ضمیمہ ۱


کتاب کے متن میں بیر سبع کا متعدد مرتبہ حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ موضوع ایک تفصیلی مطالعہ کا متقاضی تھا، لیکن متنِ کتاب میں اس کی گنجایش نہیں۔ چنانچہ اس ضمیمے میں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ اَشخاص و اَماکِن کے ناموں کے ہجے بالعموم وہی نقل کیے گئے ہیں جو بائبل یا متعلقہ مآخذ میں درج ہیں۔ اقتباسات میں ہجے اور حرکاتی علامات کی وہ اسکیم اختیار نہیں کی گئی ہے جو کتاب کے شروع میں منسلک ہے، بلکہ عام طور پر وہی اسکیم اختیار کی گئی ہے جو اصل اقتباسات میں اختیار کی ہوئی تھی۔ اس ضمیمے کے اہم نِکات درج ذیل ہیں:

(۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ سمیت اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ’بیر سبع کے بیابان‘، ’فاران کے بیابان‘، یا ’موریا‘ (زم زم ، الحجاز، المروہ) میں آباد کیا تھا، لیکن اس میں حضرت سارہ کے کسی حسد یا حضرت ہاجرہ اور سارہ ۱؂ کے درمیان کسی تنازعے کا کوئی دخل نہ تھا۔
(۲) حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کی بیر سبع کے مقام پر آباد کاری کا واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بچپن میں اس وقت رونما ہوا تھا، جبکہ ابھی تک حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ دودھ چھڑانے والی ضیافت اور حضرت سارہ کا نام نہاد حسد اور ان کے حضرت ہاجرہ پر نام نہاد شرم ناک مظالم محض ایک افسانہ ہے۔
(۳) یہ بات ہرگز قرینِ قیاس نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دروازے سے باہر دھکا دے کربغیرکسی راہنمائی کے کس مپرسی کی حالت میں نکال باہر کیا ہو۔ ایسی ظالمانہ حرکت کی توقع تو کسی عام شریف آدمی سے بھی نہیں کی جا سکتی، کجا کہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر رسول پر یہ تہمت لگائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ منزلِ مقصود پر اپنے ساتھ خود چھوڑ کر آئے تھے۔
(۴) بیر سبع ایک با معنی لفظ ہے اور اس کے دو معنی ہیں: (۱) سات کا کنواں اور (۲) عہد یا حلف کا کنواں۔
(۵) بائبل کے ریکارڈ کے مطابق بیر سبع کا محل وقوع ایک سے زیادہ مقامات پر ہونا چاہیے۔ بائبل میں یہ لفظ چونتیس مقامات پر آیا ہے، لیکن اس کے شروع میں ’بیابان‘ کا وصف صرف ایک ہی مقام پر درج ہے۔
(۶) بیر سبع سے پہلے ’بیابان‘ کے وصف کا یہ واحد استعمال، ’سات کے کنوئیں والے بیرسبع‘ کو، باقی ماندہ بیر سبعوں سے بالکل ممتاز کر دیتا ہے۔ اس سے ’سات کے کنویں‘ کا محل وقوع ٹھیک مکّے کا علاقہ قرار پاتا ہے۔
(۷) اس سیاق و سباق میں بیر سبع صریحاً اس چشمے کی دلالت کرتا ہے جو حضرت ہاجرہ کے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکروں کے نتیجے میں انھیں [ہاجرہ کو] عنایت فرمایا گیا تھا۔
(۸) اس طرح یہ ’بیر سبع‘ مکّے کا چاہِ زم زم ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
(۹) یہ’ بیر سبع‘ (سات چکروں کے نتیجے میں ملنے والا چاہِ زم زم ) اس’ بیر سبع‘ یعنی حلف کے کنوئیں سے بالکل مختلف ہے جو کنعان۲؂ کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔
(۱۰) اس سلسلے میں بائبل میں جو قصہ بیان ہوا ہے، وہ مختلف روایتوں کا مجموعہ ہے اور اس میں بڑی مقدارمیں قابل اعتراض اور متناقض مواد شامل ہے، اس لیے اس کا کوئی بیان بھی محتاط تنقیدی جائزے کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

بیابانِ بیر سبع، جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اورجہاں اُ ن کے چھوڑ کر چلے جانے کے بعد حضرت ہاجرہ اپنے بچے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ گھومتی رہیں، اس کا ’کتابِ مقدس‘ میں اس طرح ذکر کیا گیا ہے (اِس عبارت سے متعلق بیش تر اہم نِکات کی موقع ہیپر ذیلی حواشی میں قدرے تفصیلی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس مضمون کے متن میں ان نِکات پر دوبارہ کسی تفصیلی بحث کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اس لیے ان ذیلی حواشی کو بائبل کے متن کے ساتھ موقع ہی پر توجہ سے دیکھ لیا جائے):

اور وہ لڑکا بڑھا اور اُس کا دودھ چھُڑایا گیا۳؂ اور اضحاق کے دودھ چھڑانے کے دن ابرہام نے بڑی ضیافت کی۔ اور سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ مصری کا بیٹا۴؂ جو اُس کے ابرہام سے ہوا تھا ٹھٹھے مارتا ہے۔۵؂ تب اُس نے ابرہام سے کہا اِس لونڈی ۶؂ کو اور اِس کے بیٹے ۷؂ کو نکال دے۸؂، کیونکہ اِس لونڈی کا بیٹامیرے بیٹے۹؂ اضحاق ۱۰؂ کے ساتھ وارث نہ ہوگا۔ پر ابرہام کو۱۱؂ اُس کے بیٹے کے باعث۱۲؂ یہ بات نہایت بُری معلوم ہوئی۔ اور خدا نے ابرہام سے کہا کہ تجھے اِس لڑکے۱۳؂ اور اپنی لونڈی۱۴؂ کے باعث برا نہ لگے۔

________

حواشی

۱؂ ’چیمبرز بائیو گرافیکل ڈکشنری‘ (Chambers Biographical Dictionary) میں تشریح کی گئی ہے (صفحہ ۱۶۳۳):

Sarah, whose name means 'princess' in Hebrew, was the wife of Abraham and mother of Isaac. She accompanied Abram from Ur to Canaan (Gen 12-23) and pretended to be Abram.\'s sister before Pharaoh in Egypt and Abimelech in Gerar, since her beauty and their desire for her might have endangered Ab.'s life. Pharaoh took her as his wife, and Abrm. prospered, but when the truth was revealed, Pharaoh banished them both. Long barren, she eventually gave birth to Isaac in her old age, fulfilling God's promise that she would be the ancestor of nations (Gen 17.16). She died at the age of 127 in Kiriath-arba."

سارہ، جس کے نام کے معنی عبرانی میں شہزادی ہیں، ابرہام ؑ کی بیوی اور اسحاق ؑ کی ماں تھیں۔ وہ ابرام کے ساتھ اُر سے کنعان آئیں تھیں (پیدایش ۱۲: ۲۳)۔ انھوں نے مصر میں فرعون اور جرار میں شاہ ابی ملک کے سامنے یہ بہانہ بنایا تھا کہ وہ ابرام کی بہن ہیں، کیونکہ اُن [سارہ] کے حسن اور اُن [بادشاہوں] کی حضرت سارہ کی طرف رغبت کی بِنا پرابراہیم ؑ کی زندگی خطرے میں تھی۔ فرعون نے انھیں اپنی بیوی بنا لیا۔ اور ابراہام ؑ خوش حال ہوگئے، لیکن جب حقیقت ظاہر ہو گئی تو فرعون نے اُن دونوں کو نکال دیا۔ مدّت تک بانجھ رہنے کے بعد انھوں نے بڑی دیرسے بڑھاپے کی عمر میں اِسحاق ؑ کو جنم دیا۔ اِس سے اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ پورا ہُوا کہ وہ قوموں کی ماں ہو گی (پیدایش ۱۷:۱۶)۔ وہ ایک سو ستائیس سال کی عمر میں قریہ اربعہ کے مقام پر فوت ہوئیں۔

۲؂ ’نیو شارٹر اوکسفرڈ انگلش ڈکشنری‘ ۱: ۳۲۵ میں کنعان کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے:

Ancient name of western Palestine, promised in the OT and Hebrew Scriptures to the children of Israel (Exod. 3:17 etc.).

[کنعان] مغربی فلسطین کا قدیم نام ہے۔ عہد نامہ قدیم اور عبرانی صحیفوں میں اِسے اولادِ اسرائیل کے لیے [مخصوص کرنے کا]وعدہ ہے (خروج ۳:۱۷ وغیرہ)۔

۳؂ ’چیمبرز اسینشل انگلش ڈکشنری‘، ۱۹۹۸ء، صفحہ ۱۱۱۵ میں وضاحت ہے:

A mother weans her baby when she gradually stops feeding it with milk from her breast and gives it increasing amounts of other kinds of food.

ایک ماں اپنے بچے کا دودھ اُس وقت چھڑاتی ہے، جب وہ بتدریج اِسے اپنی چھاتی سے دودھ پلانا بند کر کے دوسری قسموں کی خوراک کی زیادہ مقدار دینے لگتی ہے۔

آر جے کلفرڈ (R.J. Clifford ) اور آر ای مرفی(R.E. Murphy) لکھتے ہیں:

The age of weaning was three years. )The New Jerome Biblical Com., ed RE Brown, etc, Bangalore: TPI, 1994, p.24(:

دودھ چھڑانے کی عمر تین سال تھی۔

تورات کی ایک یہودی تفسیر’ دی سَونکینو قماش‘ (Soncino Chumash)میں صفحہ ۱۰۳ پر ربی شلوموہ یتشاکی (Rabbi Shelomoh Yitschaki) (۱۰۴۰ء ۔ ۱۱۰۵ء) کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ [دودھ چھڑانا]دو سال کی عمر میں منعقد ہوتا تھا۔
’ہیسٹنگز بائبل ڈکشنری‘میں (۲: ۲۷۷ پر) درج ہے:

We are told of the birth of Isaac (v v. 1-7). On the occasion of the festival which was held perhaps two or three years later.

ہمیں [کتابِ پیدایش باب ۲۱ میں] اسحاق ؑ کی پیدایش کے متعلق بتایا گیا ہے (آیات ۱۔۷)۔ اُس کی[دودھ چھڑانے کی] تقریب کے موقع پر جو شاید دو یا تین سال بعد منعقد ہُوئی تھی۔

اِس کی جلد اوّل میں ایچ اے وائٹ بتاتا ہے (صفحہ ۳۰۱):

It was not fully weaned for two or three years.

دو یا تین سال تک اِسے مکمل طور پر دُودھ نہیں چھڑایا گیا۔

اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ بچّے کا دودھ دو یا تین سال کی عمر میں چھڑایا جاتا تھا۔ کتابِ پیدایش (۱۶: ۱۶) کے مطابق:

جب ہاجرہ نے ابراہیم ؑ کے لیے اسماعیل ؑ کو جنا تو ابراہیم ؑ چھیاسی سال کے تھے۔

کتابِ پیدایش (۲۱:۵) کے مطابق:

ابراہیم ؑ کی عمر [اس وقت] سو سال تھی۔ جب اُن کے ہاں اُن کا بیٹا اسحاق ؑ پیدا ہوا۔

اِس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں بھائیوں کی عمروں کے درمیان چودہ سال کافرق ہے۔ اور جب حضرت اسحاق علیہ السلام کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ اُن کا دودھ چھڑایا گیا تو اُن کے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر سولہ [۱۴228۲] یا سترہ [۱۴228۳] سال کی ہونی چاہیے، کیونکہ اُن کی نشو ونما کھُلی فضا والی سخت کوشی کی زندگی میں ہوئی تھی اور اُن کی بنیادی خوراک دودھ اورگوشت تھی، اس لیے وہ ایک مضبوط توانا اور سخت کوش جوان ہوں گے، لیکن آگے آنے والی آیات کے مطابق وہ صحیح طور پر یاتو دودھ پیتے بچّے دکھائی دیتے ہیں یا ابھی ابھی اُن کا دودھ چھڑایا گیا ہے۔ بائبل کے ان متضاد ومتناقض بیانا ت کی روشنی میں دودھ چھڑانے کایہ واقعہ بالکل ناقابل اعتبار قرار پاتا ہے۔ بائبل کے مفسرین نے بھی اِس تضاد کو محسوس کیا ہے۔ جیروم کی تفسیر بائبل میں یو جین ایچ مالی (Eugene H. Maly) اپنی کتاب پیدایش کی تفسیر میں (صفحہ ۲۲پر) لکھتا ہے:

From 17:25 and 21:8 we can deduce that Ishmael would be about 16 years old, which clashes with the present account (cf. vv. 14-17).

۱۷: ۲۵ اور ۲۱: ۸ سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسماعیل سولہ سال کے ہوں گے جو موجودہ بیان سے متصادم ہے (آیات نمبر ۱۴تا ۱۷)۔

اِس سے ظاہر ہوا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بیابانِ بیر سبع/ فاران میں آباد کیے جانے کے موقع پر اُن کی عمر کے متعلّق بائبل کے بیانات متضاد اور متناقض ہیں، اس لیے اِس کہانی کے ہر حصّے کا بغور تنقیدی جائزہ لینے کے بعد ہی اِس کے متعلق کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
۴؂ اِس جملے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ہاجرہ کے فرزند تھے، جنھیں اُس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جناتھا۔ اور حضرت سارہ کو اس بات کا کوئی حق حاصل نہ تھا کہ وُہ اِس کے متعلق اپنا بیٹا ہونے کا دعوی کریں۔ بائبل میں اِس بات کی وضاحت موجود ہے:

اور ابرام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔ اور ساری نے ابرام سے کہا، ’کہ دیکھ، خدا وند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھاہے ،سو تومیری لونڈی کے پاس جا، شاید اُس سے میرا گھر آباد ہو‘ [کیسی عجیب بات ہے کہ ایک خاتون دوسری خاتون سے اپنے لیے اولاد حاصل کر سکتی ہے!]اور ابرام نے ساری کی بات مانی اور ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہو گئے تھے جب اُس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اُسے دی کہ اُس کی بیوی بنے۔اور وہ ہاجرہ کے پاس گیااور وہ حاملہ ہوئی(...)۔ تب ساری اُس پر سختی کرنے لگی اور وہ اُس کے پاس سے بھاگ گئی [پس سارائی نے اُس کے ساتھ بدسلوکی کی اور وہ بھاگ گئی (NEV۔کتابِ پیدایش ۱۶: ۶)]۔ (...)۔ اور خدا وند کے فرشتے نے اُس [ہاجرہ]سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا ہو گا، اُس کا نام اسماعیل ؑ رکھنا،اس لیے کہ خداوند نے تیرا دکھ سُن لیا۔ (...)۔ اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹا ہوا اور ابرام نے اپنے اُس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوا، اسماعیل ؑ رکھا (کتابِ مقدس، پیدایش ۱۶:۱، ۳، ۱۱، ۱۵)۔

یہ بیان درست معلوم نہیں ہوتا، جیسا کہ آیت ۱۰ کے لفظ ’باندی‘پر آگے آنے والے ایک حاشیے میں واضح کیا گیا ہے۔ حضرت ہاجرہ حضرت سارہ کی لونڈی یا باندی نہ تھیں۔ وہ ایک شہزادی تھیں اور اُن کے باپ نے، جو مصرکا بادشاہ تھا، اِنھیں حضرت سارہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیش کیاتھا۔ اس سلسلے میں اس کتاب کے دوسرے باب کے حاشیہ ۲ پر بھی دوبارہ ایک نظر ڈال لی جائے۔ اگر وہ حضرت سارہ کی باندی بھی ہوتیں توجب سارہ نے اُنھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نکاح میں دے دیا تو وُہ اُن کی باندی کیسے رہ گئیں۔ یہ ایک فِطری اِنصاف کی بات ہے کہ ماں ہونے کااِعزاز صرف اُسی خاتون کو حاصل ہوناچاہیے جومتعلّقہ بچّے کو فی الواقع جنم دے۔ کِسی ایسی عورت کو، جو ایک بچّے کی حقیقی والدہ نہیں ہیں، یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اُس عورت سے اس بچّے کی ماں ہونے کااعزاز چھین سکے، جس نے اُسے جنم دیا ہے۔ کسی عورت کو، خواہ اُس کامعاشرتی مرتبہ کچھ بھی ہو، یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ کِسی ایسی خاتون کا استحصال کرے جو نادار، کمزوراور بے آسرا ہو۔ جو کوئی بھی ایسی ظالمانہ حرکت کرے ،وہ ایک ظالم مجرم ہے۔ اگراس فطری اِنصاف کے برعکس اُس کے علاقے میں کوئی ایسی غیر منصفانہ مقامی روایت موجود تھی بھی تو بزرگ پیغمبرحضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے یہ بات کسی طرح پسندیدہ اور مناسب نہ تھی کہ وہ اس پر عمل کرتے۔ اُن کا فرض تو یہ بنتا تھا کہ وہ خدائی اور فطری انصاف کے اصولوں کے مطابق اِس میں مناسب تبدیلی لاتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کو کسی طرح بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ معاشرے کی مروجہ بے انصافیوں کی پیروی کریں یا اُن کا ساتھ دیں۔ انھیں تو بھیجا ہی اِس لیے جاتاہے کہ وُہ ایسی تمام بے انصافیوں کوجڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور اپنی پوری حدودِ نبوت میں خداوند کے فطری انصاف کو قائم کریں۔ کُجا یہ کہ وہ خود اپنے گھر میں ایسی بے انصافیوں پر عمل ہونے دیں، اِس لیے مندرجہ بالا قصّے کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام انصاف اور مساوات کے تمام اصولوں کی رُو سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اُن کی جائز بیوی حضرت ہاجرہ سے اُن کے حقیقی اور قانونی پہلونٹے بیٹے تھے اور انھیں پہلونٹا بیٹا ہونے کے تمام حقوق حاصل تھے۔ بائبل کے جملے’اب ابرام کی بیوی ساری نے اُس کے لیے کوئی بچے نہ جنے تھے‘ کی’ نیلسن اسٹڈی بائبل‘ میں مندرجہ ذیل وضاحت کی گئی ہے:

In the world of the OT, infertility caused great distress (see 25:21). At that time, the woman was always blamed. When a woman was not able to conceive a child, her husband might divorce her. (p. 33).

عہد نامہ قدیم کی دنیا میں بانجھ پن بہت بڑی مصیبت کا باعث بنتی تھی (دیکھیے۲۵: ۲۱)۔ اُس وقت الزام ہمیشہ عورت پر جاتا تھا۔ جب کوئی عورت حاملہ ہونے کے قابل نہ ہوتی تواُس کا خاوند اُسے طلاق دے سکتا۔

اگرحضرت ابراہیم علیہ السلام اُس زمانے کے رسم ورواج کی پابندی کرتے تو وہ سارہ کو بانجھ پن کے الزام میں بے انصافی کے ساتھ سزا دیتے ہوئے طلاق دے دیتے، حالاں کہ فِطری انصاف کے لحاظ سے اِس پر اُنھیں(سارہ کو) موردِ الزام ٹھہرانا کسی طرح مناسب نہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ:

(۱) حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہر لحاظ سے اور تمام مقاصد کے لیے جائز فرزند تھے۔
(۲) جب حضرت ہاجرہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کوجنم دیاتو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قانونی اور شرعی لحاظ سے بالکل جائز بیوی تھیں اور یہ بات کوئی بے انصاف اور بد نیّت شخص ہی کہہ سکتا ہے کہ اُنھیں مکمّل بیوی ہونے کی حیثیت حاصل نہ تھی۔
(۳) یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا فرزند ہونے کی مکمل حیثیت حاصل نہ تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔ وہ مُشرک معاشرے میں رائج ظالمانہ رسوم کے نہ صرف یہ کہ پابندنہ تھے، بلکہ وہ توایسی تمام ظالمانہ رسوم کو تبدیل کرنے کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور اِس بات کے پابند تھے کہ وہ ان رسوم کو بدلنے کی کوشش کریں۔
۵؂ ’دی نیو جیروم تفسیر بائبل‘ نے(صفحہ ۲۴ پر) اِس موقع کی وضاحت اس طرح کی ہے:

with her son Isaac: This phrase seems to have dropped out of the MT by haplography [the inadvertent writing once, of what should have been written twice (Chambers Dic., 1995, p.762)]; the phrase is preserved by the LXX and the Vg.

اپنے بیٹے اسحاق کے ساتھ: معلوم یہ ہوتاہے کہ مسوراتی متن میں غلطی سے یہ الفاظ درج ہونے سے رہ گئے ہیں، جبکہ بائبل کے ’ہفتادی ترجمے‘ اور’ ولگیٹ‘ میں یہ الفاظ موجود اور محفوظ ہیں۔

اِس سے ظاہر ہوتاہے کہ اِس مقام پر بائبل کے مؤلفین سے کچھ ذہول ہو گیا اور اِس طرح یہ الفاظ متن میں درج ہونے سے رہ گئے۔ بائبل میں اس طرح کی غلطیاں کوئی انہونی بات نہیں۔
جس لفظ کا ترجمہ اِس جگہ ’مذاق اڑانا‘ کیا گیا ہے، اُس کے متعلق ایک اور نکتہ قابلِ توجُّہ ہے۔ عبرانی میں یہ لفظ ص 228 ح 228 ق ہے، یہ وہی لفظ ہے جو عربی میں ضحک ہے۔ معنی دونوں لفظوں کے ایک ہی ہیں یعنی ہنسنا۔ خیال رہے کہ عبرانی زبان اور اِس کے حروف ابجد میں ض کا حَرف نہیں ہے، اِس لیے ’ض‘ کے موقع پر عبرانی میں’ ص‘ کا حرف ہی استعمال ہوتا ہے۔ ’سٹرونگ کی بائبل کے عبرانی الفاظ کی لغت‘ میں اندارج ۶۷۱۱ (صفحہ ۹۹) میں اِس کے معنی دیے گئے ہیں:

to laugh outright (in merriment or scorn); by impl. to sport:* laugh, mock, play, make sport.

صریحاً ہنسنا (خواہ خوشی سے ہو یا نفرت سے): کنایۃً کھیلنا، ہنسنا، منہ چڑانا، کھیلنا، تفریح کرنا۔

یہی وجہ ہے کہ گنتھر پلاٹ (Gunther Plaut) کی ’ دی توراہ، ایک جدید تفسیر‘ میں(صفحہ ۱۳۹پر) اِس کا ترجمہ اِس طرح کیا گیا ہے:

Sarah saw the son, whom Hagar the Egyptian had borne to Abraham, playing.

سارہ نے اُس بیٹے کو جسے مصر کی ہاجرہ نے ابراہیم کے لیے جنا تھا، کھیلتے دیکھا۔

بائبل کے بعض دوسرے تراجم میں بھی اِس جگہ ’مذاق‘ اڑانے کے بجاے ’کھیلنے‘ کا لفظ استعمال کیاگیا ہے، مثلاً(۱) ’نیو جیروسلم بائبل‘ NJB) (، (۲) ’نیو آکسفرڈ اینوٹیٹڈ بائبل‘ NOAB) (، [اِس نے یہاں ’اُس کے بیٹے اسحاق ؑ کے ساتھ کھیلتے ہوئے‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور نیچے نوٹ دیا ہے: ’یونانی ولگیٹ: عبرانی میں With her son Isaacکے الفاظ نہیں ہیں‘](۳) ’دی توراہ مسوراتی متن‘،(۴) ’نیو امیریکن ورشن‘(NAV) ، (۵) ’ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورشن،کیتھولک ایڈیشن‘ (RSV- Catholic Ed.) (۶) ’ٹو ڈے انگلش ورشن‘ (TEV)،(۷) ’گُڈ نیوز بائبل‘ (GNB)، (۸) ’ نیو کیتھولک کومنٹری‘، (۹) ’سنکینو قماش‘ [کھیل تفریح]، وغیرہ۔
’وکلف کی تفسیر بائبل‘ (صفحہ ۲۶) میں اِس واقعے کی بڑی عمدہ وضاحت کی گئی ہے:

It has been translated "mocking," "sporting," "playing," and "making sport." There is no good reason here to introduce the idea of mocking. What Ishmael was doing does not matter so much as the fact that it infuriated Sarah. Perhaps she simply could not bear to see her son playing with Ishmael as with an equal. Or it may be that green-eyed jealousy took full control. Sarah may have feared that Abraham, out of love for Ishmael, would give the older lad the prominent place in the inheritance.

اِس کا ترجمہ منہ چڑانا، تفریح، کھیلنا، چُہلیں کرنا کیا گیا ہے۔ یہاں منہ چڑانا یا مذاق اڑانا کا تصوّر پیدا کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں۔ جو کچھ اسماعیل کر رہا تھا، وہ کوئی ایسی بری بات نہ تھی جس سے سارہ اِتنی سیخ پا ہوتی۔ اصل بات یہ ہے کہ شایدوہ اپنے بیٹے کو اِسماعیل ؑ کے ساتھ اِس طرح کھیلتے ہوئے دیکھنا برداشت نہ کر سکیں، جیسے کوئی اپنے برابر کی حیثیت والے کے ساتھ کھیلتا ہے۔ یا پھر یہ بات ہو سکتی ہے کہ حسد اُس پر پوری طرح چھاگیا۔ ہو سکتا ہے کہ سارہ کو اس بات کا خوف ہو کہ اسماعیل ؑ کی مَحبت سے مغلوب ہو کر کہیں ابراہیم ؑ بڑے لڑکے کو وراثت میں نمایاں مقام اور بڑا حصّہ نہ دے دیں۔

معزز اور شریف سارہ کے کردار کو کیسامکروہ کرکے دکھلایا گیا ہے۔ جس خاتون نے اپنے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اپنے خاوند کی وفاداری کی خاطر اپنا وطن اور کنبہ قبیلہ چھوڑا ہو، ہزاروں میل کا تکلیف دِہ سفربرداشت کیا ہو اور جس کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے سرزمینِ مصر میں ایسے عظیم الشان معجزات رونما کیے ہوں، اُس کے متعلق یہ بات کسی طرح بھی شایانِ شان نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی دوسری بیوی اور اپنے خاوند کے بیٹے کی ماں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک روا رکھے گی۔ مزید براں یہ کہ وُہ اپنے خدا ترس خاوند کے احساسات کو اِتنی بوڑھی عمر میں اِس قدر مجروح کرے گی۔ یہ بات بالکل ناقابل یقین ہے اور اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ کہانی کا یہ حصّہ قطعی طور پر جھوٹا اور بناوٹی ہے۔
۶؂ یہ بات درست نہیں کہ حضرت ہاجرہ ایک لونڈی یا باندی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مصر کی شہزادی تھیں اور اُن کے والد یعنی شاہ مصر نے اُنھیں حضرت ابراہیمعلیہ السلام اور اُن کی بیوی حضرت سارہ کی خدمت کے لیے اور ایک پاکیزہ ماحول میں پرورش اور نشوونما پانے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے کیاتھا۔بائبل کے مؤلفین نے ایک مقصد کے تحت انھیں کنیز کے طور پر پیش کیا،جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہے:

That Hagar appears as a slave-woman is a necessary consequence of the theory on which the Hebrew myth is based, the notion being that Ishma\'el was of inferior origin. (Enc. Biblica, p. 1933).

یہ بات کہ ہاجرہ ایک باندی کے طور پر پیش کی گئی ہے، اس نظریے کا لازمی نتیجہ ہے جس پر عبرانی خرافات کی بنیاد ہے اور وہ نظریہ یہ ہے کہ اسماعیل کم تر نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ہاجرہ کی طرف غلامی اس لیے منسوب کی گئی تھی تاکہ اسماعیل علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام سے کم تر ثابت کیا جائے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مصری شہزادی تھیں، جیسا کہ ’دی جیوئش انسا ئیکلو پیڈیا ‘کے مندرجہ ذیل اقتباس سے صاف ظاہر ہے:

According to the Midrash (Gen. R. xlv.), Hagar was the daughter of Pharaoh, who, seeing what great miracles God had done for Sarah\'s sake (Gen. xii, 17), said: "It is better for Hagar to be a slave in Sarah\'s house than mistress in her own." In this sense Hagar's name is interpreted as "reward" ("Ha-Agar" = "this is reward."). [Vol. VI, p.138]Hagar is held up as an example of the high degree of godliness prevalent in Abraham\'s time, (...). Her fidelity is praised, for even after Abraham sent her away she kept her marriage vow, (...). Another explanation of the same name is "to adorn," because she was adorned with piety and good deeds (l.c.). [6:138].

مِدراش کے مطابق ہاجرہ فرعون [شاہِ مصر]کی بیٹی تھیں، جس [شاہ مصر]نے یہ دیکھ کر کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ کی خاطر ایسے عظیم الشان معجزات رونما فرمائے ہیں (کتاب پیدایش ۱۲: ۱۷) کہا: ہاجرہ کے لیے اس کے اپنے گھر میں مالکہ بن کر رہنے سے یہ بات زیادہ اچھی ہے کہ وہ سارہ کے گھر میں ایک خدمت گار باندی بن کر رہے۔ اِس مفہوم کے اعتبار سے ہاجرہ کے نام کی اجر اور انعام کے الفاظ میں تعبیر کی گئی ہے (ہا اجر: یعنی یہ اجر و انعام ہے) ۔ ہاجرہ کو ابراہیم ؑ کے زمانے میں رائج تقویٰ اور نیکی کی اعلیٰ ترین مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ (...)۔ ان کی وفاداری کی ستایش کی جاتی ہے، کیونکہ باوجود اِس کے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اُنھیں باہر بھیج دیا تھا، اُنھوں نے اپنے نکاح کے میثاق کی پابندی کی۔ (...)۔ اِسی نام کی ایک اور وضاحت یہ کی جاتی ہے کہ یہ ’سجانے‘ سے ماخوذ ہے کیونکہ وہ تقویٰ اور اعمالِ صالحہ سے مزّین تھیں۔

ایچ ای رائل (H. E. Ryle) نے اپنے مقالے ’ہاجر‘ میں یہی راے ظاہر کی ہے:

Rashi, in his commentary on 6:1, records the belief that Hagar was a daughter of Pharaoh, who, after seeing the wonders that had been done for Sarah, declared that it was better for his daughter to be a bondservant in the house of Abraham than a mistress in the palace of another. (J. Hastings, Dic. of Bible, 2:278.)

راشی نے اپنی تفسیر میں ۶: ۱پر یہ عقیدہ بیان کیا ہے کہ ہاجرہ فرعون کی بیٹی تھی جس نے، وہ معجزات دیکھ کر جو سارہ کے لیے نمودار ہوئے تھے، اعلان کیا کہ میری بیٹی کے لیے ابراہیم ؑ کے گھر میں باندی بن کر رہنا کسی اور کے محل میں مالکہ بن کر رہنے سے بہتر ہے (جے ہیسٹنگز کی لغاتِ بائبل ۲: ۲۷۸)۔

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ۲ (باب دوم)۔
۷؂ اِس مقام پر ’دی نیو جیروم تفسیرِ بائبل‘ میں وضاحت کی گئی ہے:

Sarah in her anger brands her rival "that slave woman and her son," not even mentioning their names (p. 24).

سارہ غصّے میں بپھری ہوئی اپنی سوتن کے متعلّق کہتی ہیں: ’وہ کنیز عورت اور اس کا بیٹا‘ ۔ اور اِن کا نام تک لینا گُوارا نہیں کرتیں۔

یہ بات حضرت سارہ کو ایک ایسی کینہ پرور عورت کے رنگ میں پیش کرتی ہے جو کسی طرح قابلِ یقین نہیں۔ جو کہانی ایسے بے بنیاد واقعات سے عبارت ہو، اُسے ہر گز قابلِ اعتبار نہیں سمجھا جاسکتا۔ ذیل کا اقتباس یہ ظاہر کرتا ہے کہ اِن آیات سے بائبل کے عُلما کیسے کیسے لا یعنی اور ناقابلِ یقین نتائج اخذ کرتے ہیں۔
’دی جیوئش انسا ئیکلو پیڈیا ‘میں وضاحت کی گئی ہے:

Sarah took revenge (Gen. xvi) by preventing her intercourse with Abraham, by whipping her with her slipper, and by exacting humiliating services, such as carrying her bathing-materials to the bath (l.c.); she further caused Hagar by an evil eye to miscarry, and Ishma'el, therefore, was her second child.\" (Jewish Enc., 6:138).

سارہ نے اس [ہاجرہ]کو ابراہیم ؑ کے ساتھ ہم بستری کرنے سے روک کر،اپنے جوتے کے ساتھ اس کی پٹائی کر کے اور اپنے گندے مواد کو غسل خانے میں اٹھوا کر لے جانے جیسی توہین آمیز خدمات لے کر بدلہ لیا (کتابِ پیدایش باب ۱۶)۔ اُس [سارہ] نے ہاجرہ کو بُری نظر لگا کر اُس کا [پہلا] حمل ضائع کرایا۔ اِس طرح [حضرت اسماعیل ؑ ]اُن کے دوسرے بیٹے بنتے ہیں۔

کیسا مکروہ اور گھناؤنا جھوٹ اور افترا ہے یہ! کوئی شیطان ہی اِس پر یقین کر سکتا ہے۔ اِس سے حضرت سارہ کا حضرت ہاجرہ اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیلعلیہ السلام کے متعلق ناقابلِ یقین حد تک بغض ظاہر ہوتا ہے جس کے بارے میں بعض فاضل مسیحی علمانے بھی یہ بات محسوس کی ہے (اِس سلسلے میں اِسی کتاب کا اگلا ذیلی حاشیہ بھی ملاحظہ ہو)۔
۸؂ اس مقام پر یوجین اِیچ مالی (Eugeni H. Maly) جیروم کی تفسیرِ بائبل میں بیان کرتا ہے:

Ancient law ordinarily forbade the expulsion of a slave wife and her child, and no justification for it is indicated here as in 16:4; Abraham accordingly hesitates (v.11).

قدیم قانون عام طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کنیز بیوی [ایسی کنیز جسے بیوی بنا لیا گیا ہو] اور اس کے بیٹے کو گھرسے نکالا جائے۔ اور یہاں ایسی کوئی توجیہ بھی پیش نہیں کی گئی جیسی ۱۶:۴ میں دی گئی ہے، اِسی لیے ابراہیم ؑ ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے ہیں(آیت ۱۱)۔

لیکن بائبل کے مؤلف کو اِس بات میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ اِس بے چاری نام نہاد غلام بیوی اور اُس کے بچے کے معصوم خون میں رنگین کرے، کیونکہ حضرت ابراہیمعلیہ السلام کو جس انداز میں انھیں بے یارو مدد گار اپنے گھر سے نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اُس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ وہ کسی نہ کسی ناگہانی مصیبت کے ہاتھوں لقمۂ اجل بن جائیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ صرف اپنے اِس بے رحمانہ اور غیر اِنسانی طرز عمل کے ذریعے سے اپنی بیوی اور بچّے کے سلسلے میں اپنے فطری اور دینی فرائض پسِ پُشت ڈال رہے ہوں، بلکہ زمانۂ قدیم سے رائج گذشتہ انبیا کے ان فِطری اور انسانی قوانین کو بھی نظر انداز کر رہے ہوں جو بنیادی طور پر درست تھے اور جن کی مکمّل تعمیل ایک انسانی فریضہ تھا۔ کیا روے زمین کا کوئی انسان ایسے غیرانسانی اور ظالمانہ طرزِ عمل کو حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کر سکتا ہے؟
۹؂ ’دی کالج ولا تفسیر بائبل‘ میں بیان کیا گیا ہے:

It is Sarah's jealousy, not Hagar's arrogance, that leads her to demand that Abraham expel the two. She fears that Isaac's future inheritance is threatened by Ishmael's presence in the home. (p.60).

یہ ہاجرہ کا تکبرّ نہیں، بلکہ سارہ کاحسد ہے جو اُس [سارہ] سے یہ مطالبہ کراتا ہے کہ ابراہیم ؑ ان دونوں کو گھر سے نکال دیں۔ اُسے اِس بات کا خوف ہے کہ اسماعیل ؑ کی گھر میں موجودگی سے اسحاق ؑ کی مستقبل کی میراث کو خطرہ ہوگا۔

یہ صریحاً نا انصافی ہے اور معزّز سارہ سے ایسے ظالمانہ رویے کی ہر گز توقع نہیں کی جاسکتی۔ اِس سے یہ قصّہ ایک ناقابلِ یقین جھوٹ کا پلندہ قرار پاتا ہے۔ ذیل میں ’دی ایکسپوزیٹرز بائبل‘ (The Expositor's Bible) سے چند جگر خراش اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے اِس قصّے کی صداقت کے متعلّق نہایت سنجیدہ قسم کے شکوک وسوالات پیدا ہوتے ہیں:

The act of expulsion was itself unaccountably harsh. (...). There may have been some law giving Sarah absolute power over her maid; but if any law gave her power to do what was now done, it was a thoroughly barbarous one, and she was a barbarous woman who used it. It was one of those painful cases in which one poor creature, clothed with a little brief authority, stretches it to the utmost in vindictive maltreatment of another. Sarah happened to be mistress, and, instead of using her position to make those under her happy, she used it for her own convenience, for the gratification of her own spite, and to make those beneath her conscious of her power by their suffering (...). She breathed freely when Hagar and Ishmael were fairly out of sight. A smile of satisfied malice betrayed her bitter spirit. No thought of the sufferings to which she had committed a woman who had served her well for years, who had yielded everything to her will, and who had no other natural protector but her, no glimpses of Abraham's saddened face, visited her with any relentings. It mattered not to her what came of the woman and the boy to whom she really owed a more loving and careful regard than to any except Abraham and Isaac. It is a story often repeated. One who has been a member of the household for many years is at last dismissed at the dictate of some petty pique ['a feeling of annoyance and displeasure, esp. caused by the hurting of one's pride.' (Longman's D. of Eng. Language and Culture, 1992, p. 999] or spite as remorselessly and inhumanly as a piece of old furniture might be parted with. Some thoroughly good servant, who has made sacrifices to forward his employer's interest, is at last, through no offence of his own, found to be in his employer's way, and at once all old services are forgotten, all old ties broken, and the authority of the employer, legal but inhuman, is exercised. It is often those who can least defend themselves who are thus treated; no resistance is possible, and also, alas! the party is too weak to face the wilderness on which she is thrown out, and if any [i.e. any one] cares to follow her history, we may find her at the last gasp under a bush. Still, both for Abraham and for Ishmael it was better this severance should take place. (....). For Ishmael himself, too, wronged as he was in the mode of his expulsion, it was yet far better that he should go. (...). All he required to call out his latent powers was to be thrown thus on his own resources. (...). But the two fugitives are soon reminded that, though expelled from Abraham\'s tents and protection, they are not expelled from his God. Ishmael finds it true that when father and mother forsake him, the Lord takes him up. At the very outset of his desert life he is made conscious that God is still his God, mindful of his wants, responsive to his cry of distress. (...). God still \"heard the voice of the lad, and the angel of God called to Hagar out of heaven." It is this voice of God to Hagar that so speedily, and apparently once for all, lifts her out of despair to cheerful hope. It would appear as if her despair had been needless; at least from the words addressed to her, "What aileth thee, Hagar?" (....). When Ishmael turned his back on the familiar tents, and flung his last gibe at Sarah, he was really setting out to a far richer inheritance, so far as this world goes, than ever fell to Isaac and his sons. [The Expositor's Bible {a commentary in 25 Volumes}, Ed by W. Robertson Nicoll (NY: A. C. Armstrong & Son, 1903), 1:214f, 17-19].

اخراج کا یہ عمل بذاتِ خود ناقابلِ توجیہ حد تک سخت [اور ظالمانہ]تھا۔ (...)۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا قانون پایا جاتا ہوجو حضرت سارہ کو اپنی باندی پر ایسا مطلق اختیار دیتا ہو، لیکن اگر کوئی قانون اُنھیں یہ سب کچھ کرنے کا اختیار دیتا بھی ہو جو یہاں کیا گیا ہے تو یہ صریحاً ایک وحشیانہ قانون تھا اور جس نے اِسے استعمال کیا، وہ ایک عورت نہیں، بلکہ وحشی درندہ تھی۔ یہ اُن درد ناک صورتِ احوال میں سے ایک تھی جس میں ایک حقیر مخلوق، جسے معمولی سے اختیارات کا خلعت نصیب ہو گیا ہو، اِن اختیارات کو اپنے کسی حریف کے ساتھ اپنے جذبۂ اِنتِقام کی تسکین کے لیے انتہائی بد سلوکی کی حد تک پہنچا دے۔ سارہ کو مالکن کی حیثیت حاصل تھی۔ بجاے اِس کے کہ وہ اپنی یہ حیثیت اپنے ماتحتوں کو مسرت اور سہولت مہیا کرنے کے لیے استعمال کرتی، اُس نے اِسے اپنے ذاتی مفاد وآرام کے لیے، اپنے بغض کی تسکین کے لیے اور اپنے زیر دستوں کو اذیتیں پہنچا کر اُنھیں اپنی قوت واقتدار کا احساس دلانے کے لیے استعمال کیا۔ (...)۔ جب ہاجرہ اور اسماعیل ؑ آنکھوں سے قدرے اوجھل ہوئے تو اُس نے سکھ کا سانس لیا۔ اپنے بغض کی تسکین پر اُس کی مسکراہٹ سے اُس کی گھٹیا ذہینت کا پردہ فاش ہوگیا۔ جس عورت نے سالہا سال تک اُس کی اتنی شان دار خدمات سرانجام دی ہوں، جس نے اپنی ہرچیز اُس کی مرضی پر قربان کردی ہو اور جس کا اِس [مالکہ]کے سِوا کوئی فطری محافظ نہ ہو، اس کے مصائب اور اذیت پر اُسے کِسی ہمدردی کا خیال تک نہ آیا۔[اِس الم ناک اور دل خراش صورتِ حال کی وجہ سے حضرت] ابراہیم ؑ کے غم زدہ چہرے کو دیکھ کر بھی اُسے نہ تو کوئی ترس آیا اور نہ کوئی ندامت محسوس ہوئی۔
اُسے اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ اُس عورت اور اُس کے بیٹے کے ساتھ کیا گزری جس کے ساتھ اُسے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو چھوڑ کر باقی سب سے زیادہ محبت اور مُرُوّت کا روّیہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو بار بار رونما ہوتی رہتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو سالہاسال تک ایک گھر میں خاندان کے ایک فرد کی طرح سے رہا ہو، اُسے کسی معمولی سی ناپسندیدگی یا رنجش کی بنا پر ایسی بے رحمی سے غیر انسانی انداز میں بر طرف کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے، جس طرح پرانے فرنیچر کے ایک ناکارہ ٹکڑے کو باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ ایک انتہائی شریف ملازم، جس نے اپنے مالک کے مفادات کی تکمیل کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا ہو، بغیر اُس کے کسی قصور کے آخر کار اُس سے ہر قسم کاتعلق منقطع کر لیا جاتا ہے۔ اُس کی تمام خدمات کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اوراُس کا مالک اپنے اُس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے، جوشاید قانوناً تو درست ہو، لیکن ہو انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی، اُسے اپنے راستے سے ہٹا دیتا ہے۔ اس طرح کا سلوک اکثر اُن لوگوں کے ساتھ کیا جاتاہے جن میں اپنی مدافعت کی قدرت نہ ہو، کوئی دفاع اور مقاومت ممکن نہ ہو اور افسوس اس بات کا بھی ہے کہ یہ محترم خاتون اِتنی کمزور ہے کہ جس صحرا میں اِسے پھینکا گیا ہے ،اُس کی سختیاں جھیلنا اس بے چاری کے بس کی بات نہیں۔ اگر کوئی شخض اس بے چاری کی داستان تلاش کرناچاہے تو شاید ہم اس کے علاوہ کچھ نہ دیکھ سکیں کہ وہ ایک جھاڑی کے نیچے پڑی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے، لیکن ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ دونوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ یہ سختی جھیلیں۔ (...)، اگر چہ جس انداز میں اسے گھرسے نکالا گیا تھا، وہ بہت غلط تھا، لیکن بذات خود اسماعیل ؑ کے لیے بھی یہ بہت بہتر تھا کہ وہ چلاجائے ۔(...)۔ اُسے اپنی مخفی قوتوں کو بیدار کرنے کے لیے جس چیز کی ضرورت تھی، وہ یہی تھی کہ اُسے خود اُس کے اپنے سہارے پر یوں بظاہر بے آسرا باہر پھینک دیاجائے۔ (...)۔
لیکن اِن دونوں نکالے ہوؤں کو جلد ہی یہ بات ذہن نشین کرادی گئی کہ اگر چہ وہ ابراہیم ؑ کے خیموں اور حفاظت سے محروم ہوگئے ہیں، لیکن وہ اُس کے خداوند کی حفاظت سے محروم نہیں ہوئے۔ اسماعیل ؑ اِس بات کو سچ پاتا ہے کہ جب ماں اور باپ اُسے چھوڑ دیتے ہیں تو خداوند اُسے سنبھال لیتا ہے۔ صحرا میں اپنی زندگی کے آغاز ہی میں اُسے اِس بات کا احساس دلا دیا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اُس کے ساتھ ہے، اُس کی ضروریات کے بارے میں اُسے پورا دھیان ہے اور وہ مصیبت کے وقت اُس کی فریاد سُنتا اور اُس کی مراد برلاتا ہے۔ (...)۔ اللہ تعالیٰ نے اِس حال میں بھی ’اُس لڑکے کی آواز سنی اور خداوند کے فرشتے نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا‘۔ خداوند کا ہاجرہ سے یہی ارشاد تھا جس نے اِتنی برق رفتاری سے اور علی الاعلان اُسے ہمیشہ کے لیے مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر پُر مسرت اُمید کی روشنی عطا کی۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ گویا اُس کی مایوسی بے حقیقت تھی۔ کم از کم ان الفاظ کو دیکھتے ہوئے کہ ’ہاجرہ‘ تو پریشان کیوں ہوتی ہے؟‘ تو واقعی اُس کی یہ مایوسی بالکل غیرضروری نظر آتی ہے۔ (...)۔ جب اسماعیل ؑ نے اپنے پیارے اور بچپن سے شناسا خیموں سے منہ موڑا اور سارہ پر آخر ی نظر ڈالی تو وہ، جہاں تک اِس دنیا کا تعلق ہے، حقیقت میں ایک ایسی عظیم الشان میراث کی طرف روانہ ہو رہاتھا جو اسحاق ؑ اور اُس کی نسل کو دیکھنا بھی نصیب نہ ہوئی۔

ایک خاتون کے ظلم اور بد سلوکی اور دوسری خاتون کی اُس کے ہاتھوں محرومی اور بدنصیبی کا نہایت خوبصورت الفاظ میں ترتیب دیا ہُوا یہ مؤثر اور دل گداز بیان ادبی تاریخ کا ایک عظیم شہ پارہ ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ بالکل ناقابلِ یقین ہے۔ یہ حضرت سارہ کو ایسی ظالم، حاسد، چڑچڑی، بدمزاج اور گھٹیا ذہنیت کی عورت کے طور پر پیش کرتا ہے، جوایک ایسی عورت کے کسی طرح بھی شایانِ شان نہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مِصر میں ایسے عظیم الشان معجزات برپا کیے ہوں اور جواپنے خاوند کے تکلیف دِہ سفرِ ہجرت کی ساری مدّت کے دوران میں اس کی انتہائی وفا دار رہی ہو، بلکہ یہ کہانی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ایسے بے انصاف، نا فرض شناس اور غیر ذمہ دار شخص کے رنگ میں پیش کرتی ہے جوحضرت اسماعیل علیہ السلام کی سوتیلی ماں کے ہاتھ میں کھلونا بن کر اپنے پہلونٹے بیٹے اور اِس کی ماں کے بارے میں اپنی ذمّہ داریوں سے مجرمانہ چشم پوشی برتتا ہے۔ اِس طرح اِ س بات میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ کہانی کا یہ حصہ سراسر غلط ہے اور بائبل کے کسی تنگ دل اور متعصّب مؤلف کی اِفترا پردازی کا نتیجہ ہے۔ بزرگ نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریکِ حیات ہونے کی حیثیت سے حضرت سارہ یقیناً ایک فیاض اور رحم دل خاتون ہوں گی۔ یہ ثابت ہوجانے کے بعد کہ یہ کہانی سراسر ناقابلِ اعتبار ہے، بآسانی یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ حضرت اسماعیلعلیہ السلام اپنی سوتیلی ماں کے حسد کا شکار ہو کر گھر سے نکالے ہوئے نہ تھے، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی کا منصوبہ تھا کہ سر زمینِ عرب کے قلب میں توحید کا ایک مرکز قائم کیا جائے۔ دوسری طرف یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفا کا امتحان بھی تھا اور حضرت ہاجرہ و اسماعیل علیہ السلام کی آزمایش اور تربیت کا ذریعہ بھی تھا تاکہ اُن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان او ر اعتماد مضبوطی سے راسخ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تسلّی دی کہ وہ اِس بچیّ اور اِس کی ماں کونہ توبے سہارا چھوڑے گا اور نہ انھیں بیابان میں ہلاک ہونے دے گا، بلکہ ’دی بائبل نالج کومنٹری‘ صفحہ ۶۳ کے مطابق :

God assured Abraham that Ishmael would have a future because he too was Abraham's offspring (vv. 11-13) ['The Bible Knowledge Com.', (Illinois: Victor Books, 1985), p. 63]

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو یقین دلایا کہ اسماعیل ؑ کا مستقبل بہت تاب ناک ہے، کیونکہ وہ بھی ابراہیم ؑ کی نسل سے ہے۔

فیلو نے حضرت سارہ کی زبانی حضرت ہاجرہ کے اوصافِ حمیدہ بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتا ہے:

(....); whose good qualities I have for a long time proved and experienced from the day when she was first introduce into my house, being an Egyptian by blood, and a Hebrew by deliberate choice. (The Works of Philo, tr. C.D. Yonge [Hendrickson, Publishers, Inc. AGES Software Albany, OR USA, 1999], P.984, Para No. 251).

(....)جس (ہاجرہ) کے اوصافِ حمیدہ ایک طویل عرصے سے مجھ پرواضح ہو چکے اور میرے مشاہدے میں آئے ہیں جس دن سے وہ پہلی دفعہ میرے گھر میں آئی تھی۔ وہ اگرچہ نسلی اعتبار سے ایک مصری ہے، لیکن اپنے آزادانہ انتخاب و اختیار کے لحاظ سے ایک عبرانی ہے۔

۱۰؂ ’ دی نیو جیروم تفسیر بائبل‘ (صفحہ ۲۴) میں وضاحت کی گئی ہے:

The peaceful playing of the two boys stirs in Sarah deep feelings of anxiety about her own son\'s inheritance, since both boys are sons of Abraham. (...), she wants Isaac alone to be the heir of the grand promises.

دو لڑکوں کو پُر امن طور پر آپس میں کھیلتے دیکھ کر سارہ کے دل میں اپنے بیٹے کی میراث کے بارے میں تشویش کے گہرے احساسات پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں ہی ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے۔ (...)۔ وہ چاہتی ہے کہ وارث بننے کے سلسلے میں تمام عظیم وعدے صرف اسحاق ؑ کی ذات ہی میں پورے ہوں۔

یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ حضرت سارہ ایسی بد نیّت، حاسد، بے انصاف اور خود غرض ہو سکتی ہیں۔

۱۱؂ ’دی نیلسن اسٹڈی بائبل‘ (صفحہ ۴۳) میں بیان ہے:

But even in that culture it was reprehensible to send Ishmael away. When a surrogate wife had borne a son to one's husband, that mother and child could not be dismissed even if the first wife subsequently gave birth to a son. This partly explains Abraham\'s reluctance to do what Sarah demanded.

لیکن اُس کلچر میں بھی یہ بات بُری اور ناقابلِ قبول تھی کہ اسماعیل ؑ کو اِس طرح دُور بھجوا دیا جاتا۔ جب ایک متبادل بیوی کے ہاں کسی عورت کے خاوند کے لیے بیٹا پیدا ہو جاتا تو اِس ماں اور بچّے کو اِس کے باوجود بھی بر طرف نہیں کیا جا سکتا تھا کہ پہلی بیوی کے ہاں بھی بعد میں ایک بیٹا پیدا ہو جائے۔ اِس سے ابراہیم ؑ کی اس جھجک کی وضاحت ہوجاتی ہے جو انھوں نے سارہ کے مطالبے پر عمل کرنے میں ظاہر کی تھی۔

بی ووٹر (B.Vowter) نے بھی ’اے نیو کیتھولک کمنٹری‘ میں (صفحہ ۱۹۳ پر ) ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے:

Sarai did not have the right to send Hagar away, since Ishmael was Abraham\'s heir.

سارائی کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ ہاجرہ کو نکال باہر کرتیں ،کیونکہ اسماعیل ؑ ابراہیم ؑ کے وارث تھے۔

اِسی تفسیر میں صفحہ ۱۹۵ پر وضاحت کی گئی ہے:

However, for a jealous mother, it sufficed to see her son together with the slave-girl\'s on a position of equality for her to demand the expulsion of Hagar and her child. If the situation presupposed is that which seems to underlie ch 16, then Sarah did not have the right to drive Hagar away; see on 16:1-6. As contrary to established social custom.

تاہم ایک حاسد ماں کے لیے اپنے بیٹے کو باندی کے بیٹے کے ساتھ برابری کی حیثیت میں دیکھنا ہی اِ س بات کے لیے کافی تھا کہ وہ ہاجرہ اور اُس کے بچّے کو گھر سے نکالنے کا مطالبہ کر دیتی۔ اگر پہلے سے فرض کی ہوئی صورتِ حال یہی ہے جو باب ۱۶ کی تائید کرتی ہے تو سارہ کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ مسلّمہ معاشرتی رواج کے خلاف ہاجرہ کو نکال باہر کرتی۔(ملاحظہ کیجیے۱۶: ۱۔۶)

ایک شخص یہ کیسے یقین کر سکتا ہے کہ حضرت سارہ کے مرتبہ و مقام کی نیک اور شریف خاتون سے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم الشان پیغمبر کی رفیقِ حیات بھی ہو، ایسا گھناؤنا جُرم سر زد ہو سکتا ہے۔ اِس کے بعد بھی کوئی شخص اس من گھڑت افسانے کو حقیقت قرار دے سکتا ہے؟
۱۲؂ ’ دی نیو جیروم تفسیرِ بائبل‘ نے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ:

To Abraham, the natural father of Ishma'el, Sarah\'s ultimatum causes great pain (24).

اسماعیل ؑ کے فِطری والد ابراہیم ؑ کے لیے سارہ کا الٹی میٹم شدید اذیت کا باعث بنا۔

ایک نیک اور خدا ترس خاتون اپنے خاوند کے احساسات کو اس طرح مجروح نہیں کر سکتی۔ یہ بھی اِس واقعہ کے قابلِ اعتبار ہونے کی حیثیت کو مجروح کر دیتا ہے۔
۱۳؂ اِس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق فطری محبت آمیز رنج والم کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اُن کو تسلّی دیتا ہے کہ اُن کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ جب تم یہ کام میرے حکم کے تحت سرانجام دے رہے ہو تو تمھیں یقین رکھنا چاہیے کہ میں اسے ہلاک ہونے کے لیے نہیں چھوڑوں گا۔ اِس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمعلیہ السلام اپنے پہلونٹے اور اکلوتے بیٹے سے بہت محبت کرتے تھے۔
۱۴؂ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمعلیہ السلام حضرت ہاجرہ کے لیے مکمل فطری اُنس اور لگاؤ رکھتے تھے۔ پھر وہ اِنھیں ان کی بے رحم اور حریف سوتن کے رحم وکرم پر کیسے چھوڑ سکتے تھے۔

____________