برصغیر کی چند اہم تفاسیر ایک تقابلی جائزہ

برصغیر میں قرآن مجید کے ترجمے اور تفسیر کی تاریخ کئی سو سال پر محیط ہے اور اب تک بلاشبہ سینکڑوں تراجم، حواشی اور تفاسیر سامنے آ چکی ہیں۔ یہ کام اگرچہ کئی زبانوں میں ہوا، لیکن جس زبان کو سب سے زیادہ قرآن مجید کے جواہر کو اپنے دامن میں سمیٹنے کا اعزازحاصل ہوا، وہ اردو زبان ہے۔ اس طرح عربی کے بعد اردو دوسری سب سے بڑی زبان ہے، جسے قرآن مجید کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔

برصغیر میں قرآن مجید کی خدمت کی جو سعادت شاہ ولی اللہ اور آپ کے خاندان کے حصے میں آئی، اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ شاہ صاحب کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں عام آدمی پر بھی فہم قرآن کے دروازے کھلنے لگے۔ ان کے بعد طویل عرصے تک ایک خلا محسوس ہوتا ہے اور تفسیر کی دنیا میں کوئی نمایاں اضافہ دکھائی نہیں دیتا۔ شاہ ولی اللہ کے تقریباً سو سال بعد مولانا ابوالکلام آزاد کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ انھوں نے رجوع الیٰ القرآن کی صدا بلند کی جو برصغیر کے سارے اطراف میں پھیل گئی۔ سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نوجوان مسلمانوں میں قرآن پاک کا ذوق مولانا ابوالکلام کے ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘نے پیدا کیا۔‘‘ ۱؂ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے بعد برصغیر میں قرآن فہمی کی ایک نئی روایت کا آغاز ہوا اور اس کے نتیجے میں تفسیر قرآن کے میدان میں چند اہم علمی کاوشیں سامنے آئیں۔ ان میں سے بعض تفاسیر ایسی ہیں جن کے بارے میں بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی علمی تاریخ میں ان کی مثال ملنا محال ہے۔ یہ تفاسیر جہاں تفسیری اور علمی پہلو سے نمایاں ہیں، وہاں ان کو عام مسلمانوں میں بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کے تقابلی مطالعہ سے برصغیر کے مسلمانوں کے تفسیری رجحانات کو جاننے میں مدد ملتی ہے اور ان کے تفسیری اصولوں میں اختلاف اور اس کے نتیجے میں مفہوم قرآن میں جو فرق واضح ہوتا ہے، وہ بھی سامنے آتا ہے۔ ہم نے اس تقابلی مطالعے کے لیے درج ذیل تفاسیر کا انتخاب کیا ہے:

  • ۱۔ ترجمان القرآن مولانا ابوالکلام آزاد
  • ۲۔ معارف القرآن مفتی محمد شفیع
  • ۳۔ تفہیم القرآن مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

  • ۴۔ ضیاء القرآن پیر محمد کرم شاہ
  • ۵۔تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی
  • ۶۔لغات القرآن/مفہوم القرآن غلام احمد پرویز

 

ترجمان القرآن

مولانا ابوالکلام آزاد (م ۱۹۵۸ء) نے جب قرآن مجید کو اپنے غوروفکر کا موضوع بنایا تو ان کے پیش نظر تین طرح کے کام تھے:

۱۔ مقدمۂ تفسیر، البصائر

۲۔ البیان فی مقاصد القرآن

۳۔ ترجمان القرآن

مقدمۂ تفسیر کے تحت مولانا قرآن حکیم کے مقاصد و مطالب پر اصول و مباحث کا مجموعہ مرتب کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے کم از کم بارہ ابواب، نہ صرف لکھے جا چکے تھے، بلکہ چھپ بھی گئے تھے۔ ان بارہ ابواب کے صفحات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔۲؂ مولانا نے ’’تذکرہ‘‘ میں ایک مقام پر لکھا ہے:

’’شرح حقیقت تحریف شریعت علی الخصوص فتنتین عظمتین یونانیت و عجمیت کے لیے مقدمہ تفسیر باب بست ویکم اور تفسیر فاتحہ الکتاب کو دیکھنا چاہیے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ۱۹۵)

’’البیان‘‘ کے نام سے مولانا آزاد قرآن مجید کی ایک مکمل تفسیر لکھنا چاہتے تھے۔ ’’البلاغ‘‘ میں جب اس کا اشتہار شائع ہوا تو اس کے الفاظ یہ تھے:

’’اس تفسیر کے متعلق صرف اس قدر ظاہر کر دینا کافی ہے کہ قرآن حکیم کے حقائق و معارف اور اس کی محیط الکل معلمانہ دعوت کا موجودہ دور جس قلم کے فیضان سے پیدا ہوا ہے، یہ اسی قلم سے نکلی ہوئی مفصل اور مکمل تفسیر القرآن ہے۔‘‘۳؂

مولانا نے ایک اور مقام پر بھی ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ ’’تذکرہ‘‘ میں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۵ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’یہ مقام منجملہ روح الروح معارف کتاب و سنت، وحقیقت الحقائق قرآن و شریعت کے ہے جس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔ تفسیر البیان میں ایک سے زیادہ مواقع پر اس کی تشریح و توضیح ملے گی اور اس سے بھی زیادہ مقدمہ تفسیر موسوم بہ ’’البصائر‘‘ میں بہ عنوان حقیقت ایمان و کفر۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ ۷۶۔۱۷۵)

مولانا نے ہفتے کے سات دنوں کی تقسیم اس طرح کر رکھی تھی کہ تین دن ’’البلاغ‘‘ کی تدوین و ادارت کے لیے وقف تھے، دو دن ترجمے کے لیے اور دو دن تفسیر کے لیے۔ اپنی گرفتاری کے باعث مولانا جس طرح اپنے مسودات سے محروم ہوئے، اس کی تفصیل انھوں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے دیباچے میں بیان کر دی ہے۔ اسی وجہ سے یہ شاہکار مکمل صورت میں ہمارے سامنے نہ آسکے۔

خدمت قرآن کے حوالے سے جو چیز مولانا کا تعارف بنی، وہ ’’ترجمان القرآن‘‘ ہے۔ مولانا نے اپنے الفاظ میں ’’ترجمان القرآن‘‘کا تعارف کراتے ہوئے ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ سے اس کا فرق واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ترجمان القرآن کی ترتیب سے مقصود یہ تھا کہ قرآن کے عام مطالعہ و تعلیم کے لیے ایک درمیانی ضخامت کی کتاب مہیا ہو جائے، مجرد ترجمے سے وضاحت میں زیادہ، مطول تفاسیر سے مقدار میں کم۔ چنانچہ اس غرض سے یہ اسلوب اختیار کیا گیا کہ پہلے ترجمہ میں زیادہ سے زیادہ وضاحت کی کوشش کی جائے پھر جابجا نوٹ بڑھا دیے جائیں۔ اس سے زیادہ بحث و تفصیل کو دخل نہ دیا جائے۔ باقی رہا اصول اور تفسیری مباحث کا معاملہ تو اس کے لیے دو الگ الگ کتابیں ’’مقدمہ‘‘ اور ’’البیان‘‘ زیر ترتیب ہیں۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)

تاہم جیسے جیسے یہ کام آگے بڑھا اور مولانا کی سیاسی سرگرمیاں ان کے علمی کاموں میں حائل ہوتی گئیں، اس کام کا نقشہ بھی تبدیل ہوتا گیا۔ ’’البیان‘‘ جب سامنے نہ آ سکی تو ’’ترجمان القرآن‘‘ ہی میں بعض مقامات پر اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی جلد میں جن مقامات پر محض مختصر حواشی لکھے گئے تھے، دوسری جلد میں انھی مقامات کی تفصیل بیان کر دی گئی۔ اس ترمیم کے باوجود مولانا کے نزدیک ’’ترجمان القرآن‘‘ کا اصل امتیاز اس کا ترجمہ ہے، مولانا لکھتے ہیں:

’’ترجمان القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کی تمام خصوصیات کا اصل محل اس کا ترجمہ اور ترجمہ کا اسلوب ہے۔ اگر اس پر نظر رہے گی تو پوری کتاب پر نظر رہے گی۔ وہ اوجھل ہو گئی تو پوری کتاب نظر سے اوجھل ہو جائے گی۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳) 

ترجمے کے بعد ’’ترجمان القرآن‘‘ کی دوسری خوبی، مولانا کے نزدیک اس کے نوٹ ہیں۔ ’’ان کی ہر سطرتفسیر کا ایک پورا صفحہ، بلکہ بعض حالتوں میں ایک پورے مقالے کی قائم مقام ہے۔‘‘ ’’ترجمان القرآن‘‘ کی وجہ تالیف خود مؤلف کے الفاظ میں یہ ہے:

’’ترجمان القرآن تفسیری مباحث کے ردوکد میں نہیں پڑتا صرف یہ کرتا ہے کہ اپنے پیش نظر اصول و قواعد کے ماتحت قرآن کے تمام مطالب ایک مرتب و منظم شکل میں پیش کر دے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳) 

’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ ہر سورت کے ساتھ مطالب کی ایک فہرست دی گئی ہے جس سے اس کے مضامین کا اجمالی تعارف ہو جاتا ہے۔

مولانا آزاد چونکہ ایک صاحب طرز ادیب تھے، اس بنا پر’’ ترجمان القرآن‘‘ ان کے انشا کا بھرپور مظہر ہے، تاہم جہاں تک اصول تفسیر کا تعلق ہے تو وہ ائمۂ تفسیر ہی کی تتبع کرتے نظر آتے ہیں اور بہت کم کوئی ایسی راے قائم کرتے ہیں جو اسلاف کی راے کے برخلاف ہو۔ مولانا کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کو اپنے عہد میں ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے لیے واحد راہنما ہو سکتی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ’’ترجمان القرآن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’مصنف ترجمان القرآن کی یہ دیدہ وری داد کے قابل ہے کہ انھوں نے وقت کی روح کو پہچانا اور اس فتنۂ فرنگ کے عہد میں اسی طرزوروش کی پیروی کی جس کو ابن تیمیہ اور ابن قیم نے پسند کیا تھا اور جس طرح انھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تباہی کا راز فلسفۂ یونان کی دماغی پیروی کو قرار دیا، اسی طرح اس عہد کے مسلمانوں کی بربادی کا سبب ترجمان القرآن کے مصنف نے فلسفۂ یونان و فرنگ کی ذہنی غلامی کو قرار دیا اور نسخۂ علاج وہی تجویز کیا کہ کلام الٰہی کو رسول کی زبان و اصطلاح اور فطرت کی عقل و فلسفہ سے سمجھنا چاہیے۔‘‘(ابوسلمان شاہجہانپوری، ابوالکلام آزاد(بحیثیت مفسر و محدث)۲۱۔۲۲) 

افسوس کہ مولانا یہ ترجمہ مکمل نہ کر سکے، تاہم اس وقت ’’ترجمان القرآن‘‘ کے عنوان سے جو کچھ موجود ہے اور جس میں سورۂ فاتحہ کی وہ تفسیر بھی شامل ہے جو اصلاً ’’البیان‘‘ کا حصہ ہے، ایک شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

 

معارف القرآن

مفتی محمد شفیع صاحب نے تفسیر کا یہ کام ۱۳۸۸ھ میں شروع کیا اور ۱۳۹۲ھ کو اس کی تکمیل ہوئی۔۴؂ اس کی آٹھ جلدیں ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی کی ہدایت پر انھوں نے مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا محمد ادریس کاندہلوی کے ساتھ مل کر ’’احکام القرآن‘‘ مرتب کی جو قرآن سے مستنبط ہونے والے مسائل و احکام پر ایک جلیل القدر تالیف ہے۔ مفتی صاحب نے سورۂ شعراء سے سورۂ ناس تک کی آیات کی تفسیر، دو جلدوں میں لکھی جو ’’احکام القرآن‘‘ کی پانچویں اور چھٹی جلد ہے۔ یہ تصنیف عربی میں ہے اور مفتی صاحب کے تفقہ فی الدین اور وسعت نظر کی آئینہ دار ہے، لیکن ان کا اصل شاہکار ’’معارف القرآن‘‘ ہے۔ یہ تفسیر کئی مرحلوں میں مکمل ہوئی۔ ۱۹۵۴ء سے ۱۹۶۴ء تک یہ ریڈیو پاکستان سے بالاقساط نشر ہوتی رہی۔۵؂

’’معارف القرآن‘‘ میں مفتی صاحب نے اپنے طور پر کوئی ترجمہ نہیں کیا، بلکہ مولانا محمود الحسن کا ترجمہ ہی اختیار کیا ہے۔ان کے نزدیک ترجمہ تفسیر سے زیادہ نازک معاملہ ہے اور چونکہ سلف کا ترجمہ موجود ہے، اس لیے اس کی ضرورت نہیں کہ کوئی نیا ترجمہ کیا جائے۔ تفسیر میں انھوں نے سب سے پہلے لغت کے مسائل پر توجہ دی ہے، پھر خلاصۂ تفسیر کے تحت مختصراً قرآن کی تفسیر بیان کر دی ہے۔ یہ اسلوب انھوں نے مولانا اشرف علی تھانوی کی ’’بیان القرآن‘‘ سے لیا ہے،بلکہ اسے ہی آسان لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ ’’بیان القرآن‘‘ کو ’’اشرف التفاسیر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ سید سلیمان ندوی نے اس کی تسہیل کا ارادہ کیا تھا، لیکن عملاً یہ کام مفتی محمد شفیع صاحب کے ہاتھوں مکمل ہوا۔ وہ ’’معارف القرآن‘‘ کے آغاز میں لکھتے ہیں:

’’زمانۂ دراز سے ایک تمنا دل میں تھی کہ حکیم الامت، مجدد الملت، سیدی حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ کی تفسیر بیان القرآن ، جو ایک بے نظیر، مختصر، مگر جامع تفسیر اور سلف صالحین کی تفسیروں کا لب لباب ہے، لیکن وہ علمی زبان اور علمی اصطلاحات میں لکھی گئی ہے۔ آج کل کے عوام اس سے استفادہ کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں، اس کے مضامین کو سہل زبان میں پیش کر دیا جائے، مگر یہ کام بھی کافی محنت اور فرصت چاہتا تھا۔ پاکستان میں آنے سے پہلے کچھ شروع بھی کیا پھر رہ گیا تھا۔ معارف القرآن کی اس تحریر نے بحمداللہ وہ آرزو بھی پوری کر دی،کیونکہ اس تفسیر کی بنیاد احقر نے بیان القرآن ہی کو بنایا ہے۔‘‘(مفتی محمد شفیع، معارف القرآن۱/ ۶۸)

خلاصۂ تفسیر کے بعد مفتی صاحب ’’معارف مسائل‘‘ کے زیر عنوان قرآنی آیات کے مطالب کو واضح کرتے ہیں۔ مفتی صاحب کا تعلق دیوبندی مکتبۂ فکر سے تھا اور تفسیر میں وہ اپنے اسلاف ہی کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ کوئی نئی بات کہنے سے گریز کرتے ہیں اور عموماً تفسیر آیات میں وہی موقف اپناتے ہیں جو قدیم مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ عام طور پر صحاح کے علاوہ ’’تفسیر ابن کثیر‘‘، ’’تفسیرقرطبی‘‘، ’’تفسیر بحر محیط‘‘ اور’’ تفسیر مظہری‘‘ کے حوالے دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی تفسیر میں عہد حاضر کے بعض مسائل کو بھی موضوع بنایا ہے، جیسے لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کا استعمال ہے۶؂ اور یہ کوشش کی ہے کہ قرآن مجید، روایات اور اقوال سلف کی روشنی میں عصری مسائل کو سمجھا جائے۔

 

تفہیم القرآن

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی یہ تفسیر چھ جلدوں میں ہے۔ مولانا صدر الدین اصلاحی نے اس کی تلخیص بھی کی ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر جمیلہ شوکت اور ڈاکٹر خالد علوی صاحب نے اس کا انڈیکس بھی مرتب کر دیا ہے۔ جناب الطاف گوہر نے اس کے منتخب حصوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے بھی اس کا ترجمہ کیا ہے جس کی تادم تحریر پانچ جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔

’’تفہیم القرآن‘‘ کی تحریر کا سلسلہ ۱۹۴۲ء میں شروع ہوا۔ یہ ماہنامہ’’ ترجمان القرآن‘‘ میں بالاقساط شائع ہوتی رہی۔ بعد میں یہ کتابی صورت میں چھپی۔ اس کی آخری جلد ۱۹۷۲ء میں شائع ہوئی۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں انھی مسلمہ اصولوں کو بنیاد بنایا ہے جو دیگر تفاسیر میں ملحوظ رکھے گئے ہیں، تاہم کسی روایت یا سابقہ تفسیری راے کو قبول کرنے، رد کرنے یا ترجیح دینے میں انھوں نے جمہور مفسرین سے اختلاف بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر ’’اقسام القرآن‘‘ کے معاملے میں انھوں نے قدیم مفسرین کے بجاے، امام حمید الدین فراہی کی تحقیق کو اختیار کیا ہے۔ علاوہ ازیں ان کی تفسیر، دیگر تفاسیر کی نسبت اپنے عہد کے مسائل سے زیادہ مربوط ہے۔ انھوں نے اس کی بھی سعی کی ہے کہ فلسفہ، سائنس اور عمرانیات وغیرہ میں اب تک ہونے والی تحقیقات کو پیش نظر رکھ کر قرآن مجید کی تفسیر کی جائے اور قرآن کی روشنی میں اس کی تردید یا تائید کی جائے۔ ابتدا میں ان کے پیش نظر کسی ایسی تفسیر کا خاکہ نہیں تھا جس پر عرف عام میں لفظ تفسیر کا اطلاق ہو، لیکن بعد کی جلدوں میں تفسیری رنگ نمایاں ہوتا گیا۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ کی ایک منفرد خصوصیت اس کا ترجمہ ہے۔ اس کے بارے میں صاحب ’’تفہیم القرآن‘‘لکھتے ہیں:

’’...میں نے اس میں قرآن کے الفاظ کو اردو کا جامہ پہنانے کے بجاے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن کی ایک عبارت کو پڑھ کر جو مفہوم میری سمجھ میں آتا ہے اور جو اثر میرے دل پر پڑتا ہے، اسے حتی الامکان صحت کے ساتھ اپنی زبان میں منتقل کر دوں۔ اسلوب بیان میں ترجمہ پن نہ ہو، عربی مبین کی ترجمانی اردوے مبین میں ہو، تقریر کا ربط فطری طریقے سے تحریر کی زبان میں ظاہر ہو ،اور کلام الٰہی کا مطلب و مدعا صاف صاف واضح ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا شاہانہ وقار اور زور بیان بھی جہاں تک بس چلے ترجمانی میں منعکس ہو جائے۔ اس طرح کے آزاد ترجمے کے لیے یہ تو بہرحال ناگزیر تھا کہ لفظی پابندیوں سے نکل کر اداے مطالب کی جسارت کی جائے، لیکن معاملہ کلام الٰہی کا تھا، اس لیے میں نے بہت ڈرتے ڈرتے ہی یہ آزادی برتی ہے۔ جس حد تک احتیاط میرے امکان میں تھی، اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے اس امر کا پورا اہتمام کیا ہے کہ قرآن کی اپنی عبارت جتنی آزادئ بیان کی گنجایش دیتی ہے اس سے تجاوز نہ ہونے پائے۔‘‘(ابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن۱ /۱۰۔۱۱)

’’تفہیم القرآن‘‘ کو اردو قارئین میں جو مقبولیت حاصل ہوئی، اس کی کوئی نظیر نہیں۔ ادارہ ترجمان القرآن کے تحت فروری ۱۹۸۸ تک اس کے بائیس ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس وقت تین ادارے ’’تفہیم القرآن‘‘ شائع کر رہے ہیں۔

 

ضیاء القرآن

پیر محمد کرم شاہ صاحب کی ا س تفسیر کی پانچ جلدیں ہیں۔ اس کی پہلی جلد کا پہلا ایڈیشن ۱۹۶۵ء میں شائع ہوا۔ پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری، بریلوی مکتبۂ فکر کے ترجمان ہیں۔ انھوں نے بھی اپنی تفسیر میں عام فہم اسلوب اختیار کیا ہے۔ وہ ان مقامات کی تفسیر کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں جن کی تفسیر میں عام طور پر اختلاف ہے یا جن کی بنیاد پر بریلوی مکتبۂ فکر کی طرف شرک یا بدعت کی نسبت کی جاتی ہے۔ ایسے مقامات پر انھوں نے قرآن مجید پر براہ راست غور کرکے کوئی راے قائم کرنے کے بجاے کسی روایت یا تفسیری قول ہی کو اپنی ترجیح کی بنیاد بنایا ہے۔ اسی طرح وہ معاصر تفاسیر سے بھی وسعت قلب کے ساتھ استفادہ کرتے ہیں۔ پیر صاحب ’’ضیاء القرآن‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

’’میں نے پورے خلوص سے کوشش کی ہے کہ ایسے مقامات پر افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اپنے مسلک کی صحیح ترجمانی کر دوں جو قرآن کریم کی آیات بینات، احادیث صحیحہ یا امت کے علماء حق کے ارشادات سے ماخود ہے تاکہ نادان دوستوں کی غلط آمیزیوں یا اہل غرض کی بہتان تراشیوں کے باعث حقیقت پر جو پردے پڑ گئے ہیں وہ اٹھ جائیں اور حقیقت آشکارہ ہو جائے۔ بفضلہ تعالیٰ اس طرح بہت سے الزامات کا خود بخود ازالہ ہو جائے گا۔ اور ان لوگوں کے دلوں سے یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی جو غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ واقعی ملت کا ایک حصہ شرک سے آلودہ ہے یا ان کے اعمال اور مشرکین کے اعمال میں مماثلت پائی جاتی ہے العیاذ باللہ۔‘‘(پیر محمد کرم شاہ الازہری، ضیاء القرآن۱/ ۱۱)

 

تدبر قرآن

مولانا امین احسن اصلاحی نے ۱۹۶۶ء میں ’’تدبر قرآن‘‘ کی پہلی جلد مکمل کی۔ ابتداءً یہ آٹھ جلدوں میں شائع ہوئی اور اب یہ نو جلدوں میں چھپ رہی ہے۔ صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر کی بنیاد مروجہ تفسیری اصولوں پر نہیں رکھی۔ ان کے نزدیک تفسیری وسائل دو طرح کے ہیں: داخلی اور خارجی۔ داخلی وسائل میں قرآن کی زبان، اس کا نظم نمایاں ہیں، جبکہ خارجی وسائل میں روایات، آثار اور تاریخ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی تفسیر میں قرآن مجید کے نظم کو اصل الاصول کی حیثیت حاصل ہے۔ نظم سے مراد یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید کی ترتیب توقیفی ہے، یعنی قرآن پاک کی آیات اور سورتوں کی ترتیب اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے، اس لیے یہ ترتیب حکمت سے خالی نہیں۔ آیات اور سورتیں ایک خاص نظم میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ مولانا اصلاحی کے نزدیک نفس مضمون کے اعتبار سے پورا قرآن سات حصوں میں منقسم ہے اور ’سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ‘سے بھی قرآن کی یہی مراد ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کی اصطلاحات کے مفہوم کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک ان کا مفہوم سنت متواترہ کی روشنی میں متعین کیا جائے گا۔ مثلاً، نماز ، حج وغیرہ کی ادائیگی کا طریقہ امت کے اجتماعی تعامل سے طے ہو گا جو اللہ کے رسول نے امت میں رائج کیا اور اجماع صحابہ سے بعد کے ادوار کو منتقل ہوا۔ مولانا اصلاحی ’’تدبر قرآن‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

 

’’میں نے اس تفسیر میں چونکہ نظم قرآن کو پوری اہمیت دی ہے، اس وجہ سے ہر جگہ میں نے ایک ہی قول اختیار کیا ہے بلکہ اگر میں اس حقیقت کو صحیح لفظوں میں بیان کرو ں تو مجھے یوں کہنا چاہیے کہ مجھے ایک ہی قول اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ کیونکہ نظم کی رعایت کے بعد مختلف وادیوں میں گردش کرنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ صحیح بات اس طرح منقع ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ آدمی اگر بالکل اندھا بہرا متعصب نہ ہو تو اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے لیکن اس سے انحراف برداشت نہیں کر سکتا۔... ہر سورۃ ایک مستقل وحدت ہے، اس کا ایک علیحدہ عنوان و موضوع (عمود) ہے اور اس سورہ کے تمام اجزاے کلام اس عنوان و موضوع سے نہایت گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ اب ایک قدم آگے بڑھ کر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن میں بحیثیت مجموعی بھی ایک مخصوص نظام ہے جس کا ایک پہلو تو بالکل ظاہر ہے جو ہر شخص کو نظر آ سکتا ہے لیکن ایک پہلو مخفی ہے جو غور و تدبر سے سامنے آتا ہے ... اگر آپ سورتوں کی اس ترتیب پر ایک نظر ڈالیں، جس ترتیب سے وہ مصحف میں ہیں تو ایک چیز آپ کو بالکل صاف نظر آئے گی کہ قرآن میں مکی اور مدنی سورتوں کے ملے جلے سات گروپ بن گئے ہیں جن میں سے ہر گروپ ایک یا ایک سے زیادہ مدنی سورتوں پر تمام ہوتا ہے۔ ہر گروپ میں پہلے مکی سورتیں ہیں۔ ان کے بعد مدنی سورتیں ہیں۔... یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ اس ترتیب میں قانون و شریعت کے گروپ کو تمام دوسرے گروپوں پر مقدم کر دیا گیا ہے اور منذرات کے گروپ کو آخر میں کر دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انذار سے مقصود درحقیقت لوگوں کو غلط راہ سے موڑ کر صحیح راہ پر لگانا ہے اور صحیح راہ شریعت کی راہ ہے۔ اس وجہ سے جو چیز غایت و مقصود کی حیثیت رکھتی ہے اس پر سب سے پہلے نگاہ پڑنی چاہیے۔ امت کو بحیثیت امت مسلمہ جو دولت عطا ہوئی ہے، وہ درحقیقت شریعت ہی ہے جو اہل کتاب سے اس امت کو منتقل ہوئی اس وجہ سے پہلے گروپ میں اہل کتاب کی معزولی بھی بیان ہوئی ہے اور شریعت اسلامی کی تفصیل بھی۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ قرآن کے پہلے گروپ اور اس کے آخری گروپ میں وہی نسبت ہے جو نسبت ایک عمارت اور اس کی بنیاد میں ہوتی ہے۔ جہاں تک تعمیر کا تعلق ہے تعمیر سے پہلے بنیاد ہوتی ہے، لیکن عمارت بن چکنے کے بعد سامنے جو چیز آتی ہے، وہ عمارت ہوتی ہے ، بنیاد نیچے ہو جاتی ہے۔‘‘(امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن۱ /۲۲۔۲۷)

مولانا امین احسن اصلاحی نے تفسیر کے لیے جن اصولوں کو ماخذ بنایا ہے، ان کا تعین ان کے استاد امام حمید الدین فراہی نے کیا تھا۔ وہ خود ان اصولوں کی روشنی میں چند آخری سورتوں ہی کی تفسیر لکھ پائے جنھیں مولانا اصلاحی نے ’’مجموعہ تفاسیر فراہی‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا ہے۔ ’’تدبر قرآن‘‘ بلاشبہ ایک عہد ساز تفسیر ہے۔ ان تفسیری اصولوں پر تنقید ہو سکتی ہے اور ان تفسیری آراپر بھی جو اس کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں، لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ مسلمانوں کی علمی روایت میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے اور اس نے بہت سے بنیادی تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔۷؂

 

لغات القرآن۔مفہوم القرآن

غلام احمد پرویز صاحب نے قرآن مجید کی تعبیر و تشریح کے ضمن میں جو کام کیا، وہ تین طرح کا ہے: ’’لغات القرآن‘‘ کے تحت انھوں نے قرآن مجید کے الفاظ کا ایک لغت مرتب کیا اور اس میں انھوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ الفاظ کا وسیع تر مفہوم کیا ہے اور قرآن مجید میں یہ کس مفہوم میں مستعمل ہیں۔ پرویز صاحب کے نزدیک چونکہ عربی لغت و تفاسیر کی ترتیب و تدوین کا کام زیادہ تر عباسی دور میں ہوا ہے اور یہ وہ عہد ہے جب عجمی اثرات مسلمان معاشرے پر غالب آ گئے تھے اور یوں ’’ان لوگوں کے قلم سے جو کچھ نکلا اس کے الفاظ تو عربی تھے، لیکن ان الفاظ کے پیکروں میں تصورات عجمی تھے۔ یوں عربی زبان، تصنیف و تالیف کے پہلے دور میں ہی، غیر عربی تصورات کی حامل بن گئی‘‘۸؂ اس طرح ’’قرآنی الفاظ کے اس مفہوم میں فرق آگیا جو ان سے زمانۂ نزول قرآن میں لیا جاتا تھا۔‘‘ پرویز صاحب نے اس مشکل کے تدارک اور الفاظ کے درست مفہوم تک رسائی کے لیے ایک حل تجویز کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’...عربی زبان کے وہ الفاظ جو زمانۂ نزول قرآن میں مروج تھے، عربی ادب کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اور چونکہ وہ اشعار بھی موجود ہیں جن میں وہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس لیے (ان اشعار کی مدد سے) ان الفاظ کا وہ مفہوم بھی متعین کیا جا سکتا ہے جو ان سے زمانۂ نزول قرآن میں لیا جاتا تھا۔ یہ الفاظ قرآن کریم میں بیشتر انھی معانی میں استعمال ہوئے ہیں جن معانی میں وہ ان اشعار میں استعمال ہوئے تھے اور جن سے زمانۂ نزول قرآن کے عرب اچھی طرح واقف تھے۔‘‘(غلام احمد پرویز، لغات القرآن۱ /۱۲)

تنہا لغت سے پرویز صاحب کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا صحیح مفہوم نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ لغت انسانی کوششوں کا نتیجہ ہے جس میں سہو و خطا کا امکان باقی رہتا ہے۔ ان کے اصول تفسیر اگر نکات کی صورت میں بیان کیے جائیں تو وہ اس طرح ہیں:

۱۔ سب سے پہلے لفظ کے مادہ کو دیکھا جائے کہ اس کا بنیادی مفہوم کیا ہے اور خصوصیات کیا ہیں۔

۲۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ صحرا نشین عربوں کے ہاں اس لفظ کا استعمال کس کس انداز سے ہوتا تھا۔

۳۔ اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ قرآن کریم میں وہ لفظ کس کس مقام پر آیا اور قرآن نے اسے کس کس رنگ میں استعمال کیا ہے۔

۴۔ اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ قرآن کریم کی پوری تعلیم کا مجموعی تصور سامنے ہونا چاہیے۔

’’لغات القرآن‘‘ کے پیش لفظ میں انھوں نے امام حمید الدین فراہی کے اسلوب تفسیر کی بھی تعریف کی ہے اور اپنے ظرف کے مطابق ان کی قرآنی بصیرت سے استفادے کا بھی اظہار کیا ہے۔۹؂

قرآن مجید کی اصطلاحات کے مفاہیم کے بارے میں بھی پرویز صاحب کا اپنا ایک نقطۂ نظر ہے۔ مثال کے طور پر ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ کے تحت وہ لکھتے ہیں:

’’قرآن مجید کی ایک خاص اصطلاح ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ ہے، جس کے عام معنی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کیے جاتے ہیں۔ لفظ صلوٰۃ کا مادہ (ص ل و) ہے جس کے بنیادی معنی کسی کے پیچھے چلنے کے ہیں، اس لیے صلوٰۃ میں ’’قوانین خداوندی‘‘ کے اتباع کا مفہوم شامل ہو گا۔ بنا بریں اقامت صلوٰۃ سے مفہوم ہو گا ایسے نظام یا معاشرہ کا قیام جس میں قوانین خداوندی کے اتباع کا تصور محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آجاتا ہے، اس لیے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کس مقام پر اقامت صلوٰۃ سے مراد اجتماعات نماز ہیں اور کس مقام پر قرآنی نظام یا معاشرے کا قیام۔‘‘(غلام احمد پرویز، مفہوم القرآن،جلد ۱)

پرویز صاحب قرآن کی تفسیر میں ان روایات کو بھی درست نہیں سمجھتے جو ’’شان نزول‘‘ کے عنوان سے بیان کی جاتی ہیں۔ قرآن مجید کے معرکۃ الآرا مسائل پرانھوں نے ’’معارف القرآن‘‘ کے عنوان سے اظہار خیال کیا ہے جو ابلیس و آدم شعلہ مستور، جوے نور من ویذداں وغیرہ کے نام سے الگ الگ شائع ہو چکی ہیں۔

پرویز صاحب چونکہ سنت کو بنیادی ماخذ نہیں مانتے، اس لیے امت میں ان کے نظریات کو عموماً پذیرائی نہیں ہوئی۔ علاوہ ازیں وہ قرآن کی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے خود اپنے بتائے ہوئے اصولوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر ان کے نزدیک قرآن کی عربی وہ ہے جو عہدجاہلیت کی شاعری میں ملتی ہے اور محض لغت سے اس کا مفہوم متعین نہیں کیا جا سکتا لیکن قرآن کی تفسیر کرتے وقت وہ اکثر لغت ہی سے مدد لیتے ہیں۔۱۰؂

یہ چند معروف تفاسیر کا تعارف تھا جو ہم نے اجمالاً بیان کر دیا ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ تعارف اور تفسیر کی خصوصیات خود مفسر ہی کے الفاظ میں نقل کر دیے جائیں۔ اس اجمال کو ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں جس سے اس تفسیری کام کی علمی حیثیت کے تعین میں مدد ملے گی اور اس کے ساتھ وہ فرق بھی نمایاں ہو جائے گا جو تفسیری اصولوں کے اختلاف سے تفسیر قرآن میں واقع ہوتا ہے۔ (جاری ہے۔۔۔۔)