سمتھ (Smith) کی لغت بائبل میں ہے:

MIDBAR. (...). It is most frequently used for those tracts of waste land which lie beyond the cultivated ground, ؂41

مدبار (...) یہ لفظ عام طور پر بے آباد زمین کے ان ٹکڑوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو مزروعہ زمین سے ہٹ کر واقع ہوں۔

’ہارپر کی لغت بائبل‘ میں وضاحت کی گئی ہے:

Wilderness, a desolate or deserted area devoid of civilization. One Hebrew word above all others is used for "wilderness," or "desert," in the OT: midbar, indicating both "that which is desolate and deserted" and "that which is beyond," i.e., beyond the limits of settlement and therefore of government control, perceived by both city dwellers and villagers as being essentially disorderly and dangerous, the home of wild beasts and savage wandering tribes. In time of war or repression refugees would flee to the midbar; (....). Midbar was for them, as "wilderness" was originally in English, the wild, alarming wasteland, where men and women find themselves bewildered and disoriented. ؂42

بیابان [Wilderness] ایک بے آباد اور ویران خطہ ،جہاں تہذیب کا کوئی نام و نشان نہ ہو۔ عہد نامۂ قدیم میں بیابان یا صحرا کے لیے ایک عبرانی لفظ اس مفہوم کے دوسرے سب الفاظ سے زیادہ استعمال ہوتا ہے: اور وہ ہے: ’مدبار‘۔ یہ لفظ ’وہ جو بے آباد اور اجاڑ ہے‘ اور ’وہ جو پرے ہے‘ یعنی آبادی کی حدود سے پرے اور اس لیے حکومت کے کنٹرول سے بھی بالا ہے، ان دونوں معانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شہری اور دیہاتی باشندے، دونوں ہی اسے بد نظمی کا شکار اور خطرناک سمجھتے ہیں جو وحشی جانوروں اور جنگلی آوارہ قبائل کا مسکن ہو۔ جنگ یا ظالمانہ اقتدار کے دنوں میں پناہ گزین اس مدبار کی طرف فرار ہو جاتے ہیں۔ (...)۔ جس طرح انگریزی کا لفظ ’Wilderness‘ بنیادی طور پر ایسی وحشی اور خطرناک اجاڑ زمین کے لیے آتا ہے جہاں مرد اور عورتیں اپنے آپ کو حیران و پریشان اور بھٹکا ہوا محسوس کریں، اسی طرح ان (یہود) کے لیے مدبار کا لفظ تھا۔

اس کا مطلب ہے کہ لفظ ’مِدبار‘ جو بائبل میں ’اُجاڑ بیابان‘ کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اس سے مراد ایک پہاڑی، ریتلا، بے آباد، ناقابل کاشت مقام ہے جو بیابانِ بیر سبع اور فاران سے کُلی مشابہت رکھتاہے۔
(ہ) بیر سبع ۴۳؂ ایک با معنی لفظ ہے، اس کے لغوی طور پر دو الگ الگ معنی ہیں: (۱) ’سات کا کنواں‘۴۴؂
اور ( ۲) ’حلف یا عہد۴۵؂ کا کنواں‘ ۔ وہ بیر سبع جو حضرت ہاجرہ اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کے قصے سے آگے اس باب کی آیت ۲۲ میں شروع ہوتا ہے اور جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور شاہِ ابی ملک کے حلف سے متعلق ہے، وہ ’حلف کا کنواں‘ ہے اور اسی وجہ سے اس کا یہ نام پڑا ہے۔۴۶؂
(و) اس پیرا گراف میں’عہد کے کنویں‘ سے متعلق بیر سبع کا مطالعہ مقصود ہے۔ ذیل میں چند اہم اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے یہ دوسرے معنی ثابت ہوتے ہیں۔ ہیسٹنگز کی نظر ثانی شدہ ایک جلد والی بائبل ڈکشنری میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ ایک ایسا مقام تھا:

Where he [Abraham] made a covenant with Abimelech, from which the place is alleged to take its name ('well of the covenant," according to one interpretation). ؂47

جہاں اس [حضرت ابراہیم ؑ ] نے شاہِ ابی ملک سے ایک معاہدہ کیا تھا، جس سے، کہا جاتا ہے کہ، اس کا یہ نام پڑا ۔ (عہد کا کنواں)

’جے ہیسٹنگزڈکشنری آف بائبل‘ میں بیان کیا گیا ہے:

It (...) received its name ('Well of the oath') as having been the place, marked by a well, where Abraham entered into covenant with Abimelech, king of Gerar (Gn 21:31 E). ؂48

اس کا (...) یہ نام (حلف کا کنواں) اس لیے پڑ گیا، کیونکہ یہ ایک ایسی جگہ تھی جس کی نمایاں بات ایک کنواں تھا جہاں [حضرت] ابراہیم ؑ نے جرار کے بادشاہ ابی ملک کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا(پیدایش۲۱: ۳۱۔اے)۔

میکنزی کے مطابق:

about 28 mi S [according to the Interpreter's Dic. of the Bible "SW" (1:375)] of Hebron; ؂49

یہ حبرون سے تقریباً اٹھائیس میل جنوب[’انٹرپریٹرز ڈکشنری ‘کے مطابق جنوب مغرب] میں واقع ہے۔

حبرون (جسے اب الخلیل کہا جاتا ہے) یروشلم کے جنوب میں بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔۵۰؂ یہ حبرون وہ جگہہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی پہلی بیوی سارہ کے ساتھ مستقل رہائش اختیار کی تھی، لیکن وہ اپنا اکثر وقت اپنے کثیر التعداد ریوڑوں کے ساتھ بیر سبع میں اپنی اس زمین پر صرف کیا کرتے تھے جو انھیں ابی ملک نے پیش کی تھی (کتاب پیدایش۲۰: ۱۵)۔ بائبل کی ڈکشنریوں میںیہ بات تحریر ہے کہ یہ ریوڑوں کے لیے ایک بڑی مناسب چراگاہ تھی۔ مثلاً ’ہارپر کی بائبل ڈکشنری‘ میں ہے:

The Beer-sheba plain with its ample winter pasturage is well suited for seminomadic living; thus it served as the principal homestead of Israel's patriarchs. ؂51

اپنی وسیع سرمائی چراگاہوں کی وجہ سے بیر سبع کا میدان نیم خانہ بدوشانہ زندگی کے لیے نہایت موزوں ہے، اس طرح اسرائیل کے بزرگ آبا کے لیے یہ ایک بڑے اہم زراعتی فارم کا کام دیتا تھا۔

ایف ۔ایف بروس کہتا ہے کہ یہ ایک سرسبز و شاداب وادی تھی جس میں گھاس بافراط تھا۔ اس میں چوتھا ہزارہ قبل مسیح میں بھی انسانوں کی آبادیاں موجود تھیں:

On both sides of the Beer-sheba valley, in the Negeb, there is evidence of human settlement going back to the Chacolithic Age (later fourth millennium BC). (....). The Beer-sheba valley and its neighborhood were frequented by pastoralists like Abraham because the water-table was sufficiently high to be tapped by the digging of wells. ؂52

نجب میں وادئ بیر سبع کے دونوں طرف تانبے کے عہد [Chacolithic Age] (چوتھا ہزارہ ق م کا آخری دور) ،جیسے قدیم زمانے میں بھی انسانی آبادیوں کی شہادت موجود ہے۔ (...)۔ وادی بیرسبع اور اس کے قرب و جوارمیں ابراہیم ؑ جیسے چرواہے اکثر آیا کرتے تھے، کیونکہ یہاں پانی کی سطح اتنی کافی حد تک بلند تھی کہ کنوئیں کھود کر پانی بآ سانی نکالا جا سکتا تھا۔

’ہیسٹنگزڈکشنری آف بائبل‘ میں ای ہل (E. Hull) اس کی موجودہ حالت بھی اسی انداز میں بیان کرتا ہے:

The soil in the valleys where there is some moisture is exceedingly rich, and is rudely cultivated by the fellahin, who succeed in producing fine crops of wheat and barley. In the tracts around Beer-sheba the Bedawin find ample pasturage for their flocks and herds, which towards evening assemble in crowds around the wells as they did three thousand years ago. ؂53

جہاں کہیں کچھ نمی موجود ہے، وہاں اس وادی کی مٹی بہت زرخیز ہے اور کسان لوگ انتہائی سادہ انداز میں کاشت کرتے ہیں اور گندم اور جو کی بڑی عمدہ فصلیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بیر سبع کے ارد گرد کے علاقوں میں بدوی لوگوں کو اپنے ریوڑوں کے لیے وسیع چراگاہیں مل جاتی ہیں جو شام کے وقت اس طرح کنوؤں کے گرد ہجوم کی صورت میں اکٹھے ہو جاتے ہیں جس طرح وہ تین ہزار سال پہلے ہوا کرتے تھے۔

یہ اس ’بیابانِ بیر سبع‘ سے، جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آباد کیا تھا ، بالکل مختلف جگہ تھی۔
(ز) جس ’بیابانِ بیر سبع‘ کا تعلق حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہے، اُس کے متعلق تو ایک تفصیلی بیان اگلے پیرا گراف میں درج ہے اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام والا یہ بیر سبع حقیقی معنی میں ایک بیابان تھا، کیونکہ یہ ایک ویران، پہاڑی، ریتلی ، بنجر، نا ہموار اور غیر مزروعہ زمین تھی۔موجودہ پیرا گراف میں ’حلف کا کنواں‘سے متعلق چند باتیں مختصراً درج ہیں۔ یہ’ حلف کا کنواں‘ ایک خوب صورت وادی میں واقع تھا، جس میں گھنی سرسبز چراگاہیں تھیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اس جگہ چار ہزارسال قبل مسیح کی انسانی آبادیوں کی نشان دہی کی ہے۔ بائبل کے مطابق یہاں حضرت اسحاق علیہ السلام کے زمانے میں ’ایک شہر‘ موجود تھا (کتابِ پیدایش ۲۶: ۳۳)۔ اس طرح یہ وہ جگہ نہیں ہو سکتی جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آباد کیا تھا اور جو ایک مدبار یعنی بے آباد پہاڑی، ریتلی، ناہموار، غیر مزروعہ اور حقیقی معنی میں ایک بنجر بیابان تھی۔
(ح) پہلے مفہوم والے اس بیر سبع (سات کا کنواں۵۴؂) کا، جو حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ سے متعلق ہے، اس پیراگراف میں ذکر کیا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں کسی مقام کا نام یا تو وہاں کسی قبیلے کے آباد ہونے کی وجہ سے اس قبیلے کے نام پر رکھ دیا جاتا تھا، یا کسی ایسے اہم واقعے کے نام پر رکھ دیا جاتا تھا جو وہاں رونما ہوا ہو، یا اس مقام اور اس کے ارد گرد کی بعض نمایاں خصوصیات کی بنا پر رکھ دیا جاتا تھا۔ ان دونوں بیر سبعوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ان دونوں مقامات کا، جنھیں بعد میں بیر سبع کا نام دیا گیا تھا، پہلے سے کوئی متعین نام نہ تھا۔ ان کا یہ نام وہاں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے رکھا گیا۔ پہلے مقام کو بیر سبع (ایک حلف یا ایک عہد کا کنواں) اس لیے کہا گیا کیونکہ اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بادشاہ ابی ملک کے درمیان ایک حلف یا عہد وپیمان منعقد ہوا تھا۔ دوسرے مقام کو بیر سبع (سات کا کنواں) کا نام حضرت ہاجرہ کے صفا و مروہ کے درمیان سات مرتبہ سعی کرنے کی بنا پر دیا گیا تھا، کیونکہ اُن کی سعی کے اِن سات چکروں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے کے ذریعے سے ان پر یہ چشمہ نمودار کروایا تھا۔ اس کنوئیں کو عرب کے لوگ عام طور پر’ زم زم‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔۵۵؂ اسی وجہ سے اس ’سات کے کنوئیں‘ کے ارد گرد والے غیر مزروعہ غیر آباد علاقے کو ’بیر سبع کے بیابان‘ کا نام دیا گیا۔
’شارٹر انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام‘ میں تحریر ہے:

Hadjar, cast off by Abraham and seeing Ishma'el perishing of thirst, ran in despair seven times from one hill to the other; ؂ 56

ہاجرہ، جنھیں ابراہیم ؑ چھوڑ گئے تھے، نے [اپنے بیٹے حضرت] اسماعیل ؑ کو پیاس سے ہلکان ہوتے دیکھا تو اُس نے مایوسی میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک دوڑ کرسات چکر لگائے۔

ڈیوڈ کر (David kerr) وضاحت کرتا ہے:

This [the circumambulation around the Ka\'bah] is followed by running seven times between two small hills [al-Safa and al-Marwah], recalling the plight of Hagar and her son Ishmael who, in Islamic, Jewish and Christian tradition, were saved from certain death by a spring of water which God caused to break through the desert sands. This well is named in Islamic tradition as Zamzam, ؂57

اس[خانۂ کعبہ کے گرد طواف] کے بعد دو چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں[الصفا اور المروہ] کے درمیان سات مرتبہ دوڑا جاتا ہے (یعنی سعی کی جاتی ہے)۔ یہ اس مصیبت کی یادگار ہے جو یہودی ، مسیحی اور اسلامی روایت میں حضرتِ ہاجرہ اور ان کے بیٹے اسماعیل ؑ کو اٹھانی پڑی تھی اور جنھیں پانی کے ایک چشمے کے ذریعے سے یقینی موت سے نجات نصیب ہوئی تھی جو اللہ تعالیٰ نے صحرا کی ریت میں سے ان کے لیے جاری کیا تھا۔اسلامی روایات کے مطابق اس کنوئیں کا نام’ زم زم‘ ہے۔

چاہِ زم زم کے متعلق عربی و اسلامی لٹریچر اور بائبل میں بیان کردہ واقعات کے تفصیلی مطالعے کے بعد اِس قصے کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے:

حضرت ہاجرہ او رحضرت اسماعیل علیہ السلام والے بیر سبع کے مقام پر ایک غیر معمولی واقعہ رونما ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ او ران سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بیر سبع (سات کے کنوئیں) کے پہاڑی، غیر مزروعہ اور ریتلے بیابان میں چھوڑ کر بیر سبع(حلف کا کنواں) میں اپنے ریوڑوں اور حبرون میں اپنی جاے رہائش کی طرف لوٹ گئے۔ حضرت ہاجرہ کے پاس حضرت ابراہیم علیہ السلام جو کھانا اور پانی چھوڑ گئے تھے، وہ چند دن میں ختم ہو گیا۔ وہ( حضرت ہاجرہ) بہت پریشان ہوئیں۔ قریب ہی صفا اور مروہ کی پہاڑیاں تھیں۔ وہ کچھ خوراک اور پانی یا کسی مدد گار کی تلاش میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی کی طرف دوڑنے لگیں ، لیکن یہ سب ایک سعیِ لاحاصل تھی۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگانے کے بعد ہاجرہ اور اُن کے بیٹے کے لیے ایک عجیب اور غیر معمولی انداز میں پانی کا ایک چشمہ فراہم ہوگیا۔ اِس طرح اس جگہ کا نام ’بیرسبع‘ یا ’سات کا کنواں‘ یعنی صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانے کے نتیجے میں نمودار ہونے والا کنواں، پڑ گیا۔ قریب ہی حرمِ کعبہ(بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر جسے عبرانی میں بیتِ ایل کہتے ہیں) کے باقیات اور کھنڈر کھڑے تھے جن پر مستقبل قریب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عمارت اٹھانی تھی۔

قبلِ اسلام کے پرانے زمانے سے اہلِ عرب کے درمیان یہ ایک مسلّمہ اور مشہور روایت چلی آرہی تھی کہ خانہ کعبہ کا حج کرتے وقت لوگ صفا اور مروہ کے درمیان سات چکّر لگایا کرتے تھے۔ اسے اسلامی حج کی اصطلاح میں’ سعی‘ کہتے ہیں۔ اسلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کی اِس روایت کو برقرار رکھا تاکہ اہلِ ایمان کے دل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مضبوط ایمان اور اللہ تعالیٰ کی کلّی اطاعت اور حضرتِ ہاجرہ کے اپنے مالک پر مکمل اعتماد کی یاد تازہ رہے اور اُن میں اِس واقعہ کی روح کی پیروی کا جذبہ پیدا ہو۔ بخاری نے اس واقعے کو تفصیل سے نقل کیا ہے:

ثم جاء بہا ابراہیمُ وبابنِہا اسماعیلَ وہی تُرضِعُہ حتی وضعہما عند البیت عند دوحۃ فوق زمزمَ فی أعلی المسجدِ ولیس بمکۃَ یومئذ أحدٌ ولیس بہا ماءٌ فوضعہما ہنالک ووضع عندہما جِرابًا فیہ تمرٌ وسقاءً فیہ ماء ثم قفّٰی ابراہیمُ منطلقًا فتبتْہ أمُّ اسماعیلَ فقالت یا ابراہیمُ أین تذہب وتترکنا فہذا الوادی الذی لیس فیہ اِنسٌ ولا شیءٌ فقالت لہ ذلک مرارا وجعل لا یلتفتُ الیہا فقالت لہ أاللّٰہُ الذی أمرک بہذا قال نعم، قالت اِذَن لا یُضَیِّعُنا ثم رجعتْ فانطلق ابراہیمُ حتی اذا کان عند الثَّنِیَّۃ حیث لا یرونہ استقبل بوجہہ البیتَ ثم دعا بہؤلاء الکلمات ورفع یدیہ فقال ربِّ ( رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ اِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْن(ابراہیم ۱۴:۳۷)) وجعلتْ أمُّ اسماعیلَ تُرضع اسماعیلَ وتَشْرَبُ من ذلک الماء حتی اذا نفد ما فی السقاء عطشت وعطش ابنُہا وجعلت تَنظر الیہ یتلوَّی أو قال یتلبَّط فانطلقتْ کراہیۃ أن تنظر الیہ فوجدتْ الصَّفا أقربَ جبلٍ فی الأرض یلیہا فقامت علیہ ثم استقبلتْ الوادی تنظر ہل تری أحدا فلم تر أحدا فہبطتْ من الصفا حتی اذا بلغتْ الوادی رفعتْ طرف درعِہا ثم سَعَتْ سَعْیَ الانسانِ المجہور حتی جاوزتْ الوادی ثم أتتْ المروۃَ فقامت علیہا ونظرت ہل تری أحدا فلم تر أحدا ففعلت ذلک سبعَ مرات قال ابن عباس قال النبی ﷺ فذلک سَعْیُ الناس بینہما فلما أشرفت علی المروۃ سمعت صوتا فقالت صہ ترید نفسہا ثم تسمَّعت فسَمِعَتْ أیضا فقالت قد أسمعْتَ ان کان عندک غِواثٌ فاذا ہی بالمَلَکِ عند موضع زمزمَ فبحث بِعَقِبِہ أو قال بجناحہ حتی ظہر الماءُ فجعلت تُحَوِّضُہ وتقول بیدہا ہکذا وجعلت تغرف من الماء فی سقاۂا وہو یفُورُ بعد ما تَغْرِفُ قال ابن عباس قال النبیﷺ یَرحم اللہُ أمَّ اسماعیل لو ترکت زمزم أو قال لو لم تغرف من الماء لکانت زمزمُ عَینا مَعِینا قال فشربت وأرضعت ولدہا فقال لہا الملکُ لا تخافوا الضَّیْعَۃَ فان ہا ہنا بیت اللہ یبنی ہذا الغلام وأبوہ وان اللہ لا یُضیع أہلہ وکان البیت مرتفعا من الأرض کالرابیۃ تأتیہ السُّیولُ فتأخذ عن یمینہ وشمالہ فکانت کذلک حتی مرت بہم رُفْقَۃً من جُرْہُمَ أو أہل بیت من جرہم مُقبلین من طریق کَداءٍ فنزلوا فی أسفل مکۃَ فرأوا طائرا عائفا فقالوا ان ہذا الطائر لیدور علی ماء لعہدنا بہذا الوادی وما فیہ ماءٌ فأرسلوا جَرَیّا أو جریَّین فاذا ہم بالماء فرجعوا فأخبروہم بالماء فأقبلوا قال وأمُّ اسماعیلَ عند الماء فقالوا أتأذنین لنا أن نَنْزِلَ عندک فقالت نعم ولکن لا حقَّ لکم فی الماء قالوا نعم قال ابن عباس قال النبی ﷺ فألفی ذلک أم اسماعیل وہی تحب الانس فنزلوا وأرسلوا الی أہلیہم فنزلوا معہم حتی اذا کان بہا أہل أبیاتٍ منہم وشَبَّ الغُلام وتَعَلَّمَ العربیۃَ منہم وأنفسہم وأعجبہم حین شب فلما أدرک زَوَّجوہ امرأۃً منہم وماتتْ أمُّ اسماعیلَ.۵۸؂

ابن عباسؓ سے روایت ہے : ’پھر[حضرت]ابراہیم علیہ السلام اُنھیں (ہاجرہ کو) اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے آئے اور ہاجرہ [ابھی]حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی تھیں۔ دونوں کو بیت اللہ کے پاس ایک بڑے درخت کے قریب زم زم کے اوپر مسجد کی بلند جانب بٹھایا اور مکے میں اس وقت کوئی نہ تھااور نہ وہاں پانی تھا۔ دونوں کووہاں بٹھایا اور دونوں کے پاس ایک تھیلی چھوڑی، جس میں کھجوریں تھیں، اور ایک مشکیزہ، جس میں پانی تھا۔ پھر حضرتِ ابراہیم علیہ السلام واپس روانہ ہوئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ بھی اِن کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہنے لگیں: ’اے ابراہیم ؑ ہمیں اِس وادی میں،جس میں نہ کوئی آدم زاد ہے اور نہ کوئی اورچیز، چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو‘۔ حضرت ہاجرہ نے یہ بات اُن سے کئی مرتبہ کہی۔ [لیکن]انھوں [ابراہیم ؑ ]نے اُن کی طرف کوئی التفات نہ کیا اورپیچھے مڑ کر نہ دیکھا تو اُنھوں [ہاجرہ]نے اُن سے کہا: ’کیا اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟‘ اُنھوں نے کہا: ’ہاں‘۔وہ(ہاجرہ) کہنے لگیں: ’توپھر وہ ہمیں ضائع نہ ہونے دے گا‘۔۵۹؂ یہ کہہ کر وُہ واپس چلی گئیں۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام چلتے رہے ۔ یہاں تک کہ جب وہ اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں وُہ لوگ اُنھیں [ابراہیم ؑ کو] دیکھ نہ سکتے تھے، تو انھوں نے بیت اللہ کی طرف منہ کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر ان الفا ظ میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کی:
پروردگار! میں نے ایک بے آب وگیاہ وادی میں اپنی اولادکے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں۔، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انھیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں(ابراہیم ۱۴: ۳۷)۔

اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ انھیں دودھ پلاتی رہیں اور پانی کا جومشکیزہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُن کے پاس چھوڑ گئے تھے، اس میں سے پیتی رہیں۔ جب مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا تو انھیں پیاس ستانے لگی اور اُن کا بیٹابھی پیاس سے بلکنے لگا۔ وہ اِس کی طرف دیکھتی تھیں کہ وہ تڑپ رہا ہے۔ [اُنھیں یہ بہت ناگوار گزرا]۔ وہ وہاں سے ہٹ گئیں ،کیونکہ انھیں یہ بات پسند نہ تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو (اس حالت میں) دیکھیں۔ اُس [ہاجرہ] نے محسوس کیاکہ زمین پر صفا کی پہاڑی اس کے سب سے قریب ہے۔ وہ اُس پر کھڑی ہو گئیں پھر اُس نے وادی کی طرف منہ کیا تاکہ دیکھیں کہ کوئی شخص نظر آئے، مگر اُنھیں کوئی دکھائی نہ دیا۔ وہ صفا سے اُتریں، یہاں تک کہ جب وہ نیچے وادی میں پہنچیں تو اپنے کُرتے کے دامن کو اٹھا لیا اور اِس طرح دوڑنے لگیں جیسے کوئی مصیبت زدہ اِنسان دوڑتا ہے۔ یہاں تک کہ وادی سے گزر گئیں۔ پھرمروہ پہنچیں اور اُس کے اوپر کھڑی ہو گئیں۔ انھوں نے نظر دوڑائی کہ شاید کوئی نظر آ جائے۔ انھوں نے سات مرتبہ ایسا کیا۔ ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’یہی وہ سعی ہے جو لوگ ان دونوں [صفا اور مروہ] کے درمیان کرتے ہیں۔‘ پھر جب وہ [ساتویں مرتبہ] مروہ پر چڑھیں تو انھوں نے ایک آواز سنی۔ اِس پر اُنھوں نے اپنے آپ سے کہا ’خاموش‘! اور پھر اُنھوں نے توجہ سے سُنا تو وہی آواز آئی۔ اُنھوں نے کہا تُو نے اپنی آواز تو سنا دی [لیکن]کیا تیرے پاس میرے لیے کوئی مدد بھی ہے؟ اب جو انھوں نے نظر ڈالی تو دیکھا کہ زم زم کی جگہ پر ایک فرشتہ ہے۔ اُس نے اپنی ایڑی یا اپنے پر سے زمین کھودی۔ یہاں تک کہ پانی نکل آیا۔وہ حوض بنا کریہ پانی اُس میں جمع کرنے لگیں او راپنے ہاتھوں کو اس طرح استعمال کرتے ہوئے پانی سے چلو بھر بھر کر اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگیں اور یہ[پانی]ان کے چُلّو بھر بھر کر لینے کے بعد اور بھی جوش سے نکلنے لگا۔ ابنِ عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’اللہ اسماعیل کی ماں پر رحم فرمائے اگر وہ زم زم کو [ اپنے حال پر] چھوڑ دیتیں‘، یا فرمایا: ’اگر وہ پانی سے چُلّو چُلّو نہ بھرتیں تو زم زم ایک چشمہ جاریہ ہوتا۔‘ پس انھوں نے پانی پیا اور اپنے لڑکے کو دودھ پلایا۔ پس فرشتے نے کہا: ’ضائع [ہلاک] ہونے کا خوف نہ کرو۔ یہاں اللہ کا گھر ہے۔ یہ لڑکااور اُس کا باپ اُسے تعمیر کریں گے اوراللہ اپنے لوگوں کو ضائع نہیں کرتا‘۔ اور خانہ کعبہ اُس وقت ایک ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا۔ اس پر سیلاب آتے تو اس کے دائیں بائیں سے گزر جاتے۔ حضرت ہاجرہ اس حال میں رہیں۔ یہاں تک کہ قبیلہ جُرہم کے کچھ لوگ یا جرہم کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اُن کے پاس سے گزرے۔ وہ ’کَدا‘ کی طرف سے آ رہے تھے اور مکّے کے نشیب میں اُترے۔ انھوں نے [آسمان میں]چکر لگاتا ہُوا ایک پرندہ دیکھا تو کہا یہ پرندہ تو پانی کے اوپر چکر لگایا کرتا ہے۔ ہم ایک مدّت سے اِس وادی سے واقِف ہیں۔ اِس میں تو کبھی پانی نہ تھا۔ پھر انھوں نے ایک دو آدمی [پتہ کرنے کے لیے] بھیجے، جنھوں نے وہاں پانی دیکھا۔ وہ واپس لوٹے اور ان لوگوں کو پانی کے متعلّق خبر دی۔ وہ اِ س طرف آئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پانی کے پاس تھیں۔ انھوں نے کہا :’کیا آپ ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ ہم آپ کے پاس قیام کر لیں۔‘ حضرت ہاجرہ نے کہا:’ ہاں، لیکن پانی [کی ملکیت ] پر تمھارا کوئی حق نہ ہو گا‘۔ اُنھوں نے اس سے اتفاق کیا۔
اِبنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا:’ یہ بات [حضرت] اسماعیل ؑ کی والدہ کو پسند آئی۔ وہ تو خود یہی چاہتی تھیں [ کہ وہاں کچھ انسان آباد ہوں]۔ وہ لوگ اُتر پڑے اور اپنے گھر والوں کو پیغام بھجوا کر بلا لیا اور وہ بھی آکر اِن کے ساتھ قیام پذیر ہو گئے۔ اُن کے کئی گھر وہاں آباد ہو گئے۔ وہ لڑکا [حضرت اسماعیل علیہ السلام ] جوان ہو گیا۔ اُس نے اُن (بنو جرہم) سیعربی زبان سیکھی۔ جب یہ جوان ہُوا تو اُنھیں نفیس معلوم ہُوا اور اُنھیں پسند آیا۔ جب وہ بالغ ہو گیا تو انھوں نے اپنی کسی عورت سے اُس کی شادی کر دی۔ اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ [ہاجرہ] کا انتقال ہو گیا۔ ‘

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اِس روایت میں واقعہ کا بیان کس قدر صاف مختصر، مربوط، بر ملا، بے عیب اور منطقی ہے۔
(ط) اُوپر یہ بات آ چکی ہے کہ حلف کے کنوئیں والے ’بیر سبع‘ کے مقام پر پہلے سے ایک کنواں موجود تھا اور وہ بالکل سامنے نظر آتا تھا۔ اسی جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور شاہ ابی ملک کے درمیان عہد واقرار ہوا تھا، لیکن اس کا پہلے سے کوئی نام نہ تھا۔ اِس کا نام ’بیرسبع‘ یاحلف کا کنواں اُس عہد واقرار کے بعد رکھا گیا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور شاہ ابی ملک کے درمیان منعقد ہوا تھا، جبکہ سات کے کنوئیں والے’ بیر سبع‘ کے بیابان کے مقام پر پہلے سے کوئی کنواں موجود نہ تھا۔ اور یہ کنواں بعد میں اس وقت ایک غیر معمولی طریقے پر مہیّا کیاگیا تھا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ’بیر سبع‘ اور فاران کے بیابان میں چھوڑکر چلے گئے تھے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سات کے کنوئیں والا ’بیر سبع‘ اور حلف کے کنوئیں والا’ بیر سبع‘ بالکل الگ الگ مقامات ہیں۔
(ی) بائبل میں ایک تیسرے ’بیر سبع‘ کا بھی ذکر ہے:

تب ابی ملک اپنے دوست اخُوزت اور اپنے سپہ سالارفِیکُل کو ساتھ لے کر جرار سے اُس کے پاس گیا۔ اضحاق نے اُن سے کہا کہ تم میرے پاس کیوں کر آئے حالانکہ مجھ سے کینہ رکھتے ہو اور مجھ کو اپنے پاس سے نکال دیا؟ اُنھوں نے کہا ہم نے خوب صفائی سے دیکھا کہ خداوند تیرے ساتھ ہے، سو ہم نے کہا کہ ہمارے اور تیرے درمیان قسم ہو جائے اور ہم تیرے ساتھ عہد کریں۔ کہ جیسے ہم نے تُجھے چھُوا تک نہیں اور سِوا نیکی کے تُجھ سے اور کچھ نہیں کیااور تُجھ کو سلامت رخصت کیا تو بھی ہم سے کوئی بدی نہ کر ے گا، کیونکہ تُواب خداوند کی طرف سے مبارک ہے۔ تب اُس نے اُن کے لیے ضیافت تیار کی اور اُنھوں نے کھایا پیا۔ اور وہ صبح سویرے اُٹھے اور آپس میں قسم کھائی اور اضحاق نے اُن کو رخصت کیا اور وہ اُس کے پاس سے سلامت چلے گئے۔ اُسی روز اضحاق کے نوکروں نے آ کر اُس سے اُس کنویں کا ذکر کیا جسے اُنھوں نے کھودا تھا اور کہا کہ ہم کو پانی مل گیا۔ سو اُس نے اُس کا نام سبع رکھا، اِسی لیے وہ شہر آج تک’ بیر سبع‘ کہلاتا ہے۔ ۶۰؂

بائبل کے زیادہ تر مفسرین اور لغت نگاروں کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق ’بیر سبع‘ اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے متعلق ’بیر سبع‘ حقیقت میں ایک ہی ہیں۔ کچھ دوسرے لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ مقامات ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ یہ قصّہ بائبل کے مؤلّفین کی اختراع ہے۔ صورتِ حال جو بھی ہو، ایک بات یہاں انتہائی قابلِ فکر ہے: حضرت اسحاق علیہ السلام کی نہ تو وہاں حضرت ہاجرہ سے کوئی ملاقات ہوئی اور نہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے خاندان کے کسی فرد سے کوئی سامنا ہوا۔ اگر یہ وہی بیر سبع [سات کا کنواں] ہوتا جس کا حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قصے سے تعلق ہے تو:

(۱) یہ وہاں لازماً پہلے سے موجود ہونا چاہیے تھا۔
(۲) یہ کنواں چونکہ ہر لحاظ سے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ملکیّت تھا، اِس لیے انھیں وہاں لازماً عملی طور پر موجود ہونا چاہیے تھا اور
(۳) چونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک مہمان نواز شخص تھے، اِس لیے انھوں نے وہاں اپنے بھائی حضرت اسحاقعلیہ السلام کی لازماً خوب خاطر تواضع کی ہوتی۔

لیکن اس کتاب کے مصنف کے لیے بھی اور قارئین کے لیے بھی یہ بات انتہائی مایوس کن ہے کہ اُس جگہ اِس طرح کا کوئی معاملہ پیش نہ آیا۔ اس واقعہ سے پہلے وہاں کوئی کنواں موجود نہ تھا۔ یہ تو وہاں حضرت اسحاق علیہ السلام کے غلاموں نے کھود کر نکالا تھا۔ پھر نہ تو وہاں حضرت ہاجرہ موجود تھیں اور نہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے خاندان کا کوئی فرد وہاں دیکھا گیا۔ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف سے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ضیافت اور خاطر تواضع کا بھی کوئی واقعہ پیش نہ آیا۔ پھر بائبل کے مطابق یہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہی تھے جنھوں نے اُس کنوئیں کا نام ’شیباہ کا کنواں‘ رکھاتھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک ایسا کنواں تھا جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے غلاموں کے کھودنے کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا تھا۔ اور یہ وہ کنواں نہ تھا جو حضرت ہاجرہ کو کسی غیرمعمولی طریقے سے دکھایا اور مہیا کیاگیا ہو۔
مندرجہ بالا مواد سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ بائبل کی مندرجہ بالا عبارت میں بیان کردہ ’بیر سبع ‘کے بیابان کا تعلق مکہ کی ایک ناقابل کاشت، پہاڑی ، ریتلی، بنجر اور بے آباد زمین اور چاہِ زم زم سے ہے۔ اِس کا اُس قابلِ کاشت ’حلف کے کنوئیں والے بیر سبع‘ سے کوئی تعلق نہیں جو کنعان کی جنوبی سرحد کے قریب واقع ہے او رجہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے اُن ریوڑوں کی دیکھ بھال کے لیے اکثر جایا کرتے تھے جو انھوں نے وہاں رکھے ہوئے تھے۔
مندرجہ بالا سارے مضمون کے اعادے اور خلاصے کے طور پر ذیل میں چند اہم نکات پیش کیے جاتے ہیں:

۱) مذکورہ بالا عبارت میں بہت سی تحریفیں، اضافے، حذف اور تبدیلیاں موجود ہیں، جس سے یہ پوری کہانی قدرے مشتبہ ہو جاتی ہے، اس لیے اس میں سے جو بات بھی لی جائے اُسے اچھی طرح تنقیدی مطالعے کے بعد قبول کرنا چاہیے۔
۲) اس کہانی میں حضرت سارہ کو ایک حاسد، منتقم مزاج، کینہ پرور، تیز مزاج، گھٹیا ذہنیت والی، اور اذیت پسند عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ بات حضرت سارہ جیسے مرتبے کی ایک خدا ترس اور شریف خاتون کے متعلق کسی طرح بھی قابلِ اعتماد اور شایان شان نہیں۔ اِس طرح قصّے کا یہ سارا حصّہ بالکل جعلی اور جھوٹا معلوم ہوتا ہے۔
۳) حضرت ہاجرہ مصر کے بادشاہ کی بیٹی تھیں۔ اِس طرح وہ ایک شہزادی تھیں۔ اُنھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ کے سپرد اسی غرض سے کیا گیا تھا تاکہ وہ اُن سے تعلیم و تربیت حاصل کریں۔ اور نیک اور شریفانہ آداب سیکھیں اور اِس خاندان کی خدمت کریں۔ شاہِ مصر نے یہ کام اِس خاندان کی نیکی اور تقویٰ کے اعتراف کے طور پر کیا تھا۔ حضرت ہاجرہ کوئی باندی نہ تھیں جنھیں اُن کے باپ نے، جو مصر کا بادشاہ تھا، کسی مجبوری کے تحت فروخت کیا ہو۔ اِس طرح وہ تمام قصّے جن میں حضرت سارہ کی حضرت ہاجرہ سے بدسلوکی کا ذکر ہے، بالکل مبنی بر اِفترا اور جھوٹ کا پلندہ ہیں، بلکہ اگر حضرت ہاجرہ کنیز ہوتیں تب بھی یہ بات حضرت سارہ جیسی نیک سرشت خاتون کے ہر گز شایانِ شان نہ تھی کہ وہ اِن کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کرتیں اور انھیں لونڈی پکار کر اِن کی عزّتِ نفس کو مجروح کرتیں۔
۴) جب حضرت ہاجرہ اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کو بیر سبع (چاہ زم زم) کے قریب آباد کیا گیا تھا ،اُس وقت حضرت اسماعیلعلیہ السلام ایک کم سِن بچّے تھے۔ یہ بات مندرجہ ذیل عبارات سے صاف ظاہر ہے: ’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کچھ روٹی اور پانی کا ایک مشکیزہ لیا، اور یہ چیزیں حضرت ہاجرہ کو دے کر بچّے کو اُن کے کندھے پر رکھا‘ اور ’حضرت ہاجرہ نے اِس بچے کو ایک جھاڑی کے نیچے پھینک دیا‘ اور یہ کہ خداوند کے فرشتے نے حضرت ہاجرہ سے کہا ’اِس لڑکے کو اٹھاؤ اور اِسے اپنے ہاتھوں میں تھام لو‘۔ دوسری طرف بائبل کا کہنا یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا دودھ چھڑانے کی ضیافت کے موقع پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حضرت اسحاق علیہ السلام کا مذاق اڑانے کے نتیجے میں رونما ہوا۔ دودھ چھڑانے کا یہ واقعہ اُس وقت رونما ہُوا جب حضرت اسحاق علیہ السلام کی عمر دو یا تین سال کی تھی۔ وُہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے عمر میں تیرہ چودہ سال چھوٹے تھے۔اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ضیافت کے موقع پر حضرت اسماعیل علیہ السلام سولہ سترہ سال کے نوجوان تھے۔ اس لحاظ سے حضرت ہاجرہ انھیں نہ تو’اپنے کندھے پر ڈال‘ سکتی تھیں نہ اُنھیں ’ایک جھاڑی کے نیچے پھینک‘ سکتی تھیں اور نہ ’اس لڑکے کو اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں تھام‘ سکتی تھیں۔ اِن سب باتوں سے یہ چیز صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دودھ چھڑانے کی ضیافت کا یہ واقعہ جس انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ قطعی غیر مربوط اور ناقابلِ اعتبار ہے او رمعزّز سارہ ظلم اور حسد کے تمام الزامات سے بری قرار پاتی ہیں اور اِس قصّے کا یہ واقعہ بھی حقائق کے اعتبار سے مسترد قرار پاتاہے۔
۵) حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے تحت بیر سبع (چاہ زم زم) کے بیابان میں آباد ہونے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ جب وہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت سر انجام دے رہے تھے تو اُنھیں اِس کے بارے میں کسی طرح کی پریشانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ وہ بذات خود خوب اچھی طرح مشاہدہ کر چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس خاندان کا خود ہی محافظ اور نگران ہے۔
۶) لفظ ’بیر سبع‘ بائبل میں چونتیس جگہ استعمال ہوا ہے۔ صرف اس ایک مقام پر، جہاں یہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام ،دونوں کے بارے میں استعمال ہوا ہے، اس سے پہلے بیابان کا وصف لگایا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف یہی بیر سبع (چاہ زم زم) حقیقی معنوں میں بیابان قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرا بیر سبع (حلف کاکنواں) ایک سر سبز وشاداب اور زرخیر مقام ہے جہاں پانی کی بھی فراوانی ہے۔
۷) ’بیر سبع‘ ایک با معنی لفظ ہے، جس کے معنی ہیں:’ سات کا کنواں‘ یا ’صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات مرتبہ سعی کے چکر لگانے سے متعلق کنواں‘ یا’ وہ کنواں جو حضرت ہاجرہ کو اُن کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے سات چکّر لگانے کے نتیجے کے طور پر دیا گیا تھا‘۔
۸) بیر سبع کے ایک اور معنی ’حلف کا کنواں‘ بھی ہیں جس کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور شاہ ابی ملک کے حلف سے ہے یا حضرت اسحاق علیہ السلام اور شاہ ابی ملک کے درمیان حلف سے ہے جو کنعان کے جنوب مغربی سرے پرعمل میں آیا تھا۔ اِس کا اوّل الذکر ’بیرسبع‘ یعنی سات کے کنوئیں سے کوئی تعلق نہیں۔
۹) ’بیابان‘ عبرانی کے لفظ’ مِدبار‘ کا انگریزی کا ترجمہ ہے جس کے معنی ہیں ’ناقابل کاشت، ناہموار، بنجر، ریتلی اور پہاڑی زمین یا صحرا‘۔ یہ اوصاف سات کے کنوئیں والے ’بیرسبع‘ یعنی مکّہ اور اس کے ماحول سے تعلق رکھنے والے بیر سبع سے مکمل طور پر مطابقت رکھتے ہیں۔ جہاں تک’حلف کے کنوئیں والے بیر سبع‘ کاتعلق ہے ،اِن اوصاف کا کسی طرح بھی اُس پر اطلاق ممکن نہیں۔
۱۰) ’حلف کے کنوئیں والا بیر سبع‘ تو اُس مقام پر پہلے ہی موجود تھا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور شاہ ابی ملک کے درمیان حلف منعقد ہوا تھا۔ (اور اگر اس سے حضرت اسحاق علیہ السلام اور شاہ ابی ملک والا کنواں مراد لیا جائے تویہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے غلاموں نے باقاعدہ کھود کر نکالا تھا)، جبکہ ’سات کے کنوئیں والے بیر سبع کے بیابان‘ کے محلِ وقوع پر نہ توکوئی کنواں پہلے سے موجود تھا اورنہ اُسے کسی نے کھود کر نکالا تھا۔ اِس سے صاف ظاہر ہے کہ ’حلف کے کنوئیں والا بیر سبع‘ اور ’سات کے کنوئیں والا بیر سبع‘ قطعی طور پر دو مختلف اور الگ الگ مقامات ہیں۔ ’سات کے کنوئیں والا بیر سبع‘چاہ ’زم زم‘ ہے جو حضرت ہاجرہ کو اُن کے پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات مرتبہ سعی کے چکّر لگانے کے نتیجے میں دیا گیا تھا۔

________
 

حواشی

41. William Smith, A Dic. of the Bible, p. 143.
42. Harper's Bible Dic., p. 1133.

۴۳؂ ’بیر سبع‘ عبرانی زبان کا ایک مرکب لفظ ہے۔ بیر کے معنی کنواں اور سبع کے معنی ہیں’سات‘ یا’حلف‘۔ اس کے اجزا کا تلفّظ ہے :’بیر‘228’سبع‘ (’سٹرونگ کی عبرانی بائبل ڈکشنری‘ اندراج ۸۸۳ صفحہ ۱۸)۔
۴۴؂ ’انسا ئیکلو پیڈیا بِبلیکا‘(۱: ۵۱۸) میں ہے:'i.e., well of seven'. یعنی ’سات کا کنواں‘۔
’سٹرونگ کی عبرانی بائبل ڈکشنری‘ (اندراج ۸۸۴ ،صفحہ ۱۸) میں وضاحت ہے:

(...) Beer Sheba. be-ayr\' sheh-bah; from 875 and 7651 (in the sense of 7650); (...) be-ayr; from 874; a pit; espec. a well.

(...)۔ بیر شیبا، اندراج ۸۷۵ اور ۷۶۵۱ سے (اندارج ۷۶۵۰ کے مفہوم میں)، بیر(...)، اِندراج ۸۷۴ سے: ’ ایک گڑھا، بالخصوص ایک کنواں‘۔

اندراج ۷۶۵۱ ،صفحہ۱۱۲ میں وضاحت ہے:

(...) shib`ah shib-aw`; from 7650; a prim. cardinal number; seven ,(as the sacred full one); also (adv.) seven times; by impl. a week; seven-fold, seventh.

شیبع، اندراج ۷۶۵۰ سے، ایک عدد، سات، سات مرتبہ بھی اِطلاقی طور پر ایک ہفتہ، سات گنا، ساتواں۔

۴۵؂ عہد کے معنی ہیں خداوند اور اسرائیلیوں کے درمیان معاہدہ (’اوکسفرڈ انگلش ریفرنس ڈکشنری‘، صفحہ ۳۳۰)۔
۴۶؂ ’سٹرونگ کی عبرانی بائبل کی مختصر ڈکشنری‘(اندراج ۸۷۵، صفحہ ۱۸) میں وضاحت ہے:

... be-ayr; from 874; a pit; espec. a well.

بیر اِندراج ۸۷۴ سے، ایک گڑھا، بالخصوص ایک کنواں۔

اِندراج ۸۷۴، صفحہ ۱۸ پر ہے:

... ba`ar, baw-ar; a prim. Root; to dig;

بأر، ایک بنیادی مادہ، کھودنا۔

اندراج ۷۶۵۰، صفحہ ۱۱۲ پر درج ہے:

... shaba shaw-bah; a prim. Root; to seven oneself, i.e. swear (as if by repeating a declaration seven times): * adjure, charge (by an oath, with an oath), take an oath.

سبع ایک بنیادی مادہ، اپنے آپ کو سات بار کرنا، یعنی قسم کھانا (سات مرتبہ ایک بیان کو دہرانا) قسم دلانا، قسم لینا۔

’دی انسا ئیکلوپیڈیا بِبلیکا‘(۱: ۵۱۸) میں وضاحت ہے:

It is taken as meaning 'well of the oath'. One of the Simeonite towns in the southern territory of Judah (Josh. 19.2), on the border of the cultivated land, came to be regarded, for the greater part of history, as the remotest point of Canaan in that direction; whence the phrase 'from Dan to Beersheba'.

اِس کے معنی لیے جاتے ہیں’ حلف کا کنواں‘ ۔ یہ مزروعہ زمین کی سرحد پر یہودہ کے جنوبی خطے میں ایک شمعونی شہر ہے (یُوشع ۱۹:۲)، جسے تاریخ کے زیادہ تر ادوار میں اُس سمت میں کنعان کا دور ترین سِرا سمجھا جاتاتھا۔ اِسی سے ’دان سے بیر سبع‘ کا محاورہ مشہور ہوا ۔

اِسی صفحے کے ذیلی حاشیۂ اول میں یہی انسا ئیکلو پیڈیا مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے:

The Hebrew word \'to swear' means literally 'to come under the influence of seven things.

عبرانی زبان کے لفظ’قسم کھانا‘ کے لغوی معنی ہیں:’ سات چیزوں کے اثر کے نیچے آنا‘۔

’آر ایس وی کیتھولک ٹرانسلیشن‘، کتابِ پیدایش ۲۱:۳۱ وبعد، صفحہ ۱۶ میں درج ہے:

Therefore that place was called Beer-sheba; because there both of them swore an oath. So they made a covenant at Beer-sheba.

کِیونکہ وہاں اُن دونوں نے ایک حلف اٹھایاتھا، اِس لیے وہ جگہ بیر سبع کے نام سے مشہور ہوئی۔اس طرح اُنھوں نے بیر سبع کے مقام پر ایک معاہدہ کیا۔

47. Hastings Dic. of the Bible, Revised Ed.,1963, p.94.
48. J. Hastings, A Dic. of the Bible, 1:265.
49. John L. McKenzie, Dic. of the Bible, 1984, p.87.
50. See Hastings Dic. of the Bible, (Revised), NY, p.375.
51. Harper\'s Bible Dic.,101.
52. F. F. Bruce, Places Abraham Knew (London: Scripture Union, ECIVZNJ, 130 City Road, 1984), p.53, 55f.
53. J. Hastings, A Dic. of the Bible, 1:265.

۵۴؂ ’میکنزی کی لغتِ بائبل‘ (John L. McKenzie, Dic. of the Bible) صفحہ ۸۶ پر ہے:

The name is literally "well of seven".

لغوی طور پر اِس نام کے معنی ہیں سات کا کنواں۔

’انٹرپریٹرز ڈکشنری آف دی بائبل‘۱: ۳۷۵ میں بیان ہے:

It is the "well of seven," (133); but in [Gen. 21] vs 31 it is apparently the "well of the oath."

یہ’ سات کا کنواں‘ ہے (... ) لیکن [کتابِ پیدایش باب ۲۱ کی]آیت ۳۱ میں یہ ظاہراً ’قسم کا کنواں‘ ہے۔

HORN ، S.H. ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیرِ بائبل‘ میں صفحہ ۳۱ پر رقمطراز ہیں:

Heb. Be'er Sheba', "well of seven", or "well of an oath".

عبرانی بیر سبع، ’سات کا کنواں‘ یا ’حلف کا کنواں‘

۵۵؂ ’دی انٹر پریٹرز بائبل‘۱: ۶۳۹ میں درج ہے:

'Where he is' is an allusion to the site of the 'well' mentioned in vs. 19, a sacred spot among the Ishmaelites.

’جہاں وہ ہے‘میں اُس کنویں کے محلِ وقوع کی طرف اشارہ ہے جس کا آیت ۱۹ میں ذکر ہے۔ اور جونسل اسماعیل کے لیے ایک مقدّس مقام ہے۔

اور ہر صاحبِ علم جانتا ہے کہ یہ وُہ ’چاہِ زم زم‘ ہے جو نسلِ اسماعیل ؑ کے نزدیک ایک مقدّس مقام ہے۔

56. Shorter Enc. of Islam, (Karachi: South Asian Publishers, 1981), p. 508.
57. A Lion Handbook: the World's Religions (1984), pp. 319f.

۵۸؂ بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واتخد اللہ خلیلا، رقم ۳۱۱۳۔
۵۹؂ یہ بات قابلِ غور ہے کہ وہ (ہاجرہ) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جواب سُن کر کس قدر مطمئن اور پرسکون ہے اور اِس عظیم بزرگ پیغمبر کے اہلِ خاندان کے کِس قدر شایانِ شان ہے یہ ردِّ عمل!
۶۰؂ کتابِ مقدس، پیدایش ۲۶: ۲۶ ۔۳۳۔

____________