حضرت اسحاق کے بیٹے یعقوب ایک نبی تھے۔آپ کا لقب اسرائیل (خدا کا بندہ) تھا۔ اسی بناپر آپ کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ آپ کے بارہ بیٹے تھے جن میں سے حضرت یوسف نبی تھے۔ قرآن کی سورۂ یوسف میں بالتفصیل آپ کا قصہ بیان ہوا جس میں بتایا گیا ہے کہ انھی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر میں منتقل کیا جو اس وقت تہذیب انسانی کا سب سے بڑا مرکز اور شرک کا گڑھ تھا۔آپ عملاً مصر کے حاکم مطلق تھے،اس لیے آپ کے خاندان کو وہاں غیر معمولی تکریم نصیب ہوئی۔چنانچہ ان لوگوں نے ان مقاصد کی تکمیل شروع کردی جس کے لیے ان کو چنا گیا تھا اور وہ مصر کی مشرکانہ اور اخلاق باختہ سوسائٹی میں حق کا نمونہ بن کر رہنے لگے،تاہم انھیں مصر کی مشرکانہ تہذیب کے اثرات سے بچانے کے لیے مصریوں سے الگ تھلگ جشن کی زمین میں بسایا گیا ۔*
تاہم کئی صدیوں تک مصر کی مشرکانہ سوسائٹی میں رہنے کے بعد بنی اسرائیل میں شرک کے جراثیم سرایت کرگئے، اور وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہے کہ مصریوں پر حق کی شہادت دے سکیں۔دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ مصر میں اس دوران میں ایک زبردست سیاسی تبدیلی رونما ہو گئی۔ حضرت یوسف کے زمانے میں ہکساس (HYKSOS) یعنی چرواہے بادشاہوں کی حکومت تھی جوعربی النسل تھے۔ ان کے بعد قبطی قوم اقتدار پر قابض ہوگئی جس کے ساتھ بنی اسرائیل کے لیے بھی سخت وقت شروع ہوگیا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو بحیثیت رسول دوطرفہ مشن کے ساتھ مبعوث فرمایا ۔ آپ کی بعثت کا ایک پہلو تو وہی تھا جو تمام رسولوں کی بعثت کا ہوا کرتا ہے،یعنی فرعون اور اس کے حواریوں پر اتمام حجت کرنا۔ دوسرا یہ کہ بنی اسرائیل کو قبطیوں کی غلامی سے نجات دلاکر انھیں بحیثیت امت پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا۔
حضرت موسیٰ پر ان کی قوم ایمان لے آئی ۔ فرعون پر اتمام حجت کے بعد آل فرعون کو ہلاک کردیا گیا اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مصریوں کی غلامی سے رہائی مل گئی ، بلکہ انھیں کتاب و شریعت کی نعمت سے سرفراز کرنے اور حکومت و اقتدار پر فائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہ حضرت موسیٰ کی دعوت پر لبیک کہنے اور اس راہ میں پیش آنے والی سختیوں پر صبر کانقد انعام تھا۔** مصر سے نکلنے کے بعد صحراے سینا میں ان کے لیے پانی اور من و سلویٰ کا بندو بست کیا گیا۔دھوپ سے بچاؤکے لیے آسمان کے بادل ان پر سایہ فگن کردیے گئے۔

_______

* پیدایش ۴۷ :۶۔
** الاعراف ۷: ۱۳۷۔

____________