پچھلے مضمون میں ہم نے چند معروف تفاسیر کا تعارف اجمالاً بیان کر دیا ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ تعارف اور تفسیر کی خصوصیات خود مفسر ہی کے الفاظ میں نقل کر دیے جائیں۔ اس اجمال کو ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں جس سے اس تفسیری کام کی علمی حیثیت کے تعین میں مدد ملے گی اور اس کے ساتھ وہ فرق بھی نمایاں ہو جائے گا جو تفسیری اصولوں کے اختلاف سے تفسیر قرآن میں واقع ہوتا ہے۔

سورۂ انفال(۸) کی آیات ۶۷۔ ۶۹ میں اللہ تعالیٰ نے ایک جنگ کے موقع پر بعض لوگوں کے رویے پر تبصرہ کیا ہے۔ اب یہ لوگ کون ہیں اور ان آیات سے اللہ تعالیٰ کا منشا کیا ہے، مفسرین نے اس کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب سے پہلے ہم مولانا ابوالکلام آزاد کی راے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان آیات کا ترجمہ یہ ہے:

’’نبی کے لیے سزاوار نہیں کہ اس کے قبضہ میں قیدی ہوں جب تک کہ ملک میں غلبہ حاصل نہ کر لے۔(مسلمانو!) تم دنیا کی متاع چاہتے ہو اور اللہ چاہتا ہے (تمھیں) آخرت(کا اجر دے) اور اللہ غالب ہے حکمت والا! اگر (اس بارے میں) پہلے سے اللہ کا حکم نہ ہو گیا ہوتا، تو جو کچھ تم نے (جنگ بدر میں مال غنیمت لوٹا) اس کے لیے ضرور تمھیں بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ بہرحال جو کچھ تمھیں غنیمت میں ہاتھ لگا ہے، اسے حلال و پاکیزہ سمجھ کر اپنے کام میں لاؤ ،اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ بخشنے والا رحمت والا ہے۔‘‘(ترجمان القرآن۲ /۶۹۔۷۰)

ان آیات کی وضاحت میں مولانا آزاد لکھتے ہیں:

’’جنگ بدر میں جب دشمن قید ہوئے تو سوال پیدا ہوا، اس بارے میں کیا کرنا چاہیے؟ چونکہ اس وقت مسلمان بڑی ہی تنگی و افلاس کی حالت میں تھے، اس لیے عام راے یہی تھی کہ قیدیوں کے لیے فدیہ مانگا جائے، اور جب تک فدیہ وصول نہ ہو، قیدی رہا نہ کیے جائیں۔ بعض صحابہ کی راے ہوئی کہ انھیں قتل کر دینا چاہیے۔ حضرت عمر بھی انھیں میں تھے۔ لیکن آنحضرت نے عام راے کے مطابق فیصلہ فرمایا، اور قیدیوں کے لیے فدیہ طلب کیا گیا اور جن قیدیوں کے لیے فدیہ نہیں ملا، وہ روک لیے گئے۔

اس پر آیت ۶۷ نازل ہوئی۔ فرمایا:دنیا میں نبی اس لیے نہیں آتے کہ ان کے پیرو دشمنوں کو قید رکھ کر فدیے کا روپیہ لیں، بلکہ مقصود اصلی دعوت حق کا اعلان ہوتا ہے۔ بس نبی کو سزاوار نہیں کہ جب تک اس کی دعوت ملک میں ظاہر و غالب نہ ہو جائے، اسیران جنگ کو فدیے کے لیے روکے رکھے۔ تمھاری نظر متاع دنیا پر ہے، اور خدا نے تمھارے لیے آخرت کا انعام پسند کیا ہے۔

چنانچہ اس کے بعد آیت ۷۰ میں معاملہ بالکل صاف کر دیا، فرمایا: جو قیدی فدیے کے لیے روک لیے گئے ہیں، ان سے کہہ دو اگر تمھاری نیتیں صاف ہیں تو تمھارے لیے کوئی کھٹکا نہیں۔

جہاں تک اسیران جنگ کا تعلق ہے، سورۂ محمد کی آیت( ۴) نے آخری حکم دے دیا ہے ’فاما منًا بعد واما فداء‘، یعنی آیندہ یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دیا کرو یا فدیہ لے کر، جیسی مصلحت وقت ہو۔‘‘ (ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن۲/ ۲۱۵۔۲۱۶)

 

مفتی محمد شفیع کے نزدیک ان آیات کا ترجمہ یوں ہے:

’’نبی کو نہیں چاہیے کہ اپنے ہاں رکھے قیدیوں کو جب تک خوب خون ریزی نہ کرلے ملک میں، تم چاہتے ہو اسباب دنیا کا، اور اللہ کے ہاں چاہیے آخرت، اور اللہ زور آور ہے حکمت والا۔ اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب۔ سو کھاؤ جو تم کو غنیمت میں ملا حلال ستھرا ،اور ڈرتے رہو اللہ سے، بے شک اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔‘‘(معارف القرآن۴ /۲۸۱(

مال غنیمت کے متعلق پچھلے تمام انبیا کی شریعتوں میں قانون یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس سے نفع اٹھانا اور استعمال کرنا حلال نہیں تھا، بلکہ حکم یہ تھا کہ پورا مال غنیمت جمع کرکے کسی میدان میں رکھ دیا جائے اور دستور الٰہی یہ تھا کہ آسمان سے ایک آگ آتی اور اس سارے مال کو جلا کر خاک کر دیتی۔ یہ اس جہاد کے مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔اگر مال غنیمت کو جلانے کے لیے آسمانی آگ نہ آئے تو یہ اس کی علامت ہوتی ہے کہ جہاد میں کوئی کوتاہی رہی ہے جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں۔

صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کفار سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کا اس امت کے لیے خصوصی طور پر حلال ہونا اللہ تعالیٰ کے تو علم میں تھا، مگر غزوۂ بدر کے واقعہ تک اس کے متعلق کوئی وحی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کے حلال ہونے کے متعلق نازل نہیں ہوئی تھی۔اور غزوۂ بدر میں صورت حال یہ پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بالکل خلاف قیاس غیر معمولی فتح عطا فرمائی۔ دشمن نے مال بھی چھوڑا جو بطور غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور ان کے بڑے بڑے ستر(۷۰) سردار مسلمانوں نے گرفتار کر لیے، مگر ان دونوں چیزوں کے جائز ہونے کی صراحت کسی وحی الٰہی کے ذریعے سے ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔

اس لیے صحابۂ کرام کے اس عاجلانہ اقدام پر عتاب نازل ہوا۔ اسی عتاب و ناراضی کا اظہار ایک وحی کے ذریعے سے کیا گیا جس میں جنگی قیدیوں کے متعلق بظاہر تو مسلمانوں کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تھا، مگر اسی اختیار دینے میں ایک اشارہ اس کی طرف بھی کر دیا گیا تھا کہ مسئلہ کے دونوں پہلووں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک پسندیدہ اور دوسرا نا پسندیدہ ہے۔ جامع ترمذی، سنن نسائی اور صحیح ابن حبان میں بروایت علی المرتضیٰ منقول ہے کہ اس موقع پر حضرت جبریل امین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اور یہ حکم سنایا کہ آپ صحابۂ کرام کو دو چیزوں میں اختیار دے دیجیے: ایک یہ کہ ان قیدیوں کو قتل کرکے دشمن کی شوکت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔ دوسرے یہ کہ ان کو فدیہ، یعنی کچھ مال لے کر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اس دوسری صورت میں بامرالٰہی یہ طے شدہ ہے کہ اس کے بدلے آیندہ سال مسلمانوں کے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے جتنے قیدی آج مال لے کر چھوڑ دیے جائیں گے۔ یہ صورت اگرچہ تخییر کی تھی اور صحابۂ کرام کو دونوں چیزوں کا اختیار دے دیاگیا تھا، مگر دوسری صورت میں ستر (۷۰) مسلمانوں کی شہادت کا فیصلہ ذکر کرنے میں اس طرف ایک خفیف اشارہ ضرور موجود تھا کہ یہ صورت اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند نہیں، کیونکہ اگر یہ پسند ہوتی تو ستر (۷۰) مسلمانوں کا خون اس کے نتیجہ میں لازم نہ ہوتا۔

صحابۂ کرام کے سامنے جب یہ دونوں صورتیں بطور اختیار کے پیش ہوئیں تو بعض صحابۂ کرام کا خیال یہ ہوا کہ اگر ان لوگوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ یہ سب یا بعض کسی وقت مسلمان ہو جائیں جو اصلی فائدہ اور مقصد جہاد ہے۔ دوسرا یہ بھی خیال تھا کہ مسلمان اس وقت افلاس کی حالت میں ہیں۔ اگر ستر آدمیوں کا مالی فدیہ ان کو مل گیا تو ان کی تکلیف بھی دور ہو گی اور آیندہ کے لیے جہاد کی تیاری میں بھی مدد مل جائے گی۔ رہا ستر (۷۰) مسلمانوں کا شہید ہونا سو وہ مسلمانوں کے لیے خود ایک نعمت و سعادت ہے، اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ان خیالات کے پیش نظر صدیق اکبر اور اکثر صحابۂ کرام نے یہی راے دی کہ ان قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کر دیا جائے۔ صرف حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ وغیرہ چند حضرات نے اس راے سے اختلاف کرکے ان سب کو قتل کر دینے کی راے اس بنیاد پر دی کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں قوت و طاقت فراہم کرنے والے سارے قریشی سردار اس وقت قابو میں آگئے ہیں۔ ان کا قبول اسلام تو موہوم خیال ہے، مگر یہ گمان غالب ہے کہ یہ لوگ واپس ہو کر پہلے سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف سرگرمی کا سبب بنیں گے۔ رسول جو رحمۃ للعالمین ہو کر تشریف لائے تھے اور رحمت مجسم تھے، صحابۂ کرام کی دو رائیں دیکھ کر آپ نے اس راے کو قبول کر لیا جس میں قیدیوں کے معاملہ میں رحمت اور سہولت تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے صدیق اکبر اور فاروق اعظم کو خطاب کرکے فرمایا: ’ لو اتفقتما ما خالفتکما‘ ،یعنی اگر تم دونوں کسی ایک راے پر متفق ہو جاتے تو میں تمھاری راے کے خلاف نہ کرتا(مظہری)۔ اختلاف راے کے وقت آپ کی رحمت و شفقت علی الخلق کا تقاضا یہی ہوا کہ ان کے معاملے میں آسانی اختیار کی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور اس کے نتیجہ میں آیندہ سال غزوۂ احد کے موقع پر اشارات ربانی کے مطابق ستر (۷۰) مسلمانوں کے شہید ہونے کا واقعہ پیش آیا۔

’تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا‘ میں ان صحابۂ کرام کو خطاب ہے جنھوں نے فدیہ لے کر چھوڑنے کی راے دی تھی۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ آپ حضرات نے ہمارے رسول کو نا مناسب مشورہ دیا، کیونکہ کسی نبی کے لیے یہ شایان شان نہیں ہے کہ اس کو دشمنوں پر قابو مل جائے تو ان کی قوت و شوکت کو نہ توڑے اور مفسد قسم کے دشمن کو باقی رکھ کر مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کی مصیبت قائم کر دے۔

اس آیت میں ’حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ لفظ ’اثخان‘ کے معنی لغت میں کسی کی قوت و شوکت کو توڑنے میں مبالغہ سے کام لینے کے ہیں۔ اس معنی کی تاکید کے لیے جملہ’فِی الْاَرْضِ‘ لایا گیا جس کا حاصل یہ ہے کہ دشمن کی شوکت کو خاک میں ملا دے۔

جن صحابۂ کرام نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی راے دی تھی اگرچہ ان کی راے میں ایک جز خالص دینی تھا، یعنی آزادی کے بعد ان لوگوں کے مسلمان ہو جانے کی امید، مگر ساتھ ہی دوسرا جز اپنی ذاتی منفعت کا بھی تھا کہ ان کو مال ہاتھ آجائے گا۔ اور ابھی تک کسی نص صریح سے اس مال کا جائز ہونا بھی ثابت نہ تھا، اس لیے انسانوں کا وہ معاشرہ جو رسول کے زیرتربیت اس پیمانہ پر بنایا جا رہا تھا کہ ان کا مرتبہ فرشتوں سے بھی آگے ہو، ان کے لیے یہ مال کی طرف دھیان بھی ایک قسم کی معصیت سمجھی گئی۔ اور جو کام جائز و ناجائز کاموں سے مرکب ہو، اس کا مجموعہ ناجائز ہی کہلاتا ہے، اس لیے صحابۂ کرام کا یہ عمل قابل عتاب قرار دے کر یہ ارشاد نازل ہوا۔

’تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ‘ ،یعنی تم لوگ دنیا کو چاہتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم آخرت کے طالب بنو۔ یہاں بطور عتاب ان کے صرف اس فعل کا ذکر کیا گیا جو وجہ ناراضی تھا دوسرا سبب، یعنی قیدیوں کے مسلمان ہو جانے کی امید، اس کا یہاں ذکر نہیں فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ صحابۂ کرام جیسی پاک باز مخلص جماعت کے لیے ایسی مشترک نیت جس میں کچھ دین کا جز ہو کچھ اپنے دنیوی نفع کا، یہ بھی قابل قبول نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اس آیت میں عتاب و تنبیہ کا خطاب صحابۂ کرام کی طرف ہے۔ اگرچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی راے کو قبول فرما کر ایک گونہ شرکت ان کے ساتھ کر لی تھی، مگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل خالص آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا مظہر تھا کہ صحابہ میں اختلاف راے ہونے کی صورت میں اس صورت کو اختیار فرما لیا جو قیدیوں کے حق میں سہولت و شفقت تھی۔

آخر آیت میں’وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ‘ فرما کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ اللہ تعالیٰ زبردست، حکمت والے ہیں اگر آپ لو گ جلد بازی نہ کرتے تو وہ اپنے فضل سے آیندہ فتوحات میں تمھارے لیے مال و دولت کا بھی سامان کر دیتے۔

دوسری آیت میں اسی عتاب کا تتمہ ہے جس میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہو چکا ہوتا تو جو کام تم نے اختیار کیا کہ مال لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا، اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہو جاتی۔

اس نوشتۂ تقدیر سے کیا مراد ہے، اس کے متعلق ترمذی میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول نے فرمایا کہ مال غنیمت تم سے پہلے کسی قوم، کسی امت کے لیے حلال نہیں تھا۔ بدر کے موقع پر جب مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے، حالانکہ ابھی تک ان کے لیے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کے حلال ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کا یہ اقدام ایسا گناہ تھا کہ اس پر عذاب آجانا چاہیے تھا، لیکن چونکہ اللہ کا یہ حکم لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا کہ اس امت کے لیے مال غنیمت حلال کیا جائے گا، اس لیے مسلمانوں کو اس خطا پر عذاب نازل نہیں کیا تھا۔(مظہری(

بعض روایات حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عذاب الٰہی بالکل سامنے آ چکا تھا۔ اللہ نے اپنے فضل سے روک دیا اور اگر عذاب آجاتا تو بجز حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ کے کوئی اس سے نہ بچتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سبب عتاب قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینا تھا اور ترمذی کی روایت سابقہ سے اس کا سبب مال غنیمت جمع کرنا معلوم ہوتا ہے، مگر دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ قیدیوں سے فدیہ لینا بھی مال غنیمت ہی کا جز ہے۔۱۱؂

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے ان آیات کا درج ذیل ترجمہ کیا ہے:

’’کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے، اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے، اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناًاللہ درگذر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘(تفہیم القرآن۲ /۱۵۸۔۱۵۹(

مولانا کے نزدیک ان آیات کی تفسیر یہ ہے:

’’اس آیت کی تفسیر میں اہل تاویل نے جو روایات بیان کی ہیں، وہ یہ ہیں کہ جنگ بدر میں لشکر قریش کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان کے متعلق بعد میں مشورہ ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے اور حضرت ابوبکر نے راے دی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور حضرت عمر نے کہا کہ قتل کر دیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کی راے قبول کی اور فدیہ کا معاملہ طے کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بطور عتاب نازل فرمائیں۔ مگر مفسرین آیت کے اس فقرے کی کوئی معقول تاویل نہیں کر سکے ہیں کہ ’’اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد تقدیر الٰہی ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ ارادہ فرما چکا تھا کہ مسلمانوں کے لیے غنائم کو حلال کر دے گا، لیکن یہ ظاہر ہے کہ جب تک وحی تشریعی کے ذریعہ سے کسی چیز کی اجازت نہ دی گئی ہو، اس کا لینا جائز نہیں ہو سکتا۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پوری اسلامی جماعت اس تاویل کی رو سے گناہ گار قرار پاتی ہے اور ایسی تاویل کو اخبار آحاد کے اعتماد پر قبول کر لینا ایک بڑی ہی سخت بات ہے۔

میرے نزدیک اس مقام کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے سورۂ محمد میں جنگ سے متعلق جوابتدائی ہدایات دی گئی تھیں، ان میں یہ ارشاد ہوا تھا کہ ’فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتّآی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا‘(آیت ۴)۔اس ارشاد میں جنگی قیدیوں سے فدیہ وصول کرنے کی اجازت تو دے دی گئی تھی، لیکن اس کے ساتھ شرط یہ لگائی گئی تھی کہ پہلے دشمن کی طاقت کو اچھی طرح کچل دیا جائے پھر قیدی پکڑنے کی فکر کی جائے۔ اس فرمان کی رو سے مسلمانوں نے بدر میں جو قیدی گرفتار کیے اور اس کے بعد ان سے جو فدیہ وصول کیا وہ تھا تو اجازت کے مطابق، مگر غلطی یہ ہوئی کہ ’’دشمن کی طاقت کو کچل دینے‘‘ کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے میں کوتاہی کی گئی۔ جنگ میں جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اورکفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھنے میں لگ گیا اور بہت کم آدمیوں نے دشمنوں کا کچھ دور تک تعاقب کیا۔ حالانکہ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے تو قریش کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہو گیا ہوتا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ عتاب فرمارہا ہے اور یہ عتاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں پر ہے۔ فرمان مبارک کا منشا یہ ہے کہ ’’تم لوگ ابھی نبی کے مشن کو اچھی طرح نہیں سمجھے ہو۔ نبی کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ فدیے اور غنائم وصول کرکے خزانے بھرے، بلکہ اس کے نصب العین سے جو چیز براہ راست تعلق رکھتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ کفر کی طاقت ٹوٹ جائے، مگر تم لوگوں پر بار بار دنیا کا لالچ غالب ہو جاتا ہے۔ پہلے دشمن کی اصل طاقت کے بجاے قافلے پر حملہ کرنا چاہا، پھر دشمن کا سر کچلنے کے بجاے غنیمت لوٹنے اور قیدی پکڑنے میں لگ گئے، پھر غنیمت پر جھگڑنے لگے۔ اگر ہم پہلے فدیہ وصول کرنے کی اجازت نہ دے چکے ہوتے تو اس پر تمھیں سخت سزا دیتے۔ خیر اب جو کچھ تم نے لیا ہے وہ کھا لو، مگر آیندہ ایسی روش سے بچتے رہو جو خدا کے نزدیک نا پسندیدہ ہے۔ میں اس راے پر پہنچ چکا تھا کہ امام جصاص کی کتاب ’’احکام القرآن‘‘ میں یہ دیکھ کر مجھے مزید اطمینان حاصل ہوا کہ امام موصوف بھی اس تاویل کو کم از کم قابل لحاظ ضرور قرار دیتے ہیں۔ پھر ’’سیرت ابن ہشام‘‘ میں یہ روایت نظر سے گزری کہ جس وقت مجاہدین اسلام مال غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھنے میں لگے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت سعد بن معاذ کے چہرے پر کچھ کراہت کے آثار ہیں۔ حضور نے ان سے دریافت فرمایا کہ ’’اے سعد، معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی یہ کارروائی تمھیں پسند نہیں آ رہی ہے۔‘‘ انھوں نے عرض کیا ’’جی ہاں یا رسول اللہ ، یہ پہلا معرکہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کو شکست دلوائی ہے، اس موقع پر انھیں قیدی بنا کر ان کی جانیں بچا لینے سے زیادہ بہتر یہ تھا کہ ان کو خوب کچل ڈالا جاتا۔‘‘ (۲ / ۲۸۰۔۲۸۱ ‘‘ (

)تفہیم القرآن۲/۱۵۹۔۱۶۱(

 

پیر محمد کرم شاہ کے نزدیک ان آیات کا درست ترجمہ یہ ہے:

’’نہیں مناسب نبی کے لیے کہ ہوں اس کے پاس جنگی قیدی یہاں تک کہ غلبہ حاصل کرے زمین میں۔ تم چاہتے ہو دنیا کا سامان اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے (تمھارے لیے) آخرت اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب (اور) دانا ہے۔ اگر نہ ہوتا حکم الٰہی پہلے سے (کہ خطا اجتہادی معاف ہے) تو ضرور پہنچتی تمھیں بوجہ اس کے جو تم نے لیا ہے بڑی سزا ۔سو کھاؤ جو تم نے غنیمت حاصل کی ہے حلال (اور) پاکیزہ۔ اور ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے۔ یقیناًاللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔‘‘(ضیاء القرآن۲ /۱۶۵۔۱۶۷(

تفسیر میں وہ لکھتے ہیں:

’’علامہ قرطبی اس آیت کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ آیت بدر کے روز نازل ہوئی۔ اس میں صحابۂ کرام پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میدان بدر میں کفار کے قدم اکھڑے اور وہ وہاں سے بھاگ نکلے تو بجاے اس کے کہ مسلمان اسی جوش و خروش سے ان کا تعاقب کرتے اور کفر و شرک کے ان سرغنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے تاکہ کفر کی کمر ٹوٹ جاتی اور اس کے پرستاروں کی قوت و نخوت بالکل دم توڑ دیتی۔ وہ مال غنیمت اکٹھا کرنے اور قیدیوں کو جکڑ بند کرنے میں مشغول ہو گئے اور مسلمانوں کے اس طرزعمل سے بڑے بڑے کافر جان بچا کر نکل جانے میں کامیاب ہو گئے۔ اور سالہا سال تک مسلمانوں کے لیے تکلیف کا باعث بنے رہے۔ اگر اس روز مال غنیمت جمع کرنے کے بجاے ان کفار کا قلع قمع کر دیا جاتا تو کفر کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہو جاتا۔ جب حضرات سعد بن معاذ، عمر بن خطاب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم نے مسلمانوں کو غنیمت سمیٹتے ہوئے دیکھا تو ان بزرگواروں کو سخت ناگوار گزرا۔‘‘(ضیاء القرآن ۲ /۱۶۵(

توضیح مرام کے لیے مولانا مودودی کی یہ عبارت بہت مفید ہے۔ اسی آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں:

’’ میرے نزدیک اس مقام کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے سورۂ محمد میں جنگ کے متعلق جو ابتدائی ہدایات دی گئی تھیں، ان میں یہ اشارہ ہوا تھا کہ ’فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتّآی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا‘۔اس ارشاد میں جنگی قیدیوں سے فدیہ وصول کرنے کی اجازت تو دے دی گئی تھی، لیکن اس کے ساتھ شرط یہ لگائی گئی تھی کہ پہلے دشمن کی طاقت کو اچھی طرح کچل دیا جائے، پھر قیدی پکڑنے کی فکر کی جائے۔ اس فرمان کی رو سے مسلمانوں نے بدر میں جو قیدی گرفتار کیے اور اس کے بعد ان سے جو فدیہ وصول کیا وہ تھا تو اجازت کے مطابق، مگر غلطی یہ ہوئی کہ ’’دشمن کی طاقت کو کچل دینے‘‘ کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے میں کوتاہی کی گئی۔ جنگ میں جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کر باندھنے میں لگ گیا اور بہت کم آدمیوں نے دشمنوں کا کچھ دور تک تعاقب کیا حالانکہ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے تو قریش کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہو گیا ہوتا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ عتاب فرما رہا ہے اور یہ عتاب نبی پر نہیں، بلکہ مسلمانوں پر ہے۔‘‘(تفہیم القرآن۲/۱۵۹۔۱۶۰(

مولانا امین احسن اصلاحی ان آیات کو ایک بالکل دوسرے سیاق و سباق میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ان آیات کا ترجمہ یہ ہے:

’’کوئی نبی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ اس کو قیدی ہاتھ آئیں یہاں تک کہ وہ اس کے لیے ملک میں خونریزی برپا کر دے۔ یہ تم ہو جو دنیا کے سروسامان کے طالب ہو، اللہ تو آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو روش تم نے اختیار کی اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آ دھمکتا۔  پس جو مال غنیمت تم نے حاصل کیا اس کو حلال و طیب سمجھ کر کھاؤ برتو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔‘‘(تدبر قرآن۳/۵۱۰(

مولانا کے نزدیک ان آیات کی صحیح تاویل یہ ہے :

’’’مَاکَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ‘ ’ماکان‘ کا اسلوب بیان الزام اور رفع الزام ،دونوں کے لیے آ سکتا ہے اور قرآن میں دونوں ہی قسم کے مواقع میں یہ اسلوب استعمال ہو ا ہے۔اس امر کا تعین کہ یہ الزام کے لیے ہے یا رفع الزام کے لیے موقع و محل، سیاق و سباق، قرینے اور مخاطب کو پیش نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ بعینہٖ یہی اسلوب بیان آل عمران ۱۶۱ میں ہے۔ ’وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ‘(اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے اور جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کے ساتھ حاضر ہو گا) ظاہر ہے کہ یہ آیت الزام کے لیے نہیں بلکہ رفع الزام اور نبی کی تنزیہ شان کے لیے ہے۔ اس آیت کے بارے میں تمام اہل تاویل کا اتفاق ہے کہ منافقین کو مخاطب کرکے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ تم نبی پر خیانت کی جو تہمت دھرتے ہو، یہ سورج پر تھوکنے کی کوشش کے مترادف ہے، کوئی نبی بھی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ وہ خیانت اور بے وفائی کا مرتکب ہو۔ ٹھیک اسی اسلوب پر آیت زیر بحث میں قریش کی تردید کی گئی ہے کہ تم نبی پر یہ الزام جو لگاتے ہو کہ یہ ہوس اقتدار میں مبتلا ہیں، اپنی قوم میں انھوں نے خونریزی کرائی، اپنے بھائیوں کو قید کیا، ان کا مال لوٹا، ان سے فدیہ وصول کیا، یہ ساری باتیں تمھاری اپنی کھسیاہٹ مٹانے کے لیے ہیں۔ کوئی نبی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ وہ قیدی پکڑنے، فدیہ وصول کرنے اور مال غنیمت لوٹنے کے شوق میں ملک میں خونریزی برپا کر دے۔ یہ باتیں تم اس لیے کہتے ہو کہ تم نبی کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہو۔ تمھاری چاہتیں چونکہ یہی کچھ ہیں، تم سمجھتے ہو کہ نبی بھی یہی کچھ چاہتا ہے۔

’تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃِ ‘یہ خطاب قریش سے ہے۔ قرآن میں خطاب کا انداز جیسا کہ ہم بار بار واضح بھی کر چکے ہیں، بالکل اسی طرح کا ہوتا ہے جو ایک اعلیٰ خطیب تقریر میں اختیار کرتا ہے۔جتنی پارٹیاں سامنے ہوتی ہیں، بہ یک وقت، سب کی طرف رخ بدل بدل کر ان کے ذہن کے لحاظ سے بات کہتا چلا جاتا ہے۔ خود بات ہی واضح کر دیتی ہے کہ مخاطب کون ہے اور اس کے کس شبہ یا اعتراض کا کیا جواب دیا گیا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت۔ اس آیت کا مخاطب مسلمانوں کو اور وہ بھی سید عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صدیق اکبر کو ماننے کی تو کوئی گنجایش ہی نہیں ہے اور بالفرض اس آیت کا مخاطب دل پر جبر کرکے نبی اور صدیق کو تھوڑی دیر کے لیے کوئی مان بھی لے تو اس کے بعد جو آیت آ رہی ہے اس کا مخاطب نبی اور صدیق کو ماننے کے لیے کوئی دل و جگر کہاں سے لائے۔

بہرحال، ہمارے نزدیک یہ خطاب قریش سے ہے اور یہ ان کے اس پروپیگنڈے کا جواب دیا جا رہا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔فرمایا کہ اس قسم کی دنیا طلبی تمھارا ہی شیوہ ہے۔ اللہ تو آخرت کو چاہتا ہے۔ یہاں اسلوب بیان کی یہ بلاغت ملحوظ رہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ نبی اور اہل ایمان آخرت کے طلب گار ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ آخرت کو چاہتا ہے۔اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ نبی اور اہل ایمان کے ہاتھوں جو کچھ یہ ہو رہا ہے یہ ان کی اپنی مرضی سے نہیں ہو رہا ہے بلکہ اللہ کی مرضی اور اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے،نبی اور اہل ایمان کی حیثیت اس سارے کام میں محض آلہ اور واسطہ کی ہے۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں یہی عین اللہ کا ارادہ اور اس کی مرضی ہے۔ اللہ کی مرضی اپنے بندوں کے لیے یہ ہے کہ وہ ہر کام آخرت کو اپنا نصب العین بنا کر کریں تو نبی اور اس کے ساتھیوں کا کوئی اقدام اللہ کی مرضی کے خلاف کس طرح ہو سکتا ہے۔ گویا بدر اور اس سلسلہ کے تمام اقدامات کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لے لی۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ وہ جو ارادہ فرماتا ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور اس کا ہر ارادہ عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اب تم جو ژاژخائی کرنا چاہتے ہو کرتے رہو۔

’لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ‘ یعنی تم نے اتنے ہی پر یہ واویلا برپا کر رکھا ہے۔ حالانکہ یہ تو صرف ایک چرکا ہے جو تمھیں لگا ہے۔ تم نے جو شرارت اس موقع پر کی تھی اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس پر تمھیں ایک عذاب عظیم آ پکڑتا لیکن اللہ نے چونکہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ جس سے پہلے کسی قوم کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وجہ سے اس نے تمھیں مہلت دے دی۔ مطلب یہ ہے کہ اس شور و غوغا کے بجاے بہتر یہ ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ اور اس فیصلہ کن گھڑی کے آنے سے پہلے پہلے اپنی روش کی اصلاح کر لو۔

’فِیْمَا اَخَذْتُمْ‘ میں ’ما‘ کے ابہام کی یہاں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے اور ’اخذ‘ کا لفظ لینے، پکڑنے، اختیار کرنے، کسی ڈھب کو اپنانے، کسی کام کو شروع کرنے سب کے لیے آتا ہے۔ سورۂ توبہ میں ہے ’وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ‘ (التوبہ۵۰) (اوراگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ منافق کہتے ہیں خوب ہوا ہم نے اپنا بچاؤ پہلے ہی کر لیا تھا) یہاں یہ مطلب ہو گا کہ جو طریقہ تم نے اختیار کیا اس کی بنا پر تم سزاوار تو تھے ایک عذاب عظیم کے، لیکن اللہ کے قانون کے تحت تمھیں کچھ مہلت مل گئی۔

ہمارے مفسرین کو ان آیات کی تاویل میں بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ ان کے نزدیک یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین پر عتاب ہے کہ وہ زمین میں خون ریزی کیے بغیر بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر کیوں راضی ہو گئے۔ صحیح تاویل واضح ہو جانے کے بعد اب اس بات کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم چند باتیں ذہن میں رکھیے۔

ایک یہ کہ فدیہ قبول کرنے کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے بالفرض غلطی ہوئی بھی تو یہ کسی سابق ممانعت کی خلاف ورزی کی نوعیت کی غلطی نہیں تھی بلکہ صرف اجتہاد کی غلطی تھی۔ اجتہاد کی غلطی ایسی چیز نہیں ہے جس پر ایسی سخت وعید وارد ہو۔ بالخصوص ایک ایسا اجتہاد جس کی تصدیق فوراً ہی خود اللہ تعالیٰ نے کر دی ہو۔

دوسری بات یہ کہ یہ اجتہاد کی غلطی بھی نہیں تھی۔ جنگ کے قیدیوں سے متعلق یہ قانون سورۂ محمد میں پہلے بیان ہو چکا تھا کہ وہ قتل بھی کیے جا سکتے ہیں، فدیہ لے کر بھی چھوڑے جا سکتے ہیں اور بغیر فدیہ لیے محض احساناً بھی چھوڑے جا سکتے ہیں۔

تیسری یہ کہ جہاں تک خون ریزی کا تعلق ہے اس کے اعتبار سے بھی بدر میں کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔قریش کے ستر آدمی جن میں بڑے بڑے سردار بھی تھے، مارے گئے، کم و بیش اتنے ہی آدمی قید ہوئے۔ باقی فوج بھاگ کھڑی ہوئی تو آخر لڑائی کس سے جاری رکھی جاتی؟

چوتھی یہ کہ یہاں عتاب کے جو الفاظ ہیں وہ قرآن کے مخصوص الفاظ ہیں۔ جو شخص قرآن کے انداز بیان سے آشنا ہے وہ جانتا ہے کہ ان لفظوں میں قرآن نے کٹر کفار و منافقین کے سوا اور کسی پر عتاب نہیں کیا ہے۔ نقل کرنے میں طوالت ہو گی، جس کو تردد ہو وہ قرآن میں ان تمام مواقع پر ایک نظر ڈال لے جہاں ’لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ الایہ‘ کے الفاظ سے کسی پر عتاب ہوا ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۳ /۵۱۰۔۵۱۳(

 

غلام احمد پرویز صاحب کے نزدیک ان آیات کا مفہوم یہ ہے:

’’یاد رکھو! اس خیال کو اپنے دل میں کبھی نہ آنے دو کہ تم دشمن کے زیادہ سے زیادہ آدمی گرفتار کر لو تاکہ ان کے زر فدیہ سے تمھارے پاس بہت سامان جمع ہو جائے جنگ سے تمھارا مقصد دولت حاصل کرنا نہیں۔ تمھارے پیش نظر نظام خداوندی کا قیام ہے۔ اس کے لیے تمھیں ملک میں ایسا غلبہ و اقتدار حاصل ہونا چاہیے جس سے حق کے مخالفین بے دست و پا ہو کر رہ جائیں۔ تم قریبی پیش پا افتادہ مفاد حاصل کرنا چاہتے ہو، اور قانون خداوندی کی نگاہ مستقبل پر ہے۔ یاد رکھو! قانون خداوندی غلبہ اور حکمت دونوں کواپنے دامن میں رکھتا ہے۔ اگر قانون خداوندی میں اس قسم کی فروگزاشتوں سے درگزر کر دینے کی گنجایش پہلے سے موجود نہ ہوتی تو جو کچھ تم کرنے لگے تھے اس پر تمھاری سخت گرفت ہو جاتی۔ البتہ یہ مال غنیمت جسے تم نے فتح کے بعد حاصل کیا ہے، اسے حلال و طیب سمجھ کر کھاؤ۔ لیکن اس باب میں بھی ہمیشہ قوانین خداوندی کی نگہداشت کرو۔ یاد رکھو! حفاظت اور مرحمت کا سامان قوانین خداوندی کی رو سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘(غلام احمد پرویز، مفہوم القرآن۱ /۴۱۲(

 

یہ تفاسیر بیسویں صدی میں سامنے آئیں، ان کے تقابلی مطالعہ سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے اہل علم نے کون سے تفسیری اصول اپنائے اور اصول تفسیر میں اختلاف سے آیات قرآنی کے مفہوم میں کیا فرق واقع ہوتا ہے۔

]جون۱۹۹۹[

 


۱؂ عبداللہ بٹ، ابوالکلام آزاد۔

۲؂ ابوسلمان شاہجہانپوری ،ابوالکلام آزاد (بحیثیت مفسر و محدث)۷۴۔

۳؂ یہ اعلان ’’البلاغ‘‘ کے پہلے شمارے سے آخری شمارے تک شائع ہوتا رہا۔

۴؂ مفتی محمد شفیع، معارف القرآن۱/۶۷۔

۵؂ انیس الرحمن قاسمی، علامہ مفتی محمد شفیع کی تفسیر معارف القرآن کا جائزہ، قرآن مجید کی تفسیریں ۳۳۹۔

۶؂ مثال کے طور پر دیکھیے: معارف القرآن۱/ ۳۷۷۔۳۷۹۔

۷؂ تفصیل کے لیے دیکھیے:Mustansir Mir, coherence in Quran, American Trust Publications 1986. 

۸؂ غلام احمد پرویز، لغات القرآن۱/۸۔

۹؂ غلام احمد پرویز، لغات القرآن۱/۲۱۔

۱۰؂ تفصیل کے لیے دیکھیے: ماہنامہ اشراق، جولائی ۱۹۹۵،۳۳۔۴۴۔

۱۱؂ مفتی محمد شفیع، معارف القرآن۴/۲۸۲۔۲۸۵۔