی کی وجہ سے اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شوہر کے لیے چار مہینے کی مہلت مقرر کی کہ یا وہ بیوی کو اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کرلیں یا پھر انھیں طلاق دے دیں، بے وجہ انھیں تنگ نہ کریں۔ اس حکم سے واضح ہے کہ عام حالات میں شوہر کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ بغیر کسی وجہ کے اپنی بیوی سے ازدواجی تعلق ختم کرے۔ اگر کسی شخص نے اس قسم کی کوئی قسم کھائی ہے تو اسے اس قسم کوبہر صورت توڑ دینا چاہیے۔ یہ تعلق بیوی کا حق ہے۔ اگر شوہراس کا یہ حق ادانہیں کرتا تو وہ زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جواب دہ ہوگا۔
۳۔ مباشرت کا انکار شوہر کرے یا بیوی، اس انکار کی وجہ کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی تھکا ہوسکتا ہے یا بیمار۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے اس کی طبیعت آمادہ نہ ہو یا وہ ذہنی طور پر تیار نہ ہو۔ کوئی اور معقول اور قابل فہم وجہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس طرح کے کسی عذر کی بنیادپرانکار اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث نہیں ہوگا۔ تاہم اگران دونوں میں سے کوئی بھی جان بوجھ کرایک دوسرے کی فطری ضرورت کو پورا نہیں کرتا تووہ گناہ کا مرتکب ہوگا اور اس کو اپنے رویے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔

____________