رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگلے ہزار سال اس نشیب و فراز کی داستان ہیں جو بنی اسمٰعیل کی تاریخ میں آتے رہے۔ جب انھوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو انھیں سخت سزا دی گئی اور جب خدا کی فرماں برداری کی روش اختیار کی تو خدا کی رحمت فوراًان کی طرف متوجہ ہوئی۔ انھیں عزت اقوامِ عالم پر غلبہ و اقتدار کی شکل میں دی گئی اور عذاب باہمی جنگوں اور بیرونی حملہ آوروں کی شکل میں دیا گیا۔
اوپر ہم بیان کرچکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کو جو مقام و مرتبہ ملا وہ آزمایش سے گزر کر ملا اور یہی آزمایش کا سلسلہ ان کی اولاد میں رکھ دیا گیا۔ بنی اسمٰعیل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ابتدائی نسلوں میں توحید و شریعت سے وابستگی کے معاملے میں ان سے کوتاہی نہیں ہوئی ، البتہ اقتدار کا معاملہ ان کے لیے زبردست آزمایش بن گیا۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی حکمت کا تقاضہ بھی یہی تھا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانشین کی صراحت کیے بغیر دنیا سے رخصت ہوئے۔پہلی دفعہ جب یہ آزمایش سقیفہ بنی ساعدہ میں سامنے آئی تو صحابۂ کرام کی اکثریت ہونے کی بنا پر بنی اسمٰعیل بڑی کامیابی سے اس آزمایش سے سرخ رو ہوگئے۔ اس کا نتیجہ خدا کی غیرمعمولی نصرت کی شکل میں نکلا اور پوری متمدن دنیا پر بنی اسمٰعیل کا اقتدار قائم ہوگیا۔ تاہم اس کے بعد صحابۂ کرام کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔اور پھر جو ہوا وہ تاریخ کی ایک معلوم داستان ہے۔ اس کا نتیجہ بھی ایک معلوم حقیقت ہے۔ جب کبھی اس معاملے میں بنی اسمٰعیل نے درست رویہ اختیار کیا تو وہ آندھی طوفا ن کی طرح دنیا پر چھاتے چلے گئے اور جب کبھی انحراف کیاتو نہ صرف ان کی بیرونی یلغار رکی ، بلکہ ایک دوسرے کی تلواروں کا ذائقہ بھی انھیں چکھنا پڑا۔ اختصار کے پیش نظر ہم اس سلسلے کے نشیب و فراز کی طرف اشارہ کرنے پر ہی اکتفا کریں گے۔ان کی تفصیل بالعموم لوگوں کو معلوم ہے۔ شہادتِ عثمان اورخلافتِ راشدہ کے آخری ایام میں باہمی جنگ و جدل کا نشیب، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ (اس نام میں دو نقطے غلطی سے نہیں چھوٹے) کی عظیم قربانی کے بعد بنی اسمٰعیل کا عروج، یزید کی جانشینی کے بعد پھر خلفشار ، عبدالملک کے بعد کا استحکام اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں خلافت راشدہ کا احیا، یہ سب اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔
حضرت عمر بن عبد العزیزکو محض ڈھائی سال کے اندر زہر دے کر اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ یہ بنی امیہ کا ایسا جرم تھا جس کے جواب میں خداوند بنی اسمٰعیل کے خدا نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔آپ کے بعد بنو امیہ انتہائی مردم خیز ہونے کے باوجود کوئی بڑی فتح حاصل نہ کرسکے۔ پھرتھوڑے ہی عرصہ میں جس طرح بنو امیہ کو بنو عباس نے ان کے عین عروج میں اقتدار سے ہٹایا ہے ، وہ تاریخ کا انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔ہم سیاسی قیادت کے ضمن میں اس کی کچھ تفصیل پیچھے بیان کرچکے ہیں۔ بنو امیہ کے ایک ایک فردکو چن چن کر ہلاک کردیا گیا، سوائے ایک اموی شہزادہ عبدا لرحمن کے جس کے ذریعے سے خدا نے بنوامیہ کو ایک موقع پھر عنایت کیا کہ وہ بنو اسمٰعیل کے سلسلۂ اقتدار کو مغرب میں پھیلائیں۔
دوسری صدی ہجری کے آغاز میں صورت حال یہ ہوچکی تھی کہ بنی اسمٰعیل کی ایک شاخ بنوامیہ اندلس میں حکمران تھی اور بقیہ عالم اسلام میں ان کی دوسری شاخ بنو عباس کا سکہ چل رہا تھا۔ ہارون الرشید کے دور تک بنو عباس کے اقتدار کا سورج نصف النہار کو چھورہا تھااور قیصر روم کی حیثیت خلیفہ کے باج گزار کی تھی۔ دوسری طرف بنو امیہ کے عبدالرحمن کے دور تک جنوبی یورپ کی تمام عیسائی ریاستیں اپنے وجود کے لیے بنو امیہ کے نظرکرم کی محتاج تھیں، تاہم حدیث کے الفاظ میں جسے خیر القرون کہا گیا تھا ، وہ دور اب ختم ہونے لگا تھا۔ شریعت کی پاس داری اب ماضی کا قصہ بننے لگی اور توحید کے فروغ کے بجاے، یونانی افکار کے زیر اثر ، لایعنی مباحث اسلامی معاشرے کا موضوع سخن بن گئے۔اسی دور میں خلق قرآن کا فتنہ پیدا ہوا۔ مامون اور معتصم کے دور میں امام احمد بن حنبل کو بے پناہ سختیاں جھیلنی پڑیں۔رفتہ رفتہ صورت حال مزید خراب ہوئی۔ شریعت کی حقیقی پاس داری کی جگہ ظاہر پرستی اور توحید و آخرت کی جگہ دنیا پرستی نے لے لی۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا سے ان کارعب و وقار رخصت ہونا شروع ہوگیا۔ خلافت کی توسیع تو دور کی بات ہے، خود بنو عباس دوسروں کی بیساکھیوں کے سہارے حکومت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ انھیں آخری سزا دینے سے قبل دو دفعہ تنبیہ کی گئی۔ پہلے مغربی صلیبی حملہ آوروں کے ذریعے شام و فلسطین کی تباہی کے ذریعے سے اور پھر مشرق سے تاتاریوں کے ہاتھوں خوارزم شاہ کی حکومت کی تباہی سے۔ انھوں نے دونوں کو نظر انداز کردیا۔آخرکار جب ان کے رویے میں اصلاح کا کوئی عنصر باقی نہ رہا تو خدائی عذاب ہلاکو خان کی شکل میں ان کی طرف متوجہ ہوا۔ بغداد میں آخری خلیفہ مستعصم کے ساتھ جو معاملہ ہوا ، وہ خدا کی بے لاگ سنت کا اظہار تھا۔
دوسری طرف بنی اسمٰعیل کی دوسری شاخ بنو امیہ نے بھی جب یہی رویہ اختیار کیا تو عیسائیوں کے ذریعے سے ان پر ویسا ہی عذاب استیصال آیا اور اندلس سے ان کا نام و نشان تک مٹادیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی آل ابراہیم کے بارے میں خدا کا قانون فیصلہ کن طور پر نافذ ہوا۔

____________