اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد و پیمان کی تفصیل بیان کردی جائے جو بنی اسرائیل کو شریعت دیتے وقت لیا گیا تھا۔ اس کا ذکر استثنا میں کئی جگہ کیا گیا ہے، تاہم باب ۲۸ میں اس کی تفصیل اس طرح کی گئی ہے:


’’ اور اگر توخداوند اپنے خدا کی بات کو جاں فشانی سے مان کر اس کے ان سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں، احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا۔ اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو ملیں گی۔شہر میں بھی تو مبارک ہوگا اور کھیت میں بھی مبارک ہوگا۔ تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے چوپایوں کے بچے یعنی گائے بیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑ بکریوں کے بچے مبارک ہوں گے۔ تیرا ٹوکرا اور تیری کٹھوتی ، دونوں مبارک ہوں گے۔ اور تو اندر آتے وقت مبارک ہوگا اور باہر جاتے وقت بھی مبارک ہوگا۔خدا وند تیرے دشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں تیرے روبرو شکست دلائے گا۔وہ تیرے مقابلہ کو توایک ہی راستہ سے آئیں گے پر سات سات راستوں سے ہوکر تیرے آگے سے بھاگیں گے۔خداوند تیرے انبار خانوں میں اور سب کاموں میں جن میں تو ہاتھ لگائے برکت کا حکم دے گا اور خداوند تیراخدا اس ملک میں جسے وہ تجھ کو دیتا ہے، تجھ کو برکت بخشے گا۔ اگر تو خداوند اپنے خدا کے حکموں کو مانے اور اس کی راہوں پر چلے تو خداوند اپنی اس قسم کے مطابق جو اس نے تجھ سے کھائی تجھ کو اپنی پاک قوم بناکر قائم رکھے گا۔ اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی۔ اور جس ملک کو تجھ کو دینے کی قسم خداوند نے تیرے باپ دادا سے کھائی تھی ، اس میں خداوند تیری اولاد کو اور تیرے چوپایوں کے بچوں کو اور تیری زمین کی پیداوار کو خوب بڑھاکر تجھ کو برومند کرے گا۔خداوندآسمان کو جو اس کا اچھا خزانہ ہے ، تیرے لیے کھول دے گا کہ تیرے ملک میں وقت پر مینہ برسائے اور وہ تیرے سب کاموں میں جن میں تو ہاتھ لگائے برکت دے گا اور تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر خود قرض نہیں لے گا۔ اور خداوند تجھ کو دم نہیں ، بلکہ سر ٹھہرائے گا اور تو پست نہیں ، بلکہ سرفراز ہی رہے گابشرطیکہ تو خداوند اپنے خدا کے حکموں کو جو میں تجھ کو آج کے دن دیتا ہوں سنے اور احتیاط سے ان پر عمل کرے۔اور جن باتوں کا میں آج کے دن تجھ کو حکم دیتا ہوں ، ان میں سے کسی سے دہنے یا بائیں ہاتھ مڑکر اورمعبودوں کی پیروی اور عبادت نہ کرے۔
لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خداونداپنے خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ شہر میں بھی تو لعنتی ہوگا اور کھیت میں بھی لعنتی ہو گا۔تیرا ٹوکرا اور تیری کٹھوتی، دونوں لعنتی ٹھہریں گے۔ تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے گائے بیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑ بکریوں کے بچے لعنتی ہوں گے۔ تو اندر آتے لعنتی ٹھہرے گا اور باہر جاتے بھی لعنتی ٹھہرے گا۔ خداوند ان سب کاموں میں جن کو تو ہاتھ لگائے لعنت اور اضطراب اور پھٹکار کو تجھ پر نازل کرے گا، جب تک کہ تو ہلاک ہوکر جلد نیست و نابود نہ ہوجائے۔ یہ تیری ان بد اعمالیوں کے سبب سے ہوگا جن کو کرنے کی وجہ سے تو مجھ کو چھوڑدے گا۔ خداوندایسا کرے گا کہ وبا تجھ سے لپٹی رہے گی۔ جب تک کہ وہ تجھ کو اس ملک سے جس پر قبضہ کرنے کو تو وہاں جا رہا ہے فنا نہ کردے۔خداوند تجھ کو تپ دق اور بخار اور سوزش اور شدید حرارت اور تلوار اور باد سموم اور گیروئی سے مارے گا اور یہ تیرے پیچھے پڑے رہیں گے ، جب تک کہ تو فنا نہ ہوجائے۔ اور آسمان جو تیرے سر پر ہے پیتل کا اور زمین جو تیرے نیچے ہے لوہے کی ہوجائے گی۔ خدا وند مینہ کے بدلے تیری زمین پر خاک اور دھول برسائے گا یہ آسمان سے تجھ پر پڑتی ہی رہے گی ، جب تک کہ تو ہلاک نہ ہوجائے ۔ خداوند تجھ کو تیرے دشمنوں کے آگے شکست دلائے گا۔ تو ان کے مقابلہ کے لیے تو ایک ہی راستہ سے جائے گا اور ان کے سامنے سے سات سات راستوں سے ہوکر بھاگے گا اور دنیا کی تمام سلطنتوں میں تو مارا مارا پھرے گا۔اور تیری لاش ہوا کے پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوراک ہوگی اور کوئی ان کو ہنکا کر بھگانے کو بھی نہ ہوگا ... اور تو اپنے سب دھندوں میں ناکام رہے گااور تجھ پر ہمیشہ ظلم ہی ہوگا اور تو لٹتا ہی رہے گا اور کوئی نہ ہوگا جو تجھ کو بچائے۔ عورت سے منگنی تو تو کرے گالیکن دوسرا اس سے مباشرت کرے گا۔ تو گھر بنائے گا پر اس میں بسنے نہ پائے گا۔ تو تاکستان لگائے گا پر اس کا پھل استعمال نہ کرے گا ... تیرے بیٹے اور بیٹیاں دوسری قوم کو دی جائیں گی اور تیری آنکھیں دیکھیں گی اور سارے دن ان کے لیے ترستے ترستے رہ جائیں گی... اگر تو اس شریعت کی ان سب باتوں پر جو اس کتاب میں لکھی ہیں احتیاط رکھ کر اس طرح عمل نہ کرے کہ تجھ کو خداوند اپنے خدا کے جلالی اور مہیب نام کا خوف ہو تو خداوند تجھ پر عجیب آفتیں نازل کرے گا اور تیری اولاد کی آفتوں کو بڑھاکر بڑی اور دیرپا آفتیں اور سخت اور دیر پا بیماریاں کردے گا...‘‘(استثنا ۲۸ :۱۔۵۹)

____________