بنی اسرائیل کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خدا سے وفاداری اور شریعت کی پاس داری کے اس عہد کی آخری درجہ میں پابندی کی ہے۔جب جب انھوں نے غداری و سرکشی کی تو ان پر بدترین عذاب مسلط کردیے گئے اور وفاداری کی صورت میں ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھول دیے گئے۔ سورۂ بقرہ کے آغاز میں بنی اسرائیل کو سزا و جزا کی یہی داستان سنائی گئی ہے۔
اس داستان کا آغاز حضرت موسیٰ ہی کی زندگی میں ہوگیا تھا۔آپ کے زمانے میں ان پر انعام و اکرام کا معاملہ تو اوپر بیان ہوگیا کہ نہ صرف فرعون سے انھیں نجات دلائی گئی ، بلکہ صحرا میں ان کے کھانے پینے اور ان پر سائے کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے،تاہم جب حضرت موسیٰ کوہِ طور پر گئے اور ان کے پیچھے بنی اسرائیل بچھڑے کو خدا بنابیٹھے تو انھیں اس جرم پر شدید عذاب دیا گیا، اس طرح کہ تمام مجرموں کو ان کے ہم قبیلہ اور خاندان کے لوگوں نے قتل کیا*۔اسی طرح جب انھوں نے جہا د پر جانے کے حضرت موسیٰ کے حکم کے معاملے میں بزدلی دکھائی تو فلسطین کی زمین چالیس سال کے لیے ان پر حرام کرکے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑدیا گیا۔**
حضرت موسیٰ کے جانشین حضرت یوشع بن نون ہوئے اور ان کے زمانے میں بنی اسرائیل نے شام و فلسطین کو فتح کر لیا۔ یوں خدا کا وہ وعدہ ان کے حق میں پورا ہوا جو اس مقدس سرزمین کے بارے میں ان سے کیا گیا تھا*** ۔ تاہم اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس زمانے تک مصر کے زوال کا عمل تیزی سے شروع ہوچکا تھا ۔جبکہ فلسطین کا علاقہ تہذیب انسانی کا مرکز بن رہا تھا اور یہاں کی اقوام گردن تک شرک کی دلدل میں دھنسی ہوئی تھیں۔چنانچہ بنی اسرائیل کی شکل میں ایک خدا پرست قوم کو ان کے درمیان آباد کردیا گیا۔ یہ وہی معاملہ تھا جو پہلے مصر میں کیا گیا تھا۔اس دوران میں ان کی رہنمائی کے لیے ان میں نبی آتے رہے، جبکہ ان کے اجتماعی امور کی نگرانی قاضی کیا کرتے تھے، مگر صدیوں کے تعامل کے بعد ایک دفعہ پھر وہی کچھ ہونے لگا جو مصر میں ہوا تھا، یعنی ایک طرف تو بنی اسرائیل میں شرک کے اثرات تیزی سے سرائیت کرنے لگے ****اور دوسری طرف بنی اسرائیل سیاسی طور پر مغلوب ہونے لگے ۔ ان کے ارد گرد آباد مشرک اقوام نے متحد ہوکر ان پرحملے شروع کردیے اور فلسطین کے بڑے حصے سے انھیں بے دخل کردیا۔ اس پر بنی اسرائیل میں جہاد کا داعیہ پیدا ہوا اور انھوں نے اس دور کے نبی حضرت سموئیل سے درخواست کی کہ ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے تاکہ وہ بھی قومی حیثیت میں مشرکوں کا مقابلہ کرسکیں۔ان کی درخواست پر ا ن کے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کردیا گیا۔ان کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور طالوت کی زیر قیادت انھوں نے مشرکوں کو شکست دے کر اپنا اقتدار قائم کرلیا*****۔ یہیں سے بنی اسرائیل کی تاریخ کا سب سے روشن باب شروع ہوتا ہے جب طالوت کے بعد سیدنا داؤد اور پھر سیدنا سلیمان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے اقتدار کا سکہ پورے مشرق وسطیٰ، جو کہ اس دور کی تہذیب کا مرکز تھا، پر چلنا شروع ہوگیا۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے اقتدار کا کیا عالم تھا اور کس طرح توحید کی بنیاد پر قائم اس معاشرے نے ارد گرد کے مشرکوں پر اپنا اقتدار قائم کرلیا تھا ؟ اس کا ایک نمونہ وہ واقعہ ہے جو ملکۂ سبا اور حضرت سلیمان کے حوالے سے سورۂ نمل (۲۷) کی آیات۱۵ ۔ ۴۴ میں مذکور ہے۔یہ زمانہ ۱۰۰۰ق م کے لگ بھگ کا ہے۔
تاہم حضرت سلیمان کے بعد چند صدیوں کے اندر اندر بنی اسرائیل میں وہ تمام برائیاں پیدا ہوگئیں جن کے خلاف انھیں جنگ کرنا تھی۔ آں جناب کی عظیم حکومت دو ریاستوں یہودیہ اور اسرائیل میں تقسیم ہوگئی۔اس دوران میں نبیوں نے بار بار بنی اسرائیل کو ان کی غلط روی پر متنبہ کیا ، مگربے سود۔ آخر کار خدائی عذاب کا کوڑا بنی اسرائیل پر برس پڑا۔ پہلے ریاست اسرائیل آشوریوں کے حملوں میں برباد ہوگئی۔ ۷۲۱ق م میں اشوری حکمران سارگون نے اس کے دارالحکومت سامریہ کو فتح کرلیا ۔دوسری طرف ۵۸۷ ق م میں یہودیہ کی ریاست کے تمام شہر بابل کے حکمران بخت نصر کے حملے میں برباد ہوگئے۔ یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی اور ہیکل سلیمانی کو زمین بوس کردیا گیا، اور بخت نصر بنی اسرائیل کو غلام بناکر بابل لے گیا۔
یہ بنی اسرائیل کے فساد کے جواب میں خدا کی پہلی عظیم سزا تھی جس کا تذکرہ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷)کی آیات ۴ ۔۸ میں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد خدا نے ان کے حال پر مہربانی کی۔ ایرانی حکمران سائرس نے انھیں بابل کی غلامی سے نجات دلائی اور واپس فلسطین آنے کی اجازت دی۔ ہیکل کی دوبارہ تعمیر ہوئی اورحضرت عزیر کی رہنمائی میں بنی اسرائیل کے دین کی ایک دفعہ پھر تجدید کی گئی۔ ان کی تجدیدکی مساعی اس قدر مؤثر تھی کہ اس واقعہ کے تین صدی بعد بھی جب یونانی حکمرانوں نے بنی اسرائیل پر شرک مسلط کرنا چاہا تو انھوں نے بھرپور مزاحمت کی اور آخر کار ان کو فلسطین سے باہر نکال دیا۔ انعام کے طور پر خدا نے ان کی سلطنت کو اتنا وسیع کردیا کہ اس کا علاقہ حضرت سلیمان کے دور اقتدار سے بھی بڑھ گیا، تاہم ایک صدی کے اندر یہ اخلاقی روح فنا ہوتی چلی گئی۔جس کے نتیجے میں خدانے رومیوں کو ان پر مسلط کردیا اور رومی فاتح پومپی نے ۶۳ ق م میں یروشلم پر قبضہ کرکے ان کے اقتدار کا خاتمہ کردیا اور بالواسطہ رومی حکومت قائم کردی۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل کا زوال اپنی انتہاکو پہنچ رہا تھاجس کا اظہار اینٹی پاس نا می یہودی حکمران کے دربار میں ایک رقاصہ کی فرمایش پر سیدنا یحیےٰ کے قتل سے ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بحیثیت امت آخری مہلت کے طور پر بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ جیسے جلیل القدر رسول کو مبعوث فرمایا۔ انھوں نے آخری درجہ میں بنی اسرائیل کو تنبیہ کی ،مگر حب دنیا اور ظاہر پرستی کے پھندوں میں گرفتار بنی اسرائیل نہ صرف یہ موقع گنوابیٹھے ، بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کرڈالی۔اللہ تعالیٰ نے اس آفتاب رسالت کو اٹھالیااور اس جرم عظیم کی پاداش میں بنی اسرائیل کو منصب امامت سے معزول کرکے ایک زبردست سزا دینے کا فیصلہ کیا ۔ چنانچہ اس واقعہ کے تھوڑے عرصے بعد یہودیوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت کی، جسے فرو کرنے کے لیے رومی حکمران ٹیٹس نے یروشلم پر حملہ کرکے پوری آبادی کو تہس نہس کرڈالا، اوریہودیوں کو اس طرح فلسطین سے نکالا کہ وہ دو ہزار سال تک یہاں واپس نہ لوٹ سکے۔
بنی اسرائیل کی تقریباً ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کا یہ ایک انتہائی مختصر بیان ہے جو نہ صرف اس بات پر گواہ ہے کہ کس طرح وہ دنیا میں امامت کے منصب پر فائز رہے ، بلکہ تاریخ کے اس آئینے میں یہ بات بھی صاف نظر آتی ہے کہ ان کے عروج و زوال کا تمام تر انحصار صرف اس بات پر تھا کہ وہ کس حد تک خدا کے ساتھ کیے گئے اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں۔

_______

* قرآن مجید، البقرہ ۲: ۵۴۔ کتاب مقدس، خروج ۳۲: ۲۵ ۔۳۰۔
** المائدہ ۵:۲۶۔
*** یشوع ۱: ۱۔۶۔
**** قضاۃ۲: ۱۱۔۱۳۔
***** البقرہ۲: ۲۴۶۔ ۲۵۱۔

____________