جو کچھ سارہ تجھ سے کہتی ہے، تُو اُس کی بات مان، کیونکہ اضحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا۔ اور اِس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک [عظیم] قوم۱۵؂ پیدا کروں گا، اِس لیے کہ وہ تیری نسل۱۶؂ ہے۔ تب ابرہام نے صبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک۱۷؂ لی اور اُسے ہاجرہ کو دیا، بلکہ اُسے اُس کے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اُس[ ہاجرہ]۱۸؂ کے حوالے کر کے اُسے رخصت کر دیا۱۹؂۔ سو وہ چلی گئی، اور بیر سبع کے بیابان۲۰؂میں آوارہ پھرنے لگی۔ اور جب مشک کا پانی ختم ہو گیاتو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نیچے ڈال دیا۔۲۱؂ اور آپ اُس کے مقابل ایک تیر کے ٹپے پردُور جا بیٹھی اور کہنے لگی کہ میں اِس لڑکے کا مرنا تو نہ دیکھوں۔ سو وہ اُس کے مقابل بیٹھ گئی اور چِلّا چلا کر رونے لگی۔ اور خدا نے اُس لڑکے کی آواز سنی۲۲؂ اور خدا کے فرشتے۲۳؂ نے آسمان سے۲۴؂ ہاجرہ کو پکارا اور اُسے کہا اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا؟۲۵؂ مت ڈر۲۶؂ کیونکہ خدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُس کی آواز سن لی ہے۔۲۷؂ اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال،۲۸؂ کیونکہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ پھر خدا نے اُس کی آنکھیں کھولیں اور اُس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لیا اور لڑکے کو پلایا۔۲۹؂ اور خدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا۳۰؂ اور وہ بڑا ہوا اور بیابان میں رہنے لگا اور تیر انداز بنا۔ اور وہ فاران ۳۱؂کے بیابان میں رہتا تھا اور اُس کی ماں نے ملکِ مصر سے اُس کے لیے بیوی لی۔۳۲؂

اس بیابانِ بیر سبع سے متعلق کچھ اہم نِکات کی تشریح ذیل میں دی گئی ہے:

(۱لف) بیابانِ بیر سبع کا محل وقوع متعین کرنے کے سلسلے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ بائبل کی کتابِ پیدایش کا باب ۲۱، جس سے مندرجہ بالا بیان ماخوذ ہے، تین مختلف روایات و مآخذ (Yahwistic, Priestly, and Elohistic) کا ایک پیچیدہ سا آمیزہ ہے۔۳۳؂
(ب) جہاں تک مذکورہ بالا عبارت (کتابِ پیدایش ۲۱: ۸۔۲۱) کا تعلق ہے، یہ ساری کی ساری الوہسٹ (Elohist) روایت سے تعلق رکھتی ہے۔۳۴؂ یہ بنیادی طور پر حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قصے کا بیان ہے جو آیت ۲۱ پر ختم ہو جاتا ہے۔ آیت ۲۲ سے باب کے اخیر تک ایک دوسرا قصہ ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور شاہِ ابی ملک کے درمیان کسی دوسرے بیر سبع [حلف کا کنواں] کے بارے میں کسی معاہدے سے متعلق ہے۔ یہ بالکل ایک الگ بیان ہے اور اس کا حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں جو (سات کے کنوئیں والے) بیر سبع کے نزدیک رونما ہوا تھا۔ علما ے بائبل کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا یہ اِلُوہِسٹ (Elohist) روایت سے متعلق ہے یا یہوِسٹ (Yahwist) روایت سے۔۳۵؂
(ج) بیر سبع کا لفظ بائبل میں چونتیس مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ پوری بائبل میں صرف ایک مقام ایسا ہے جہاں اس سے پہلے بیابان کا وصف لگایا گیا ہے (کتاب پیدایش۲۱: ۱۴)۔ بائبل کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اوراس کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آباد کیا تھا اور یہ پہلا مقام ہے جہاں لفظ بیر سبع پوری بائبل میں پہلی دفعہ متعارف ہوا ہے۔ اسی طرح پوری بائبل میں یہ وہ واحد مقام ہے جہاں بیر سبع کا لفظ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام، دونوں کے حوالے سے آیا ہے۔ وہ بیر سبع جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور شاہ ابی ملک کے درمیان معاہدے سے متعلق ہے، اس سے ایک بالکل مختلف مقام ہے۔ جو اس سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر واقع ہے اور جس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
(د) ’بیابان‘ کا مطلب ہے: ’غیر مزروعہ، بنجر، ناہموار اور پہاڑی سرزمین یا صحرا‘۔ یہ لفظ بائبل میں مجازاً ’غیر آباد‘ کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے،اگرچہ یہ اس کے لغوی معنی نہیں ہیں۔ بائبل میں بیابان کے لیے جو اصل عبرانی لفظ استعمال ہوا ہے، وہ ’مدبار‘ ہے۔ انگریزی بائبل میں اس عبرانی لفظ مدبار کا ترجمہ یا تو لفظ 'Wilderness' (بیابان) سے کیا گیا ہے اور یا لفظ 'Desert' (صحرا) سے۔ بائبل میں اس لفظ ’مدبار‘ کا ’غیر مزروعہ اور غیر آباد مقام‘ کے مفہوم میں استعمال کتاب یسعیاہ کے اس جملے سے ظاہر ہے:

Yet the defenced city shall be desolate , and left like a wilderness [in Hebrew 'midbar']

’تاہم قلعہ بند اور محفوظ شہر اجاڑہو گا۳۶؂ اور ایک بیابان کی طرح چھوڑا ہوا۔‘۳۷؂

بائبل میں یہ لفظ کچھ دوسرے مفہوم ادا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ سٹینلے اے کُک (Stanley A. Cook) ’انسا ئیکلوپیڈیا ببلیکا‘ میں واضح کرتا ہے:

The English word 'desert' ordinarily means a sterile sandy plain without vegetation and water-a 'sea of sand' such as, e.g., parts of the Sahara. This is not the meaning of the Hebrew word. No desert of this kind was known to Israel either before or after the occupation of Canaan. (...) midbar; AV 'desert,' RV 'wilderness'; (...). It is commonly employed to denote the wilderness of wanderings, which itself is a mountainous region, (...). The most prominent is that which was the scene of the wandering of Israel. It is commonly called ham-Midbar; (...), and with this agrees the circumstance that it is only in the later writings that the horror and lonesomeness of the 'wilderness' is referred to (e.g., Dt. 8:15). ؂38

انگریزی زبان کے لفظ ’ڈیزرٹ‘ کے معنی بالعموم ایک بنجر، ریتلے میدان کے ہوتے ہیں جہاں نہ کوئی سبزہ ہو اور نہ پانی-- ایک ریت کا سمندر، جیسے مثلاً صحرا [صحراے اعظم]کے بعض حصے --اصلی عبرانی لفظ کے یہ معنی نہیں ہیں۔ بنی اسرائیل اس طرح کے کسی صحرا سے نہ کنعان پر قبضہ سے پہلے آشنا تھے نہ اس کے بعد ۔ (...)۔ مِدبار کے لیے AV (کنگ جیمز ورشن) میں’ صحرا‘ کالفظ ہے اور R.V(نظر ثانی شدہ ورشن) میں ’بیابان‘ کا۔ (...)۔ عام طور پر اس کا اطلاق بنی اسرائیل کی صحرانوردی پر کیا جاتا ہے، جو بذات خود ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ (...)۔ بنی اسرائیل کی صحرا نوردی سے متعلق مدبار بہت اہم ہے جسے عام طور پر حام مدبار کہا جاتا ہے۔ (...)، اوریہ صورت بھی اس سے مطابقت رکھتی ہے کہ یہ محض بعد والی تحریر یں ہی ہیں جن میں بیابان کی خوفناکی اور تنہائی کا حوالہ ہے (مثلاً کتاب استثنا۸:۱۵)۔

عہد نامہ قدیم میں (کنگ جیمز اور نظر ثانی شدہ انگریزی تراجم کے مطابق) انگریزی لفظ 'Wilderness' دو سو ستر(۲۷۰) مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اس میں سے ’۲۵۶‘ مرتبہ یہ لفظ’ مدبار‘ کے ترجمے کے طور پر آیا ہے۔ عبرانی بائبل (عہد نامہ قدیم)میں اس مفہوم کے لیے مختلف الفاظ ہیں (مثلاً مدبار، عربہ، یشی مون، توہو، خرابہ، سراب وغیرہ)۔ بیابان اور صحرا کے لیے جو لفظ سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، وہ ’مدبار‘ ہی کا لفظ ہے اور اس مفہوم میں یہ عہد نامہ قدیم میں ’۲۶۹ ‘مرتبہ آیا ہے۔ (۲۵۶ مرتبہ بیابان کے معنی میں اور ۱۳ مرتبہ صحرا کے معنی میں)۔ بیابان کے لیے ایک اور عبرانی لفظ’ عربہ‘ ہے، جو مختلف معانی میں ’۵۹‘ مرتبہ استعمال ہوا ہے (۵ مرتبہ بیابان کے معنی میں اور ۸ مرتبہ صحرا کے معنی میں وغیرہ)۔ ’عربہ‘ کا یہ لفظ ایک بنجر اور غیر زرخیز زمین کا مفہوم دیتا ہے۔ ملک عرب کا نام پڑنے کی بھی یہی وجہ ہے۔ اس لفظ بیابان کے لیے متعدد مرتبہ دوسرے عبرانی الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں (مثلاً توہو، یشی مون وغیرہ)۔ یہاں اس عبارت میں جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ ’مدبار‘ ہے۔
اس کی تشریح شمریاہو تالمون (shemaryahu Talmun) پروفیسر بائبل اسٹڈیزاور ڈین فیکلٹی آف ہومینیٹیز، عبرانی یونیورسٹی، یروشلم نے اپنے مقالے ’Wilderness‘ میں کی ہے۔ اُن کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے:

(...) to arid or semiarid areas which are not suited for permanent settlement but in part can be utilized as pasture lands for small stock. (....). In the majority of occurrences, 'wilderness' carries negative overtones, referring to parched, inhospitable, and dangerous places. (....). No trees or other vegetation grow in this barren void, and no husbanded animals or civilized men live there. Anyone who ventures into this wilderness suffers hunger and thirst. (...). This wilderness is synonymous with utter distress, a place cut off from life. (...). The Mesopotamian, for which Arabian desert lay to the W, where the sun sets, identified the wilderness as the area which leads to the nether [in a lower place or position] world. This idea appears to be reflected in scriptures in which midhbar, `arabha, semama contrast with the Garden of Eden, the source of life and abundant growth . ؂39

(اس کا تعلق) خشک یا نیم خشک علاقوں سے ہے جو مستقل رہائش کے لیے موزوں نہیں ہوتے، لیکن چھوٹے چھوٹے ریوڑوں کے لیے چراگاہ کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ (...)۔ اکثر صورتوں میں بیابان منفی مفہوم کا حامل ہوتا ہے اور اس سے مراد جھلسے ہوئے ناخوش گوار اور خطرناک مقامات ہوتے ہیں۔ (...)۔ ایسے بنجر، ویران خطے میں نہ تو درخت یا دوسری سبزیاں اگتی ہیں اور نہ پالتو جانوروں کے ریوڑ یا مہذب انسان یہاں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ جو کوئی اس بیابان میں جانے کی جرأت کرے، اسے بھوک اور پیاس کی سختی جھیلنا پڑے گی۔ (...)۔ یہ بیابان مکمل تباہی کے مترادف ہے اور یہ ایک ایسی جگہ ہے جو زندگی سے بالکل کٹی ہوئی ہے۔(...)۔ میسوپوٹیمیا کے لوگ، جن کے لیے صحراے عرب مغرب میں واقع ہے جہاں سورج غروب ہوتا ہے، اس بیابان کو ایک ایسا خطہ قرار دیتے تھے جو نشیبی (ادنیٰ) دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نظریہ کی صحائف میں بھی عکاسی موجود ہے جہاں مِدبار، عربہ اور ثمامہ باغِ عدن کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے جو زندگی اور فراواں نَشوونما اور پیداوار کا سرچشمہ ہے۔

اسی لغتِ بائبل میں ڈبلیو ۔ ایل ریڈ (W.L. Reed) کہتا ہے:

The translation of several different words [he has written here in Heb. script: Midbar, Yasheemon, `arabah, etc.]; often used interchangeably with "DESERT." An accurate translation is difficult, because the so-called wilderness regions included arid and semiarid territory as well as sandy desert, rocky plateaus, pasture lands, and desolate mountain terrain. Such regions existed in Canaan and beyond its E and S borders. ؂40

بہت سے مختلف الفاظ کا ترجمہ [یہاں اس نے مدِبار، یشی مون، عربہ وغیرہ کے الفاظ عبرانی رسم الخط میں لکھے ہیں]: اکثر لفظ ’صحرا‘ [Desert] کے ساتھ ادل بدل کر استعمال ہوا ہے۔ بالکل درست ترجمہ بہت مشکل ہے، کیونکہ یہ نام نہاد بیابانی علاقے خشک اور نیم خشک خطوں ، ریتلے صحرا، چٹانی سطح مرتفع، چراگاہوں اور بے آباد پہاڑی پٹی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایسے خطے کنعان میں اور اس کی مشرقی اور جنوبی سرحدوں سے پرے موجود تھے۔

________

حواشی

۱۵؂ ہفتادی ترجمہ، ولگیٹ، سامری تورات اور سریانی بائبل میں لفظ’ قوم‘ سے پہلے ’عظیم‘ کا لفظ موجود ہے، جو یہاں حذف کیا ہوا ہے۔ اِس سے بائبل کے بعد کے ایڈیشنوں کے مؤلفین کی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور اُن کی نسل کے خلاف عداوت کا کھلم کھلا اظہار ہوتا ہے۔’ نیو جیروم تفسیرِ بائبل‘ میں درج ہے:

Besides, from Ishmael "a great (LXX, Vg, Sam, Syr) people" will come forth. (24).

اِس کے علاوہ اسماعیل ؑ سے ایک بڑی قوم برپا ہوگی۔

’نیو جیروسلم بائبل ‘کے الفاظ یہ ہیں:

But the slave-girl's son I shall also make into a great nation, for he too is your child. (p.40).

لیکن باندی کے بیٹے کو بھی میں ایک عظیمقوم بناؤں گا ،کیونکہ وہ بھی تمھارا بیٹا ہے۔

بائبل کے کچھ دوسرے تراجم نے بھی’ قوم‘ کے ساتھ ’عظیم‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔مثلاً (۱) ’وِکلف کی تفسیر بائبل‘، (۲) ’کنٹمپریری انگلش ورشن‘CEV) ( ،(۳) ’ناکس‘ (Knox)، (۴) ’نیو جیروسلم بائبل‘ NJB) (، (۵) ’نیو انگلش بائبل‘ (NEB)، (۶) ’نیو امیریکن بائبل‘ (NAB)اور (۷) ’کالج وِلاّ تفسیر بائبل‘ وغیرہ۔ بعض مؤلفین کی طرف سے لفظ ’عظیم‘ کا حذف کرنا قابل توجہ ہے۔
۱۶؂ بائبل کے مندرجہ ذیل جملوں کا بغور مطالعہ کیا جائے:

کیونکہ تیری نسل اسحاق ؑ سے پکاری جائے گی۔ اور باندی کے بیٹے سے بھی میں ایک [بڑی] قوم بناؤں گا، کیونکہ وہ بھی تیری نسل ہے۔
پہلے جملے ’کیونکہ تیری نسل اسحاق ؑ سے [کے نام کے ساتھ] پکاری جائے گی‘ کے الفاظ کا کیا مفہوم ہے؟ اس میں اور اِس سے اگلے جملے ’اور باندی کے بیٹے سے بھی میں ایک [بڑی] قوم بناؤں گا، کیونکہ وہ بھی تیری نسل ہے‘ کے درمیان کیافرق ہے؟
اگر کوئی شخص کہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل صرف حضرت اسحاق علیہ السلام کے نام کے ساتھ پکاری جائے گی اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کے نام کے ساتھ نہیں پکاری جائے گی تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیاحضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جائز فرزند نہ تھے؟ اِس طرح کے دو مترادف جملوں کے معانی مختلف کیسے ہو سکتے ہیں؟

۱۷؂ اس لفظ’مشک یابوتل‘ کے لیے عبرانی لفظ ’حمت‘ ہے، جس کے معنی ہیں: ’ ایک کھال‘ ۔ یہی ترجمہ (کھال) ’نیو جیروسلم بائبل‘ وغیرہ نے بھی کیا ہے۔ ’سٹرونگ کی مختصر عبرانی بائبل ڈکشنری‘ (اندراج ۲۵۷۳ صفحہ ۴۱) میں ’ کھال کی بوتل‘درج ہے ۔’ سمتھ کی بائبل ڈکشنری‘ لفظ ’بوتل‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتی ہے:

The Arabs keep their water, milk and other liquids in leathern bottles. These are made of goatskins. When the animal is killed they cut off its feet and its head, and draw it in this manner out of the skin without opening its belly.'

عرب کے لوگ اپنا پانی، دودھ اور دوسرے مائعات چمڑے کی بوتلوں (مشکیزوں) میں رکھتے ہیں۔ یہ بکرے کی کھال کے بنے ہوتے ہیں۔ جب جانور ذبح کیا جاتاہے تو وہ اِس کے پاؤں اور اس کا سر الگ کر دیتے ہیں اور اِس کا پیٹ کھولے بغیر اسے کھال کے اندرسے کھینچ لیتے ہیں۔

۱۸؂ چند دوسرے تراجم اس طرح ہیں:

(i) and took bread and a skin of water, and gave it to Hagar, putting it on her shoulder, along with the child )RSVCT, p.16).

اور روٹی اور پانی کا ایک مشکیزہ لیا اور یہ ہاجرہ کو دیا، اِسے اس بچّے کے ساتھ اُس کے کندھے پر رکھا۔

(ii) gave bread and a skin bag of water. He put the child on her back-CCB, p. 72;

روٹی اور پانی کا مشکیزہ دیا۔ اس نے بچّے کو اُس کی پشت پر رکھا۔

(iii) took some bread and a skin of water and, giving them to Hagar, put the child on her shoulder- (Jerusalem Bible, p. 40).

کچھ روٹی اور پانی کا مشکیزہ لیا اور انھیں ہاجرہ کو دے کر بچّے کو اُس کے کندھے پر رکھا۔

(iv) and took bread and a skin of water, and gave it to Hagar, putting it on her shoulder, along with the child, (NOAB, p. 26).

اور روٹی اور پانی کا مشکیزہ لیا اور اِسے ہاجرہ کو دیا، اِسے اُس بچّے کے ساتھ اُس کے کندھے پر رکھا۔

(v) took some bread and a skin of water, and gave them to Hagar. He placed them over her shoulder, together with the child, (Massoretic Text, Philadelphia, 1967) p. 34.

کچھ روٹی اور پانی کا مشکیزہ لیا اور یہ ہاجرہ کو دیے۔ اُس نے انھیں اپنے کندھے پر رکھا، اُس بچّے سمیت۔

یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ بے چاری ہاجرہ روٹی کا ایک تھیلا، پانی سے بھرا ہوا ایک مشکیزہ اور اِس پر مستزاد سترہ سال کے ایک لڑکے کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھا سکتی (کیونکہ اگر بائبل کا یہ بیان درست مان لیا جائے کہ یہ واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا دودھ چھڑانے کی ضیافت کے موقع پر رونما ہوا تھا تو اُس وقت تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر سولہ سترہ سال بنتی ہے)۔ اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا نیک سرشت،خدا ترس، مہمان نواز، رحم دل اور بزرگ نبی اپنی دوسری بیوی کے لیے جو اس کے پہلونٹے بیٹے کی ماں بھی تھی، اتنا ظالم بن گیا ہو۔ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ بیٹا جو سترہ سال کا ایک نوجوان ہے، اپنی مہربان والدہ کی خدمت اور مدد کرنے کے بجاے اس کی تکلیف اور توہین میں اضافہ کرتے ہوئے چھلانگ لگا کر اُس کے کندھے پر سوار ہوگیا۔ کیا یہ سب حضرت سارہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسی نیک اور شریف ہستیوں کی کردار کشی کی ایک صریح سازش نہیں ہے؟ کیا کوئی شریف آدمی ایسی بزرگ ہسیتوں کے بارے میں ایسی باتوں پر یقین کر سکتا ہے؟ ’نیوامریکن بائبل‘ کے اِن آیات پر ایک ذیلی حاشیے( صفحہ ۲۰) سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل کے مؤلفین نے اِس کے متن کو اپنے خیالات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کس آزادی اور بے تکلّفی سے اِس میں اِصلاح (جسے اصل میں تحریف کہنا چاہیے) اور تبدیلیاں کی ہیں:

Placing the child on her back: the phrase is translated from an emended form of the Hebrew text. In the current faulty Hebrew text, Abraham put the bread and the waterskin on Hagar's back, while her son apparently walked beside her. This reading seems to be a scribal attempt at harmonizing the present passage with the data of the Priestly source, in which Ishmael would have been at least fourteen years old when Isaac was born; (...). But in the present Elohist story Ishmael is obviously a little boy, not much older than Isaac.

’بچے کو اپنی پشت پر رکھتے ہوئے‘: یہ عبارت بائبل کے عبرانی متن کی اصلاح شدہ شکل کا ترجمہ ہے۔ موجودہ ناقص عبرانی متن میں ابراہیم ؑ نے روٹی اورپانی کا مشکیزہ ہاجرہ کی پشت پر رکھا، جبکہ اس کا بیٹا بظاہر اُس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ یہ قراء ت بائبل کی موجودہ عبارت کو پریسٹلی ماخذ سے ہم آہنگ کرنے کی کاتب کی کوشش دکھائی دیتی ہے، جس میں اسماعیل ؑ اُس وقت کم از کم چودہ سال کے ہونے چاہییں جب اسحاق ؑ پیدا ہوئے۔ (...)۔ لیکن موجودہ الوہسٹ کہانی میں اسماعیل ؑ صریحاً ایک چھوٹے لڑکے ہیں، جو اسحاق ؑ سے بڑے نہیں ہیں۔

۱۹؂ یہ بات بالکل غیر فطری ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سارہ کے حکم پر، جو حضرت ہاجرہ کی سوتن اور حریف تھیں، اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیلعلیہ السلام اور اُن کی والدہ حضرت ہاجرہ کو اِس طرح بے یارو مددگار کرکے گھر سے نکال باہر کیا ہوکہ وہ صحرا نوردی کرتی پھریں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِنصاف اور رحم کا نقیب ہونے کی حیثیت سے ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرتے۔ معزز سارہ بھی ایسی ظالم نہیں ہو سکتی تھیں کہ وہ اپنے خاوند کو ایسے ظالمانہ اقدام کے لیے کہتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت سرزمین عرب کے قلب میں توحید کا یہ مرکز قائم کرنے کے لیے یہ فریضہ سر انجام دیا تھا۔ اور یہ بات پہلے سے طَے شدہ تھی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کھلے اور بے آباد ماحول میں آزادانہ پروان چڑھنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ بذات خود اللہ تعالیٰ کے مہیّا کر دہ رزق اور تحفظ کا بچشمِ سر مشاہدہ کر سکیں، تاکہ اُن کے اندر اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا ایسا جذبہ پیدا ہو جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ کِسی وقت یہ چاہے کہ وہ اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کر دیں تو وہ اِس میں کوئی پس وپیش نہ کریں۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت اور اس کی توفیق سے سر انجام دیاتھا، اِس لیے انھیں اِس لڑکے اور اُس کی ماں کے مستقبل کے متعلق پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تسلّی دی کہ وہ بچے اور اُس کی ماں کو نگرانی سے محروم نہیں رکھے گا اور نہ انھیں اِس بیابان میں ہلاک ہونے دے گا، بلکہ ’دی بائبل نالج کمنٹری‘ میں صفحہ ۶۳پر ایلن پی راس (Allen P. Ross) کی وضاحت کے مطابق:

God assured Abraham that Ishmael would have a future because he too was Abraham\'s offspring (vv. 11-13).

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو یقین دلایا کہ اسماعیل ؑ کا ایک [تاب ناک]مستقبل ہوگا ،کیونکہ وہ بھی ابراہیم ؑ کی نسل ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس سے پہلے بے خطر آتشِ نمرود میں کود چکے تھے، جوبظاہر ایک خود کشی نظر آتی ہے، جس کی کسی مذہب یا ضابطۂ حیات میں اجازت نہیں ہے۔ وہ دینِ حق کی خاطر بے جھجک اپنا وطن چھوڑ چکے تھے اوراُن [اسماعیل ؑ ] کی خاطر عظیم معجزات رونما ہوتے دیکھ چکے تھے، اِس لیے انھیں اپنے اِس پیارے اکلوتے بیٹے اور اس کی والدہ کے مستقبل کے لیے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی، کیونکہ وہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے غیر مبہم اور واضح احکام کے تحت سر انجام دے رہے تھے۔ اِس طرح کہانی کا یہ حصّہ ایک صریح افترا کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
۲۰؂ یعنی بیر سبع (سات کا کنواں) کے اِردگردحیران اور پریشان کر دینے والی، خوف ناک، بے آباد، بنجر اور پہاڑی سر زمین۔
۲۱؂ اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام سولہ سترہ سال کے پلے بڑھے ایک نوجوان ہوتے تو حضرت ہاجرہ کِس طرح ’اِس بچّے کو ایک جھاڑی کے نیچے پھینک‘ سکتی تھیں۔ اِس طرح یہ بات بالکل فیصلہ کُن انداز میں واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کو بیر سبع میں آباد کرنے کا واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بچپن میں رونما ہوا تھا اور حضرت سارہ کے نام نہاد حسد اور اسحاق علیہ السلام کے دودھ چھڑانے کی ضیافت والا قصّہ بالکل بے بنیاد ہے۔
۲۲؂ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو تنہا اور بے آسرا نہیں چھوڑا گیا تھا۔ اگر اُن کے والد نے انھیں وہاں چھوڑا تھا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں چھوڑا تھا تواللہ تعالیٰ اُس کے محافظ اور نَشوونَما کرنے والے کے طور پر وہاں موجود تھا۔
۲۳؂ حقیقت میں یہ خداوند کا فرشتہ نہیں، بلکہ بذاتِ خود اللہ تعالیٰ ہی تھا جس نے حضرت ہاجرہ کو پکارا تھا۔ یہ بائبل کے مؤلفین کی ایک طرح سے تحریف ہے جواُنھوں نے اپنے توہُّمات کی تسکین کے لیے کی ہے۔ ’اے نیو کیتھولک کمنٹری‘ نے (صفحہ ۱۹۳پر ) وضاحت کی ہے:

Here and in 9f reference is made to the 'angel of Yahweh', while in 13 the Person who speaks to Hagar is identified with Yahweh himself. By some this is explained by assuming that in the most primitive form of the story the speaker was Yahweh himself, and only later out of reverence the word 'angel' was inserted in some places (...). However, it is doubtful in these ancient times whether the Israelites thought of the 'angel of Yahweh' as personage distinct from Yahweh himself. The 'angel' (malak), lit. 'messenger' was rather Yahweh himself made manifest to man.

یہاں اور آیت ۹ و بعد میں ’اللہ تعالیٰ کے فرشتے‘ کا حوالہ دیا گیا ہے، جبکہ آیت ۳ ۱ میں جو شخص حضرت ہاجرہ سے کلام کر رہا ہے، وہ بذاتِ خود اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ بعض لوگوں نے یہ تاویل اختیار کرتے ہوئے اس کی تشریح کی ہے کہ کہانی کی انتہائی قدیم صورت میں متکلّم بذات خود اللہ تعالیٰ ہی تھا اور یہ صرف بعد میں ادب کے طور پر بعض مقامات پر لفظ ’فرشتہ‘ داخل کر دیا گیا ہے۔ (...)۔ تاہم اِن قدیم ایاّم میں یہ بات بھی مشکوک ہے کہ کیا اسرائیلی ’خدا وند کے فرشتے‘ کو بذاتِ خود اللہ تعالیٰ سے کوئی الگ شخصیت سمجھتے تھے۔ ’فرشتہ‘ (ملک)،جس کے لغوی معنی ’پیغام بر‘ ہیں، اصل میں خود اللہ تعالیٰ ہی تھا جو انسان کے سامنے نمودار ہوا تھا۔

یوجین ایچ مالی (Eugene H. Maly) نے بھی ’جیروم تفسیر بائبل‘ میں صفحہ ۲۲پر لکھا ہے:

The versions have the correct reading, as in the CCD. "God heard" is a play on the child's name (cf. 16:11), but, to avoid the anthropomorphism, E. has "the angel of God" speak to Hagar.

سی سی ڈی (Confraternity of Christian Doctrine Tr. of the Bible) کی طرح مختلف تراجم نے بھی صحیح قراء ت ’خداوند نے سنا‘ ہی قرار دی ہے، جو بچے کے نام سے مناسبت رکھتی ہے (دیکھیے ۱۶: ۱۱)، لیکن انسان کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لیے اِلوہسٹ (Elohist) نے ’خداوند کے فرشتے‘ کو حضرت ہاجرہ سے ہم کلام ہوتے دکھایا ہے۔

اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس نے حضرت ہاجرہ سے خطاب کیا تھا، وہ خود اللہ تعالیٰ ہی تھا، لیکن بائبل کے مؤلف نے حضرت ہاجرہ کے متعلق اپنے ذاتی خیالات کی بنا پر یا کسی اور مناسبت سے اِسے ’خداوند کا فرشتہ‘ میں بدل دیا ہے۔
۲۴؂ کیسی خوش نصیب ہے یہ ہاجرہ کہ اِس کے ساتھ اللہ تعالیٰ آسمان سے بذات خود ہم کلام ہو رہا ہے (لیکن اِس تحریف شدہ ترجمے کے مطابق یہ خطاب ’خداوند کے فرشتے کی طرف سے‘ تھا)۔
۲۵؂ کیا اِس سے حضرت ہاجرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم محبت اور اُنسیّت ظاہر نہیں ہو رہی؟ کیا یہ جلاوطنی معزز ہاجرہ کے لیے برکت ہے یا کچھ اور؟
۲۶؂ کیونکہ تمھیں ہر قسم کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ بذات خود موجود ہے۔ وہ تمھاری تمام ضروریات ،حالات اور متوقع مصائب سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور تمھیں اور تمھارے بیٹے کو ہر وہ چیز مہیا کرے گا جو تمھیں درکار ہے۔
۲۷؂ اِس سے پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اور لگاؤ ظاہر ہوتا ہے۔
۲۸؂ اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام سولہ یا سترہ سال کے بھر پور نوجوان ہوتے تو حضرت ہاجرہ کِس طرح اُنھیں اُٹھا کر اپنے ہاتھوں میں تھام سکتی تھیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کی بیر سبع (چاہ زم زم) میں آباد کاری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بچپن میں رونما ہوئی تھی اور دودھ چھڑانے کی ضیافت کی کہانی اور خدا ترس اور معزز سارہ کانام نہادظلم اور حسد بالکل بے بنیاد بات ہے۔
۲۹؂ اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام سولہ یا سترہ سال کے نوجوان ہوتے تو یہ سارے کام اُنھیں سر انجام دینے چاہییں تھے، نہ کہ اُن کی والدہ ہاجرہ کو، جو ایک بوڑھی خاتون تھیں۔ یہ بات بھی قاری کو حضرت اسماعیلعلیہ السلام کے بیر سبع اور فاران کے بیابان میں آباد کیے جانے کے وقت کے تعیّن میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اِ س سے کہانی کے اِس حصے کا قابلِ اعتبار ہونا بھی متاثر ہوتا ہے۔
۳۰؂ اللہ تعالیٰ بار بار حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے اپنا لگاؤ ظاہر کر رہا ہے۔ یہ لڑکا کیسے ہلاک وبرباد ہو سکتا تھا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کے متعلق پریشان ہونے کی کیوں ضرورت پیش آتی،جبکہ اللہ تعالیٰ اُس کی حفاظت اورنَشوونَما کے لیے ہر وقت اُس کے ساتھ تھا (جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے بذاتِ خود غیر مبہم الفاظ میں کیا ہے)۔
۳۱؂ یہاں جس ’فاران‘ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ مکّے کا نام ہے۔ اِس پر تفصیلی گفتگو اِس کتاب کے مصنّف نے کِسی اور جگہ کی ہے (لیکن کتابِ ہذا میں نہیں)۔ یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ اسماعیل علیہ السلام کو جب فاران یا بیر سبع میں بھیجا گیا تھا، اُس وقت وہ دودھ پیتے بچّے یا دودھ چھڑائے جانے کے قریب تھے، ورنہ حضرت ہاجرہ نہ تو ’اِس بچّے کواپنے کندھے پر رکھ‘ سکتی تھیں نہ اِس لڑکے کو ’اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں تھام‘ سکتی تھیں اور نہ اُس بچے کو ایک جھاڑی کے نیچے پھینک سکتی تھیں۔ اِس سے حضرت اسحاق علیہ السلام کے نام نہاد دودھ چھڑائے جانے کی ضیافت کا قِصّہ ایک بے بنیاد او ر من گھڑت افسانہ ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اِس کے نتیجے کے طور پر:

(الف) اسحاق ؑ وہاں موجود ہی نہ ہو سکتے تھے کہ اسماعیل ؑ ان کا منہ چڑاتے۔ بائبل میں صاف لکھا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اُس وقت اِتنی چھوٹی عمر کے بچّے تھے کہ اُن کی والدہ انھیں گو د میں اٹھا سکتی تھیں، اِس لیے حضرت اسحاق علیہ السلام کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ تو اُس وقت پیدا ہوئے تھے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر پہلے ہی چودہ سال کی ہو چکی تھی۔
(ب) حضرت سارہ حسد، ظلم اور بربریت کے تمام الزامات سے بری قرار پاتی ہیں۔

۳۲؂ کتابِ مقدس، پیدایش ۲۱: ۸۔۲۱ ۔
۳۳؂ ’نیو جیروسیلم بائبل‘ نے یہاں(۲۱: ۴۱) ذیلی حاشیے میں ایک تعارفی شذرہ ’الف‘ قلم بند کیا ہے:

At this point the three traditions are fused together: vv. 1a, 2a, 7 follow on from 18:15 and are Yahwistic; vv. 2b, 5 follow on from 17:21 and are priestly; vv. 1b, 6 are Elohist.

اِ س مقام پر تینوں روایتیں اکٹھی ہوجاتی ہیں: (الف) آیات ۱۔الف، ۲۔الف اور۷ کا تعلق باب ۱۸ آیت ۱۵ سے ہے۔ یہ یہوسٹ روایت کا حصہ ہیں۔ (ب) آیات ۲۔ب اور ۵ کا تعلق ۱۷:۲۱ سے ہے اوریہ پریسٹلی روایت کا حصہ ہیں۔ (ج) آیات ۱ ۔ب اور۶۔ اِلوہسٹ روایت کا حصّہ ہیں۔

پولین اے وی ویانو (Pauline A. Viviano) ’دی کالج وِ لاّ تفسیر بائبل‘ (صفحہ ۵۹) پر لکھتا ہے:

All three sources are found in this account of the birth of Isaac.

اسحاق ؑ کی پیدایش کے اِس بیان میں تینوں کے تینوں مآخذ موجود ہیں۔

۳۴؂ ’دی کالج وِ لاّ تفسیر بائبل‘ (صفحہ ۶۰) پر رقمطراز ہے:

The Elohist narrative of Isaac's birth (vv. 8-21) is a duplicate of the story of expulsion of Hagar and Ishmael found in the Yehwistic version in chapter 16.

اسحاق ؑ کی پیدایش کے بارے میں الوہسٹ کا بیان (آیات ۸ ۔۲۱) ہاجرہ اور اسماعیل ؑ کے اخراج کی اُس کہانی کا مثنّٰی ہے جو باب ۱۶ کے یہوسٹ ورشن میں درج ہے۔

35. The Collegeville Bible Com., 60.

۳۶؂ یہاں پر انگریزی کا لفظ 'Desolate' درج ہے اور اس کے معنی ہیں:

sad and without people, comfort, hope, or friends, etc.

’اداس‘ اور’لوگوں، آسایش، امید، یا دوستوں وغیرہ کے بغیر‘۔

بائبل میں اس کے لیے اصلی عبرانی لفظ ’بدد‘ (Badad) ہے، جس کامطلب ہے:

alone, desolate, only, solitary.

’تنہا،اجاڑ، اکیلا‘۔ (’سٹرونگ کی عبرانی ڈکشنری‘، اندراج ۹۱۰، صفحہ ۱۹)۔

37. KJV-Isa. 27:10, p. 568.
38. Enc. Biblica, 1:1076-77.
39. The Interpreter's Bible Dic. (NY: Abingdon Press, Nashville, 1962), 5:946.
40. The Interpreter's Bible Dic., 4:844.

____________