بنی اسرائیل کی طرح بنی اسمٰعیل کا آغاز بھی ہدایت ربانی کی روشنی میں ہوا تھا۔ ان کے جدامجد، یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل ، دونوں جلیل القدر نبی تھے۔ ان کا ایک اضافی اعزاز یہ تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھربیت اللہ کے پاس بسایا تھا، تاہم بنی اسرائیل کے برعکس ان کے درمیان نبی نہیں بھیجے گئے اور انھیں فطرت کے ماحول میں تقریباً دو ہزار برس تک پروان چڑھاکر ایک قوم بنادیا گیا۔ ان کی حیثیت آج کی زبان میں بیک اپ (Back up) کی سی تھی، یعنی جب بنی اسرائیل اپنے منصب کو ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوجائیں توانھیں معزول کرکے امامت عالم کا منصب بنی اسمٰعیل کی طرف منتقل کردیاجائے ۔جس طرح حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل میں مبعوث کرکے اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا تھا، اسی طرح بنی اسمٰعیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول اور نبی مبعوث کیا تاکہ اب یہ عہد ان سے باندھا جاسکے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیثیت کہ وہ حضرت موسیٰ کے مانند ہیں ، بائیبل اور قرآن، دونوں میں بیان ہوئی ہے۔*
چنانچہ رفع مسیح کے تقریباً چھ صدیوں بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسمٰعیل کی طرف مبعوث کیا گیا۔آپ نے عرب کی قیادت، یعنی قریش کے سامنے دین حق کی دعوت رکھی۔ قریش کی قیادت نے آپ کی دعوت رد کردی۔آپ چونکہ ایک رسول بھی تھے ، اس لیے آپ کے مخالفین پر اس قانون کا اطلاق ہوگیا جو ہم نے رسولوں کے ضمن میں اوپر بیان کیا ہے، یعنی اتمام حجت کے بعد آپ کے مخالفین کو موت کی سزا سنادی گئی۔ جنگ بدر میں قریش کی قیادت کو چن چن کر ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد سات برس کی مختصر مدت میں پورے عرب پر آپ کا اقتدار قائم ہوگیا۔ تمام بنی اسمٰعیل آپ پر ایمان لے آئے۔ اسی دوران میں ان سے شریعت کا وہ عہد و پیمان لیا گیا جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آخری درجہ میں اس عہد کو پورا کیا جس کے نتیجے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور تک پوری متمدن دنیا کا اقتدار انھیں سونپ دیا گیا۔یہی وہ دورہے جس میں بنی اسمٰعیل نے اپنی فتوحات کے ذریعے سے مشرکانہ اقتدار کو بالجبر مٹا ڈالااور انسانیت کے سامنے ایک حقیقی توحید پرستانہ معاشرہ کا نقشہ قائم کردیا۔

_______

* قرآن مجید، المزمل ۷۳: ۱۵۔ کتاب مقدس، استثنا ۱۸: ۱۵۔۱۸ ۔

____________